12:12 pm
مذہبی سیاسی رہنمائوں کی استغلال (exploitation)کی روش

مذہبی سیاسی رہنمائوں کی استغلال (exploitation)کی روش

12:12 pm

 ہمارے یہاں مذہبی یا مذہبی  سیاسی قیادت اتنی طاقتور کبھی نہیں رہی کہ کسی سیاسی تبدیلی کی پیش خیمہ بن سکے،،تاہم اس کا سیاسی دبائو محدود حد تک محسوس
 ہمارے یہاں مذہبی یا مذہبی  سیاسی قیادت اتنی طاقتور کبھی نہیں رہی کہ کسی سیاسی تبدیلی کی پیش خیمہ بن سکے،،تاہم اس کا سیاسی دبائو محدود حد تک محسوس کیا جاتا رہا ہے کہ مدارس کے طالبان جان کی بازی لگانے میں پیش پیش ہوجاتے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے ان معصوم اور بھرپور  معروضی شعور نہ رکھنے والے طالبان کو ہمیشہ استغلال (Exploit ) ہی کیا جاتارہاان کے ذریعے کوئی شعوری مذہبی یا سیاسی تبدیلی نہ لائی جاسکی۔لیکن پچھلے کچھ عرصے سے مدارس کے طالبان کا سیاسی شعور بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے ،جدید تعلیمی رجحانات نے ان کے اندر بیداری پیدا کردی ہے اور وہ آنکھیں بند کئے مذہبی پیشوائوں کی پیروی کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے ۔خصوصا دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے طالبان جو  موجودہ حکومت کی طرف سے مقابلے کے امتحانات کے در وا کئے جانے پر اپنی توجہ کا مرکز یکسر جدید امکانات کوبنائے ہوئے ہیں ۔یہ اپنے لئے نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے  نظر آتے ہیں ،اسی طرح وہ  دینی مذہبی طالبان جن کا تعلق بریلوی مکتبہ سے ہے خصوصاً جو علامہ طاہرالقادری کے منہا ج القران انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں وہ بھی جدید مذہبی رجحانات کو حرز جاں بنائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ہر دو طالبان آپس میں ہم آہنگی کے خواہش مند بھی ہیں اور ایک دوسرے کے درمیان مکالمے کی راہ بھی ہموار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
یہ عنوان باندھنے کا مقصد اور مدعا یہ ہے کہ افغانستان میں اٹھنے والی طالبان کی نئی لہر مذکورہ طالبان پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔اگر یہ طالبان اپنی روش پر قائم رہتے ہیں اور مذہبی سیاسی قیادت کے استغلال کا شکار نہیں ہوتے تو تبدیلی کے وہ امکانات جو پاکستان میں روشن دکھائی دیتے ہیں اور ایک فکری انقلاب کی نوید دینے والے مذکورہ طالبان ثابت قدمی کے ساتھ اپنے افکار و نظریات پر جمے رہتے ہیں تو افغانستان میں امکانی طور پر  آنے والی نئی تبدیلی ہمارے یہاں کسی اضطراب یا بے اطمینانی کا سبب نہیں بنے گی۔
جہاں تک افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا تعلق ہے افغانستان پہلے اس تجربے سے گزر چکاہے ،طالبان کے طرز حکومت نے وہاں کے عوام کے اندر امن وامان اور بہتری کا جو احساس پیدا کیا وہ انہی کے حالات و واقعات کا ایک روشن باب ہے ،نوٹوں سے بھرے ٹرک سڑک کنارے کھڑے کرکے ڈرائیور نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کرتے تو کوئی ان ٹرکوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے والا نہیں ہوتا تھا جبکہ ہمارے یہاں آج بھی مسجد کے اندر یا باہر رکھے ٹھنڈے پانی کے کولر کے ساتھ گلاس کو زنجیر ڈال کررکھا جاتا ہے کہ کوئی چرا کر نہ لے جائے۔بلکہ  نمازیوں کے جوتے تک محفوظ نہیں ہوتے ۔
کوئٹہ میں افغان طالبان کے حق میں ریلی نکالنے والے لوگ اوران کی پشت پر کھڑے مذہبی سیاسی رہنما خصوصا جمعیت علما اسلام فضل الرحمان سے الگ ہوجانے والا دھڑا (نظریاتی گروپ) جسے ماضی میں بلوچستان کی سیاست میں کچھ پذیرائی بھی حاصل رہی یہ دعویٰ کرنے پر مصر ہے کہ افغان طالبان کے حق میں نکالی جانے والی ریلی اسی کے اہتمام و انصرام کی مرہون منت ہے  تو اس کے اندر بھی ایک استغلال کی خواہش سمائی ہوئی ظاہر ہوتی ہے  کہ بعض مفادات کا رخ آغاز ہی میں اپنی طرف موڑ لیا جائے۔یہ روش نئی نہیں ہے محراب و منبر کے وارث اسی کاریگری کے ذریعے آج دنیاوی مراعات سے مالامال نظر آتے ہیں ۔
یہ آج مسلمان مذہبی رہنما ہی نہیں کررہے بلکہ ماضی بعید میں دیگر اقوام کے مذہبی پیشوا بھی سادہ لوح شہریوں کو اسی استغلال کی سان پر چڑھا کر اپنی مراعات اور مفادات کے حصول کے لیئے کوشاں رہے ہیں۔طالبان کے حق میں نکالی جانے والی ریلی میں زیادہ تربڑی عمر کے لوگ ہی شریک نظر آئے  اور اگر نوجوان شامل بھی ہوں گے  تو وہ جنہیں دنیا و آخرت کی جنت کے خواب دکھائے گئے ہوں گے مگر یہ بات بھی روز روشن کی طرح ہے کہ آج کا نوجوان بھلے  زیورتعلیم سے آراستہ ہویا نہ ہو کم از کم یہ شعور رکھتا ہے کہ اب اسے امن کی ضرورت ہے،راحت و سکون کی ضرورت ہے جس کی چھتری تلے وہ اپنے مستقبل کی آبیاری کر سکے ۔
بہر حال جمعیت علما اسلام نظریاتی گروپ کے نائب صدر مولانا عبدالقادر لونی نے طالبان کے حق میں نکالی جانے والی ریلی اپنے کارکنوں کی طرف سے نکالے جانے کا اعتراف کر کے سیاسی دانشمندی کا ثبوت ہرگز نہیں دیا ۔گزشتہ سال دسمبر میں انہوں نے اپنے دس رکنی وفد کے ساتھ تحریک انصاف حکومت کے مذہبی امور کے وفاقی وزیرپیر   نورالحق قادری  سے ملاقات میں عمران حکومت کی حمایت اور اس کی پالیسیوں کا برملا اعتراف کیا ،انہیں اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے طالبان کے حق میں ریلی کا انتظام کرنے سے قبل مذہبی امور کے وفاقی وزیر سے مشاورت کر لینی چاہیئے تھی ،مگر انہیں تو اپنے مفادات عزیز تھے وہ ان جھمیلوں میں کیوں پڑتے !!!
مذہبی سیاسی جماعتوں کے پاس بس اسی استغلال   (exploitation ) راستہ ہی رہ گیا ہے اسی میں ان کی انا کی تسکین بھی ہے اور ذاتی مفاد  بھی۔ واللہ اعلم
 

تازہ ترین خبریں

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

 پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

 کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم

کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم