12:53 pm
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیوں ضروری ہے؟

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیوں ضروری ہے؟

12:53 pm

پاکستان میں اس وقت الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) مسئلہ نمبر ایک بنی ہوئی ہے۔ حکومت آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال چاہتی ہے تاکہ پاکستان میں آزادانہ
پاکستان میں اس وقت الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) مسئلہ نمبر ایک بنی ہوئی ہے۔ حکومت آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال چاہتی ہے تاکہ پاکستان میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے جبکہ اپوزیشن جماعتیں ای وی ایم کے استعمال کی مخالفت کررہی ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اپوزیشن سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ای وی ایم کی مخالفت کررہاہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو37 اعتراضات کی فہرست بھیجی گئی ہے جو اپنی جگہ ایک حیران کن اقدام ہے۔ حیران کن اس اعتبار سے ہے کہ یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی تھا جس نے 2011ء میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا پہلا پروٹو ٹائپ تیار کروایا تھا لیکن آج یہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ دنیا بھر کے الیکشن  کمیشن صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کی کوشش کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے رویے سے یوں لگتا ہے جیسے یہ اس فکر سے آزاد ہو۔ پاکستا ن میں آج تک جتنے انتخابات ہوئے ہیں ان پر دھاندلی کے الزامات لگے ہیں ماسوائے 1970ء کے انتخابات کے ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آنے والا الیکشن کمیشن بھی اپنے اوپر لگنے والے داغ کو نہیں دھوسکا حالانکہ آئینی اعتبار سے پاکستان کا الیکشن کمیشن پڑوسی ملک بھارت کے الیکشن کمیشن سے زیادہ مضبوط، خودمختار اور طاقتور ہے۔
اگر ہم ہندوستان اور پاکستان کے الیکشن کمشنز کا تقابلی جائز ہ لیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تقرر کا ادارہ جاتی میکنزم آئین میں موجود ہے جبکہ ہندوستان میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو اراکین کا تقرر کرتا ہے۔ پاکستان کے پانچوں اراکین کمیشن کو عدالت عظمیٰ کے جج کی طرح آئینی تحفظ حاصل ہے جبکہ بھارت میں صرف چیف الیکشن کمشنر کو یہ پروٹیکشن حاصل ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کا  الیکشن کمیشن اپنی خودمختاری اور طاقت کا زیادہ اظہار کرتا ہے، اس کی کارکردگی پر عوام کا اعتماد ہے اور اس کی ساکھ شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا الیکشن کمیشن اپنی ساکھ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا  ہے۔2013 ء کے انتخابات پر دھاندلی کے سنگین الزامات تھے جو بعد ازاں جیوڈیشل کمیشن کے روبرو درست ثابت ہوئے۔ چھ انتخابی حلقوں میں سے ایک حلقے کا ریٹرننگ افسر بھی اضافی بیلٹ پیپرز کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ یہ اضافی بیلٹ پیپرز کہاں گئے یہ بات آج تک صیغہ راز ہے۔ جب بیلٹ پیپرز کے صاف اور شفاف استعمال کی بابت الیکشن کمیشن پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی آئی ہیں تو اس کو اس بارے میں زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ آئینی اعتبار سے وطن عزیز میں شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن الیکشن کمیشن کا رویہ ’’سجن بے پراہ‘‘ جیسا ہے۔
ای وی ایم کا استعمال درحقیقت بیلٹ پیپرز کے ذریعے ہونے والی دھاندلی روکنے کی ایک کوشش ہے مگر الیکشن کمیشن خود اس کی راہ میں روڑے اٹکانے میں لگا ہوا ہے۔ ای وی ایم کے بنانے، محفوظ رکھنے اور استعمال کرنے پر اٹھنے والی لاگت الیکشن کمیشن کا مسئلہ نہیں ہے، یہ اخراجات ریاست پاکستان نے برداشت کرنے ہیں۔ اس کے علاوہ ای وی ایم کے استعمال پر جتنے بھی اعتراضات ہیں وہ فروعی نوعیت کے ہیں۔ ووٹ کی سیکریسی کو بہانہ بناکر خواہ مخواہ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا جارہا ہے۔ ووٹ کی سیکریسی رکھنا الیکشن کمیشن کے عملے کی ذمہ داری ہے اور انہیں ہر حال میں اس ذمہ داری کو نبھانا چاہیے ۔ الیکشن کمیشن اپنے سٹاف سے اس ضمن میں حلف بھی لے سکتا ہے اور دیگر اقدامات بھی اٹھاسکتا ہے۔
بھارت جیسے ملک میں جہاں افراد کی سوچ آبادی اور انتخابات میں اثرو رسوخ جیسے مسائل پاکستان کی طرح کے ہیں لیکن  وہاں اگر ای وی ایم کا استعمال کامیابی سے ہوسکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتا؟ ہندوستان میں پہلی مرتبہ 1982ء میں کیرالہ انتخابات میں ای وی ایم استعمال ہوئی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیانے رفتہ رفتہ سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ کرنا شروع کیا اور 1989 ء میں ای وی ایم کے باضابطہ استعمال کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔
2004 ء سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہندوستان  کے ہر الیکشن میں کامیابی سے ہوتا آرہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عزم کی وجہ سے ہندوستان میں منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوئی اور ای وی ایم کے استعمال کا صاف شفاف الیکشن کے انعقاد میں اہم کردار ہے جس کا کریڈٹ سیاسی جماعتوں  سے زیادہ الیکشن کمیشن کو جاتا ہے۔ کیا ہمارا الیکشن کمیشن بھارتی الیکشن کمیشن کی طرح شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات نہیں اٹھاسکتا۔ الیکشن کمیشن ای وی ایم کو متعارف کروانے کا سہرا اپنے سر سجاتا اور سیاسی جماعتوں کو اس کے استعمال پر قائل کرنے کی کوشش کرتا  لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نہ صرف یہ کہ ای وی ایم کے استعمال کی مخالفت کررہاہے بلکہ اس نے خواہ مخواہ حکومت سے متھا لگالیا ہے۔ یہ رویہ قطعی  طور پر الیکشن کمیشن کو زیب نہیں دیتا۔ اگر حکومت شفاف  انتخابات  کے انعقاد کے لئے سنجیدہ کوشش کررہی ہے تو اس کوشش میں الیکشن کمیشن کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ جہاں تک اپوزیشن  جماعتوں کی مخالفت کا سوال ہے تو یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اتفاق رائے کے حصول کے لئے اپوزیشن کو آن بورڈ کرے۔ الیکشن کمیشن اس معاملے میں نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کرے تو باہم اتفاق سے پارلیمنٹ متفقہ قانون سازی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔