12:20 pm
پراسرارافغان مقتدرراہداریاں

پراسرارافغان مقتدرراہداریاں

12:20 pm

افغان فوج کاپے درپے طالبان کے سامنے ہتھیارپھینکنے کاعمل بھی شروع ہوچکاہے جس سے طالبان کامورال بلندیوں کوچھورہاہے۔ماضی کی
(گزشتہ سے پیوستہ)
افغان فوج کاپے درپے طالبان کے سامنے ہتھیارپھینکنے کاعمل بھی شروع ہوچکاہے جس سے طالبان کامورال بلندیوں کوچھورہاہے۔ماضی کی بنیادپرطالبان کی دہشت کااثربھی ہو سکتاہے۔یہی فوج جوگزشتہ دوبرسوں سے امریکی مددکے بغیرطالبان کے ساتھ جنگ میں مصروف تھی اورشہرکے کسی ایک ضلع پربھی طالبان کو قبضہ کرنے نہیں دیاگیا۔اب یہ امر  جہاں حیرت انگیزہے وہاں بڑاپراسراربھی ہے کہ درجن طالبان کے سامنے سینکڑوں فوجی کیوں ہتھیارڈال دیتے ہیں؟ ماضی کے برعکس اب طالبان ان کوجیب خرچ اورکلاشنکوف دے کر عزت واحترام سے رخصت کردیتے ہیں اورجس کے عوض یہ فوجی امریکیوں کاچھوڑاہواانتہائی قیمتی بھاری اورجدیداسلحہ طالبان کے حوالے کردیتے ہیں۔یہ عمل صرف جنوبی اور مشرقی صوبوں میں نہیں بلکہ شمالی اور مغربی افغانستان کے تاجک،ازبک اورترکمن صوبوں میں بھی جاری ہے جوحیران کن ہے۔یہاں ایک اور حیران کن پہلویہ بھی ہے کہ طالبان زیادہ تران اضلاع کارخ کررہے ہیں جہاں امریکیوں نے زیادہ جدید، خطرناک اورقیمتی اسلحہ چھوڑاہے۔شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض رہنما تویہ الزام بھی لگارہے ہیں کہ ان فوجیوں کویاتوکمانڈرکی طرف سے سرنڈرہونے کی ہدایات موصول ہوچکی ہیں یاپھران فوجیوں کارابطہ ہائی کمان سے منقطع ہوچکاہے۔ان حالات کابغور مطالعہ کیاجائے تویہ معاملہ انتہائی پراسرارنظر آتاہے۔ 
ایک اورپراسرارعمل یہ بھی ہے کہ مشرقی اور جنوبی افغانستان کی نسبت شمالی اورمغربی افغانستان کے اہم اضلاع پرطالبان فتوحات کا جھندالہراتے چلے جارہے ہیں جس کی تصدیق عالمی میڈیابھی کررہا ہے۔ اگرپاکستان کی سرحدسے متصل پکتیا، پکتیکا، خوست یاجنوبی صوبوں جیسے قندھار، ہلمنداورزابل میں ایساہوتا توکچھ زیادہ حیرت نہ ہوتی لیکن ان علاقوں کی بجائے زیادہ اضلاع شمالی اورمغربی افغانستان پرطالبان کی قبضہ جاری ہے۔اسی طرح چین،پاکستان اورتاجکستان کی سرحدوں سے متصل صوبہ بدخشاں کے کئی اضلاع میں افغان فوجیوں نے ہتھیارپھینک کرطالبان کے حوالے کردیئے ہیں حالانکہ گزشتہ دورمیں باوجودبہت کوشش کرنے کے بدخشاں طالبان کی دسترس میں نہیں آسکاتھالیکن اب اس تاجک صوبے کے بیشتراضلاع پرطالبان کاقبضہ ہوچکاہے جبکہ گورنراور دیگرحکام صوبائی ہیڈکوارٹرخالی کرکے کابل فرارہوچکے ہیں۔
اسی طرح تاجکستان کی سرحدسے جڑاہواشمالی صوبہ قندوزکے اہم مقام شیرخان پرطالبان کامکمل قبضہ ہوگیاہے۔جوزجان اورفریاب جیسے مغربی ازبک اورترکمن صوبوں میں کئی اہم اضلاع طالبان کے زیرقبضہ آگئے ہیں۔تخارجوطالبان حکومت کے زمانے میں مشرقی اتحادکاہیڈکوارٹرتھا،وہاں کے بھی ایک ضلع پرطالبان نے قبضہ کرلیاہے۔اسی طرح ایرانی بارڈرسے متصل علاقے بھی طالبان کے زیر نگوں ہوچکے ہیں حالانکہ انہوں نے ابھی تک کابل،جنوبی یامشرقی صوبوں پرقبضہ نہیں کیاہے۔ یوں جنوب اورمشرق کی بجائے پہلے مغرب اورشمال میں افغان فوج کاسرنڈرہونا اور طالبان کی فتوحات پراسراربھی ہیں اورسمجھ سے بھی بالاترہیں۔
افغان وزیردفاع اسداللہ خالدکا پراسرار انداز سے منظرسے ہٹ جانابھی باعثِ حیرت ہے۔ اسد قندھاراورغزنی کا گورنررہنے کے بعداین ڈی ایس کا سربراہ تھا۔وہ گزشتہ دوبرس تک ڈٹ کرطالبان اور پاکستان کے خلاف کاروائیوں کے لئے مشہورتھااور خود فوجی یونیفارم پہن کر مختلف محاذوں پرکمانڈبھی کرتا رہا۔ اب پچھلے کئی دنوں سے وہ اچانک منظرنامے سے غائب ہوگیا۔ اس کے علاقوں پرطالبان کاقبضہ ہورہاتھا اور موصوف غائب تھا۔کئی دنوں کے بعدپتہ چلاکہ وہ اپنی بیماری کے علاج کے بہانے امریکہ میں ہے۔ حیرت کی بات تویہ بھی ہے کہ طالبان اب تک سوسے زائداضلاع پرقبضہ کرچکے ہیں لیکن کسی صوبائی ہیڈکوارٹرپرقبضہ نہیں کررہے حالانکہ اگروہ چاہیں توآسانی کے ساتھ اپنے زیر تصرف لاسکتے ہیں۔ شنیدیہ ہے کہ کچھ قوتوں کے ایماء پروہ ایساکررہے ہیں۔یہ معاملہ اس لئے انتہائی پراسرارہے کہ اگرطالبان تیزی کے ساتھ اضلاع پراپنے پرچم لہرارہے ہیں تو انہی قوتوں نے اضلاع پرقبضہ کرنے سے ان کوکیوں نہیں روکا؟اورصوبائی ہیڈکوارٹرپرقبضہ کیوں نہیں کیاجارہا؟
ایک اورپراسرار واقعہ پچھلے دنوں سامنے آیاکہ بگرام ائیربیس کوجب امریکیوں نے خالی کیاتواس کے چندگھنٹوں کے بعدوہاں کی تمام قیمتی تنصیبات اور دیگراشیا ء کووہاں سے خود طالبان نے کہیں اور محفوظ مقام پرمنتقل کردیاجبکہ افغان حکومت کو اگلے دن بگرام ائیربیس کے خالی ہونے کی اطلاع ملی جبکہ طالبان دودن قبل اسے اپنے مکمل حصارمیں لے چکے تھے ۔آخرطالبان کوبگرام ائیربیس کے خالی ہونے کی بروقت اطلاع کیسے معلوم ہوئی؟ امریکا جواب تک7ائیربیسزخالی کرکے افغان فورسزکے حوالے کرنے کی پالیسی پرگامزن تھا، آخر اس نے بگرام ائیربیس پراپنے انخلاکافوری طورپرافغان حکومت کوکیوں نہیں بتایا؟
ترکی جوپاکستان کاتودوست مگرچین کامخالف ہے،اس کا اچانک اس معاملہ میں کودکرفوری کابل ائیرپورٹ کی نگرانی کاعمل اپنے ہاتھ میں لینے کاعمل بھی انتہائی پراسرارہے۔ طالبان نے اس کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے ترکی کوتنبیہ کرتے ہوئے افغانستان سے نکل جانے کاکہاہے کہ وہ اپنی سرزمین پرکسی بھی غیرملکی فوجی کوبرداشت نہیں کریں گے۔ترکی کااچانک یہ عمل اورایشیائی ملکوں کے معاملات میں متحرک ہونا بھی ایک پراسرارعمل ہے جوکہ بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتاہے۔ 
ادھرمکارہندومودی سرکارنے 10اور 11 جولائی کوقندھار میں اپنے50کے قریبسفارتکاروں اور سیکورٹی عملہ کودوسی130طیاروں سے نکالنے کے عمل کے پیچھے اپنے آقائوں کے احکام کی تعمیل میں122ملی میٹرکے توپ خانے کے لئے80 ٹن گولہ بارود چھپاکرافغان فورسزکوپہنچانے کے منحوس عمل کوسرانجام دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اگلے ہی دن دو اورآئی اے ایف سی17طیارے جے پوراورچندی گڑھ سے مزیداسلحہ لے کر کابل ائیرفیلڈپہنچے اور ہندوستانی ہتھیاروں سے لدے ٹرک کابل کی سڑکوں پربھی دیکھے گئے ،معروف میڈیانے ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تصاویربھی جاری کیں۔ہندوستانی طیاروں کوپاکستان سے بچنے کے لئے لمبے ہوائی راستوں کااستعمال ہوا۔سوال یہ ہے کہ اس ہوائی روٹ کی بھی میڈیامیں تصاویرشائع ہوگئی ہیں۔کیاپاکستان نے اس ملک سے احتجاج کیاکہ ان کی فضائی حدودکومکاربنئے کواستعمال کرنے کی اجازت کیوں کردی گئی۔ یادرہے کہ برطانیہ اورامریکہ یک جان دو قالب مانے جاتے ہیں۔اگرامریکہ کوبغیراجازت گولہ بارود لے جانے والے امریکی جہازکوبرطانوی فضائی حدوداستعمال کرنے پر انتہائی سخت احتجاج کاسامنا کرناپڑاتھاتوپھرکوئی وجہ نہیں کہ سفارتی لیول پراس خطرناک عمل کوروکنے کے لئے فوری اقدام نہ اٹھائے جائیں کہ ان کاتعلق پاکستان کی سلامتی سے وابستہ ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2611 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔پاکستان کاسب سے بڑاخدشہ یہ ہے کہ افغانستان میں صورتحال خراب ہونے سے اس کی سرحدپرافغان پناہ گزین کادباؤبڑھ سکتاہے۔ دوسراخدشہ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے ہے جوپاکستانی فوج کے آپریشن کے دوران افغانستان چلے گئے تھے اوراب پناہ گزین کی شکل میں پاکستان واپس آسکتے ہیں۔حال ہی میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجرجنرل بابرافتخارنے کہاکہ اگرافغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تواس سے پاکستان براہ راست متاثرہوسکتا ہے۔ان کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشے کے پیش نظرپاکستانی فوج ہرصورتحال کے لئے تیارہے۔
 

تازہ ترین خبریں

وزیر اعظم کی انتہائی قریبی شخصیت اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی

وزیر اعظم کی انتہائی قریبی شخصیت اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی

حلقہ ایل اے 16باغ تین کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا

حلقہ ایل اے 16باغ تین کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا

عثمان ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کے نئے نام کے لیے تجاویز مانگ لیں۔

عثمان ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کے نئے نام کے لیے تجاویز مانگ لیں۔

 حکومت نے موڈرنا کورونا ویکسین عام شہریوں کو بھی لگانے کا فیصلہ کرلیا 

 حکومت نے موڈرنا کورونا ویکسین عام شہریوں کو بھی لگانے کا فیصلہ کرلیا 

اسلام آباد کے بعد گلگت بلتستان کے ضلع استور میں سیلاب نے تباہی مچادی

اسلام آباد کے بعد گلگت بلتستان کے ضلع استور میں سیلاب نے تباہی مچادی

 ’16 ممالک نے پاکستان کیساتھ کونسا معاہدہ   کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ؟ جانیں 

’16 ممالک نے پاکستان کیساتھ کونسا معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ؟ جانیں 

بیوی کا طلاق لینا شوہر کو برداشت نہ ہوا ، پاکستان کے اہم شہرمیں ایک شخص نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

بیوی کا طلاق لینا شوہر کو برداشت نہ ہوا ، پاکستان کے اہم شہرمیں ایک شخص نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

ہمیں آزاد کشمیر میں 16 نشستیں دینے کا کہہ کر 11 دیں گئیں 

ہمیں آزاد کشمیر میں 16 نشستیں دینے کا کہہ کر 11 دیں گئیں 

پی ٹی آئی کے پی میں غربت اور پسماندگی ختم کر نے میں مکمل ناکام ہوگئی ،صرف دعوؤں اور وعدوں پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی جاری ہے۔ سراج الحق 

پی ٹی آئی کے پی میں غربت اور پسماندگی ختم کر نے میں مکمل ناکام ہوگئی ،صرف دعوؤں اور وعدوں پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی جاری ہے۔ سراج الحق 

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان۔۔۔۔ سیکورٹی ماہرین کی ٹیم آئندہ ماہ دورہ کرے گی

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان۔۔۔۔ سیکورٹی ماہرین کی ٹیم آئندہ ماہ دورہ کرے گی

 چائنیزپیپلزلبریشن آرمی اور پاک ‏فوج مشکل وقت کے بھائی ہیں باہمی مفادات کےتحفظ کے لیے ہمارےتعلقات مسلسل مضبوط ہو ‏رہے ۔آرمی چیف

چائنیزپیپلزلبریشن آرمی اور پاک ‏فوج مشکل وقت کے بھائی ہیں باہمی مفادات کےتحفظ کے لیے ہمارےتعلقات مسلسل مضبوط ہو ‏رہے ۔آرمی چیف

مولانا عبد الخبیر آزاد اور وزیر اعظم آمنے سامنے ، عمران خان نے ایسا کیا حکم دیا تھا  

مولانا عبد الخبیر آزاد اور وزیر اعظم آمنے سامنے ، عمران خان نے ایسا کیا حکم دیا تھا  

آزاد کشمیر کے دھاندلی زدہ الیکشن اور سیالکوٹ کے متنازعہ ضمنی انتخابات نے مسلم لیگ ن کے اصولی موقف کی تائید کر دی ہے۔ احسن اقبال 

آزاد کشمیر کے دھاندلی زدہ الیکشن اور سیالکوٹ کے متنازعہ ضمنی انتخابات نے مسلم لیگ ن کے اصولی موقف کی تائید کر دی ہے۔ احسن اقبال 

آزا دکشمیر کے حلقہ ایل اے 16باغ کےالیکشن کا نتیجہ قریب

آزا دکشمیر کے حلقہ ایل اے 16باغ کےالیکشن کا نتیجہ قریب