05:14 pm
گونگے شیطان

گونگے شیطان

05:14 pm

ایک مرتبہ پھرکروناکی آڑمیں حج پرپابندی لگادی گئی اورصرف مقامی افرادکوحددرجہ پابندیوں میں اجازت ملی ہے لیکن تعجب کی بات تویہ ہے کہ کروناکو سعودی سینماہال،کیسینو،ہوٹلز اورشاپنگ مال کی رونقیں ماندکرنے کی اجازت نہیں۔حدتویہ ہے کہ کرونا یوروفٹ بال ٹورنامنٹ کے لاکھوں شائقین کے قریب بھی پھٹک نہیں سکا لیکن جہاں سال کے بعدمختلف بودوباش کے حامل افراد کوصرف اورصرف کلمہ طیبہ ایک جگہ،ایک چھت کے نیچے اس طرح جمع کرتاہے کہ کوئی اجنبیت باقی نہیں رہتی اوریہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ہم سب کی سوچ اورفکرایک ہے اوروہ فکرنبوی ہے کہ کس طرح یہ امت اپنے تمام اختلافات بھول کرایک دوسرے کے غم اورخوشیوں میں شریک ہوجائیں،دنیاکے اس عظیم الشان اجتماع پرپابندی لگانے کے لئے کروناکابہانہ ڈھونڈلیا گیا ۔ 
اس وقت دنیابھرمیں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا امت مسلمہ ہے جس پرچاروں طرف سے ابتلا کی بارش کردی گئی ہے لیکن ہمارے تمام دشمن نہ صرف اکٹھے مل کرمسلمانوں کو نیست ونابودکرنے کی عملی سازشوں میں شریک ہیں بلکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کادشمن بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اورہم ایک دوسرے کاگلہ کاٹنے میں مصروف ہیں ۔یوں تواس وقت امت مسلمہ کئی مسائل سے دوچارہے لیکن کشمیر اورفلسطین  دوایسی بڑی مقتل گاہیں بن چکی ہیں جہاں پچھلی سات دہائیوں سے انسانیت مسلسل چیخ وپکارکررہی ہے لیکن خودکومہذب کہلانے والی قومیں نہ صرف بہرے اورگونگے شیطان کاکردارادا کررہی ہیں بلکہ اس ظلم وستم میں برابرکے شریک ہیں۔   
کشمیریوں اورفلسطینیوں پر قیامت بیت رہی ہے لیکن صدافسوس کہ یہاں ہماری  مسلم حکومتوں کی محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ بستی میں ایسی بے حسی تو کبھی نہ تھی ۔ درست کہ ہم آج کمزور ہیں اور ان کی عملی مدد سے قاصر ہیں۔ لیکن ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح سنبھال کر رکھیں اور نسلوں کو وراثت میں دے جائیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔ ہم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کو تازہ رکھیں۔ ان سے رستے لہو کو جمنے نہ دیں۔ بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسند مسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ ہمارا ادیب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہو کر یہ امانت نسلوں تک پہنچا رہا تھا۔
اقبال، قدرت اللہ شہاب، فیض،شورش کا شمیری ، انتظار حسین، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، ابن انشا، احمد فراز، رئیس امروہوی، ن م راشد، مستنصر حسین تارڑ، قر العین حیدر، مظہر الاسلام، ادا جعفری، یوسف ظفر، منظور عارف، ضمیر جعفری، خاطر غزنوی، محمود شام، نذیر قیصر، شورش ملک، سلطان رشک، طاہر حنفی، بلقیس محمودـ۔۔۔۔ میرے ملک کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اور نظموں میں اس دکھ کو آئندہ نسلوں کے لئے امانت کے طور پر محفوظ کر دیا،یہ مگر گزرے دنوں کی بات ہے۔
اب فلسطین سے دھواں اٹھتا ہے تو ایک مستنصر حسین تارڑ کا قلم نوحے لکھتا ہے۔ باقی ادیب کیا ہوئے؟ قلم ٹوٹ گئے، سیاہی خشک ہوگئی یا احساس نے دم توڑ دیا؟ برسوں پہلے انتظار حسین کا افسانہ شرم الحرم پڑھا تھا۔ کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازو ہیں۔ بیت المقدس میں کون ہے؟ بیت المقدس میں تو میں ہوں۔ سب ہیں۔ کوئی نہیں ہے۔ بچے کمہار کے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے، کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانند لرزتی ہیں۔ ان کی پوشاکیں لیر لیر ہیں۔ بال کھلے ہیں۔ انہیں تو آفتاب نے بھی کھلے سر نہیں دیکھا تھا۔ عرب کے بہادر بیٹے بلندو بالا کھجوروں کی مانند میدانوں میں پڑے ہیں۔ صحرا کی ہواوں نے ان پر بین کیے۔
انتظار حسین ہی کے افسانے کانے دجال کو میں نے کتنی ہی بار پڑھا۔ یہ پیراگراف ہر دفعہ خون رلاتا ہے۔ پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔ انہوں نے سروتا تھالی میں رکھا اور آنچل سے آنسو پونچھنے لگیں۔ ابا جان کی آواز بھر آئی تھی مگر ضبط کر گئے۔ اپنے پروقار لہجے میں شروع ہو گئے۔ آنحضورﷺ دریاؤں، پہاڑوں، صحراؤں،  سے گزرتے چلے گئے ۔ مسجد اقصی میں جاکر قیام کیا۔ حضرت جبریل ؑنے عرض کیا یا حضرتﷺ تشریف لے چلئے، آپؓ ﷺ نے پوچھا کہاں؟ بولے کہ یا حضرتؓﷺ زمین کا سفر تمام ہوا۔ یہ منزل آخر تھی۔ اب عالم بالا کا سفر درپیش ہے۔ تب حضورؓ ﷺبلند ہوئے اور بلند ہوتے چلے گئے۔۔۔۔۔ورفعنا لک ذِکرک ۔۔۔۔۔ابا جان کا سر جھک گیا۔ پھر انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ بولے جہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔
لڑکپن جوانی میں بدلا اور جوانی ڈھل چلی، کنپٹیوں کے بال اب سفید ہو رہے ہیں اور عائشہ اب چہچہاتی ہے کہ بابا آپ تو بڈھے ہو گئے۔ لیکن یہ فقرہ آج بھی نیزے کی انی کی طرح وجود میں پیوست ہے جہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔ عشروں پہلے بھی یہ فقرہ پڑھا تو آگے پڑھا نہ گیا۔ آج بھی یہاں پہنچتا ہوں تو آنکھوں میں دھند اتر آتی ہے،سیدعلی گیلانی کانورانی اورپرعزم چہرہ سامنے آن کھڑاہوجاتاہے اور افسانہ ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔

(جاری ہے)



 

تازہ ترین خبریں

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

 پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

 کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم

کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم