02:02 pm
 سیاسی کلچر اور اخلاقی کمزوریاں 

 سیاسی کلچر اور اخلاقی کمزوریاں 

02:02 pm

دنیا بھر میں بسنے والے اربوں انسانوں کی پہچان اور قدر و منزلت کا اصل پیمانہ ان کی اخلاقی قدریں اور عادات و اطوار ہوتے ہیں۔ کسی مجلس میں ایک اجنبی شخص آکر بیٹھ جائے تواس کی شناخت کا تجسس ایک فطری عمل ہے۔ اس کی گفتگو اور لب و لہجہ سے ہی اس کی شخصیت کے پہلو اجاگرہوتے ہیں اور ہمارے ذہن کی پلیٹ پر اس کی شخصیت کا ایک نقش ثبت ہو جاتا ہے۔ جب کبھی وہ ہمارے سامنے آتا ہے تو وہی نقش دوبارہ عود کر آتا ہے۔ مذہب ہو کہ سیاست، معاشرت ہو کہ ثقافت اخلاقی قدریں ہرجگہ اپنا ایک خاص اثر و رسوخ اور اہمیت رکھتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاقی اقدار کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ ایمانیات، عبادات اور معاملات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بھی ہمارے دین کا اہم اور بنیادی حصہ ہیں۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ مجھے تو بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کرسکوں‘‘۔ وطن عزیز پاکستان کی تخلیق ہی اسلام سے منسوب ہے۔ ہمیں اپنے سیاسی کلچر میں اسلامی اخلاقیات کو فروغ دینا چاہئے تھا ۔ایک دوسرے کی عزت و آبرو کی حفاظت ہمارا قومی شعار ہونا چاہیے تھا۔ انفرادی طور پر بہت سے پارسا لوگ اور شریف النفس گھرانے موجود ہیں لیکن اس کڑوے سچ کو ہمیں ماننا چاہیے کہ بد قسمتی سے بحیثیت مجموعی ایسا معاشرہ تشکیل پاسکا اور نہ ہی ا یسا ماحول بن سکا جہاں ان قدروں کی حفاظت کی پاسداری کا اہم فریضہ بجا لایا جاتا۔ 
ایوب خان کے دور میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے محترمہ فاطمہ جناح کی جس طرح کردار کشی کی مہم چلائی گئی یہ اس بے ہودہ کلچر کا آغاز تھا۔ مختلف ادوار میں اس میں اتار چڑھائو آتا رہا۔آج کل پرنٹ،الیکٹرانک اورخصوصاًسوشل میڈیا ان ناشائستہ حرکات و سکنات سے بھرا پڑا ہے۔ سادات سے لیکر ماں بہن کی عزت کا کوئی پاس نہیں۔سیاسی راہنمائوں کی اخلاق سے گری ہوئی باتیں اور بے ہودہ ڈائیلاگ سن کربہت افسوس ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتاکہ اپنی آنے والی نسل کو ہم کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کی آنکھوں کا تارہ بھی وہی سیاستدان ہے جو چرب زبانی کے ذریعے دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے اور چادرو چاردیواری کی عصمتوں کو تارتار کرنے میں مہارت تامہ رکھتا ہو۔ سیاسی ورکروں کی نئی پروان چڑھنے والی نسل کو کسی کی چادر کی پرواہ اور نہ ہی کسی کے سفید بالوں کی حیا ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ ان کے نزدیک جنگ کے میدان اور نفرت کے طوفان میں سبھی کچھ جائز ہے۔حلال کی پرواہ ہے اور نہ حرام کی فکر۔ جھوٹ،تہمت،گالی گلوچ اورطعنہ زنی ایسے بے دھڑک انداز میں ہو رہے ہیں جیسے کہ مرنے کی فکرہی نہیں۔ نظریاتی اور فکری سیاست کی بجائے ہم لوگ شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ ذہن میں ایک ہی بات سمائی ہوئی ہے کہ میں جس کو میں لیڈر مانتا ہوں یا جس پارٹی سے میرے مفادات وابستہ ہیں اس کی پتنگ اونچی ہونی چاہئے۔ اس بات کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کہ وہ لیڈر چور ہو، ڈاکو ہو، بد کردار ہو یا منافق ہو۔’’ را‘‘ کا ایجنٹ ہو یا’’ موساد‘‘ کا وظیفہ خور۔ ہر ایک گالی گلوچ کو تکیہ کلام بنا کر دوسروں کی عزت کو تارتار کرنا ہی اپنی کامیابی سمجھے جا رہا ہے اور اسی میں دلی سکون کی تلاش جاری ہے۔  اس طرح کی الزام تراشی کی لہر میں ہمیں تو کوئی بھی محفوظ نظر نہیں آتا کیونکہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے نہ کہ فرشتوں کا۔ چھوٹی موٹی کوتاہیاں زندگی کے کسی حصے میں انسان سے کبھی کبھار سر زد ہو ہی جاتی ہیں۔ کوئی توبہ کرکے آئندہ کیلئے راہ راست پر آجائے تو رب کریم بھی معاف کردیتا ہے۔ ہمیں بھی اس طرح کی باتیں نظر انداز کرکے بڑے مقاصد کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس سوشل میڈیا پر ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہے کہ فی الوقت تو اس کی دھند میں مقصد تخلیق پاکستان نظروں سے اوجھل نظر آتا ہے اور اسی کی گرد میں استحکام پاکستان کی راہیں بھی گم ہیں۔
 بھونڈے اور لایعنی الزامات کی تو کوئی وقعت نہیں ہوتی البتہ جہاں تک سنجیدہ اور معقول الزامات کا تعلق ہے، گالی گلوچ اور ایک دوسرے کی کردار کشی کی بجائے ان کو عدالت میں لے کے جائو۔ ان تمام الزامات کی تحقیق ہو اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ آپ سیاستدان لوگ’’ بڑے لوگ‘‘ ہو اورہماری عدالتیں تو ہیں ہی بڑے لوگوں کیلئے جن کے بڑے بڑے کیسز کے فیصلوں کیلئے بھی’’ دن‘‘ مقرر کیے جاتے ہیں جبکہ عام آدمی اور غریب شہری چھوٹے چھوٹے مقدموں میں سالہا سال تک اور نسل در نسل عدالتوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے لیکن کوئی نتیجہ خیز شنوائی نہیں ہوتی۔ لہذا زبان اور قلم گندا کرنے کی بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائو۔ ہم مانتے ہیں کہ سیاسی ورکر کے طور پر تنقید کرنا آپ کا حق ہے۔ ہماری گزارش فقط یہ ہے کہ تمیز کے دائرے میں رہ کر شائستگی کے ساتھ اختلاف یا تنقید کریں۔ مانا کہ آپ کسی سیاسی پارٹی کے جیالے، متوالے یا ٹائیگر ہو۔ ہم نے یہ بھی مانا کہ آپ تبدیلی، ترقی یا نئے پاکستان کے علمبردار ہو۔ ہمیں آپ کی حب الوطنی پر ذرا برابر بھی شک نہیں۔ ہمیں صرف اور صرف آپ کو یہ یاد دلانا ہے کہ اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ تم مسلمان بھی ہو۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ وقت انتہائی قریب ہے جب ہمیں اپنے ایک ایک قول اور فعل پر احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ وہاں کسی پارٹی کا کوئی لیڈر ہمیں بچانے کی ہمت نہیں رکھتا۔ یاد رہے کہ اسلام میں گالی گلوچ کو فسق سے تعبیر کیا گیا ہے جو کہ بڑے بڑے گناہوں کی فہرست میں شامل ہے اور اسی طرح کسی پر تہمت لگانا بھی سخت ترین گناہ ہے۔ یہ تعلیمات کسی کی ذہنی اختراع یا خود ساختہ فلسفہ اخلاقیات کے اسرار و رموز نہیں بلکہ ﷲ کی آخری کتاب قرآن پاک میں واشگاف الفاظ میں ہمیں ان گناہوں سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے جنہیں کہ ہم نے صبح و شام اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کی سورہ الحجرات میں اخوت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیبت، طعن و تشنیع، برے القاب سے کسی کو یاد کرنے سے سختی سے منع کیا گیا اور یہ تلقین بھی کی گئی کہ مسلمان ہو کر اس طرح کی بیہودگی میں مبتلا ہونا تمہیں قطعاً زیب نہیں دیتا۔

تازہ ترین خبریں

 ن لیگ کے بجلی کے منصوبے موجودہ حکومت سے نہیں چل رہے، مہنگائی اور بجلی بلوں میں اضافہ سے عوام تنگ آ چکی ہے۔احسن اقبال

ن لیگ کے بجلی کے منصوبے موجودہ حکومت سے نہیں چل رہے، مہنگائی اور بجلی بلوں میں اضافہ سے عوام تنگ آ چکی ہے۔احسن اقبال

 حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں دھاندلی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش ہے ۔ فرحت اللہ بابر

حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں دھاندلی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش ہے ۔ فرحت اللہ بابر

سندھ حکومت نے تھر کے 200گائوں کےلئے 28کروڑروپے مختص کردیے

سندھ حکومت نے تھر کے 200گائوں کےلئے 28کروڑروپے مختص کردیے

سندھ کے اندر جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ موجود ہے۔ سندھ میں اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔فواد چوہدری

سندھ کے اندر جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ موجود ہے۔ سندھ میں اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔فواد چوہدری

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

چشتیاں میں کنویںکی دیوار بناتے ہوئے زمین بیٹھ گئی ۔۔۔ 3 مزدور جاں بحق

چشتیاں میں کنویںکی دیوار بناتے ہوئے زمین بیٹھ گئی ۔۔۔ 3 مزدور جاں بحق

لاہور میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے باعث 120 فیڈرز پر بجلی معطل ہو گئی۔

لاہور میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے باعث 120 فیڈرز پر بجلی معطل ہو گئی۔

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

آندھی کےباعث مکان کی چھت گر گئی ۔۔5 افراد دب گئے

 پی ‏ٹی آئی کی حکومت نےگالم گلوچ کی سیاست کی بنیادڈالی ہے۔وزیراطلاعات سید ناصرحسین شاہ

پی ‏ٹی آئی کی حکومت نےگالم گلوچ کی سیاست کی بنیادڈالی ہے۔وزیراطلاعات سید ناصرحسین شاہ

 پاکستان ایک پرامن، خود مختار اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔شاہ محمود قریشی

پاکستان ایک پرامن، خود مختار اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔شاہ محمود قریشی

 ہر طرح کی کرپشن کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں، معصوم پاکستانیوں کے اربوں لوٹنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ چیئرمین نیب

ہر طرح کی کرپشن کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں، معصوم پاکستانیوں کے اربوں لوٹنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ چیئرمین نیب

 محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جس نظریے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا وہ نظریہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آصف علی ذرداری 

 محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جس نظریے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا وہ نظریہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آصف علی ذرداری 

محلےکے لڑکوں سے ناجائز تعلقات پر 14سالہ لڑکی کو مار ڈالا گیا

محلےکے لڑکوں سے ناجائز تعلقات پر 14سالہ لڑکی کو مار ڈالا گیا

 الیکشن سے پہلے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے مگر نہ معیشت بہتری ہوئی اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں دی گئیں ۔مفتاح اسماعیل

الیکشن سے پہلے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے مگر نہ معیشت بہتری ہوئی اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں دی گئیں ۔مفتاح اسماعیل