12:19 pm
افغانستان کی موجودہ صورتحال کا پس منظر اور توقعات

افغانستان کی موجودہ صورتحال کا پس منظر اور توقعات

12:19 pm

جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کا ایک بڑا حصہ افغانستان کے ان باشندوں پر مشتمل ہے جنھوں نے سوویت یونین کے فوجی تسلط سے آزادی اور اپنے ملک
(گزشتہ سے پیوستہ)
جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کا ایک بڑا حصہ افغانستان کے ان باشندوں پر مشتمل ہے جنھوں نے سوویت یونین کے فوجی تسلط سے آزادی اور اپنے ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کی بحالی کے لیے جنگ لڑی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ جہاد افغانستان کے نتیجے میں سوویت فوجوں کی واپسی اور مجاہدین کی حکومت قائم ہو جانے کے باوجود جہاد کے اصل مقصد یعنی نفاذ شریعت کی طرف کوئی مثر پیش رفت نہیں ہو رہی بلکہ بدامنی، افراتفری، لاقانونیت اور خانہ جنگی بڑھتی جا رہی ہے تو وہ اس کے ردعمل میں طالبان کی صورت میں سامنے آئے اور ملک کے ایک بڑے حصے میں پانچ سال تک حکومت قائم کر کے جہاد افغانستان کے منطقی ہدف کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا اور اب وہ امریکی اتحاد کی فوجوں کے خلاف اسی طرح جنگ لڑ رہے ہیں جیسے انہوں نے سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف لڑی تھی اور وہ اسے بھی آزادی اور خود مختاری کی جنگ سمجھتے ہیں۔
جہاد افغانستان میں شامل مجاہدین کا دوسرا بڑا حصہ ان ہزاروں پاکستانی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد وطن واپس آئے۔ ان کے مستقبل کے بارے میں ان کی راہنمائی اور ان کے جذبات و تجربات کو صحیح رخ پر لگانے کے لیے منصوبہ بندی پاکستان کے قومی حلقوں کی ذمہ داری تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ شاید کچھ ذمہ دار حلقوں نے انہیں اس لیے کھلا چھوڑ دیا ہو کہ ان سے کشمیر میں اسی طرح فائدہ اٹھایا جا سکے گا جس طرح افغانستان میں ان سے فائدہ اٹھایا گیا تھا، مگر غالبا عالمی قوتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کے نتیجے میں مجاہدین کے ان گروپوں نے بھی اپنا اپنا ایجنڈا خود طے کیا اور اپنے اپنے ذہنی رجحانات کے مطابق میدان کار منتخب کر لیا۔ بہت سے افراد کی صلاحیتیں فرقہ وارانہ کشمکش کو بڑھانے میں استعمال ہوئیں جب کہ بہت سے گروہوں نے پاکستان کو افغانستان پر قیاس کرتے ہوئے نفاذ شریعت کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کر لیا اور ملک کی رولنگ کلاس کا طرزعمل اس مسلح جدوجہد کے لیے بتدریج راستہ ہموار کرتا چلا گیا۔
مثلاً سوات میں نفاذ شریعت کے لیے جب جدوجہد شروع ہوئی تو طالبان کا کہیں بھی کوئی وجود نہیں تھا اور اس تحریک کا پس منظر صرف اتنا تھا کہ سوات کے عوام مطالبہ کر رہے تھے کہ انھیں ان کے ریاستی دور کا وہ عدالتی نظام واپس کر دیا جائے جو نہ صرف برطانوی دور میں بلکہ1949ء   تک پاکستان کے دور میں بھی رائج رہا ہے۔ ان کے خیال میں شرعی قوانین پر مبنی وہ عدالتی نظام انھیں سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عقیدہ و مذہب سے بھی مطابقت رکھتا ہے، اس لیے وہی ان کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ ان کا یہ موقف قبول کر لیا گیا اور ایک آرڈیننس کے ذریعے انہیں یہ نظام مہیا کرنے کا اعلان کر دیا گیا، لیکن وہ آرڈیننس محض الفاظ کا ہیر پھیر تھا جس کی حقیقت واضح ہونے کے بعد عوام کے جذبات میں شدت پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ موجودہ حالات تک بات جا پہنچی۔ اس قسم کے ماحول میں جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے پاکستانی مجاہدین کے بعض گروہوں نے نفاذ اسلام کے لیے شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا جس کی ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں نے کبھی حمایت نہیں کی اور خود ہم بھی اس طریق کار کو کھلے بندوں غلط قرار دینے والوں میں شامل ہیں، لیکن اس کے پس منظر اور اسباب و عوامل کو نظر انداز کر دینا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔
جہاد افغانستان میں شامل مجاہدین کا تیسرا حصہ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے ان ہزاروں افراد پر مشتمل تھا جنہوں نے سوویت افواج کے خلاف جنگ میں عملا حصہ لیا، مگر اس جنگ کے خاتمہ کے بعد اپنے اپنے ملک میں واپس جانے میں ان کے تحفظات تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ وطن واپسی کی صورت میں ان کی جان اور آزادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان ہی پناہ گاہ ہو سکتا تھا چنانچہ انہوں نے یہاں رہ جانے کو ترجیح دی اور پاکستان میں آباد ہونے کے لیے مختلف صورتیں اختیار کیں۔ ان کا بڑا حصہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں آباد ہوا۔ ان کے بارے میں ایک مجموعی پالیسی طے کرنا اور انہیں منظم طریقے سے پاکستانی معاشرے میں ایڈجسٹ کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی جس کی طرف پوری توجہ نہیں دی گئی اور انہیں بھی اپنے اپنے جذبات اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ مجاہدین کے اسی حصے میں سے القاعدہ وجود میں آئی جس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجوں کی موجودگی کو بھی اسی نظر سے دیکھا جس نظر سے وہ افغانستان میں سوویت یونین کی موجودگی کو دیکھتے تھے اور ان کے لیے اس صورتحال کو قبول کرنا مشکل تھا کہ اگر افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی موجودگی افغانستان کی قومی خود مختاری اور آزادی کے منافی تھی تو مشرق وسطی میں امریکی افواج کی موجودگی ان ممالک کی قومی خود مختاری کے لیے خطرہ کیوں نہیں ہے اور ا گر افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی کی جنگ، آزادی کی جنگ اور جہاد تھی تو مشرق وسطیٰ سے امریکی اتحاد کی فوجوں کی واپسی کی جنگ، آزادی کی جنگ اور جہاد کیوں نہیں ہے؟
ہمارے نزدیک افغانستان میں طالبان کا منظر عام پر آنا، پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے مسلح گروپوں کا متحرک ہونا اور مشرق وسطی میں القاعدہ کا وجود اور قوت حاصل کرنا جہاد افغانستان کی سپورٹر قوتوں کی اس غفلت، بے پروائی اور لاتعلقی کا منطقی نتیجہ تھا جو انھوں نے سوویت افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد جان بوجھ کر اختیار کرلی تھی، اس لیے اس صورت حال کا صرف مسلح گروپوں کا تنہا ذمہ دار قرار دینا زمینی حقائق اور انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ صورت حال نائن الیون کے المناک سانحہ کے بعد نمودار ہوئی ہے، مگر یہ بات درست نہیں ہے بلکہ خود نائن الیون کا حادثہ بھی انھی اسباب و عوامل کے باعث پیش آیا ہے۔ البتہ نائن الیون کے المناک سانحہ نے ان اسباب و عوامل کو مہمیز دی ہے اور ان کی قوت کار میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد صورت حال تیزی کے ساتھ مزید بگڑتی چلی گئی ہے۔
نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی اتحاد کی فوجیں آئیں اور طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو مجاہدین کے مختلف گروپوں میں اشتعال کا بڑھنا اور ان میں باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا فروغ بھی ایک فطری امر تھا جس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان کی داخلی صورت حال پر پڑا اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی قوتوں اور پاکستان کی رولنگ کلاس نے مشترکہ طور پر اس مرحلے میں یہ حکمت عملی طے کر لی کہ مجاہدین کے مختلف گروپوں کی شدت اور اشتعال کو کم کرنے کی کوششوں کی بجائے علاج بالمثل کے طور پر اسے مزید بڑھانے کا ماحول پیدا کیا جائے اور وقفہ وقفہ سے مختلف علاقوں میں انہیں اشتعال دلا کر سامنے لایا جائے اور پھر اجتماعی کارروائی کے ساتھ انہیں کچل دیا جائے۔ سوات اور وزیرستان میں یہی کچھ ہوا ہے اور اب جنوبی پنجاب میں اسی قسم کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہمارے خیال میں پاکستان میں شدت پسندی اور اس کے ذریعے مختلف طبقات کے درمیان کشمکش کا یہ ماحول اس پس منظر سے ہٹ کر بھی بعض عالمی اور علاقائی قوتوں کی ضرورت ہے جس کے لیے وقتاًفوقتاً کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ یہ مسلح شدت پسندی اور دہشت گردی کراچی میں قومیت اور زبان کے حوالے سے اپنا کام دکھا چکی ہے۔ بلوچستان میں یہی ایجنڈا قومیت کے نام سے پیش رفت کر رہا ہے۔ سوات اور وزیرستان میں اس نے شریعت کے نفاذ کا عنوان اختیار کیا ہے۔ سنی اور شیعہ مسلح تصادم کے پیچھے یہی بیرونی مفادات کار فرما ہیں اور اب دیوبندی بریلوی کشمکش کو فروغ دے کر پنجاب میں یہ صورت حال پیدا کرنے کی کوشش میں بھی یہی عوامل متحرک دکھائی دیتے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

 پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

 کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم

کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم