12:47 pm
پنشن اور گریجویٹی والوں پہ ٹیکس

پنشن اور گریجویٹی والوں پہ ٹیکس

12:47 pm

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موجودہ وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پنشن اور گریجویٹی والوں پر ٹیکس عائد کردیاہے اس ٹیکس سے ملک کی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔ لیکن عوامی رائے کے مطابق آئی ایم ایف کو پنشن والوں پر ٹیکس عائد نہیں کرناچاہیے تھا‘ کیونکہ اس میں اکثریت ان افراد کی ہے جو غربت کی لکیر کے قریب ہیں۔ اگر ان پر بھی آئی ایم ایف نے ٹیکس عائد کردیا ہے تو یہ اقدام سراسر ظلم کے زمرے میں آتاہے۔ اب حکومت اوراس کے بعض نمائندے برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا‘ بلکہ عمران خان نے عوامی جلسوں میں اپنے خطاب کے دوران کہاتھا کہ آئی ایم ایف کے پاس مالی مدد کے لئے جانا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ لیکن عمران خان کی حکومت کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ اس لئے کہ بجٹ خسارہ کس طرح پورا کیاجائے گا؟۔ ماضی میں بھی تمام حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں ہیں۔ مالی امداد وصول کی ہے۔ ان شرائط پر جو آئی ایم ایف نے عائد کی تھیں ‘ اگر آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کرتے ہیں تو قرض بھی نہیں ملتا گا۔ اس صورت میں گلشن کاکاروبار کس طرح چلتا؟
دراصل پاکستان کے سیاستدانوں نے جن میں فوجی سربراہان حکومت بھی شامل ہیں‘ انہوں نے معاشی ترقی کے لئے کوئی مربوط پالیسیاں مرتب نہیں کی تھیں۔ سب سے آسان طریقہ یہ تھا کہ ’ قرضہ لو اور قرضہ لے کر قرضہ اتارو ‘ اس طرزعمل سے پاکستان کبھی بھی معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو پایا۔ مزید برآں جن سیاست دانوں نے  ماضی میں حکومت سنبھالی تھی‘ ان کے پاس نہ تو اقتصادی ترقی کے لئے کوئی ویژن تھا اور نہ ہی ان میں جدید تعلیم تھی‘ یہ عناصر ذہنی طور پر کرپٹ اور اپنے مفاد کے لئے کام کررہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان تمام تر قدرتی وسائل ہونے کے باوجودمعاشی وسماجی طور پر ایک کمزور ملک بن چکاہے۔ اگر ابتدا ہی میں کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرلیا جاتا تو صورتحال یہ نہ ہوتی جو آج ہے۔ نیز جن کرپٹ سیاستدانوں مثلاً نوازشریف ‘ آصف زرداری کی کھلی‘ کرپشن کو روکنے کے لئے عدالتوں کے ذریعہ سخت اقدامات اٹھائے جاتے اور انہیں سخت سزادیں دی جاتیں تو صورتحال یہ نہ ہوتی جو آج ہورہی ہے۔ ظاہر ہے آئی ایم ایف ہماری کمزوریوں سے پورا پورا فائدہ اٹھارہاہے اور ہم تماشائی بنے اس منظر کودیکھ رہے ہیں‘ اور بے بس بھی ہیں۔
اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ان کی امنگوں اور توقعات کے مطابق ریلیف مل سکے گا۔ جب بیچارے پنشن والے نہیں بچ سکے ہیں تو پھر ایک عام آدمی کے سلسلے میں کیا بات کی جاسکتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بجٹ بنانے والے جان بوجھ کر مراعات یافتہ طبقے پر ٹیکس نہیں لگارہے ہیں۔ یہ طبقہ جو Elite کہلاتاہے‘ اس نے رشوت ‘ ناجائز طریقوں سے دولت بنائی ہے‘ جبکہ یہ ٹیکس دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ حکومت indirect tax لگاکر اپنی آمدنی میں اضافہ کررہی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے بھی ایسا ہی کیاتھا‘ موجودہ حکومت بھی اسی ہی ڈگر پر گامزن ہے ۔  indirect tax کی وجہ سے ایک عام آدمی متاثر ہوتاہے۔ جو بادل نخواستہ اس ٹیکس کے بوجھ کو برداشت کرنے پر مجبور ہے‘ چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ غریب عوام کس طرح اضافی ٹیکس کابوجھ برداشت کرسکیں گے؟ 
مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ اس پر نئے ٹیکس کی بھرمار ان کے ساتھ کھلی دشمنی اور ظلم کے مترادف ہے ۔ مجھے کچھ ایسا محسوس ہورہاہے کہ پاکستان میں غریب آدمی (جن کی تعداد80فیصد ہے) کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو صورتحال یہ نہ ہوتی جو آج کل ہے۔ تاہم اس صورتحال کو مزید ابتر کرنے میں کووڈ19- کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ اس وباء نے پوری دنیا کوہلاکر رکھ دیاہے ۔ لیکن سب سے زیادہ غریب ممالک متاثر ہوئے ہیں جن میں پاکستان بھی ہے۔ ایک اعدادوشمار کے مطابق کورونا کی وباء  نے پاکستان میں 2کروڑ افراد کو بے روزگار کیاہے۔ جبھی تو وہ معاشی طور پر خیرات اور صدقات لینے پرمجبور ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں حکومت کے نمائندے کہہ رے ہیں نے جہاں جہاں آئی ایم ایف نے قدم جمائے ہیں‘ وہاں حکومت اور عوام اور زیادہ مقرو ض ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے باخبر لوگ مصر کا حوالے دیتے ہیں جہاں آئی ایم ایف کی پالیسیوں نے مصر کے عوام کو ’’ معاشی بے گھری ‘‘ کے حصار میں بندکردیاہے۔ یہ صورتحال پاکستان میں بھی نظر آرہی ہے۔ 
چنانچہ بجٹ میں پنشن اور گریجویٹی والوں پہ ٹیکس لگانا مناسب اقدام نہیں ہے۔ کیوں حکومت نے آئی ایم ایف کے اس بے جامطالبہ کو تسلیم کرلیاہے؟ دراصل آئی ایم ایف کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کو اتنامقروض کیاجائے کہ وہ عالمی سامراج کے اشارے پر رقص بیگانہ کرتارہے‘ اور دنیا تماشا دیکھے‘ حکومت کہہ رہی ہے کہ معاشی ترقی کی شرح نمو میں4فیصدتک اضافہ متوقع ہے ‘ لیکن کیا اس ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکیں گے ‘ جب تک معاشی ترقی عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتی ہے وہ ترقی نہیں ہے محض دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اس معاشی اذیت سے گزررہے ہیں۔ جس کا ازالہ کہیں نظر نہیں آرہاہے۔ بس ایک چھوٹا طبقہ یعنی Elite پاکستان میں مزے اڑارہاہے۔ ایسا لگتاہے کہ پاکستان ان ہی کے لئے قائم ہوا تھا۔ ذرا سوچیئے۔

تازہ ترین خبریں

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

 شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

 میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

 ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے  ،شازیہ مری

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے ،شازیہ مری

مسلم لیگ ن میں اختلافات۔۔۔۔ نائب صدر مریم نواز نے اعتراف کر لیا۔

مسلم لیگ ن میں اختلافات۔۔۔۔ نائب صدر مریم نواز نے اعتراف کر لیا۔

حکومت سندھ نے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی۔

حکومت سندھ نے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی۔

 ایک بار پھر بھارتی قابض فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا گیا۔شاہ محمود قریشی

ایک بار پھر بھارتی قابض فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا گیا۔شاہ محمود قریشی

 صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہاکی لیگ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔محمود خان 

 صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہاکی لیگ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔محمود خان