01:24 pm
ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی

ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی

01:24 pm

 اردو ہماری تہذیب و تمدن کی  آئینہ  دار ہے۔ زندہ قومیں اپنی شناخت کو برقرار رکھتی ہیں،ہماری  تہذیبی شناخت کی بنیاد خدا کی حاکمیت اور وحدت نسل انسانی پر استوار ہے، یہی ہمارا  صدیوں سے سرمایہ حیات ہے اور مستقبل بھی اسی چشمہ حیات سے روشن ہو گا۔ زبان اظہار و ابلاغ کے ساتھ ساتھ اپنی تمدنی روایت کی امین ہوتی ہے زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ وسیع تر معنوں میں ہمارے اجتماعی رویوں اور طرز عمل کا مرقع ہوتی ہے، دنیا میں وہی قومیں بام عروج تک پہنچی ہیں جنہوں نے اپنی علمی روایت معاشرتی تجربات اور سماجی  طرز عمل کو آئندہ آنے والی نسلوں تک اپنی زبان میں پہنچایا ہے۔ زبان و بیان سماجی ارتقاء کی جبریت کو احسن انداز میں  جذب کرنے کا ملکہ حاصل کر لیتا ہے۔
دنیا نے نئے نئے معاشی چشمے دریافت کر لئے ہیں، اس عمل نے زندگی کے طور طریقوں  کو بدل ڈالا ہے۔ انسانوں کی بود باش میں محیرالعقول تبدیلی واقع ہو چکی ہے،لباس  کی تراش و خروش میں بنیادی تبدیلی وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ دور ماضی کی تحریروں میں استعمال  شدہ استعارے اور تشبیہات  متروک ہو چکی ہیں،ہمارے آلات حیات میں جوہری تبدیلی واقع ہو چکی ہے دیہاتی رہن سہن میں جو آلات زندگی ہمارے لئے آسانی فراہم کرتے  تھے ان کی جگہ جدید مشینری ہے حاصل کرلی ہے مشینری کے بے دریغ استعمال نے  لوگوں کو نکمہ  اور ناکارہ بنا دیا ہے۔اردو ادب میں سودا اور امیر مینائی کا اسلوب قصہ  پارینہ  بن چکا ہے۔ بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آواز سننے کو لوگ کے کان ترس گئے  ہیں۔ اقبال و فیض کا کلام آج  ہماری تہذیبی  روایات کا سنگ میل بن کر ہمارے لئے چشم براہ ہے۔ تہزیب و روایات  ہماری رگوں میں خون بن کر موجزن ہیں اگر کوئی معاشرہ اپنے اجداد کی تہذیب و تمدن کا وارث نہیں بنتا تو وہ حرف غلط کی  طرح فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔تہذیب مظاہرے  روزمرہ  زندگی کا جزو لاینفک بنے رہیں تو حیات مستعار  ہمارے لئے جنت نظیر بن جائے۔ اردو کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو کردیا جائے تو معاشرے میں موجود سماجی و معاشرتی بعد و تفاوت اپنی موت آپ مر جائے۔اگر شاعری  اور ادب مقامی کلچر سے رزق حاصل کرتا رہے تو پھر زبان و بیان کو مصنوعی تنفس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستانیں زمین پر بکھری پڑی ہیں ان میں اہل خرد کے لئے عبرت کی نشانیاں  بھی موجود ہیں۔ تہذیبوں  کے زوال و شکست و ریخت پر   غور و فکر کرنے والے اس نتیجہ تک پہنچیں ہیں کہ جو زبان زندگی کا ساتھ نہ دے  تو وہ زبان  تہذیب کا دروازہ بند کر لیتی ہے۔
 امام غزالی  محی الدین ابن عربی ابن خلدون ٹائین بی سپنگلر پال کینیڈی ا س نتیجہ تک پہنچیں ہیں کہ اگر مروجہ زبان زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے  میں خود کفیل نہ ہو سکے تو  زبان اور تہذیب  خود مٹ جاتے ہیں،ہر دور میں علمی میراث اور اس میں نئے زاویوں کی تلاش ہی زندگی و تہذیب کو  بر قرار رکھتے ہیں۔ آج انسانی تعمیر ترقی کا راز علم سے وابستہ ہے۔ زندگی کو تعمیر و ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لئے علمی ابلاغ ضروری ہوتا ہے زبان علم کا ابلاغ کرتی ہے۔اردو علم کی زبان بننے کے لئے مکمل صلاحیتوں سے بہرہ ور ہے ہماری بد قسمتی تھی انگریزوں کے مسلط شدہ اقتدار کے ہمیں اپنی تہذیب و تمدن اور  زبان و بیان سے الگ کر دیا ہے۔
انگریزوں کی مسلط شدہ اقدار نے ہمیں اپنی تہذیب و تمدن اور زبان و بیان سے الگ کر دیا تھا، کسی دور میں عربی زبان تراجم کی بدولت اپنے دامن میں ہیرے و جواہرات سے  مالا مال تھی اور دنیا  میں  علمی زبان کے طور پر جانی پہچانی تھی اہل یونان کے فلسفے پوری دنیا  عربی زبان کی وجہ سے پھیلے۔موجودہ دور میں تحقیق و تصدیق کے معرکہ انگریزی زبان نے سر کئے ہیں لہٰذا یہ زبان بین الاقوامی زبان کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔اس طرزندگی کے قافلے نے اس کا ساتھ دیا ہے۔ زبان کی ترقی کے دو اہم راستے ہیں ایک یہ کہ علم اس زبان میں تخلیق کیا جائے دوسرا یہ کہ علم کسی زبان میں بھی تخلیق ہو زندہ زبان  جزب کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو  عباسیوں کے دور یہ فریضہ عربی زبان بے ادا کیا تھا۔ اس طرح عربی زبان تہذیب و تمدن اور سائنسی معلومات کی زبان بن گئی تھی۔ عربوں کا انداز نشت و برخاست لوگوں کا فیشن بن گیا۔ دنیا ارسطو بقراط ،سقراط اور دوسرے عالمی سطح کے فلسفیوں سے محض عربی زبان کے ذریعے واقف ہو سکی،جب علم و عمل کے چشمے عربوں کے ہاں ختم ہو گئے تو عربی زبان میں موجود علم کے خزانے بھی ناپید ہو گئے۔ موجودہ دور میں انگریزی نے یہ حیثیت حاصل کر لی ہے۔ آج تہذیب کی باگ سائنس کے ہاتھ میں ہے ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے اردو زبان سائنس کی زبان نہیں بن سکی ہے سائنس سے ہم طبعی علوم مراد لیتے ہیں ہماری جہالت و لاعلمی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری زبان تو سماجی علوم کی زبان بھی نہیں بن سکی ہے اس میں زبان کا قطعی طور پر کوئی قصور نہیں ہے بلکہ ہمارے علم کے بارے میں عدم دلچسپی اور ناقابل معافی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم تاریخ میں اس کے سدباب تلاش کرنے کی کوشش کریں تو جان کر خوش ہوں گے کہ اردو 19ویں صدی میں سائنس کی زبان بن چکی  تھی۔ برصغیر میں ایسا میڈیکل کالج قائم ہوا جس کی تدریسی  زبان اردو تھی ان کی تمام کتب اردو میں پڑھائی جاتی تھیں۔ یہ سب کچھ از خود ممکن نہیں ہو سکا تھا بلکہ شبانہ روز کی محنت کی وجہ سے ہوا تھا جب انسان عزم صمیم کر لیتا ہے تو پھر دنیا کوئی طاقت سدہ راہ نہیں بن سکتی ہے یہ سب کچھ ترجمہ کی وجہ سے ممکن ہوا تھا علی گڑھ سے لے کر جامعہ عثمانیہ تک ایک سنہرہ دور ہے جس میں علم کو اردو میں منتقل کرنے کا  دور کہا جا سکتا ہے 19,20 صدی اس لحاظ سے اہم تھی کہ اردو میں تخلیقی سطح تک اہم کام ہوا تھا خاص طور ادب اور اسلامی علوم میں۔ یہ دور غالب میر تقی میر ، سودا او اقبال  کا دور ہے جس میں علم و ادب  کے بے شمار تخلیقی کام سر انجام دئیے گئے تھے۔   ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں:سعودی عرب

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں:سعودی عرب

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی