01:34 pm
 صفرالمظفر  ، شکوک و شبہات کا ازالہ

صفرالمظفر ، شکوک و شبہات کا ازالہ

01:34 pm

آج کا کالم ماہ صفر کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں لکھنا اس لئے ضروری سمجھا  … کیونکہ ماہ صفر کے حوالے سے عوام میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں …محرّم کی طرح صفر بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں اسلامی مہینوں میں دوسرا مہینہ۔(صحاح)
 صفر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ صِفر سے ماخوذ ہے جس کا معنی خالی ہونا ہے چونکہ زمانۂ جاہلیت میں ماہ محرم میںقتال کرنا حرام تھا اس لئے ماہ صفر میں لوگ قتال کیلئے نکل جایا کرتے تھے اور ان کے گھر خالی پڑے رہتے تھے اسی وجہ سے اس ماہ کا نام صفر رکھ دیا گیا۔ (غیاث اللغات)
 یہ صُفر سے ماخوذ ہے بمعنی زردی۔ جب لوگ اس مہینہ کا نام متعین کرنے لگے تو اتفاق سے پت جھڑ کا موسم تھا، جس میں درختوں کے پتے پیلے پڑ جاتے ہیں اس لئے اس ماہ کا نام صفر رکھ دیا۔(غیاث اللغات)
عام طور پر صفر کے ساتھ مظفر یا خیر کا لفظ لگایا جاتا ہے یعنی کہا جاتا ہے صفر المظفر یا صفر الخیر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مظفر کا معنی کامیابی و کامرانی والی چیز کے ہیں اور خیر کے معنی نیکی اور بھلائی کے ہیں، زمانۂ جاہلیت میں کیونکہ صفر کے مہینے کو منحوس مہینہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی اس مہینہ کو بہت سے لوگ منحوس بلکہ آسمان سے بلائیں اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے اس ماہ میں خوشی کی بہت سی چیزوں مثلاً شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات کو منحوس یا معیوب سمجھتے ہیں جبکہ اسلامی اعتبار سے اس مہینہ سے کوئی نحوست وابستہ نہیں اور اسی وجہ سے احادیث مبارکہ میں اس مہینہ کے ساتھ نحوست وابستہ ہونے کی سختی کے ساتھ تردید کی گئی ہے۔ اسی لئے صفر المظفر یا صفر الخیر کہا جاتا ہے تاکہ اس کو منحوس اور شر و آفت والا مہینہ نہ سمجھا جائے بلکہ کامیابی اور کامرانی اور خیر و بھلائی کا مہینہ سمجھا جائے۔ 
اہل عرب کا گمان تھا کہ اس سے مراد وہ سانپ ہے جو انسان کے پیٹ میں ہوتا ہے اور بھوک کی حالت میںانسان کو ڈستا اور کاٹتا رہتا ہے چنانچہ بھوک کی حالت میں جو تکلیف ہوتی ہے وہ اسی کے ڈسنے سے ہوتی ہے…بعض اہل عرب کا یہ نظریہ تھا کہ صفر سے مراد پیٹ کا وہ جانور ہے جو بھوک کی حالت میںبھڑکتا ہے اور جوش مارتا ہے، اور جس کے پیٹ میں ہوتا ہے بسا اوقات اس کو جان سے بھی مار دیتا ہے اور اہل عرب اس کو خارش کے مرض والے سے بھی زیادہ متعدی مرض سمجھتے تھے…بعض کے نزدیک صفر ان کیڑوں کو کہتے ہیں جوجگر اور پسلیوں کے سرے میں پیدا ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کا رنگ بالکل پیلا (یرقان)ہو جاتا ہے اور بسا اوقات یہ مرض انسانی موت کا بھی سبب بن جاتا ہے…بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صفر ایک مشہور مہینہ ہے جو محرم اور ربیع الاوّل کے درمیان آتا ہے، لوگوں کا اس کے متعلق یہ گمان ہے کہ اس ماہ میں بکثرت مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیں اور اہل عرب صفر کا مہینہ آنے سے بدفالی بھی لیا کرتے تھے۔
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ایام جاہلیت میں لوگ ماہ صفر کو ایک سال حلال اور ایک سال حرام ٹھہرایا کرتے تھے، مطلب یہ ہے کہ کبھی اہل عرب ماہ محرم کو جو ان کے نزدیک محترم مہینوں میں سے ہے اور اس میں جنگ و جدال حرام سمجھتے تھے، بڑھا کر صفر کو بھی اس میںشامل کرلیتے اور جنگ و جدال کو صفر میں بھی ناجائز قرار دے دیتے اور کبھی صفر کو محرم سے علیحدہ قرار دے کر محترم مہینوں سے اس کو خارج کردیتے اور اس میں جنگ و جدال مباح سمجھتے۔ (مرقات)
اسی طرح آج کل بھی بعض لوگ ماہ صفر میں شادی بیان اور دیگر پر مسرت تقریبات منعقد کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (ناکام) ہوگی اس کی وجہ سے ماہ صفر کو نامبارک اور منحوس سمجھنا ہے…چنانچہ صفر کے منحوس ہونے کے متعلق بھی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس کو ملّا علی قاری نے موضوعات کبریٰ میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ماہ صفر کے ختم ہونے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی خوشخبری دونگا اس روایت سے ماہ صفر کی نحوست پر استدلال کیا ہے مگر یہ دلیل ثبوتاً و دلالتاً دونوں طرح مخدوش ہے یعنی نہ تو یہ حدیث ثابت ہے اور نہ ہی اس سے یہ مضمون (نحوست کا) ثابت ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کیلئے اس روایت کے من گھڑت ہونے سے قطع نظر کرکے اگر اس کے الفاظ پر غور کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ماہ ربیع الاوّل میں ہونے والی تھی اور آپ ا  موت کے بعد اللہ جل جلالہ کی ملاقات کے مشتاق تھے، جس کی وجہ سے آپ کو ماہ صفر گزرنے اور ربیع الاوّل کے شروع ہونے کی خبر کا انتظار تھا اور ایسی خبر لانے پر رسول اللہ ا نے اس بشارت کو مرتب فرمایا، تو ماہ صفر کی نحوست اس سے قطعاً ثابت نہیں ہوتی…بعض جاہل لوگوں کا خیال ہے کہ ابتدائی تیرہ روز خاص طور پر بہت زیادہ سخت اور بھاری ہوتے ہیں، اسی وجہ سے یہ لوگ صفر کے مہینے کی پہلی سے تیرہ تک کی تاریخ کو خاص طور پر منحوس سمجھتے ہیں اور بعض جگہ اس مہینے کی تیرہ تاریخ کو چنے ابال کر یا چوری بنا کر تقسیم کرتے ہیں تاکہ بلائیں ٹل جائیں، یہ سب باتیں بے اصل ہیں۔
بعض لوگ اور خاص کر خواتین نے اس ماہ کا نام تیرہ تیزی رکھ دیا ہے اور اس مہینہ کو اپنے گمان میں تیزی کا مہینہ سمجھ لیا ہے اس کی یقینی وجہ تو معلوم نہ ہو سکی لیکن ممکن ہے کہ یہ نام اس وجہ سے دیا گیا ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض وفات اسی مہینے میں شروع ہوا تھا اور وہ مشہور روایات کے مطابق تیرہ دن مسلسل جاری رہا… جس کے بعد آپ کا وصال مبارک ہو گیا،اس سے جہلاء نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ ان تیرہ دنوں میں مرض کی شدت اور تیزی کی وجہ سے یہ مہینہ سب کے حق میں شدید بھاری یا تیز ہے…اگر یہی بات ہے تو یہ سراسر جہالت اور توہم پرستی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، ایسا عقیدہ رکھنا سخت گناہ ہے…اسی طرح بعض علاقوں میں مشہور ہے کہ اس مہینے میں لنگڑے لولے اور اندھے جنات آسمان سے اترتے ہیں اور چلنے والوں کو کہتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھ کے قدم رکھو، کہیں جنات کو تکلیف نہ ہو۔ بعض لوگ اس مہینہ میں صندوقوں، پیٹیوں،الماریوں اور دَر و دِیوار کو ڈنڈے مارتے ہیں تاکہ جنات بھاگ جائیں۔ 
بعض گھرانوں میں اجتماعی قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ اس مہینے کی نحوست، بلائوں اور آفتوں سے حفاظت رہے۔ اوّل تو مروجہ طریقے پر اجتماعی قرآن خوانی ہی ایک رسم بن کر رہ گئی ہے اور اس میں کئی خرابیاں جمع ہوگئی ہیں… دوسرے مذکورہ بالا نظریے کی بنیاد پر قرآن خوانی اپنی ذات میں بھی جائز نہیں کیونکہ یہ نظریہ ہی شرعاً باطل ہے، شریعت نے واضح کردیا کہ اس مہینہ میں نہ کوئی نحوست ہے نہ کوئی بلا اور نہ ہی جنات کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے…بعض لوگ ماہ صفر کی آخری بدھ کو عید مناتے ہیں اور بعض لوگ اس دن چھٹی کرنے کو اجر وثواب کا سبب سمجھتے ہیں اور بعض لوگ اس دن مٹی کے برتنوں کو توڑ دیتے ہیں اور بعض لوگ تعویذات بنوا کر مصیبتوں، بیماریوں سے بچنے کی غرض سے پہنا کرتے ہیں یہ خالص وہم پرستی ہے جس کو ترک کرنا واجب ہے…اس مہینے میں کوئی خاص عبادت نماز وغیرہ ثابت نہیں ہے…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مرض کا لگ جانا، اُلُوّ اور صفر نحوست یہ سب باتیں بے حقیقت ہیں اور جزامی شخص سے اس طرح بچو اور پرہیز کرو، جس طرح ببر شیر سے بچتے ہو۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرض کا لگ جانا، اُلُوّ، ستارہ اور صفر یہ سب وہم پرستی کی باتیں ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میںنے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے مرض لگ جانا، صفر اور غول بیابانی سب خیالات ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں…یہ بخاری و مسلم کی صحیح روایات ہیں، ان میں رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر کے متعلق جتنے باطل نظریات، خیالات، توہمات زمانۂ جاہلیت میں عربوں کے اندر رائج تھے ان سب کی صاف صاف نفی فرمادی۔       ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

تحریک انصاف کی نئی تنظیم سازی مکمل ، فواد چوہدری کو اہم ترین عہدہ مل گیا،تمام عہدیداران کی فہرست آگئی

تحریک انصاف کی نئی تنظیم سازی مکمل ، فواد چوہدری کو اہم ترین عہدہ مل گیا،تمام عہدیداران کی فہرست آگئی

شادی کی تقریب میں دلہن کو کزن کیساتھ ڈانس کرنے پر دولہے نے تھپڑ دے مارا، دلہن نے پھرکیسے انتقام لیا؟ حیران کن واقعہ پیش آگیا

شادی کی تقریب میں دلہن کو کزن کیساتھ ڈانس کرنے پر دولہے نے تھپڑ دے مارا، دلہن نے پھرکیسے انتقام لیا؟ حیران کن واقعہ پیش آگیا

سعودی عرب میں گھریلوملازمائوں سے جسم فروشی کروانے والا پاکستانی کس شہر سے گرفتار کر لیا گیا؟سخت سزا ملنے کا امکان

سعودی عرب میں گھریلوملازمائوں سے جسم فروشی کروانے والا پاکستانی کس شہر سے گرفتار کر لیا گیا؟سخت سزا ملنے کا امکان

افسوسناک سانحہ ، سکول ٹرپ پر گئے بچوں کی کشتی ڈوب گئی، بڑا جانی نقصان ہو گیا

افسوسناک سانحہ ، سکول ٹرپ پر گئے بچوں کی کشتی ڈوب گئی، بڑا جانی نقصان ہو گیا

پی سی بی کیساتھ مزید کام نہیں کر سکتا، ثقلین مشتاق نے استعفیٰ دیدیا، وجہ سامنے آگئی

پی سی بی کیساتھ مزید کام نہیں کر سکتا، ثقلین مشتاق نے استعفیٰ دیدیا، وجہ سامنے آگئی

تبدیلی لانے والو! تبدیلی کا مزہ آیا؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بعد سلیم صافی کا حکومت پر طنز ، کیا کہہ دیا؟

تبدیلی لانے والو! تبدیلی کا مزہ آیا؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بعد سلیم صافی کا حکومت پر طنز ، کیا کہہ دیا؟

قومی ائیرلائن مزید مشکلات کا شکار، پی آئی اے کے بینک اکائونٹس منجمد کر دیئے گئے

قومی ائیرلائن مزید مشکلات کا شکار، پی آئی اے کے بینک اکائونٹس منجمد کر دیئے گئے

سوشل میڈیا پر’مجھے کیوں نکالا‘کے بعد وزیراعظم عمران خان کا ’اگر مجھے نکالا‘جملہ وائرل ، عوام کے دلچسپ تبصرے

سوشل میڈیا پر’مجھے کیوں نکالا‘کے بعد وزیراعظم عمران خان کا ’اگر مجھے نکالا‘جملہ وائرل ، عوام کے دلچسپ تبصرے

انتقال کر جانے والے سرکاری ملازمین کی پنشن کا حقدار کون ہو گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

انتقال کر جانے والے سرکاری ملازمین کی پنشن کا حقدار کون ہو گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

کورونا کے پھیلائو میں تیزی ، کونسے شہر میں سمارٹ لاک ڈائون نافذ کر دیا گیا؟ پابندیاں لگ گئیں

کورونا کے پھیلائو میں تیزی ، کونسے شہر میں سمارٹ لاک ڈائون نافذ کر دیا گیا؟ پابندیاں لگ گئیں

شہزاد اکبر سےاچانک استعفیٰ کیوں لیا گیا؟آخرکار اندرونی کہانی سامنے آگئی

شہزاد اکبر سےاچانک استعفیٰ کیوں لیا گیا؟آخرکار اندرونی کہانی سامنے آگئی

تبدیلی سرکارکے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن بڑھنے کا دعویٰ کر دیا، پاکستان رینکنگ میں کتنے درجے اوپ

تبدیلی سرکارکے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن بڑھنے کا دعویٰ کر دیا، پاکستان رینکنگ میں کتنے درجے اوپ

عمران خان کے نیچے سے کرسی سَرک رہی ہے، سینئر لیگی رہنما نے وزیراعظم عمران خان سے متعلق حیران کن پیشنگوئی کر دی

عمران خان کے نیچے سے کرسی سَرک رہی ہے، سینئر لیگی رہنما نے وزیراعظم عمران خان سے متعلق حیران کن پیشنگوئی کر دی

برفباری نے تباہی مچا دی، ٹریفک کا نظام درہم برہم ، نظامِ زندگی مفلوج کر دیا

برفباری نے تباہی مچا دی، ٹریفک کا نظام درہم برہم ، نظامِ زندگی مفلوج کر دیا