02:56 pm
تاریخ کے اسباق کو دھوکا دینا

تاریخ کے اسباق کو دھوکا دینا

02:56 pm

چھ ستمبر کو برطانوی سیکورٹی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سیکورٹی انسٹیٹیوٹ (RUSI) میں سابق برطانوی سربراہ، ٹونی بلیئر نے جوگفتگو کی، اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ (1) انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ (2) ثابت شدہ حقائق سے انکار کی اپنی پرانی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے انہیں مسلسل اس چیز سے بدلتے رہے، جس کے لیے وہ پوری دنیا میں مشہور یا بدنام ہیں، یعنی مکمل جھوٹ کے ساتھ آدھی سچائیوں کو آمیز کرنا۔ ذراان جھوٹے دعوئوں کو یاد کریں، جن کے ذریعے انہوں نے برطانیہ کو عراق جنگ کے لیے للچایاتھا۔

برطانیہ کے جنگ عظیم دوم کے بعد کے کردار کو ’’واشنگٹن کے وفادارکتے‘‘ کے طور پر ذہن میں رکھیں۔ خود بلیئر کو بھی برطانیہ میں کھل کر ’’بش کا کتا‘‘ کہا گیا۔ بلیئر نے بش انتظامیہ کی پالیسی کی بالکل غلامانہ طور سے حمایت کی، برطانوی مسلح افواج کی افغان جنگ میں شمولیت کو یقینی بنایا اور اس سے بھی زیادہ متنازعہ 2003ء  میں عراق پر حملے میں شمولیت کو۔ غیر مبہم انٹیلی جنس رپورٹس پر مبنی واضح معلومات کے باوجود بلیئر نے بے ایمانی سے دلیل دی کہ صدام حسین حکومت کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے  اور اس بات کو عراق جنگ میں شامل ہونے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ برطانوی عوام میں بہت زیادہ غیر مقبول ہو گئے۔ اگرچہ کسی بھی ملک کے چیف ایگزیکٹو کو بعض اوقات قومی مفادات کی وجہ سے جھوٹ یا غلط معلومات میں بھی ملوث ہونا پڑتا ہے، تاہم فوجیوں کو کسی کی ذاتی ترغیب اور لالچ کی وجہ سے جنگ میں مرنے کے لیے بھیجنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ دونوں جنگوں سے ہونے والا جانی نقصان بہت بڑھ گیا ہے، کیونکہ بلیئر نے برطانوی عوام سے صریح جھوٹ بولا تھا، اور یہ جھوٹ عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت پر منتج ہونے والے ان حالات کی جامع انکوائری (2009-2016ء )  میں کسی شک سے بالاتر ہو کر ثابت ہو گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ انٹیلی جنس سروس نے اطلاع دی کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ نہیں ملا، انھوں نے برطانوی پارلیمنٹ اور عوام کو اس کے برعکس بتایا۔ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے الزام میں آخر کار بلیئر کو 2007ء  میں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔
بلیئر نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور اپنی مرضی سے جھوٹ بولنے کی اپنی معروف پالیسی پر عمل جاری رکھا ہے۔ انہوں نے طالبان تحریک کو بنیاد پرست اسلام کی عالمی تحریک کا حصہ قرار دیا، کہ اگرچہ یہ بہت سے مختلف گروہوں پر مشتمل ہے، لیکن ان کا بنیادی نظریہ ایک ہی ہے۔ لیکن طالبان اور دیگر اسلامی تحریکوں میں بنیادی فرق ہے۔ افغان طالبان ایک سخت گیر قومی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس لیے لڑ رہے تھے کہ اپنے جنگ زدہ ملک کو غیر ملکی فوجیوں سے چھٹکارا دلا کر امن قائم کریں۔ حتیٰ کہ اپنے پہلے دور اقتدار کے دوران بھی انھوں نے کوئی ایسا ارادہ نہیں کیا کہ وہ افغانستان سے باہر کے علاقوں کو اپنے ملک میں شامل کر لیں۔ اگرچہ ڈیورنڈ لائن کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے، برطانوی نوآبادیاتی پالیسی سے پیدا ہونے والا یہ سرحدی تنازع پڑوسیوں کے درمیان حل ہو سکتا ہے۔ امریکہ  کے ساتھ ایک ایسے امن معاہدے پر بات چیت کے لیے راضی ہونا جو امریکیوں کو افغانستان سے ’’باوقار‘‘ پسپائی کو ممکن بناتا، دراصل طالبان کی مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے اور اس پر کھڑے ہونے کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے فوجیوں کا کابل کے دروازوں پر رکنا ان کے نظم و ضبط، اپنے فیلڈ کمانڈرز پر کمانڈ اینڈ کنٹرول کی کافی گواہی فراہم کرتا ہے، اور اسی کے ذریعے وہ بغیر خون خرابے اور شہر کو تباہ کیے پُر امن طور پر اندر داخل ہوئے۔ 
پنجشیر میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کی کوشش کی گئی، لیکن مذاکرات کی ناکامی پر طالبان نے سرعت اور مضبوطی سے قدم اٹھاتے ہوئے معاملات کو خراب ہونے سے بچایا۔ ولی مسعود آخر کار کچھ افہام و تفہیم پر آ سکتا ہے، تاہم امراللہ صالح کو بھارت کی طرف سے بھڑکایا جانا متوقع ہے۔ یہ دو دہائیوں پہلے بھی ہوا۔ تاکہ کشیدگی کو ہوا دی جائے، ایسے افراد پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ 
بلیئر نے مزید کہا کہ نظریے اور تشدد دونوں ہی طور سے اسلامیت سیکورٹی کے لیے فوری خطرہ ہے، اور اگر روک تھام نہ کی گئی تو یہ خطرہ ہم تک پہنچ جائے گا، چاہے اس کا مرکز ہم سے دور ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ نائن الیون نے ظاہر کیا۔ (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

طلبہ کی توموجیں ہوگئیں۔۔بچوں پر اسکول  ہوم ورک کا دباؤ کم کرنے کا قانون پاس

طلبہ کی توموجیں ہوگئیں۔۔بچوں پر اسکول ہوم ورک کا دباؤ کم کرنے کا قانون پاس

راولپنڈی اسلام آبادکے شہریوں کی مشکلات۔۔۔جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

راولپنڈی اسلام آبادکے شہریوں کی مشکلات۔۔۔جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟

بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟

حکومت غریب اور متوسط طبقے کیلئےکیا کرنے جا رہی ہے؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

حکومت غریب اور متوسط طبقے کیلئےکیا کرنے جا رہی ہے؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

تین ماہ سے بندداسوڈیم کی تعمیرکاکام کب شروع  ہوگا؟تاریخ کااعلان کردیاگیا

تین ماہ سے بندداسوڈیم کی تعمیرکاکام کب شروع ہوگا؟تاریخ کااعلان کردیاگیا

حکمرانوں کاہردن قومی سلامتی کے لیے خدشات بڑھارہاہے ۔۔حکومت سےنجات  حاصل نہ ہوئی تو۔۔۔

حکمرانوں کاہردن قومی سلامتی کے لیے خدشات بڑھارہاہے ۔۔حکومت سےنجات حاصل نہ ہوئی تو۔۔۔

ماسکو: مذاکرات کے دوران پاکستانی سفارتکار مائیک بند کرنا بھول گئے، شیریں مزاری اور بیٹی کے بارے میں کیا کہتے رہے؟ ریکارڈنگ سامنے آ گئی

ماسکو: مذاکرات کے دوران پاکستانی سفارتکار مائیک بند کرنا بھول گئے، شیریں مزاری اور بیٹی کے بارے میں کیا کہتے رہے؟ ریکارڈنگ سامنے آ گئی

لندن میں سیاسی جوڑ توڑ! جہانگیر ترین  بول پڑے، حقائق سے پردہ اُٹھا دیا

لندن میں سیاسی جوڑ توڑ! جہانگیر ترین بول پڑے، حقائق سے پردہ اُٹھا دیا

تبدیلی آ گئی،سرکاری افسر ہسپتال کی خوبصورت نرس کو اٹھا کرلے گیا اور پھر۔۔ایسا کام کہ پوری قوم غصے میں آگئی

تبدیلی آ گئی،سرکاری افسر ہسپتال کی خوبصورت نرس کو اٹھا کرلے گیا اور پھر۔۔ایسا کام کہ پوری قوم غصے میں آگئی

31دسمبر تک ہر شہری کے پاس یہ چیز ہو گی، حکومت کا ایسا اعلان کہ ہر کوئی خوشی سے جھوم اٹھا

31دسمبر تک ہر شہری کے پاس یہ چیز ہو گی، حکومت کا ایسا اعلان کہ ہر کوئی خوشی سے جھوم اٹھا

کورونا وائرس کا ایک نیا حملہ ! پروازیں کینسل اور سکول بند کرنے کا فیصلہ

کورونا وائرس کا ایک نیا حملہ ! پروازیں کینسل اور سکول بند کرنے کا فیصلہ

ملک میں ہنگامی صورتحال، بین الاقومی اور مقامی پروازیں منسوخ کرنا پڑ گئیں

ملک میں ہنگامی صورتحال، بین الاقومی اور مقامی پروازیں منسوخ کرنا پڑ گئیں

اس وقت آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہے؟  وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا

اس وقت آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا

وہ شہر جہاںاب آئندہ دو ماہ کیلئے سورج نہیں نکلے گا،جان کر آپکو بھی شدید حیرت ہو گی

وہ شہر جہاںاب آئندہ دو ماہ کیلئے سورج نہیں نکلے گا،جان کر آپکو بھی شدید حیرت ہو گی