12:58 pm
دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

12:58 pm

(17   مئی 2021ء  کو جھاوریاں ضلع سرگودھا کے علماء کرام کے علاقائی اجتماع سے آن لائن خطاب )
بعد الحمد والصلو ۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ سرگودھا کے مختلف حلقوں کے دوست اور علماء  کرام آج ایک جگہ جمع ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے، علماء کرام اور ہم خیال دوستوں کو وقتا فوقتا کسی نہ کسی عنوان پر اور کسی نہ کسی بہانے اکٹھے بیٹھتے رہنا چاہئے، اس سے ایک تو لوگوں کو سہارا ہوتا ہے کہ علماء  میں وحدت ہے، جبکہ آپس میں تبادلہ خیالات، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی ہو جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالی آپ کا یہ اجتماع قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
-1 علما ء کرام کی سب سے بڑی ذمہ داری جو فقہ کے دائرہ میں بیان کی جاتی ہے اور ہم تخصص فی الفقہ میں پڑھایا کرتے ہیں، یہ ہے کہ علما کا اپنے زمانے کے ماحول اور حالات سے واقف ہونا بہت ضروری ہے، جس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل یعنی جو اپنے زمانے کے لوگوں اور ماحول کو نہیں جانتا وہ عالم نہیں ہے۔ میں اس پس منظر میں علما کی ایک بڑی ذمہ داری یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے ماحول سے واقفیت حاصل کریں۔ جبکہ ماحول اب مقامی نہیں رہا بلکہ عالمی اور گلوبل ہو گیا ہے، سب ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، خبریں، تاثرات اور جذبات آناً فاناً مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق تک پہنچ جاتے ہیں، ایک منٹ کہیں تو وہ بھی شائد دیر شمار ہو گا بلکہ ایک منٹ سے پہلے ہی بات اِدھر سے ادھر پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے اسلام، امت مسلمہ، اہلِ دین اور دینی طبقات کو جو مسائل درپیش ہیں اس حوالے سے گلوبل ماحول سے واقف ہونا میرے نزدیک علما کرام کی بہت بڑی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اس کے مطابق اپنا طرز عمل اور ایجنڈا طے کر سکیں۔
-2 دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ مسائل کے ہجوم کا دور ہے، ایک مسئلہ نمٹتا نہیں کہ دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے، ایک بحران کو ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ دوسرے بحران سے پالا پڑ جاتا ہے، اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آتا ہے کہ ایک دور میں فتنے ایسے کھڑے ہوں گے جیسے تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک ایک کر کے دانے زمین پر گرنا شروع ہو جائیں، اسی طرح آج ہمیں ایک پر ایک، ہر تیسرے اور چوتھے دن کوئی نیا فتنہ، کوئی نئی آزمائش اور کوئی نیا مسئلہ مسلسل درپیش رہتا ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ماحول میں جو دینی جدوجہد کے اہم تقاضے اور عنوانات ہیں ان کے پیش نظر گہری نگاہ رکھیں، ہر اٹھنے والے فتنے پر ہماری نظر ہو اور ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
-3 تیسری گزارش یہ ہے کہ ان فتنوں کے دور میں ہمارے لیے ملجا و ماوی ہمیشہ قرآن و سنت، امت کا اجماعی تعامل اور اکابر و اسلاف کا طرز عمل رہا ہے، یہ ہماری ہمیشہ سے پناہ گاہ ہے، آج بھی پناہ گاہ یہی ہے کہ ہمارے بزرگ چودہ سو سال سے اجتماعی طور پر کیا کرتے آرہے ہیں۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر تلقین فرمایا کرتے تھے کہ جمہور اہل علم، یعنی اہل علم کی اکثریت ہر دور میں کچھ تقاضوں پر اور کچھ مسائل میں اکٹھے چلے آرہے ہیں، جمہور اہل علم کا دائرہ نہیں توڑنا، کیونکہ قرآن و سنت اور امت کے جمہور علماء  کا تعامل ہی ہماری پناہ گاہ ہے۔
-4 چوتھے نمبر پر فتنوں کے مقابلہ کے حوالہ سے بات کرنا چاہوں گا، اس بابت ایک فارمولا عرض کیا کرتا ہوں، آپ کے بھی گوش گزار کر دیتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو بھی فتنہ پیدا ہو اور جب بھی کوئی مسئلہ کھڑا ہو تو -i اس کا پہلا دائرہ سوچنے کا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کیا ہونا چاہئے؟ لہٰذا ہمیں اپنے ذہن میں پہلا دائرہ یہی واضح کرنا چاہئے کہ ضرورت یہ ہے اور یہ ہونا چاہئے۔ -ii دوسرا دائرہ یہ ہوتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے؟ ایک تو یہ ہے کہ کیا ہونا چاہئے، یہ الگ دائرہ ہے، درپیش حالات میں عملاً کیا ہو سکتا ہے، یہ دائرہ مختلف ہے، ہمیں یہ دائرہ بھی ذہن میں واضح کرنا چاہئے کہ عملاً ہو کیا سکتا ہے؟ -iii اس کے بعد تیسرا دائرہ ہے کہ میں اس سلسلہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ ضروری نہیں کہ جو ہونا چاہئے وہ ہو بھی سکتا ہو، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو ہو سکتا ہے وہ میں بھی کر سکتا ہوں۔ اس لیے ان دائروں کو ذہن میں واضح طور پر قائم کرنا چاہئے کہ کیا ہونا چاہئے، کیا ہو سکتا ہے، اپنی حدود میں رہتے ہوئے میں کیا کر سکتا ہوں، اور پھر جو میں کر سکتا ہوں اس سے مجھے گریز ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔
میں دینی تحریکات کے حوالے سے ایک بات یہ بھی عرض کیا کرتا ہوں، آج پھر دہرا دیتا ہوں کہ کسی بھی عالم دین کے لیے دینی جدوجہد سے لا تعلق رہنا گناہِ کبیرہ سے بھی اگر کوئی بڑی چیز ہو تو میرے نزدیک وہ ہے۔ بندہ بالکل ہی لا تعلق ہو جائے کہ ٹھیک ہے جو کچھ ہو رہا ہے ہوتا رہے، نہیں، دینی جدوجہد کے کسی نہ کسی شعبے سے ضرور متعلق ہونا چاہئے، خواہ دعوت کا شعبہ ہو، تحریک کا عمل ہو، ختم نبوت کا میدان ہو، دفاع صحابہؓ کی بات ہو، غرضیکہ کسی نہ کسی شعبے سے وابستہ ہونا از حد ضروری ہے، لا تعلق رہنے والوں کے لئے میرے نزدیک گناہِ کبیرہ بھی ہلکا لفظ ہے، دینی جدوجہد کے کسی نہ کسی پہلو سے تعلق ضرور ہونا چاہئے۔(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

 ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

 شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

 میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

 ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے  ،شازیہ مری

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے ،شازیہ مری