01:23 pm
سکھوں سے نہرو، پٹیل کی دشمنی

سکھوں سے نہرو، پٹیل کی دشمنی

01:23 pm

 (گزشتہ سے پیوستہ)
گورنر جنرل مائونٹ بیٹن کے سامنے نہرو اور وی پی  مینن (انتہا پسند ہندو رہنما سردار پٹیل کے دست راست) کا مئو  قف تھا کہ سول وار سے بچنے کے لئے مذہبی یعنی کمیونل  بنیادوں پر تقسیم بنگال و پنجاب بہت ضروری ہے۔ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مائونٹ بیٹن اور نہرو تقسیم کی تاریخ کو جون 1948ء تک لے جانا چاہتے تھے، لہٰذا مصنف  سرینا کریم کا موقف (صفحہ 233) پر ہے کہ ان تینوں شخصیات نہرو، وی پی،  مینن لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہی مل کر 3جون 1948ء کا  دن تقسیم برصغیر کے لئے طے کیا جبکہ  جناح کو اس منصوبے سے  لاعلم رکھا رکھا گیا تھا۔
سیلنا کریم کا یہ بھی استدراک ہے کہ (صفحہ 234)  کہ صرف مائونٹ بیٹن ، سردار ولبھ پٹیل اور نہرو نے ہی تقسیم کو ضلعی اور تحصیل لیول تک طے کیا (جس سے فیروز پور، گرداسپور،  زبردستی طور پر ہندوستان میں شامل کی گئیں حالانکہ یہ دونوں تحصیلیں  اور پٹھانکوٹ ابتدائی طور پر جغرافیہ پاکستان کا حصہ تھی، یوں ان تینوں نے تقسیم کو ’’بالکانائزیشن‘‘ (جغرافیے کو ٹکڑے ٹکڑے) بنا دیا اور کچھ شہریوں پر ہجرت کی آفت اچانک آگئی۔
مصنف محترمہ سلینا کا یہ بھی موقف (صفحہ 234 پر ) ہے مائونٹ بیٹن نے ریڈ کلف ایوارڈ  کی سرحدی تقسیم کی تفصیل سے بھارتی قیادت کو 16اگست1947ء تک آگاہ ہی نہیں کیا تھا۔ (یعنی 15اگست کو ہندوستان کی نئی تشکیل تقسیم کے ذریعے جب ہوئی تو بھارتی قائدین کو بتایا ہی نہیں گیا تھا کہ نئی سرحدیں کیا ہیں) یاد رہے کہ گرداسپور  سیالکوٹ کی طرح کئی  دن  تک پاکستانی جھنڈے سے مزین ہو کر پاکستانی جغرافیہ قرار پائی مگر چند دن بعد ریڈکلف ایوارڈ کا نام لے کر اسے پاکستان سے چھین لیاگیا تاکہ کشمیر کے لئے نہرو کے انڈیا کو زمینی راستہ مل سکے، یوں مشرقی پنجاب میں اچانک ہونے والی اس سرحدی تبدیلی کے سبب بھی بہت زیادہ ہجرت ہوئی، یہ جو مسئلہ کشمیر پیدا ہوا وہ ریڈکلف ایوارڈ کا نام لے کر پیدا کیا گیا کیونکہ اسی  پٹھانکوٹ اور گرداسپور کے سبب مقبوضہ کشمیر کو زمینی راستہ ملتا ہے۔ 
مصنف سلینا کریم نے صفحہ 232کے حاشیے پر سکھوں کے حوالے سے بھی تاثرات کو لکھا ہے کہ سکھ پارٹی کو یہ معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ان کی مذہبی عبادت گاہیں بھی دو حصوں میں تقسیم کی جارہی ہیں۔ جبکہ پنجاب تو سکھوں کا مذہبی اور جغرافیائی قومی وطن تھا، کیونکہ سکھوں کے مذہب کی تاسیں تو (پاکستانی) پنجاب میں ہوئی تھی، سکھ قیادت مثلاً ماسٹر تارا سنگھ اور بلدیو  سنگھ کو مسلمانوں پر اعتماد نہ تھا۔ لہٰذا یہ اپنا وطن چاہتے تھے جبکہ دیگر سکھ جن کی قیادت گیانی کرتار سنگھ کرتے تھے وہ خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے۔
سکھوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ انہیں اس وقت کی مسلم لیگی قیادت یہ یقین دلانے میں ناکام رہی کہ سکھوں کی اصلی محفوظ حیثیت صرف پاکستان میں ہے نہ کہ نئے ہندوستان میں، یوں پنجابی سیاست کی اندرونی سازشوں کے سبب بھی اور کچھ سکھوں اور مسلمانوں میں باہمی عدم اعتماد کے سبب  تقسیم پنجاب کی قسمت پر تقدیر نے  مہر ثبت کر دی۔  مصنف کا استدراک ہے کہ اسی قدیم خالصتان کی تحریک آج بھی موجود ہے بلکہ کتنی تاریخی تبدیل شدہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج سکھ خود اپنے خالصتان کے لئے اس پاکستان سے مدد چاہتے ہیں جس کو اکالی  دلوں نے نفرت سے مسترد کرکے خود کو ہندوستان میں ضم کیا تھا۔
میرا عاجزانہ استدراک ہے کہ سکھوں کی تقدیر اور مقدر میں یہ بدقسمتی لکھی تھی انہوں نے جذباتی ہوکر کرپانیں  لہرا  کر پنجاب اسمبلی کے باہر پاکستان مخالفت کی، خود کو انتہا پسند وی پی مینن، سردار ولبھ بھائی پٹیل (یہی گجراتی مودی کی حکمران انتہا پسند بے جی پی کے سیاسی ہیرو ہیں) اور نہرو سے وابستہ  کرلیا مگر جونہی تقسیم پنجاب مکمل ہوگئی تو وی پی مینن جو مائونٹ بیٹن کے ایڈوائزر کے طور پر ریفارمز کمشن کا سربراہ تھا اور سردار ولیبھ  بھائی پٹیل نے سرحدی امور اور وزیر داخلہ کے طور پر مشرقی پنجاب کو چار حصوں پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، ہمہ چل پردیش میں تقسیم کرکے سکھ وحدت کو  ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمیشہ کے لئے کمزور کر دیا ہے۔ ہماری دعائیں مظلوم سکھوں کے ساتھ ہیں۔
محترمہ سلینا  نے کتاب کے صفحہ 233پر مائونٹ بیٹن کی ریڈکلف ایوارڈ میں طے شدہ جغرافیائی تشکیل میں ’’ذاتی‘‘ مداخلت کی بحث لکھی ہے کہ کس طرح مائونٹ بیٹن نے نہرو کی ذاتی خواہش پر انہیں ’’فائنل ڈرافٹ‘‘ کا مسودہ پیشگی دے دیا تھا جبکہ مائونٹ بٹین کے سٹاف نے انہیں منع بھی کیا تھا کہ یہ اصول طے شدہ ہے کہ سب پارٹیوں کو تقسیم کیا۔ فائنل مسودہ اور ڈرافٹ اکٹھے دیا جائے گا اس مخالفت کے باوجود بھی مائونٹ بیٹن نے نہرو سے اپنی بیوی کے قریبی تعلق کی بنیاد پر اسے   راز داری سے فائنل مسودہ دے دیا جس کے سبب نہرو نے تحصیل فیروز پور اور گرداسپور کو آخری لمحے مائونٹ بٹین پر زور ڈال کر تبدیل کروالیا جبکہ مسلم لیگی موقف یہ کہ یہ تحصیلیں ریڈکلف کے اصل طے شدہ ڈرافٹ میں پاکستان کو دی جاچکی تھیں۔
جسٹس دین محمد اور جسٹس محمد منیر نے نواب ممدوٹ کے ذریعے قائداعظم سے ملاقات کرکے انہیں بتایا تھا کہ سازش کرکے ریڈ کلف کے ذریعے پٹھانکوٹ کو  ہندوستان کو دیا جارہا ہے۔ مگر قائداعظم نے  جواب دیا کہ اس بددیانتی کے باوجود وہ ریڈ کلف ایوارڈ کو قبول کرنے سے انکار نہیں کریں گے ۔ لٹا پٹا، ٹوٹا پھوٹا پاکستان لے لینا زیادہ بہتر ہے کہ پاکستان ہی نہ ملے اور مسلمانوں کو مستقبل میں ہندوراج میں رہنا پڑے۔

 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔