01:20 pm
شدت پسندی پر مبنی اسلوب قانون کا خاتمہ

شدت پسندی پر مبنی اسلوب قانون کا خاتمہ

01:20 pm

جب کوئی نئی ریاست ، نیا ملک بنتا ہے تو وہ کسی سیاسی یا مذہبی یا دینی عقیدے کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اگر ملک تو قدیم ہو مگر اس میں انقلاب آجائے جیساکہ انقلاب فرانس یا انقلاب سوویت یونین آف رشیا، یا انقلاب ایران کے معاملات ہیں تو بھی وہ کسی سیاسی عقیدے، نظرئیے، موقف کے ساتھ آتا ہے اور قدیم کی جگہ جو انقلاب کے ذریعے ’’جدید‘‘ آتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ’’قدامت پسندی‘‘ ہو جاتا ہے اور پھر جب بالکل ’’فکری‘‘ سوتے خشک ہو جاتے ہیں تو اگلا مرحلہ ’’رجعت پسندی‘‘ کا ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی جدوجہد اصلاً تو لبرل، سیکولر، علی گڑھ کے تعلیم یافتہ اذہان کی تھی۔ یہ جدوجہد اصلاً علماء کی نہ تھی اس کو ’’مسلم لیگ‘‘ کہا گیا جبکہ اس کے مدمقابل جمعیت العلمائے اسلام بنی جو اہل حدیث، دیوبندی، فکر شاہ ولی اللہ سے وابستہ حنفی اذہان نے بنائی، مگر یہ قدامت پسندی کے راستے کی سیاسی دینی جماعت تھی اور نئے ملک کا فکر ان کے پاس نہیں تھا۔
مسلم لیگ نے حالات کی نبض پر حالات کے تقاضوں کے مطابق ہاتھ رکھا اور کامیاب ہوئی اور قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ مسلمانوں کی معاشی ابتری، ہندوئوں کے ہاتھوں اقتصادی و سماجی استحصال سے نجات کی پہلی فکر تھے۔ مگر اقتصادی استحصال سے نجات تو صرف سیاسی آزادی سے ملتی ہے، بعدازاں کچھ دیوبندی علماء، کچھ بریلوی علماء، کچھ اہل حدیث علماء نے، جبکہ کچھ شیعہ علماء نے بھی مسلم لیگی سیاست کو قبول کیا۔ جب پاکستان بن گیا تو قائداعظمؒ کا معاش اور معیشت کو  جو ’’اولیت‘‘ دینے کا فکر تھا۔ وہ قدامت پسندی کی بجائے اسلامی اقتصادی تجدد اور سیاسی ارتقاء پر مبنی تھا مگر ان کی وفات کے ساتھ ہی اقتدار میں جو کشمکش لبرلز، سیکولرز اور مذہبی قوتوں میں ہوگی اس کشمکش میں وزیراعظم نوبزادہ لیاقت علی خان نے اپنی ذاتی سیاسی ضرورتوں کے سبب اور مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے کے لئے بھی مذہبی حلقوں سے رفاقت اپنائی اس کے نتیجے میں ہی علماء کرام کے حلقے نے مسلم لیگ سے بھرپور تعاون کیا اور قرارداد مقاصد کی منزل حاصل ہوئی۔ مگر اس سارے عمل میں  معیشت، اقتصادیات کا تجدد پر مبنی فکر اقبالؒ اور فکر محمد علی جناحؒ جو تھا وہ تو عملاً ہمیشہ کے لئے  پس منظر میں چلا گیا اور عوامی جذباتی سستی، سیاسی نعرہ بازیوں والی مسلم لیگ کا نیا جہنم ہوا اور یوں دینی، مذہبی عوامی جذبات کی رفاقت کو سامان سیاست بنا لیا گیا۔ یہ ’’تجدد‘‘ سے انحراف تھا اور ’’قدامت پسندی‘‘ کی طرف رجوع تھا۔ اسی سبب اقتدار کی جنگ میں اکثر و بیشتر عوامی مذہبی جذبات کا استحصالی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مثلاً بھٹو کے خلاف جو سیاسی اپوزیشن تھی اس میں مذہب کو داخل کرکے اسے نظام مصطفی ٰ کا نام دیا گیا ہے اور بھٹو مخالف سیاسی موقف میں قیادت مذہبی سیاست کو مل گئی۔ مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، رفیق باجوہ کی جذباتی تقریر میں اسی سبب طلسم پیدا کرتی رہیں۔
اگر ’’مذہب‘‘ بھٹو مخالف سیاست میں داخل نہ ہوتا تو یقینا بھٹو اس انجام سے بھی ہرگز دوچار نہ ہوتے جس سے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں وہ دوچار ہوئے۔ پھر پی این اے کی پیدا کردہ   مذہبی عوامی سیاست کو جنرل ضیاء الحق نے آسانی اور کمال ہوشیاری سے نفاذ شریعت کے نام سے استعمال کیا۔ علماء کا ایک طبقہ جنرل کے ساتھ ہو لیا اور نفاذ شرعی قوانین کا مرحلہ طے ہوا۔ مگر اس نفاذ میں ’’تجدد‘‘ کے مذہبی فکری ارتقاء کا معمولی سا بھی وجود نہ تھا۔ لہٰذا محض قدامت پسندی کے ساتھ توہین و حدود قوانین کے استعمال نے، ان قوانین کے نفاذ کے ساتھ جو بیورو کریسی، پولیس، عدلیہ کے پاس جانے والے ہمہ گیر اختیارات کے غلط استعمال کا امکان موجود تھا، اس کا تدارک نہ ہوا۔
لہٰذا میرا استدراک یہ ہے کہ توہین وحدود و قوانین کے شرعی قوانین کے نفاذ سے یکطرفہ طور پر سیاسی عوامی فوائد تو جنرل ضیاء الحق یا ان کے ساتھیوں نے بھرپور لئے مگر حدود قوانین، شرعی قوانین کے وجود سے مذہبی استحصالی قوتوں کی کلی من مانی بھی قائم ہوئی ہے بالخصوص توہین قوانین میں کچھ مسلمانوں کو بھی دوسرے مسلمان جذباتی، فرقہ وارانہ تعصبات رکھتے اذہان افکار کے سبب بہت زیادہ عذاب، تکالیف، مصائب سے دوچار ہونا پڑا ہے اور ریاست حکومت، پارلیمان ان مظلوم پاکستانی مسلمانوں پر نازل عذاب کا ازالہ کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ 
جنرل پرویز مشرف نے اتنی مذہبی قوانین میں اصلاح کی کوشش کی تو مذہبی قوتوں نے ان کا ناطقہ بند کر دیا اور انہیں پیچھے ہٹنا پڑا، وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے کچھ معاملات پر ’’ابہام‘‘ کے خاتمے کی کوشش کی تھی اور ان کے سامنے ان کی اپنی پیدا کردہ جذباتی مذہبی سوچ بنی، نئی جماعت (تحریک لبیک) کس کمال فنکاری سے آموجود ہوئی؟ مگر اس مذہبی سیاسی جذباتیت کی تخلیق تو خود شریف خاندان کی تھی تاکہ طاہر القادری کا  اثر و حیثیت ختم  ہو جائے۔ وہ ’’جن‘‘ جو نواز شریف نے تحریک لبیک کے نام سے بوتل سے باہر نکالا تھا۔ وہ ’’جن‘‘ فیض آباد اور ملک بھر میں دھرنوں کے حوالے سے عوام، ریاست، حکومت، پارلیمان کے لئے عذاب اہم بار بار بن گیا۔ ایک وزیر قانون (زاہد حامد) کو مستعفی ہونا پڑا تھا ایک وزیر داخلہ (احسن اقبال) کو بعدازاں گولی ماری گئی۔ جسٹس عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی کے معاملات بھی ’’نزاع‘‘ کا سبب بنے مگر اصلاً تو یہ وہ بیماری ہے کہ مذہب کو ریاست، حکومت، پارلیمان میں شدت پسندی اور قدامات پسندی کے ساتھ ایسا داخلہ ملا کہ اس کا نقصان دہ معاملہ کبھی بھی ریاست، حکومت کے ہاتھوں اصلاح کی منازل طے ہی نہیں کر سکا۔
جسٹس قاضی عیسیٰ کے معاملات، جسٹس شوکت علی صدیقی کے معاملات محض نظر آنے والی نقصان کی نشاندہی ہے مگر وہ لاچار، بے بس، ہزاروں معصوم پاکستانی مسلمانوں جو توہین قوانین کی صلیب پر محض فقہی اختلاف رکھنے کے سبب مصلوب ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال ہے؟ نہ ان کا کوئی والی وارث ہے۔
اقلیتوں کے خلاف توہین کے حقیقی مقدمات بہت کم قائم کئے گئے،  تاہم مسیحیوں کے حق میں آواز تو کبھی کبھی غیر ممالک سے بلند ہو جاتی ہے مگر معصوم، لاچار، پاکستانی مظلوم ان مسلمانوں پر ناجائز مقاصد رکھتے مقدمات کی موجودگی پر شور کہاں سے بلند ہوگا اور کون بلند کرے گا؟
عمران خان نے جو ریاست مدینہ کا تصوراتی نعرہ بلند کیا ہے وہی سیاسی استعمال ہے۔ جو جنرل ضیاء الحق نے کیا تھا۔ یہ اقتدار میں آنے، اقتدار کو طول دے کر اپنی فاش غلطیوں،ناکامیوں کو چھپانے کا نہایت ہی آسان عوامی جذباتی طریقہ کار ہے۔ معذرت خواہ ہوں کہ آج کی نشست میں، میں نے بہت ہی نازک، حساس، فکری، قانونی، معاملات پر قلم اٹھایا ہے۔ کاش اہل دین، اہل مذہب میں سے مدبرین اٹھیں اور وہ ان معاملات کی اصلاح کے لئے غیر سیاسی انداز میں، سیاست سے لاتعلق ہو کر کچھ کر سکیں، ورنہ اس قدامت پسندی کو کچلنے ڈالنے کے لئے کبھی نہ کبھی تو تجدد و ارتقاء کا کلہاڑا ضرور چلے گا۔

تازہ ترین خبریں

 ن لیگ کے بجلی کے منصوبے موجودہ حکومت سے نہیں چل رہے، مہنگائی اور بجلی بلوں میں اضافہ سے عوام تنگ آ چکی ہے۔احسن اقبال

ن لیگ کے بجلی کے منصوبے موجودہ حکومت سے نہیں چل رہے، مہنگائی اور بجلی بلوں میں اضافہ سے عوام تنگ آ چکی ہے۔احسن اقبال

 حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں دھاندلی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش ہے ۔ فرحت اللہ بابر

حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں دھاندلی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش ہے ۔ فرحت اللہ بابر

سندھ حکومت نے تھر کے 200گائوں کےلئے 28کروڑروپے مختص کردیے

سندھ حکومت نے تھر کے 200گائوں کےلئے 28کروڑروپے مختص کردیے

سندھ کے اندر جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ موجود ہے۔ سندھ میں اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔فواد چوہدری

سندھ کے اندر جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ موجود ہے۔ سندھ میں اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔فواد چوہدری

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

چشتیاں میں کنویںکی دیوار بناتے ہوئے زمین بیٹھ گئی ۔۔۔ 3 مزدور جاں بحق

چشتیاں میں کنویںکی دیوار بناتے ہوئے زمین بیٹھ گئی ۔۔۔ 3 مزدور جاں بحق

لاہور میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے باعث 120 فیڈرز پر بجلی معطل ہو گئی۔

لاہور میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے باعث 120 فیڈرز پر بجلی معطل ہو گئی۔

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

 پی ‏ٹی آئی کی حکومت نےگالم گلوچ کی سیاست کی بنیادڈالی ہے۔وزیراطلاعات سید ناصرحسین شاہ

پی ‏ٹی آئی کی حکومت نےگالم گلوچ کی سیاست کی بنیادڈالی ہے۔وزیراطلاعات سید ناصرحسین شاہ

 پاکستان ایک پرامن، خود مختار اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔شاہ محمود قریشی

پاکستان ایک پرامن، خود مختار اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔شاہ محمود قریشی

 ہر طرح کی کرپشن کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں، معصوم پاکستانیوں کے اربوں لوٹنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ چیئرمین نیب

ہر طرح کی کرپشن کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں، معصوم پاکستانیوں کے اربوں لوٹنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ چیئرمین نیب

 محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جس نظریے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا وہ نظریہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آصف علی ذرداری 

 محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جس نظریے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا وہ نظریہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آصف علی ذرداری 

محلےکے لڑکوں سے ناجائز تعلقات پر 14سالہ لڑکی کو مار ڈالا گیا

محلےکے لڑکوں سے ناجائز تعلقات پر 14سالہ لڑکی کو مار ڈالا گیا

 الیکشن سے پہلے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے مگر نہ معیشت بہتری ہوئی اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں دی گئیں ۔مفتاح اسماعیل

الیکشن سے پہلے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے مگر نہ معیشت بہتری ہوئی اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں دی گئیں ۔مفتاح اسماعیل