05:16 pm
قصہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا

قصہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا

05:16 pm

٭پاکستان میں افغان سفیر اور سفارت کاروں کو کابل واپس بلا لیا گیاO طالبان پرامن مذاکرات پر رضا مند، افغان سفیر کی بیٹی کے متضاد بیانات، اکیلی گھر سے نکلی، تین ٹیکسیاں تبدیل کیںO بھٹو قبیلے کے سربراہ ممتاز بھٹو انتقال کر گئے، میر پور بھٹو میں تدفین O کوہستان، چین داسو ڈیم پر کام کرنے پر رضا مند! O خانہ کعبہ پر نیا غلاف، 200 کاریگر، 670 کلو اصلی ریشم، 120 کلو سونے، 100 کلو چاندی کی تارO آزاد کشمیر 72 سال کے بدترین انتخابات، گالیاں، بدزبانی، دھمکیاں، پتھرائو، فائرنگ!! ایک سے ایک بڑھ کر بدزبانی، ہرزہ سرائی…وزیراعظم پاکستان بھی شامل!!
٭افغانستان کی حکومت نے اچانک اسلام آباد میں اپنے سفیر نجیب الرحمان اور تمام سینئر سفارت کاروں کو واپس بلا لیا ہے، سفارت خانہ میں صرف مقامی ملازمین کام کریں گے۔ افغان حکومت نے یہ جنگی نوعیت کا اقدام اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی ’سلسلہ‘ کے مبینہ اغوا اور تشدد کے الزامات پر کیا ہے۔ الزام لگایا گیا کہ لڑکی کو سڑک پر گاڑی میں اغوا کر کے اس پر سخت تشدد کر کے پانچ گھنٹے بعد بے ہوشی کے عالم میں کوڑے پر پھینک دیا گیا۔ وہ زخمی ہے اور ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ بظاہر یہ واقعہ نہائت غیر معمولی اور سنسنی خیز تھا۔ اسے بھارت اور افغانستان میں بہت اچھالا گیا۔ بھارت نے اس واقعہ کو ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے استعمال کرنا تھا، مگر فوری تحقیقات کی گئی تو بالکل وہی قصہ نکل آیا جو بعض لڑکیاں اپنے آشنائوں کے ساتھ گھروں سے بھاگتی ہیں اور والدین تھانے میں اغوا کا پرچا درج کرا دیتے ہیں۔ اب ذرا اس ’’لرزہ خیز‘‘ داستان کے بارے میں افغان سفیر کا رویہ دیکھیں، اس نے اس واقعہ کی پہلے روز کوئی خبر نہیں دی، ایک دن کے بعد خبر جاری کی۔خود لڑکی کا پولیس کو بیان اور بعض سوالات کے مضحکہ خیز جوابات دیکھیں۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بھائی کی سالگرہ کے لئے تحفہ خریدنے کے لئے کسی پروٹوکول کے بغیر پیدل گھر سے نکلی۔ کچھ فاصلہ پر ایک ٹیکسی میں ’کھڈا مارکیٹ‘ میں گئی۔ واپسی پر ایک دوسری ٹیکسی لی، وہ تھوڑی دور چل کر رک گئی۔ اس میں اگلی سیٹ پر ایک شخص آ بیٹھا، اس نے مجھ پر تشدد کیا۔ موبائل فون چھین لیا میں بے ہوش ہو گئی۔ کچھ دیر بعد میں ہوش میں آئی۔ تھوڑی دیر چل کر ایک پارک میں گئی، وہاں سے موبائل پر اپنے والد کے عملہ کے ایک شخص کو بلایا۔ (والد یا گھر والوں کو نہیں بلایا!) وہ شخص مجھے گھر لے گیا۔
اب اس لڑکی سے پولیس کے سوالات کے جوابات دیکھئے۔ لڑکی نے کہا کہ اس نے دو ٹیکسیوں میں سفر کیا۔ ایک منظور شدہ، دوسری نجی سادہ ٹیکسی تھی۔ لڑکی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ پروٹوکول کی گاڑی کے بجائے اکیلی پیدل باہر کیوں نکلی؟ (لڑکی کافی عمر کی لگتی ہے) سوال کیا گیا کہ ’’کیمروں کے آپ ایک ٹیکسی میں مارکیٹ،  وہاں سے دوسری ٹیکسی میں مارگلہ گئیں، وہاں سے ایک ٹیکسی میں راولپنڈی گئیں، یہ کیا معاملہ تھا؟ لڑکی کا جواب، ’’مجھے پتہ نہیں‘‘ سوال، ’’کیمروں کے مطابق آپ ٹیکسیوں کے ڈرائیوروں سے باتیں کرتی رہیں‘‘ جواب ’’مجھے نہیں پتہ!‘‘ تیسرا سوال، ’’آپ کہتی ہیں کہ دہشت گردوں نے آپ سے موبائل چھین لیا اور اس میں مواد کو ڈیلیٹ کر دیا، کیمروں کے مطابق موبائل آخر تک آپ کے ہاتھ میں رہا۔ کیمرے یہ بھی بتاتے ہیںکہ آپ مارگلہ سے راولپنڈی گئیں۔ وہاں ایک مقام سے آگے غائب ہوئیں، کیمرے اس مقام سے آگے خاموش ہیں۔ آپ راولپنڈی کیوں اور کہاں گئیں؟‘‘ لڑکی کا جواب ’’مجھے نہیں پتہ!‘‘
پولیس کے مطابق لڑکی کے والد سفیر نے اس مبینہ اغوا کے بارے میں  ایک روز کے بعد پولیس کو بیٹی کے اغوا اور تشدد کی خبر جاری کی، پہلے روز ہی خبر کیوں نہ دی؟ یہیں سے واقعات کے مضحکہ خیز تضادات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سفارت خانوں کے باہر اور اندر سخت سکیورٹی ہوتی ہے۔ سفیر اور اس کے خاندان کے باہر آنے جانے کے لئے ہر وقت خاص تعداد میں پروٹوکول اور گاڑیاں موجود رہتی ہیں۔ ہر سفارت خانے کے اور سفیر کے گھر کے باہر اوراندر کثیر تعداد میں کیمرے سفارت خانے کی ہر نقل و حرکت  اس وقت ریکارڈ کرتے ہیں۔ سفارت خانے کے ذمہ دار افراد یا سفیر دفتر یا ان کے گھر والے باہرنکلنے سے پہلے پروٹوکول کے عملہ کو اطلاع دیتے ہیں۔ سفیر کے خاندان کے افراد کبھی پروٹوکول کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ اور یہاں ایک جوان لڑکی اکیلی پیدل باہر نکلتی ہے، سڑک پیدل چلتی ہے، موبائل فون پر کسی سے باتیں کر رہی ہے۔ وہ تین ٹیکسیاں استعمال کر کے کہیں جاتی ہے (راولپنڈی؟) وہ کہتی ہے کہ اس سے موبائل فون چھین لیا گیا تھا، وہ اس کے پاس موجود ملتا ہے۔ کیمرہ بتاتے ہیں کہ اسے بڑی آسانی سے اور فوری طور پر ہر جگہ ٹیکسیاں کہیں لے جانے کو تیار ملتی ہیں۔ وہ راولپنڈی کہاں اوار کیا کرنے جاتی ہے؟ کچھ معلوم نہیں ! یہ ایک سربستہ راز ہے! اس کے مطابق وہ دہشت گرد تشدد کر کے کوڑے ککے ڈھیر پر پھینک گئے تھے، وہ بے ہوش تھی۔ کئی گھنٹے (5 گھنٹے) وہاں پڑی رہی، کسی راہگیر نے نہیں دیکھا، پورے اسلام آباد میں سکیورٹی کا مواصلاتی عملہ 24 گھنٹے پورے شہر پر نظر رکھتا ہے، کسی کیمرہ میں کسی کوڑے کے ڈھیر پر ایک جوان بے ہوش عورت کو ریکارڈ نہیں کیا! ویسے یہ بات بھی کہ اسلام آباد جیسے شہر میں بھی کوڑے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں؟ مجھے کبھی نظر نہیں آئے؟ یہ مبینہ واقعہ ایک ٹریفک سے بھری ایک سڑک پر پیش آیا جہاں 24 گھنٹے ٹریفک رواں دواں رہتی ہے! میں ایک طرح سے اسلام آباد نہیں گیا، شائد اب جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہوں!
٭اب اگلا ڈراما! افغانستان کے کسی وقت بھی اپنے انجام کو پہنچنے والے اشرف غنی نام کے لرزتے کانپتے صدر نے بھارتی آقائوں کی شہ پر مضحکہ خیز ہرزہ سرائی کی کہ پاکستان نے اسے تخت تاج (اب صرف صدارتی محل تک محدود) سے محروم کرنے کے لئے دس ہزار دہشت گرد افغانستان بھیج دیئے ہیں۔ کوئی سو ڈیڑھ سو افراد کی بات ہوتی تو قابل توجہ بھی ہوتی مگر دس ہزار دہشت گرد! جیسے پاکستان نے ہزاروں لاکھوں دہشت گردوں کی کوئی خاص فوج تیار کی ہوئی ہے، اس میں سے ایک دستہ افغانستان بھیج دیا ہے۔ سرحدوں پر دونوں طرف 24 گھنٹے کیمرے لگے ہوتے ہیں، یہ دس ہزار افراد بھاری اسلحہ اٹھائے سرحد پار کر گئے، کہیں نظر نہ آئے! یہ شوشا ناکام ہو گیا تو افغان سفیر کی جوان جہان بیٹی کافسانہ تراش لیا، اسلام آباد کی سڑکوں پرپراسرار طور پر اِدھر سے اُدھر ٹیکسیاں تبدیل کرتی بھاگتی پھرتی ہے جس طرح عام شہروں اور گائوں سے لڑکیاں رات کے اندھیرے میں شیکسپئر کے مشہور ڈراما ’’مِڈ نائٹ سَمر ڈریم‘‘ کی مرکزی کردار کی طرح دیوارکود کر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں‘‘ اشرف غنی کا انجام دیوار پر لکھا جا چکا ہے۔ اس کی لرزتی حالت پر وہ گیدڑ یاد آ جاتا ہے جس نے لومڑی کے کہنے پر دم کھڑی کر کے شیر پرحملہ کر دیا تھا، شیر نے اسے حیرت سے دیکھا، ذرا سے پنجہ ہلایا اور گیدڑ دور جا گرا۔ اُٹھا اور لومڑی پر برس پڑا کہ دُم پوری طرح کھڑی نہیں ہوئی تھی اس نے شیر پر حملہ کرا دیا!! سنو اشرف غنی! تمہاری دُم ابھی کھڑی نہیں ہوئی اور تم نے بھارتی لومڑی کے کہنے پر پاکستان پر بدزبانی کا حملہ کر دیا ہے! امریکہ کبھی مفلوج، معذور، شکست خوردہ، فرش پر خاک بسر ساتھیوں کا ساتھ نہیں دیتا! تم جنگ ہار چکے ہو اشرف غنی! اب اپنی لڑکیوں کے مبینہ اغوا کی شرم ناک داستانوں کا سہارا لے رہے ہو! تمہارے ہاتھوں سے قندھار، ہرات، جلال آباد، سپن جیسے بڑے شہر نکل چکے ہیں، شکر کرو! طالبان امن مذاکرات پر تیار ہو گئے ہیں اور تمہیں مزید چند ہفتے مل گئے ہیں!
 ٭قارئین کرام! اصلی بھٹو خاندان کے سربراہ سردار ممتاز بھٹو بھی خاک بسر ہو گئے۔ اِنّا لِلّٰہ و اِنا الیہ راجعون! 1960ء میں پیپلزپارٹی کے اصل بانی، سندھ کے گورنر، وزیراعلیٰ، ذوالفقار علی بھٹو انہیں ’’مائی ٹیلنٹڈ (My Talented) کزن کہا کرتے تھے۔ پھر اتنے ہی دشمن ہو گئے۔ اور ذرا دیکھیں، بھٹو خاندان پر قبضہ کر کے اپنی اولاد پر ’’بھٹو‘‘ کا ٹھپہ لگانے والے آصف زرداری کو شائد ممتاز بھٹو کے انتقال کا علم نہیں ہو سکا! مرحوم ممتاز بھٹو کی بجائے شاہ نواز بھٹو اور نصرت بھٹو کے انتقال پر افسوس کر رہے ہیں! اور… بھٹو قبیلے اور خاندان کے سربراہ کے جنازے میں کسی بھی پارٹی کا کوئی سربراہ، کوئی بڑا رہنما قارئین نے دیکھا ہو تو مجھے بتا دیں۔ ایک بات یاد آ گئی۔ چھوٹے بھائی  نے بڑے بھائی سے کہا کہ دیکھو! چھیدے کی ماں مر گئی، ہمیں اطلاع نہیں دی۔ بڑے بھائی نے کہا کہ کوئی بات نہیں، ہماری ماں مرے گی تو ہم بھی اطلاع نہیں دیں گے!

راوی نامہ

تازہ ترین خبریں

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

فیصل آباد کا بے روزگار شہری 600موٹر سائیکلوں کا مالک نکل آیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

راجہ ظفر معروف نے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے اندر ناقص کارگردگی دکھانے کی وجہ سے مرکزی عہدے سے استعفی دیدیا

 پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

پاکستان جنوبی افریقا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ قمر جاوید باجوہ

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

 کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ 

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

عالمی ایجنڈے کے حامیوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے لیے پیسا دیا۔ احسن اقبال

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ثانیہ نشتر اورفواد چودھری میں تلخ کلامی

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

شاہد خان آفریدی ایک اور لیگ کا حصہ بن گئے

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات۔۔۔وزیراعظم نے سفری پابندیوں‌ کا معاملہ اٹھا دیا

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

مریم نواز نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کی ویڈیو شئیر کر دی

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ملکی قرضہ میں 13 کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ سراج الحق

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

 صدر، وزیراعظم، گونررز، وزرائے اعلیٰ، مشیران کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

مسلم لیگ(ن) کی شکست کی وجہ خودمریم نوازاور نوازشریف ہیں، رانا عظیم

 کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم

کپتانی یہی ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر میچ میں پرفارم کروں۔بابر اعظم