05:15 pm
طالبان مجاہدین کے امیرالمومنین کا خصوصی پیغام

طالبان مجاہدین کے امیرالمومنین کا خصوصی پیغام

05:15 pm

دنیا کی سپر پاور امریکہ اور اس کے اتحادی 36ممالک کی افواج سے طویل ترین جنگ لڑ کر انہیں عبرتناک شکست سے دوچار کرنے والے طالبان مجاہدین کے امیر المومنین شیخ الحدیث مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ  نے عیدالاضحی پر جاری اپنے خصوصی پیغام میں افغانستان کے امن کو اسلامی نظام کے نفاذ سے مشروط قرار دیا ہے، افغانستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ افغان طالبان کا متحارب فریقین سے رویہ کس طرح کا ہوگا؟ افغان فوجیوں  کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جائے گا؟ طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد حکمران طالبان کا امریکہ سمیت عالمی دنیا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کس قسم کے ہوں گے؟ طالبان مجاہدین حکومت کے آنے کے بعد تعلیم، صحت، عدالتی نظام، معیشت سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں؟ ان سب سوالوں کا جواب جاننے کے لئے یہ خاکسار طالبان سربراہ شیخ الحدیث مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کا خصوصی پیغام من و عن اپنے کالم کی زینت بنانے کی سعادت حاصل کر رہا ہے، فاتح افغان طالبان کے امیر المومنین مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کہتے ہیں کہ :
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! آپ تمام حضرات کو عید الاضحی کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتاہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام قربانیاں، حج، صدقات، دعائیں اور تمام اعمال حسنہ کو اپنے عالی دربار میں قبول فرمائیں۔نیز ملک سے بڑی تعداد میں بیرونی افواج کے انخلا ،حالیہ فتوحات اور کامیابیوں کے حوالے سے تمام ہموطنوں، مجاہدین، مہاجرین، شہداء  کے خاندانوں، قیدیوں، بیوائوں اور یتیموں کو بھی تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کے تمام مسائل و مصائب اور تمام طبقات کی ان قربانیوں کو اپنے عالی دربار میں قبول اور منظور فرمائیں، جنہوں نے ملک کی آزادی،حقیقی اسلامی نظام کے قیام اور اعلاء  کلمۃ اللہ کی خاطر برداشت کی ہیں۔آمین یارب العالمین پیارے ہموطنو!اس بارہم عید اس حال میں منارہے ہیں،کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے ملک سے امریکی اور دیگر بیرونی افواج کی اکثریت چلی گئی ہیں اور بقیہ بھی انخلاء کی حالت میں ہے۔ ملک کے کافی اضلاع اور وسیع علاقوں میں مکمل امن و امان برقرار ہے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ماضی کی نسبت ہمارے مجاہدین بہت مضبوط، منظم، اسلحہ سے لیس اور طاقتور ہوئے ہیں۔یہ کامیابیاں صرف امارت اسلامیہ اور مجاہدین کے نہیں، بلکہ پوری قوم ہمارے ساتھ شریک ہے، جس نے گزشتہ  سالہ جہاد میں ہمارے ساتھ ہر قسم کی تکالیف برداشت کیں، تاکہ ملک کو بیرونی جارحیت سے نجات دلایا جاسکے۔ 
امارت اسلامیہ فوجی کامیابی اور پیشرفت کے باوجود ملک میں سیاسی راہ حل کی بھرپور حامی ہے۔ ملک میں اسلامی نظام کے قیام، صلح اور امن و امان کے سبب بننے والے ہر موقع سے امارت اسلامیہ ضروری فائدہ اٹھاتی ہے۔ان شااللہہم نے مذاکرات اور سیاسی عمل کے پیشرفت کی خاطر سیاسی دفتر کھولا ہے۔ مضبوط مذاکراتی ٹیم کو منتخب کرکے بات چیت کے ذریعے تنازعہ کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ مگر بدقسمتی سے مخالف فریق تاحال وقت کو ضائع کررہا ہے۔ ہمارا پیغام یہ ہے کہ آئیے غیرملکیوں پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنے مسائل کو خود ہی حل کریں اور ملک کو موجودہ صورتحال سے بچائے۔ ملک سے تمام بیرونی افواج کے انخلاء  کے بعد ہم امریکہ سمیت دنیا کے ساتھ باہمی تعامل اور وعدوں کے دائرے میں مضبوط سفارتی، معاشی اور سیاسی تعلقات چاہتے ہیں اور اسے تمام فریقوں کی بھلائی میں سمجھتے ہیں۔ پڑوسی، خطے اور دنیا کے ممالک کومکمل یقین دہائی کرواتے ہیں، کہ افغانستان کسی کو اجازت نہیں دے گا کہ ہماری سرزمین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ممالک کی سلامتی کو خطرہ پیش کریں۔ اسی طرح دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے داخلی امور میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کریں۔ ملک میں تمام غیرملکی سفارتکاروں، سفارتخانوں، قونصل خانوں، فلاحی اداروں اور سرمایہ کاروں کو مکمل یقین دلاتے ہیں، کہ ہماری طرف سے انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا، بلکہ ان کی حفاظت اور تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ان کی موجودگی ہمارے ملک کی ضرورت ہے، جس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی، تو وہ اپنے امور کو اطمینان سے جاری رکھیں اور مجاہدین کی پیش قدمی اور حکمرانی سے کسی قسم کے خوف کا احساس نہ کریں۔ تمام ملکی فریقوں کو بتلاتے ہیں کہ ہم کسی سے دشمنی مول لینا نہیں چاہتے، ہمارے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں، افغانستان سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اگر وہ ہمارے ساتھ حقیقی اسلامی نظام کو تسلیم کریں، ہم ان کے تمام حقوق اور جائز مطالبات کو مان لیں گے ۔ ملک کی تعمیرنو میں ان کی صلاحیتوں سے سالم فائدہ اٹھا جاسکتا ہے۔ مخالف صف میں کھڑے تمام فوجیوں اور مختلف تشکیلات میں تازہ بھرتی ہونے والے افراد کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ جنگ، لڑائی اور مخالفت سے دستبردار ہوجا، جس طرح ہزاروں فوجی مجاہدین سے آملے ہیں، امارت اسلامیہ نے بھی ان کے لیے سہولیات فراہم کی ، ان کی عزت کی ، بقیہ فوجی بھی ہم سے مل جائیں، اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے خطرات سے بچائیں اور مزید ملک کی تباہی و بربادی کا سبب نہ بنے۔چونکہ ملک کے صوبوں اور متعدد اضلاع میں کابل انتظامیہ کے ہزاروں فوجی بھائی چارے کے ماحول میں مجاہدین سے آملے، یہ قابل تحسین اقدام ہے، ہماری آرزو یہ ہے کہ جن افراد کو جنگ کی ترغیب دینے اور اپنی قوم سے دشمنی میں مبتلا کروانے کی جدوجہد کی جارہی ہیں، وہ سب بیدار ہوجائیں اور عام معافی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پرسکون زندگی کو لوٹ جائیں، امارت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والے اہلکاروں کیساتھ ہونے والے وعدوں کی پاسدار ہورہی ہے، ان کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جا رہی ہیاور ان پر کسی کی جانب سے ظلم و زیادتی نہیں کی جائے گی۔ چونکہ مخالف فریق کی صف سے پیدرپے امارت اسلامیہ میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، لہٰذا فوجی کمیشن کو ہدایت دیتا ہوں کہ جو فوجی امارت اسلامیہ میں شامل ہورہے ہیں، ان کی حفاظت اور گھروں تک محفوظ طور پر پہنچانے پر بھرپور توجہ دیں۔ 
( جاری ہے )

ہم ان چند عناصر کو بتلاتے ہیں ، جو بعض افراد کو بغاوت پر اکسانے اور جنگ جاری رکھنے کی ترغیب اور یا سازشوں کے شکار بنے ہوئے ہیں، انہیں ماضی کیان تجربات سے سیکھنا چاہیے، جب انہوں نے ہزاروں غیرملکی حامی افواج، طیاروں اور جدید ترین اسلحہ اور وسائل سے کچھ حاصل نہ کرسکا، تو اکیلے بھی کچھ نہیں پاسکے گا، ان شااللہ۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس طرح منحوس حرکات سے دستبردار ہوجائیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے تعاون کریں۔ کسی کو بھی مستقبل کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے، امارت اسلامیہ اپنی قوم کی نمائندگی سے ان تمام مشکلات کو متوجہ ہے،جن سے ہماری عوام روبرو ہے، ہماری پہلی جدوجہد اور ترجیح یہ ہے کہ بقیہ مسائل گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہوجائیں۔ عام شہریوں پر ہمارا مکمل اعتماد ہے،کہ وہ ہمیشہ کی طرح امارت اسلامیہ سے اپنے محکم حمایت کو جاری رکھے گی۔ ان علماء کرام، قومی عمائدین اور بزرگوں کی کاوشیں قابل قدر ہیں، جن کے مثر ثالثی اور دانشمندی کی وجہ سے مخالف فریق سے کثیرتعداد میں فوجی اور جنگجو آکر ہمارے ساتھ مل گئے، ان بزرگوں سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں اور امن و امان اور سلامتی کے استحکام میں امارت اسلامیہ سے معاون رہے۔ حکومتوں کے قیام اور ملک کی تعمیر میں اقوام کا بڑا کردار ہوتا ہے، امارت اسلامیہ اپنی قوم کے لیے ایسے ہی مفید کردار کی راہ ہموار کردے گی، تاکہ اپنے تباہ حال ملک کو دوبارہ مشترکہ طور پر آباد کریں اور اسلامی نظام کے سائے تلے پرسکون اور آرام دہ زندگی گزاریں۔ تعلیم و تربیت کے منصوبے پر امارت اسلامیہ خاص توجہ دیتی ہے ، جب ہمارا ملک تعلیمی لحاظ سے ترقی نہ کریں، تو ہم معاشی اور معاشرتی طور پر ترقی نہیں کرسکتے ہیں۔ معاشی استقلال اور خودکفیل بننے کے لیے تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں، اپنے اولاد کو تمام تعلیمی شعبوں میں تربیت دینا، خاص طور پر دینی لحاظ سے اولاد کی تعلیم و تربیت اور جدید علوم کے شعبے میں ترقی وہ کچھ ہیں، جس کی اہمیت امارت اسلامیہ نے جان لی ہے اور اس کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔اس حوالے سے مجاہدین کو ہماری ہدایت یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے ماتحت علاقوں میں دینی اور جدید علوم کے سلسلے پر خصوصی توجہ دیں۔مدارس دینیہ، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھلے رکھیں۔ معاملات کی آسانی میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ علماء  کرام، جدید علوم کے اساتذہ، یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور ممتاز اشخاص کی عزت کریں اور معاشرے کے لیے ان کی حیاتی اہمیت کا احساس کرنا چاہیے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی صورت میں حتیٰ الامکان ان کا ہاتھ بھٹایا جائے۔ ماضی کے مانند جنگوں کے دوران شہریوں کی زندگی پر مزید خصوصی توجہ دیں۔ امارت اسلامیہ نے اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیشن کو ذمہ داری سونپ دی ہے کہ جنگ کے دوران مجاہدین کی جانب کسی کو تکلیف نہ پہنچ پائیں۔امارت اسلامیہ کا اس شعبے پر خاص توجہ ہے اور تمام مجاہدین کو تاکید اور ہدایت کرتی ہے کہ کمیشن برائے سدباب سویلین نقصانات کیساتھ معاون رہے اور عام شہریوں کی زندگی پر سب سے زیادہ توجہ دیں۔ کمیشن برائے سدباب سویلین نقصانات کے دائرے میں سمع شکایات کا ارادہ بھی ہے، خدانخواستہ اگر اہل وطن کے ساتھ ہر شخص کی جانب سے ظلم ہوجائے، تو سمع شکایات کمیشن سے رابطہ کرکے اپنی شکایت درج کرواسکتا ہے۔ 
اسی طرح سمع شکایات کے کارکنوں کو خصوصی ہدایت دی جاتی ہے کہ عوام کی شکایات فی الفور سنیں، ہر شکایت کی اچھی چھان بین ، اس تک رسائی حاصل کریں اور شکایت کرنے والے کی شکایت کو رفع اور دفع کریں۔اگر اس راہ میں مزید عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پیش آجاتی، تو محاکم(عدالت)کے عالیٰ ادارے اور فوجی کمیشن سے خاص تعاون طلب کرسکتے ہو۔  صحت کے شعبے میں عوام کے لیے ممکنہ حد تک سہولیات کی فراہمی بھی امارت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔اسی کام کے لیے کمیشن برائے صحت سرگرم عمل ہے۔ اس کے لیے ہدایت یہ ہے کہ حتی الامکان تمام علاقوں اور خاص طورپر تازہ ترین مفتوحہ علاقوں میں صحت کے مراکز کو فعال رکھیں اور وہاں صحت کے مسئلہ پر توجہ دیں، صحت کے بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مستقل رابطے برقرار رکھے اور اپنے ہموطنوں کیلیے صحت کے ماحول کی توسیع اور زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی کوشش کریں۔ علماء کرام ملک بھر میں عوام کی دینی آگاہی، تعلیم اوران کے اعمال کے اصلاح پر کمیشن برائے دعوت و ارشاد کی تعاون سے بھرپور توجہ دیں۔ ہر ملت اور ملک اس وقت عزت اور حقیقی امن و امان کا مزہ چکھے گا،جب اس قوم میں اللہ تعالیٰ سے بغاوت اور سرکشی نہ ہو۔ لہٰذا عوام کے اصلاح اور دینی آگاہی سے باخبر کرنے والا فریضہ علما ء کرام کو سونپ دیا گیا ہے۔ انہیں اس راہ میں اپنی ذمہ داری کو مزید احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔ مساجد، اجتماعات، میڈیا اور پروگراموں میں عوام کے اصلاح اور ذہنوں کو روشناس کروانے کی کوشش کریں اور ان کے لیے نیک ہدایات کا وسیلہ بن جائے۔ شہریوں کے حقوق کے شعبے میں امارت اسلامیہ ہموطنوں کے جائز حقوق کے لیے پرعزم ہے،کیونکہ اسلام ہمیں سب کے حقوق کی ادائیگی اور حفاظت کا حکم کررہا ہے۔ اسی طرح شریعت کے دائرے میں خواتین کے لیے تعلیم کا مناسب ماحول فراہم کیا جائے گا،اس بارے میں امارت اسلامیہ کی جانب سے خصوصی توجہ رہے گی۔اسلامی احکام اور ملک کے قومی مفادات کے دائرے میں امارت اسلامیہ آزادی اظہار رائے کے لیے پرعزم ہے۔ صحافی حضرات ان دو اہم ترین نکات کو مدنظر رکھ کر صحافتی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے سرگرم عمل ہیں۔ تمام بااستعداد،پیشہ ور طبقات (افراد)پروفیسرز، اساتذہ، ڈاکٹرز، سائنسدان، انجینئرز ،  تعلیم یافتہ افراد، قومی تاجر اور سرمایہ کار حضرات مطمئن رہے کہ امارت اسلامیہ کے آمد سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ 
ہمارے ملک کو ان کی صلاحیتوں، رہنمائی اور کام کی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ حکومت انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔ اسی طرح ہموطنوں کو ملک سے نکلنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔ اسلامی نظام کے قیام میں سب شرکت کریں گے اور اسی طریقے سے اپنے تباہ حال ملک کو دوبارہ آباد کریں گے۔ اس حوالے سے امارت اسلامیہ سب کو یقین دہانی کرواتی ہے۔ مجاہدین کو اپنے روزمرہ اعمال،جہاد میں اخلاص و حسن نیت، اپنے رہنمائوں کی فرمانبرداری اور عوام کے ساتھ نیک سلوک پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ غرور اور تکبر سے اپنے آپ کو بچائے،جس سے خدانخواستہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کم ہوجائے، بلکہ اس میں اضافہ ہوجائے۔بیت المال کی دیکھ بھال سب سے بہت توجہ کا مطالبہ کررہا ہے۔خاص طور پر تازہ قبضے میں لیے والا اسلحہ، فوجی گاڑیاں، سازوسامان، سرکاری عمارتیں، قومی اثاثہ جات اور بیت المال سے منسلک تمام چیزیں قوم کی امانت ہے۔کسی کو اس کی تباہی، ملک سے باہر لے جانے، ضائع کرنے اور رہنماں کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔نیز دشمن سے اضلاع اور دیگر سرکاری اداروں میں اہم دستاویزات، شہریوں کے شناختی کارڈ کے اندراج، شناس نامے اور جائیدادوں کے ریکارڈ وغیرہ رہ گئے ہیں،جن کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔مخالف فریق کو بھی اضلاع سے نکلنے کے دوران ان دستاویزات اور ریکارڈ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ملک میں غریبوں، یتیموں، معذروں، قیدیوں کے خاندانوں اور دیگر محتاج حضرات کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس مصیبت زدہ طبقہ کے لیے امارت اسلامیہ کا خصوصی کمیشن ہے، اسے ہدایت دی گئی ہے کہ اپنے امکانات کے دائرے میں غربا، نیز یتیموں اور بیواں کے خاندانوں اور دیگر ضرورت مند افراد کیساتھ ہرممکن تعاون کیا کریں۔ اس عمل میں پوری قوم کی ذمہ داری بھی بہت بھاری ہے۔ موجودہ شدید معاشی صورتحال میں غریبوں اور محتاجوں سے کیساتھ زیادہ سے زیادہ امداد اور ان پر توجہ دی جائے۔ عید کے مبارک ایام میں ان پر خصوصی توجہ رکھنی چاہیے۔ ثروت مند اور سرمایہ دار ہموطن اور تاجر حضرات بھی ان افراد پر خصوصی توجہ دیں اور ان کیساتھ تعاون کریں۔آخر میں تمام ہموطنوں کو ایک بار پھر عیدالاضحی کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتاہوں اور امید کرتاہوں کہ ہموطن پرامن ماحول میں عید کے ایام گزا ریں۔ والسلام
 

تازہ ترین خبریں

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

 پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

 کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم

کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم