12:55 pm
دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

12:55 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
 دوسری بات یہ کہ آدمی کا جہاں ذوق ہو کام وہیں کرنا چاہئے لیکن کسی دوسرے دینی کام کی نفی نہیں کرنی چاہئے۔ ظاہر بات ہے کہ کسی کا ذوق قادیانیوں کے مقابلے کا ہے، کسی کا دفاع صحابہؓ  کا ہے، کسی کا نفاذ اسلام کی جدوجہد کا ہے، اور کسی کا دعوت و تبلیغ کا ہے، لہٰذا ہر ایک اپنے دائرے میں کام کرے اور جو جس مزاج کا ہے وہی کام کرے۔ ہم کام تب بگاڑ لیتے ہیں کہ جب ہم اپنے کام کو تو کام سمجھتے ہیں لیکن دوسرے کاموں پر طنز کرتے ہیں، ہماری مجلسوں میں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور استہزا کیا جاتا ہے۔ دینی کے کسی کام کی نفی، تحقیر، استہزا اور طنز نہ کریں، اس کام کو بھی دین کا کام سمجھیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔ اس کے بعد کا مرحلہ یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے شعبے میں کام کرنے والے سے ہم تعاون کر سکتے ہیں تو کرنا چاہئے، اگر نہیں کر سکتے تو خاموشی اختیار کرنی چاہئے۔
میں اس تناظر  میں علماء کرام سے کرنٹ ایشوز (حالات حاضرہ) کے بارہ میں بات کرنا چاہوں گا۔
 اس وقت ہمیں جو سب سے بڑا مرحلہ درپیش ہے وہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ہے، مسجد اقصیٰ اور فلسطینیوں بھائیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ایک صدی سے ہوتی آرہی ہے، لیکن یہ نیا رائونڈ اور نیا دور انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس میں تکلیف دہ ہونے کا سب سے بڑا پہلو ہمارے مسلم حکمرانوں کی بے حسی ہے، سوائے ترک صدر طیب اردگان کے کوئی بھی مضبوطی سے بات نہیں کر پایا، اس پر بہت تکلیف ہوتی ہے، فلسطینیوں کی مظلومیت پر بھی تکلیف ہوتی ہے اور مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور بے پرواہی پر تو اس سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں اس پر کم از کم آواز ضرور اٹھانی چاہئے، اپنی بات کہنی چاہئے، جذبات کا اظہار کرنا چاہئے، لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے اور اپنے فلسطینی مظلوم بھائیوں کے ساتھ ان کی مظلومیت میں اور مسجد اقصیٰ کی حرمت و تقدس کے لیے جہاں تک آواز پہنچ سکتی ہے ہمیں اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔
 اس کے بعد ہمیں فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے، یہ فرانسیسی خاکوں اور یورپی یونین کی قرارداد کے حوالے سے ہے، یہ مسئلہ بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا مسئلہ ہے۔ ناموس رسالت ؐکے تحفظ کا مسئلہ ہو یا ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہو، عالمی ادارے، لابیاں اور سیکولر عالمی اور قومی حلقے جس منظم طریقہ سے ان کے خلاف کام کر رہے ہیں ہمیں ان کے ادراک و احساس کی ضرورت ہے اور ہر سطح پر ان کا مقابلہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
 اس کے ساتھ ہمیں اپنے ملک میں ایک اور مسئلہ درپیش ہے، یہ ان سے کم سنگین نہیں ہے کہ اوقاف کے نئے قوانین کے تحت، مسجد، مدرسہ اور اوقاف کی آزادی سلب کر لی گئی ہے۔ یعنی مسجد، مدرسہ اور اوقاف کو IMF اور FATF کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی نئی شکل ہے۔ یہ انتہائی سنگین بات ہے، ہمیں اس پر مضبوط اسٹینڈ لینا ہو گا، ہم ملک کے کسی معاملہ میں غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کر سکتے، خواہ وہ اسٹیٹ بینک کا مسئلہ ہو یا ملکی معیشت کی بات ہو، مذہبی آزادی پر اور مسجد اور مدرسے کی خود مختاری پر غیر ملکی اداروں کا کنٹرول تو ہمارے ایمان اور غیرت کا مسئلہ بھی ہے بلکہ یہ ہماری جان سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔
میں علماء کرام سے گزارش کروں گا کہ ان مسائل پر پہلے مرحلے میں اپنی آگاہی مکمل کریں، دوسرے مرحلے میں اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں، یہ صرف علما کے مسائل نہیں ہیں۔ میں کل سیالکوٹ میں تھا، وہاں بھی علما سے یہی عرض کیا ہے کہ ہماری ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم ہر مسئلے کو اپنے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں کہ یہ صرف ہمارا کام ہے، بھئی!ہمارا کام تو ہے ہی، کیا تاجروں، وکیلوں اور صحافیوں کا کام نہیں ہے؟ ختم نبوت کا مسئلہ، مسجد کی آزادی کا مسئلہ، ناموس رسالت کا مسئلہ، فلسطین کا مسئلہ، کیا یہ صرف علما کے مسائل ہیں؟ ہم نے ہر بات پر ایک تکنیک اختیار کر لی ہے کہ یہ علماء کرام کا مسئلہ ہے، نہیں! یہ صرف علما کرام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ باقی طبقات کو اپنے ساتھ شریک کرنا اور شریک رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ اگر تحریک نظام مصطفی    ؐ کے ماحول سے واقف بزرگوں سے پوچھیں تو وہ بتائیں گے کہ تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی  ؐ جیسی تحریکات میں تمام طبقات شریک تھے، وکلا، تاجر، صحافی، عام آدمی، علما کرام، تمام مکاتب فکر کے لوگ اور تمام طبقات جس جدوجہد میں شریک ہوں گے وہی قومی جدوجہد کہلائے گی۔ یہ ہماری قومی ضروریات اور قومی تقاضے ہیں، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان لائنوں پر اپنے علاقے میں جدوجہد کو منظم کریں، آگے اسی جدوجہد کا مرحلہ آرہا ہے اور میرے نزدیک تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی  ؐطرز کی قومی جدوجہد کے بغیر غیر ملکی مداخلت، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف کی غلامی اور یورپی یونین کی ہٹ دھرمی کا راستہ نہیں روکا جا سکتا، یہ ہماری ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

تازہ ترین خبریں

رہائشی عمارت دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گئی، ویڈیو میں تباہی کے دلخراش مناظر

رہائشی عمارت دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گئی، ویڈیو میں تباہی کے دلخراش مناظر

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی۔۔ سندھ ہائی کورٹ سے بڑی خبر آ گئی،جیالے بھی ہکا بکا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی۔۔ سندھ ہائی کورٹ سے بڑی خبر آ گئی،جیالے بھی ہکا بکا

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کردیا

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کردیا

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

 ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

 شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

 میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

 ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ