12:52 pm
عالمی نظام میں ایڈجسٹمنٹ یا شریعت کی آزادانہ عملداری؟

عالمی نظام میں ایڈجسٹمنٹ یا شریعت کی آزادانہ عملداری؟

12:52 pm

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکیڈمی نے ۳۰ اگست سے ۲ ستمبر تک سودی نظام کے حوالہ سے چار روزہ سیمینار کا اہتمام کیا جس کا موضوع ’’پاکستان میں انسدادِ سود: دستوری اداروں کا کردار‘‘ تھا اور اس کی مختلف نشستوں میں مختلف اصحابِ فکر و دانش نے موضوع کے متعدد پہلوئوں پر اظہار خیال کیا۔ آخری نشست ۲ ستمبر جمعرات کو دس سے دو بجے تک ہوئی جس کی صدارت کا اعزاز مجھے دیا گیا اور اس میں امریکہ سے ڈاکٹر اسد زمان، کراچی سے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، جناب احمد علی صدیقی اور لاہور سے حافظ عاطف وحید نے آن لائن شرکت کی جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحئی اوبڑو اور جناب قانت خلیل اللہ اوردیگر حضرات نے بالمشافہ خطاب کیا۔ اس چار روزہ سیمینار کے بارے میں پروگرام کے انچارج ڈاکٹر محمد اصغر شہزاد نے بتایا کہ اس کی کارروائی اور اس میں مختلف اصحابِ علم کی گفتگو کو الگ کتابی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے، اس لیے تفصیلات میں جائے بغیر آخری نشست میں ہونے والی بات چیت کا ایک اہم پہلو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیشِ خدمت ہے۔
دستوری اداروں کا کردار نہ صرف سودی نظام بلکہ نفاذِ شریعت کے دیگر تقاضوں کے حوالہ سے بھی زیربحث آیا اور اس میں سپریم کورٹ، پارلیمنٹ، وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل اور وزارتِ قانون کی کارکردگی اور طریقِ کار کے متعدد پہلو زیربحث آئے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ دستور پاکستان میں سودی نظام کے خاتمہ اور شرعی احکام و قوانین کے بارے میں واضح اعلانات اور دوٹوک ہدایات کے باوجود ان میں سے کسی رخ پر بھی سنجیدہ کام دکھائی نہیں دے رہا، اور جو کام بھی پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلوں کی صورت میں سامنے آتا ہے وہ عملدرآمد کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے، اور یہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلسل اسی طرح ہوتا آ رہا ہے۔
میں نے اس پر گزارش کی کہ اس کے دیگر اسباب و عوامل کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک مستقل باعث ہے کہ ہم قومی سطح پر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہم نے اسلامی نظام کا نفاذ موجودہ عالمی فلسفہ و نظام اور بین الاقوامی معاہدات کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اس میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے کرنا ہے؟ یا اس دائرے سے ہٹ کر دنیا کے سامنے اسلامی نظام اور شرعی قوانین و احکام کی عملداری کا ماحول ایک متبادل اور مستقل نظام کے طور پر پیش کرنا ہے؟
اس وقت انسانی سوسائٹی کی اصل ضرورت کیا ہے اور اسے اسلامی نقطہ نظر سے پورا کرنے کے لیے ہمارا موجودہ عالمی نظام میں ایڈجسٹ ہونے کا راستہ زیادہ موثر ہے یا اس سے ہٹ کر اسلامی نظام کو متبادل نظام کے طور پر پیش کرنا انسانی سماج کی ضرورت کے لیے ہماری ذمہ داری بنتا ہے؟ میں حوالہ سے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے ایک لیکچر کا ذکر کرنا چاہوں گا جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل آکسفورڈ میں دیا تھا اور اپنے دانشوروں کو مشورہ دیا تھا کہ موجودہ عالمی فلسفہ و نظام کامیاب ثابت نہیں ہو رہا اس لیے وہ انسانی سوسائٹی کی مجموعی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے متبادل نظام کے طور پر اسلام کو اسٹڈی کریں۔ ہمارے خیال میں شہزادہ چارلس کا یہ مشورہ ہی اس وقت عالمی انسانی سماج کی اصل آواز ہے جس کی طرف ہم سب کو متوجہ ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی ترجییحات پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ اس کے ساتھ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک یہودی پروفیسر ڈاکٹر نوح فلڈمین کے ان ریمارکس کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے شرعی قوانین کے کسی جگہ نفاذ کی مخالفت کی اصل وجہ یہ نہیں کہ ان احکام و قوانین میں کوئی کمزوری ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ اگر شرعی احکام و قوانین کو دنیا میں کسی جگہ بھی آزادانہ ماحول میں عملداری کا موقع مل گیا اور کچھ عرصہ ان کی عملداری کے ثمرات دنیا نے دیکھ لیے تو موجودہ عالمی نظاموں کے لیے اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
مجھے موجودہ عالمی نظام کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کی ضرورت سے انکار نہیں کیونکہ جب تک متبادل نظام اپنی جگہ اور ماحول نہیں بنا لیتا آج کا عالمی فلسفہ ونظام ہی چلتا رہے گا جس میں رہنا ہماری مجبوری ہے کیونکہ سوسائٹی کبھی ڈیڈلاک کی متحمل نہیں ہوتی، اس لیے موجودہ عالمی نظام کے دائرے میں اسلامی احکام و قوانین کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے ہمیں اصل توجہ اس طرف دینا ہو گی کہ قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی میں اسلامی نظام کی عملداری کا کوئی عملی ماحول آزادانہ طور پر وجود میں آئے جو بیرونی مداخلت اور مرعوبیت سے پاک رہ کر اسلامی تعلیمات و روایات کے دائرہ میں مسلم معاشرہ کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرے، اس کے بعد ہی ہم اسلام کو نظام اور متبادل کے طور پر دنیا میں متعارف کرا سکیں گے۔
میرے خیال میں ہمارے پڑوس افغانستان میں حالات کا رخ اسی طرف دکھائی دے رہا ہے اس لیے ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ انہیں وقتی مفادات اور محدود تقاضوں کے جال میں الجھانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیں اور ان کی اس معاملہ میں حوصلہ افزائی اور تعاون کا ماحول قائم کرنے میں مدد کریں کہ وہ مروجہ عالمی نظاموں،فلسفوں اور قوانین کے اثرات سے الگ رہ کر آزادانہ طور پر فکری اور تہذیبی ماحول میں اسلامی نظام اور مسلم معاشرت کا کوئی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔
شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا یہ سیمینار بہت سے حوالوں سے مفید اور موثر رہا جس میں متعدد اہم پہلوئوں پر اصحابِ فکرودانش نے توجہ دلائی جو ایک خوش آئند بات ہے اور ہمیں علمی و فکری دنیا میں آج اس کی اشد ضرورت ہے، خود میری بہت سی الجھنیں اس دوران دور ہوئی ہیں اور متعدد سوالات کا جواب ملا ہے، اس قسم کے علمی اجتماعات جامعات اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ دینی مدارس اور نجی علمی مراکز میں بھی مسلسل ہونے چاہئیں۔
جہاں تک پاکستان میں انسدادِ سود کا تعلق ہے میں نے دوستوں کو بتایا کہ اس سلسلہ میں ’’تحریکِ انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل فورم مولانا عبدالرؤف ملک کی سربراہی میں اپنی بساط کی حد تک مصروف کار ہے جس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ شریک کار ہوں مگر اس کے لیے اصل ضرورت عوامی بیداری اور دینی حلقوں کی مربوط محنت کی ہے۔

تازہ ترین خبریں

نوازشریف پاکستان واپس آئیں گے اور ملک کے چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، لائیو پروگرام میں بڑا دعویٰ کر دیا گیا

نوازشریف پاکستان واپس آئیں گے اور ملک کے چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، لائیو پروگرام میں بڑا دعویٰ کر دیا گیا

خطرناک ترین دفان نے سر اٹھا لیا ۔۔ بارشیں اور برفباری تو کچھ نہیں،آئندہ کچھ دنوں میں کیا  تباہ پھرنےوالی ہے؟محکمہ موسمیات نے خطرناک الرٹ جا

خطرناک ترین دفان نے سر اٹھا لیا ۔۔ بارشیں اور برفباری تو کچھ نہیں،آئندہ کچھ دنوں میں کیا تباہ پھرنےوالی ہے؟محکمہ موسمیات نے خطرناک الرٹ جا

نئی آفت نے پاکستان کو گھیر لیا۔۔ خبر دار گھروں سے باہر نہ نکلیں ،پاکستانیوں کیلئے الرٹ جاری کردیاگیا

نئی آفت نے پاکستان کو گھیر لیا۔۔ خبر دار گھروں سے باہر نہ نکلیں ،پاکستانیوں کیلئے الرٹ جاری کردیاگیا

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ہاسٹل میں مقیم طالبات کواجتماعی ز ی ا د ت ی  کا نشانہ بنا دیا گیا،رکن قومی سمبلی کے انکشافات نے پوری قوم کو لر

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ہاسٹل میں مقیم طالبات کواجتماعی ز ی ا د ت ی کا نشانہ بنا دیا گیا،رکن قومی سمبلی کے انکشافات نے پوری قوم کو لر

سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سوئی سدرن نے عوام پر بجلیاں گر ادیں

سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سوئی سدرن نے عوام پر بجلیاں گر ادیں

سموگ اور دُھند سے جان کب چھوٹے گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

سموگ اور دُھند سے جان کب چھوٹے گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

اسے کہتے ہیں ریلیف دینا،پیٹرول کی قیمتوں میں19 روپے کی بڑی کمی

اسے کہتے ہیں ریلیف دینا،پیٹرول کی قیمتوں میں19 روپے کی بڑی کمی

سرکاری ملازمین کی موجیں،گریڈ 1سے 4کی تنخواہوں میں 20جبکہ گریڈ 5 سے اوپر ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کا فیصلہ

سرکاری ملازمین کی موجیں،گریڈ 1سے 4کی تنخواہوں میں 20جبکہ گریڈ 5 سے اوپر ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کا فیصلہ

عمران خان ملک چھوڑنے والے ہیں،پیشنگوئی نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچادی

عمران خان ملک چھوڑنے والے ہیں،پیشنگوئی نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچادی

ایسا گائوں جہاں گھر میں جتنے بیٹے ہوں بہوایک ہی آتی ہے،حیران کن اور شرمناک تفصیلات آگئیں

ایسا گائوں جہاں گھر میں جتنے بیٹے ہوں بہوایک ہی آتی ہے،حیران کن اور شرمناک تفصیلات آگئیں

سرکاری آئل کمپنی نے پیٹرول اور ڈیزل بطور تحفہ دینے کا اعلان کر دیا،شہری سیخ پا ہو گئے

سرکاری آئل کمپنی نے پیٹرول اور ڈیزل بطور تحفہ دینے کا اعلان کر دیا،شہری سیخ پا ہو گئے

دعائیں قبول ،ابررحمت برسنے کو تیار۔۔رواں ہفتے کون کون سے علاقوں میں بارشیں برسنے والی ہیں ۔۔؟ پاکستانیوں کو دل خوش کر دینےوالی پیش گوئی

دعائیں قبول ،ابررحمت برسنے کو تیار۔۔رواں ہفتے کون کون سے علاقوں میں بارشیں برسنے والی ہیں ۔۔؟ پاکستانیوں کو دل خوش کر دینےوالی پیش گوئی

بغیر ڈرائیور ٹیکسیاں سڑکوں پر۔۔ ان ٹیکسیوں میں ایک وقت میں کتنے مسافر سوار ہو سکیں گے؟عوام کیلئے خوشخبری

بغیر ڈرائیور ٹیکسیاں سڑکوں پر۔۔ ان ٹیکسیوں میں ایک وقت میں کتنے مسافر سوار ہو سکیں گے؟عوام کیلئے خوشخبری

گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بُری خبر،وہ گاڑیاں جن کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی

گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بُری خبر،وہ گاڑیاں جن کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی