01:26 pm
       شرم تم کو مگر نہیں آتی

       شرم تم کو مگر نہیں آتی

01:26 pm

کچھ دنوں سے میڈیا میں صحافیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی داستان کا ذکر ہر جگہ ہو رہا ہے۔اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا
کچھ دنوں سے میڈیا میں صحافیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی داستان کا ذکر ہر جگہ ہو رہا ہے۔اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے کہ اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن ایک بات ثابت شدہ اور طے شدہ ہے کہ ان صحافیوں کو اغواء کرنے یا تشدد کرنے میں آئی ایس آئی شامل نہیں ۔پہلی بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی پاک فوج کا حصہ ہے اور پاک فوج کے پاس ایسے شوٹر موجود نہیں کہ اگر وہ آنکھوں کی پتلی کا نشانہ لے کر فائر کریں تو گولی آنکھ کی پتلی میں ہی لگے۔یہ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ ان پر مزید وقت ضائع کیا جائے۔ان کو زمانہ جان چکا۔لیکن ایسا جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے جس میں پاکستان دشمنوں سے مل کر پاک فوج اور پاکستان کے خلاف کوئی سازش کے تانے بانے بنے جاتے ہیں تو انتہائی دکھ ہوتا ہے۔میرے سامنے تحریک پاکستان کے ایام گھومنے لگتے ہیں ۔ جب قائداعظمؒ پاکستان بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے اور غدارِ وطن مختلف سازشوں کے ذریعے تحریکِ پاکستان کو کمزور کرنے یا ناکام کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ قائداعظمؒ اب اسلامیانِ ہند کے عظیم لیڈر کا رو پ دھار رہے تھے۔فرزندانِ آزادی ان کے ایک اشارے پر مر مٹنے کے لئے بے تاب تھے ’’لے کے رہیں گے آزادی‘‘کے ہمہ گیر نعرے کو تھام کر اسلامیانِ ہند گلی گلی کوچے کوچے مسلم لیگ کا پیغام پہنچاتے گئے۔جہاں جہاں بھی مسلم لیگ کا پیغام پہنچا مسلمانانِ ہند کے دل ایک ساتھ دھڑکنے لگے۔1940ء میں عظیم قائد نے وکالت کے پیشے کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا صرف اور صرف سیاست کے پیشے سے ایسے منسلک ہوئے کہ آنے والے تاریخ دانوں نے انہیں بہت بڑا سٹیٹس مین قرار دیا۔کانگریس اور ہوم رول لیگ میں شمولیت کرنے والے جناح نے مسلم لیگ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں ایسے سنبھالی کہ کانگریس جو عرصہ ٔ دراز سے مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے کوتیار نہ تھی بالاآخر مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آئی۔مسلم لیگ کو دیہات میں ہر دل عزیز بنانے کے لئے عظیم قائد نے جو سفر شروع کیا تھا اس کا ثمر آگے چل کر 1946ء کے عام انتخابات میں شاندار کامیابی سے حاصل کیا۔گاندھی جی نے چکنی چپڑی باتوں سے تخلیق پاکستان کو روکنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیالیکن قائداعظم محمد علی جناح نے اس کی ایک چال بھی نہ چلنے دی۔گاندھی جی کے حواریوں میں پنڈت نہرو،  راج گوپال اچاریہ پرشاد،  پٹیل اور ابو الکلام آزاد جیسے لوگ شامل تھے تو قائداعظمؒ کے ہر اول دستے میں نواب بہادر یار جنگ ،  خان عبدالقیوم ،  خواجہ ناظم الدین ،  خلیق الزمان ،  ظفر علی خان ،  عبد الرب نشتر ،  لیاقت علی خان،  قاضی عیسیٰ اس کے علاوہ اور بہت سے فرزندانِ آزادی تھے۔یہ متوالے تاریخ پاکستان پر مر مٹنے والے ایک ایسے سپوت تھے جس سے مسلم لیگ کو ہمیشہ تقویت ملتی رہی آخرکار مسلم لیگ کے اجلاس لاہور کی تیاریاں شروع ہوئیں۔کون جانتا تھا کہ لاہور کا یہ مسلم لیگی اجلاس ہندوستان کے طول وعرض سے آئے ہوئے مندوبین کو خوشیاں اور فرط جذبات کی سنہری یادیں فراہم کرے گا۔آخر کار 23مارچ 1940ء کا دن مسلمانانِ ہند کی حقیقتوں کو آشکار کرنے کے لئے آپہنچا ۔اس سے تین دن پہلے پنجاب کی حکومت نے خاکساروںپر گولیاں برسائیں تاکہ لاہور کے اس جلسہ کو درہم برہم کیا جائے۔ ہندوستان کے کونے کونے سے آزادی کے متوالے منٹو پارک میں جمع ہوتے ہیں ۔ بنگال سرحد،   پنجاب،  بلوچستان ،  سندھ ،  یوپی دہلی کلکتہ کی نمائندگی کرنے والے نمائندے موجود تھے۔
آج کا مسلم لیگی اجلاس ایک تاریخی اجلاس ہے۔بہت بڑا سٹیج تیار ہے اور مسلم لیگی رہنما اس پر براجمان ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح کو مسلم لیگی گارڈ کے دستے چبوترے پر لاتے ہیں جب قائداعظم جلسہ گاہ میں تشریف لاتے ہیں تو وہ ایسا منظر ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔’’قائد اعظم زندہ باد،  مسلم لیگ زندہ باد ‘‘کے نعرے دور دور تک فضا میں رنگ بکھیرتے ہیں۔جب تک قائداعظم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں گئے تالیوں کی گونج قلعہ لاہور سے ٹکراتی رہی ۔ سرشاہ نواز ممدوٹ نے قائداعظمؒ کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا۔اجلاس کی کاروائی شروع ہوتی ہے مولوی فضل الحق نے قرار داد پاکستان پیش کی ۔ خلیق الزمان اس کی تائید کرتے ہیں۔ ہندوستان کے طول و عرض سے مسلمانانِ ہند کی نمائندگی کرنے کے لئے کئی شخصیات موجود تھیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقے کی نمائندگی کرتے ہوئے اس قرارداد لاہور کی بھرپور تائید کی جو بعد میں قرداد پاکستان کے نام سے صفحہ ہستی پر نقش ہو گئی۔جن معتبر شخصیات نے قرارداد کی تائید کی ان میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں :چوہدری خلیق ا لزماں ۔ ایم ایل اے (یوپی)،  مولاناظفر علی خان۔ ایم ایل اے (پنجاب)،  سردار اورنگزیب خان۔ ایم ایل اے (صوبہ سرحد)،  حاجی سر عبداللہ ہارون ۔ایم ایل اے (سندھ)،  خان بہادر نواب محمد اسمعیل ۔ ایم ایل اے( بہار)،  قاضی محمد عیسیٰ (بلوچستان)،  عبدالحمید خان ۔ایم ایل اے (مدراس)،  آئی آئی چندر یگر۔ ایم ایل اے (بمبئی)،  سر عبدالرؤف شاہ ۔ایم ایل اے (سی پی)،  ڈاکٹر محمد عالم۔ ایم ایل اے (پنجاب)،  سید ذاکر علی (یوپی)،  مولانا عبدالحامد بدایونی (یوپی)،  بیگم صاحبہ مولانا محمد علی (یوپی)۔
بہرحال صحافیوں کو ایسی چھوٹی اور جھوٹی خبروں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔کبھی ماما قدیر نامی کسی بت کو لا کھڑ ا کرتے ہیں ۔ کبھی کسی اور کا سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں ۔وہ دوبئی میں بیٹھے ہوئے کسی دہشت گرد مینگل کا نام نہیں لیتے۔حامد میر اور عاصمہ شیرازی نے جس مکروہ کھیل کا مظاہرہ کیا یہ کسی بھی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ اسی لئے ہر محب وطن پاکستانی نے دل کھول کر ان کے خلاف بھڑاس نکالی۔حامد میر کے تو نصیب میں ہی شاباش نہیں ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس دفعہ عاصمہ شیرازی کو کیا ہوا ہے۔انہوں نے پہلی دفعہ ایسے الفاظ ایسے شخص کے لئے نکالے جو صحافی ہے ہی نہیں ۔حالانکہ وہ تو آرمی اور آئی ایس آئی کی گڈ بک میں تھیں ۔ہم ایک دفعہ کچھ لوگ اکٹھے گوادر پی سی ہوٹل میں کھڑے ہوئے تھے تو عاصمہ شیرازی تمام صحافیوں سے زیادہ آرمی اور آئی ایس آئی آفیسرز کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں ۔
 

تازہ ترین خبریں

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

میں پاکستانی وزیر اعظم ہوں ، موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی وزیر اعظم کودیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں ، ویڈیو دیکھیں 

میں پاکستانی وزیر اعظم ہوں ، موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی وزیر اعظم کودیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں ، ویڈیو دیکھیں 

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج کھیلے جانے والے میچ کے دوران بارش کا امکان نہیں ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج کھیلے جانے والے میچ کے دوران بارش کا امکان نہیں ہے۔

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 لاہور  کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز

لاہور کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز