12:50 pm
سکھوں سے نہرو، پٹیل کی دشمنی

سکھوں سے نہرو، پٹیل کی دشمنی

12:50 pm

میرے آباء و اجداد مشرقی پنجاب کی تحصیل  فیروز پور سے ہجرت کرکے (لائل پور) فیصل آباد میں آکر آباد ہوئے تھے
میرے آباء و اجداد مشرقی پنجاب کی تحصیل  فیروز پور سے ہجرت کرکے (لائل پور) فیصل آباد میں آکر آباد ہوئے تھے۔
جونیجو حکومت میں گورنر سرحد مرحوم عبدالغفور ہوتی، وزیر تجارت ایوب خان،  حکومت خیبرپختونخوا کے نامور مسلم لیگی اپنی عمر کے آخری حصے میں مجھ پر بہت مہربان تھے۔ مجھے اکثر بلواتے، ماضی بعید کی تاریخی باتیں میرے علم میں لاتے ، ایک ایسا ہی واقعہ انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کے حوالے سے مجھے سنایا کہ نواب زادہ لیاقت علی خان، تقسیم کے حوالے سے تیاریوں کے لئے ہوتی ہائوس دہلی میں مقیم تھے کہ آدھی رات کے قریب مولانا ابو الکلام آزاد بغیر کسی پیشگی پروگرام کے نوبزادہ لیاقت علی خان سے ملنے چلے آئے جبکہ نوابزادہ لیاقت علی خان سوچکے تھے۔ انہیں بیدار کروا کر مولانا آزاد نے کہا کہ آج میں شکست کھاگیا ہوں، مجھے ہندو قوم پرستوں نے شکست دے دی ہے  اور ’’کمیونل ازم‘‘ کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کی توثیق کر دی ہے جبکہ مولانا کا کانگریسی اجلاس میں موقف تھا کہ اگر کانگریسی قیادت حتمی طور پر تقسیم پر راضی ہوہی گئی ہے تو پھر وہ  تقسیم پنجاب و بنگال پر اصرار ترک کرکے ان دونوں صوبوں کو متحدہ رکھ کر پاکستان کو د ے دے تاکہ آبادی کی ہجرت سے بچا جاسکے۔ یہی بات آکر مولانا نے نوابزادہ سے کہی کہ خدارا تقسیم پنجاب اور تقسیم بنگال کو قبول ہرگز نہ کریں بلکہ اصرار کریں کہ پورا متحدہ پنجاب اور پورا متحدہ بنگال پاکستان کو ملنا چاہیے۔ یہی بات مولانا اسحاق بھٹی نے بھی اپنی کتاب ’’بزم ارجمندان‘‘ میں تاریخی شخصیات پر خاکے لکھتے ہوئے مولانا آزاد کے بارے میں لکھی ہے۔ یاد رہے مولانا محمد اسحاق بھٹی سیاسی طور پر قائداعظم کی بجائے مولاناابو الکلام آزاد کے ساتھ وابستہ تھے جیسے  کہ نامور ایڈیٹر ، صحافی، غلام رسول  مہر آزاد سے وابستہ تھے، میں اکثر سوچتا رہتا تھا کہ قائداعظمؒ جیسا دور اندیش کیا تقسیم کے وقت ہجرت کی تباہ کاریوں سے پیشگی آگاہ نہ تھا؟ اگر وہ آگاہ تھے تو انہوں نے پیشگی طور پر ہجرت کے اس تباہ کن مرحلے کو روکنے کی کوشش کیوں نہ کی تھی؟ میری اس تشنگی اور سوال کا جواب بہت مدت بعد محترمہ سلینا کریم نے اپنی کتاب سیکولر جناح کے صفحات نمبر227 سے 234 تک بحث کے ساتھ دے دیاہے۔
آئیے آپ بھی محمد علی جناح کے متحدہ پنجاب اور متحدہ بنگال کو پاکستا ن میں شامل کرانے کے استدلال سے آگاہی حاصل کریں۔
متحدہ بنگال اور متحدہ پنجاب میں اگرچہ آبادی کے تناسب میں مسلمان ہی اکثریت میں تھے، تاہم یہ  اکثریت بہترمعمولی تھی مثلاً بنگال کی مسلمان آبادی پچپن فیصد تھی بقیہ ہندو اور دیگر اقوام تھی، پنجاب میں مسلمان اکثریت57 فیصد تھی لہٰذا کانگرس نے 1944 ء میں اور برطانوی اذہان نے 1946 ء میں تقسیم بنگال اور تقسیم پنجاب کی حمایت کی تاکہ غیر مسلمان اقوام بدستور ہندوستان میں رہ جائیں جبکہ جناح ان د ونوں صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کررہے تھے، تقسیم کے حوالے سے صرف یہ دو صوبے ہی ایسے تھے جس میں ہجرت کا مرحلہ آتا کہ پنجاب میں سکھ آبادی تھی جو پورے پنجاب میں پھیلے ہوئے تھے جبکہ بنگال میں جو ہندو آبادی تھی وہ محض کلکتہ (بندرگاہ) کے ارد گرد تھی جبکہ دیگر کاسٹیں بھی موجود تھی۔ قائداعظم کا موقف تھا کہ پنجاب اور بنگال کو متحدہ رکھنا ضروری ہے تاکہ ایک ہی مذہب و ثقافت سے وابستہ خاندان ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ مثلاً پنجاب کے سکھ جب پاکستان کا حصہ متحدہ پنجاب کے ساتھ بنیں گے تو انہیں داخلی طور پر مکمل خودمختاری دی جائے گی۔ یہی  صورحال کلکتہ کے ہندوئوں کے لئے ہوگی۔
لہٰذا پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی بجائے انہیں متحدہ رکھا جائے اور پاکستان کو دیا جائے۔ جبکہ قائداعظم کے موقف کے حوالے سے ان دونوں صوبوں کو متحدہ رکھنے کی ایک وجہ جغرافیائی بھی تھی۔ مثلاً پنجاب700 میل تک پھیلا ہوا تھا۔  بنگال کے حوالے سے محمد علی جناح کا موقف تھا کہ ہندو آبادی کے حوالے سے غلط بتایا جارہا ہے یہ سب ہندو نہیں بلکہ محض ایک ذات کے (کاروباری) ہندو تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں جو کل آبادی کا چوتھائی ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر دیگر غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے ساتھ متحدہ بنگال کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس وقت کے ہندو لیڈر سیام پرساد مکرجی کو دیکھ لیں۔ وہ بنگال میں ’’ہندو وطن‘‘ کی تحریک چلاتے  رہے تھے جبکہ وہ مہاسبا تحریک کے صدر تھے، وہ اصرار کرتے تھے کہ کلکتہ کو پاکستان نہیں بنیں دیں گے جبکہ  یہ اقلیت کی رائے تھی، مالدار ہونے کے سبب  مگر وہ بہت طاقتور تھے لہٰذا انہیں نظر انداز کرنا ناممکن ہو رہا تھا جبکہ مشرقی بنگال کی اکثریتی مسلمان آبادی غریب تھی، کلکتہ (بندرگاہ) مغربی بنگال میں تھی۔ یوں مشرقی پاکستان کو ملنے والی کلکتہ بندرگاہ کو اقلیتی مالدار مہاسبائی ہندو ہتھیانے میں مصرو ف تھے، قائداعظم کا موقف تھا کہ ثابت کیا جارہا ہے کہ کلکتہ میں ہندو (کاروباری) اکثریت ہے مگر مسلمانوں کو کلکتہ اس لئے لازماً ملنا چاہیے تاکہ مشرقی پاکستان کو سمندر سے وابستہ ہونے اور بندرگاہ کی فطری سہولت مل سکے  جبکہ ہندوستان کو تقسیم کے بعد مدارس اور بمبئی کی بندرگاہیں  دستیاب ہوں گی۔ اگر مشرقی پاکستان کو کلکتہ کی  بندرگاہ نہیں ملے گی تو اس کا مطلب ہے کہ سلمانوں کو پانی کے بغیر (بندرگاہ کے بغیر) زندہ رہنے کی طرف جانا ہوگا۔ یوں تو یہ دیہاتی دلدل بنے گا جبکہ جناح کا یہ بھی موقف تھا کہ نہ ہی مشرقی اور نہ ہی مغربی بنگال کے لوگ کلکتہ بندرگاہ کو چھوڑنے پر آمادہ ہیں لہٰذا اسے متحدہ بنگال کی صورت میں دونوں (ہندوئوں اور مسلمانوں) کو د دیا جائے تاکہ سب کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔ جناح کا یہ بھی موقف تھا کہ اگر تقسیم بنگال کرنا ہی ہے تو پھر بندرگاہ کلکتہ کو ’’فری پورٹ‘‘ بنا دیا جائے تاکہ اس سے سب استفادہ  کرسکیں۔ (یہی تجویز 1946 ء میں کابینہ مشن نے بھی دی تھی ) جبکہ مائونٹ بیٹن گورنر جنرل کو اچھی طرح معلوم تھا کہ نہرو کا مقصد تقسیم بنگال سے صرف یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی مسلمانوں کو معاشی طور پر اتنا زیادہ کمزور رکھا جائے کہ بالآخر وہ ازخود دوبارہ ہندوستان میں  ضم ہو جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم بنگال اور کلکتہ بندرگاہ کے حوالے سے جو مئوقف جناح کا تھا یہی مئوقف گورنر پنجاب سر فیڈرک جیکنہ اور گورنر بنگال سر فیڈرک بروز کا بھی تھا، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پنجاب کے سکھ (اکال دل) اور بنگال کے صرف اعلیٰ ذات کے ہندو ہی تقسیم پنجاب، بنگال کے مطالبے کر رہے تھے۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں

طلبہ کی توموجیں ہوگئیں۔۔بچوں پر اسکول  ہوم ورک کا دباؤ کم کرنے کا قانون پاس

طلبہ کی توموجیں ہوگئیں۔۔بچوں پر اسکول ہوم ورک کا دباؤ کم کرنے کا قانون پاس

راولپنڈی اسلام آبادکے شہریوں کی مشکلات۔۔۔جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

راولپنڈی اسلام آبادکے شہریوں کی مشکلات۔۔۔جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟

بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟

حکومت غریب اور متوسط طبقے کیلئےکیا کرنے جا رہی ہے؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

حکومت غریب اور متوسط طبقے کیلئےکیا کرنے جا رہی ہے؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

تین ماہ سے بندداسوڈیم کی تعمیرکاکام کب شروع  ہوگا؟تاریخ کااعلان کردیاگیا

تین ماہ سے بندداسوڈیم کی تعمیرکاکام کب شروع ہوگا؟تاریخ کااعلان کردیاگیا

حکمرانوں کاہردن قومی سلامتی کے لیے خدشات بڑھارہاہے ۔۔حکومت سےنجات  حاصل نہ ہوئی تو۔۔۔

حکمرانوں کاہردن قومی سلامتی کے لیے خدشات بڑھارہاہے ۔۔حکومت سےنجات حاصل نہ ہوئی تو۔۔۔

ماسکو: مذاکرات کے دوران پاکستانی سفارتکار مائیک بند کرنا بھول گئے، شیریں مزاری اور بیٹی کے بارے میں کیا کہتے رہے؟ ریکارڈنگ سامنے آ گئی

ماسکو: مذاکرات کے دوران پاکستانی سفارتکار مائیک بند کرنا بھول گئے، شیریں مزاری اور بیٹی کے بارے میں کیا کہتے رہے؟ ریکارڈنگ سامنے آ گئی

لندن میں سیاسی جوڑ توڑ! جہانگیر ترین  بول پڑے، حقائق سے پردہ اُٹھا دیا

لندن میں سیاسی جوڑ توڑ! جہانگیر ترین بول پڑے، حقائق سے پردہ اُٹھا دیا

تبدیلی آ گئی،سرکاری افسر ہسپتال کی خوبصورت نرس کو اٹھا کرلے گیا اور پھر۔۔ایسا کام کہ پوری قوم غصے میں آگئی

تبدیلی آ گئی،سرکاری افسر ہسپتال کی خوبصورت نرس کو اٹھا کرلے گیا اور پھر۔۔ایسا کام کہ پوری قوم غصے میں آگئی

31دسمبر تک ہر شہری کے پاس یہ چیز ہو گی، حکومت کا ایسا اعلان کہ ہر کوئی خوشی سے جھوم اٹھا

31دسمبر تک ہر شہری کے پاس یہ چیز ہو گی، حکومت کا ایسا اعلان کہ ہر کوئی خوشی سے جھوم اٹھا

کورونا وائرس کا ایک نیا حملہ ! پروازیں کینسل اور سکول بند کرنے کا فیصلہ

کورونا وائرس کا ایک نیا حملہ ! پروازیں کینسل اور سکول بند کرنے کا فیصلہ

ملک میں ہنگامی صورتحال، بین الاقومی اور مقامی پروازیں منسوخ کرنا پڑ گئیں

ملک میں ہنگامی صورتحال، بین الاقومی اور مقامی پروازیں منسوخ کرنا پڑ گئیں

اس وقت آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہے؟  وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا

اس وقت آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا

وہ شہر جہاںاب آئندہ دو ماہ کیلئے سورج نہیں نکلے گا،جان کر آپکو بھی شدید حیرت ہو گی

وہ شہر جہاںاب آئندہ دو ماہ کیلئے سورج نہیں نکلے گا،جان کر آپکو بھی شدید حیرت ہو گی