02:05 pm
لیبیا،عدم استحکام کاذمہ دارکون؟

لیبیا،عدم استحکام کاذمہ دارکون؟

02:05 pm

(گزشتہ سےپیوستہ)
لیبیا کے مندوبین کم سے کم متنازع افرادکو سامنے لاناچاہتے تھے۔ دونوں فہرستوں میں زیادہ الجھائوان دشمنوں کے باعث رونماہواجوتبروک میں اغیلاصالح نے بنائے تھے۔مشرق میں سابق اتحادی بھی دارالحکومت کی تبدیلی کے حوالے سے اغیلاصالح کے منصوبے سے تشویش میں مبتلا تھے۔ نیا دارالحکومت خلیفہ ہفتارکے کنٹرول میں ہوتا۔ماہ رواں میں ہونے والے ووٹ نے بہت کچھ بدل کررکھ دیاہے۔ جب انتخابی نتائج واضح ہوگئے تب ترک صدرنے عبوری وزیراعظم اورصدارتی کونسل کے سربراہ کوفون کرکے مبارک باددینے میں دیرنہیں لگائی۔اس ڈیل میں جولوگ ناکام رہے تھے انہوں نے  بھی ڈوبتے جہازسے کودنے میں خاصی تیزی دکھائی۔فرانس کے صدرمیکراں نے بھی محمدالمنفی اور عبدالحامددبیبہ سے بات کی۔ واضح رہے کہ محمد المنفی کویونانی حکومت نے بھی مبارک باددی جبکہ یہ محمدالمنفی ہی تھے جنہیں یونانی حکومت نے نکال دیاتھا۔معاملات کتنی تیزی سے اورکس حدتک بدلتے ہیں۔مگرخیر،یہ نہیں کہاجاسکتاکہ لیبیامیں اقتدارکی جنگ ختم ہوچکی ہے۔ ابھی بہت کچھ ہوناہے۔مصرنے بھی اب خلیفہ ہفتارسے کنارا کش رہنے کوترجیح دینا شروع کردیاہے تاہم اس کے سب سے بڑے حامی متحدہ عرب امارات نے اب تک اپنی لائن تبدیل نہیں کی ہے۔روسی صدرپوٹن نے بھی خلیفہ ہفتارکاساتھ نہیں چھوڑا ہے۔روس کی مشنری فورسزسرطے اورالجفرا ائیربیس کی حفاظت پر مامور ہیں۔
اس ڈیل کے ہارنے والوں میں متحدہ عرب امارات،روس اورفرانس شامل ہیں جنہوں نے اب تک شمالی افریقہ میں جمہوریت اور حقیقی عوامی نمائندوں کے ایوان اقتدارتک پہنچنے کے لئے برائے نام احترام کابھی اظہارنہیں کیااورسمجھا جا سکتاہے کہ انہوں نے اب تک لیبیاکے حوالے سے اپنے منصوبے بھی ترک نہیں کیے ہیں۔گزشتہ اپریل میں خلیفہ ہفتارنے خودکولیبیاکااصل حکمران قراردیا تھا۔اس وقت وہ کسی بھی سیاسی عمل کاحصہ نہیں۔ایسے میں یہ توبہت دورکی بات ہے کہ کسی بین الاقوامی معاہدے کے تحت انہیں احترام کی نظرسے دیکھاگیاہو۔اگرسیاسی عمل ایک بارپھر ناکامی سے دوچار ہو توسوچاجاسکتاہے کہ خلیفہ ہفتار ایک بارپھر اقتدارکے ایوان تک رسائی کی تھوڑی بہت کوشش کرسکتاہے یاکم ازکم انتخابات کی طرف جانے والے معاملات کی راہ میں تو دیواربن ہی سکتاہے۔
عبدالحامددبیبہ کے پاس پارلیمان سے منظوری کے لئے اپنی کابینہ منظرعام پرلانے کے لئے تین ماہ ہیں۔عبدالحامددبیبہ نے ترک خبررساں ادارے انادولوسے انٹرویوکے دوران پارلیمان کے اس جزکو قبول کرنے سے واضح انکارکیاہے،جوتبروک میں ہے۔ عبدالحامددبیبہ کہتے ہیں کہ اصل فیصلہ اب عوام کوکرناہے۔دیکھنایہ ہے کہ لیبیاکے عوام کس طرح کی پارلیمان چاہتے ہیں۔ ملک کے مشرق میں خلیفہ ہفتارکی حمایت سے عبداللہ الثانی کی قیادت میں قائم حکومت نے عبوری حکمراں کونسل کواقتدارکی منتقلی پارلیمان کی منظوری سے مشروط کردی ہے۔پارلیمان کے متعددارکان تبروک جا چکے تھے مگراب وہ طرابلس لوٹ آئے ہیں جواس امرپر احتجاج کے لئے ہے کہ اغیلاصالح نے انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بروئے کار لانے کی کوشش کی تھی۔ساتھ ہی ساتھ انہیں دارالحکومت سرطے منتقل کرنے کاخیال بھی زیادہ پرکشش دکھائی نہیں دیاہے۔
اب اس کاامکان ہے کہ پارلیمان،جوبہت حدتک نمائندہ ہے،عبدالحامددبیبہ کوعبوری حکومت قائم کرنے کے لئے گرین سگنل دینے میں دیرنہیں لگائے گی۔ اگرپارلیمان ایساکرنے میں ناکام رہتی ہے توفیصلہ گھوم کران75مندوبین تک جائے گاجنہوں نے اس معاہدے کی منظوری دی تھی۔ ویسے ملک بھرمیں عمومی سطح پریہ تاثراوراعتماد پایا جاتاہے کہ عبوری حکومت قائم ہوگی اورٹیک آف میں بھی کامیابی حاصل کرے گی۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عبوری حکومت کاحصہ بننے والوں کوسالِ رواں کے آخرمیں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی سطح پرجوکچھ بھی ہواہے وہ کچھ زیادہ حوصلہ افزانہیں۔بہت سی خرابیاں اب بھی برقرارہیں مگرپھربھی امیدکی جانی چاہیے کہ لیبیامیں خانہ جنگی ختم کرنے کی راہ اب ضرورہموار ہو گی۔ یہاں یہ نکتہ بھی نہیں بھولناچاہیے کہ اگرخلیفہ ہفتارنے طرابلس پرقبضہ کرلیاہوتا تو معاملات بہت مختلف ہوتے۔ خلیفہ ہفتارکے جنگجوطرابلس کے قلب سے محض7کلومیٹر دوررہ گئے تھے۔ان کی کامیابی کی صورت میں لیبیاکوبھی اپنے حصے کاالسیسی مل گیاہوتا۔ایساہواہوتاتوفرانس اور روس بڑھ کرخلیفہ ہفتارکاخیرمقدم کرتے،جس کے نتیجے میں تیل اورہتھیاروں کے بڑے معاہدے روسی اور فرانسیسی کمپنیوں کوملے ہوتے۔ لیبیائی ملیشیاء کے علاوہ خلیفہ ہفتارکے جنگجوئوں کوروکنے والی قوت ترکی کے ڈرون تھے۔ فرانس کی طاقت کوطاقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ سب سیاسی اسلام پسندوں اورامن پسندسیکو لر انقلابیوں کے اس تصورکے خلاف ہے کہ طاقت کوطاقت سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔ اوریہ کہ آمروں کاسامناکرنے کیلئے طاقت کے استعمال کی صورت میں ہم دراصل ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔اخلاقی سطح پران کی بات درست ہے، مگرحقیقت یہ ہے کہ اگرصرف پندونصائح سے کام لینے کی کوشش کی گئی ہوتی توطرابلس کو خلیفہ ہفتارکے جنگجوئوں کے پنجوں سے بچانے میں کامیاب نہیں ہواجاسکتاتھا۔لیبیاکے بہت سے علاقوں میں خلیفہ ہفتارکے جنگجوئوں نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے  اوربنیادی حقوق پامال کیے۔ اگرطرابلس بھی ان کے کنٹرول میں آگیاہوتاتو یہاں بھی انسانیت سوزمظالم ہی ڈھائے جاتے۔
امریکی انقلاب میں فرانس کی طاقت کے ذریعے ہی انقلابیوں نے برطانوی سامراجیوں کونکال باہرکیاتھا۔لیبیاکے معاملے میں بھی طاقت کااستعمال ہی آمروں کوپیچھے ہٹانے اور ان کے نوآبادیاتی دوستوں کوکمزورکرنے میں کلیدی کردارکاحامل رہاہے۔اگرلیبیا میں سیاسی تبدیلیاں کامیاب رہیں تومصراورتیونس پربھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ان دونوں پڑوسیوں کی معیشت کامداربہت حدتک لیبیاکے استحکام پرہے۔ لیبیامیں لڑائی ختم ہواس میں لیبیاکے علاوہ مصراورتیونس کابھی فائدہ ہے۔امیدکی جانی چاہیے کہ اب معاملات حقیقی امن اوراستحکام کی طرف جائیں گے لیکن کیااس خطے میں’’عرب بہار‘‘کے نام پرعدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں سے بازپرس نہیں ہونی چاہئے جنہوں نے اپنے مفادات کی غرض سے امن کوتہہ وبالاکررکھاہے۔ 

تازہ ترین خبریں

کچلنے کی کوشش  یا کچھ اور۔۔ ن لیگی رہنما نے پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی کو ٹکر مار دی،کتنا جانی مالی نقصان ہوا؟جانیے تفصیل

کچلنے کی کوشش یا کچھ اور۔۔ ن لیگی رہنما نے پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی کو ٹکر مار دی،کتنا جانی مالی نقصان ہوا؟جانیے تفصیل

جوبائیڈن اور ولادی میر پیوٹن نے ملاقات کر ڈالی

جوبائیڈن اور ولادی میر پیوٹن نے ملاقات کر ڈالی

معاملات سلجھ بھی سکتے ہیں اور بگڑ بھی سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے و مہینے نہایت اہم ہیں۔ شاہ محمود قریشی

معاملات سلجھ بھی سکتے ہیں اور بگڑ بھی سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتے و مہینے نہایت اہم ہیں۔ شاہ محمود قریشی

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے مقدس کلمات کی توہین۔۔۔۔تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ کی درخواست

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے مقدس کلمات کی توہین۔۔۔۔تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ کی درخواست

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ۔ پروزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ۔ پروزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

 مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیووائرل ہونےکے واقعے کے بعد پولیس مدرسے پہنچ گئی

مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیووائرل ہونےکے واقعے کے بعد پولیس مدرسے پہنچ گئی

ایف آئی اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما  حمزہ شہباز کو طلب کر لیا ہے۔

ایف آئی اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو طلب کر لیا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجیز سے پاکستان آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر مملکت

مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجیز سے پاکستان آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر مملکت

نئی تعلیمی سال کا آغاز ۔۔ داخلے کب سے شروع ہوں گے۔۔۔وزیرتعلیم شفقت محمود نے اعلان کردیا

نئی تعلیمی سال کا آغاز ۔۔ داخلے کب سے شروع ہوں گے۔۔۔وزیرتعلیم شفقت محمود نے اعلان کردیا

گالیاں دینا اور بدتمیزی کرنا ہمارا کلچر نہیں ‏ن لیگ کی تاریخ ہے شیخ روحیل اصغرنےگالیاں دیں جس پرردعمل دیا۔ علی نواز اعوان

گالیاں دینا اور بدتمیزی کرنا ہمارا کلچر نہیں ‏ن لیگ کی تاریخ ہے شیخ روحیل اصغرنےگالیاں دیں جس پرردعمل دیا۔ علی نواز اعوان

جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا

جماعت اسلامی کے سابق یوسی ناظم کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی کردی

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پٹرولیم لیوی میں کمی کردی

 پاکستان سپر لیگ سیزن سکس۔۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ملتان سلطان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

پاکستان سپر لیگ سیزن سکس۔۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ملتان سلطان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے والی ہے

خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے والی ہے