01:28 pm
عشرہ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

عشرہ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

01:28 pm

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔
5 ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں۔
 6ستمبر کو صبح جامعہ نصر العلوم گوجرانوالہ میں شہداء  آزادی، شہدا دفاع پاکستان اور شہدا ختم نبوت کے ایصال ثواب اور دعا کے لیے تقریب ہوئی۔ اس کے بعد جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں یوم دفاع پاکستان کے حوالہ سے مولانا قاری گلزار احمد قاسمی کے ہمراہ پرچم کشائی کی سعادت حاصل کی جس میں شہر کے سرکردہ علما کرام اور دینی راہنما شریک ہوئے۔

7 ستمبر کو ظہر کے بعد چناب نگر میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اور مغرب کے بعد مینار پاکستان لاہور کی وسیع گرانڈ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں گزارشات پیش کیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے  6ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور  7ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کی ان کانفرنسوں کی بھرپور کامیابی کے لیے جو مسلسل تگ و دو کی اس کے اثرات و ثمرات دیکھ کر دل بے حد خوش ہوا اور محنت کرنے والے علما کرام اور کارکنوں کے لیے دل سے دعائیں نکلیں، اللھم ربنا آمین۔ ان اجتماعات میں جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:
 وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہم سب کی قومی اور ملی ذمہ داری ہے۔ یوم دفاع ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ و دفاع کا عنوان ہے اور یوم ختم نبوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کی علامت ہے۔ اس موقع پر دونوں محاذوں کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں حوالوں سے عزم و عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔
 ہمیں درپیش سنگین قومی و ملی مسائل کا اصل مرکز داخلی نہیں ہے بلکہ بیرونی مداخلت کے تسلسل نے ہمارے لیے یہ مسائل کھڑے کر رکھے ہیں۔ مثلاً ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ ختم نبوت کے قوانین کے بارے میں یورپی یونین کی مداخلت اور دبا ئوبڑھتا جا رہا ہے۔ خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے اور مغربی ثقافت جبرا ًمسلط کرنے کی کارروائیاں سیڈا کے کہنے پر ہو رہی ہیں۔ مسجد و مدرسہ کی خودمختاری اور مذہبی آزادی کا ماحول فیٹف کے دبا پر خراب کیا جا رہا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کرنے کی کارروائی کے پیچھے آئی ایم ایف مصروف کار ہے۔ حالانکہ ملک کے اندر ایسی صورتحال نہیں ہے جیسا کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے بارے میں امر واقعہ ہے کہ  -1پارلیمنٹ کے سامنے جب بھی یہ مسائل آئے ہیں اس نے واضح فیصلہ دیا ہے اور ختم نبوت قوانین کے بارے میں پارلیمنٹ کے کم و بیش چار فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ -2 عدالت عظمی سے جب بھی دریافت کیا گیا ہے اس کا فیصلہ دستور اور قانون کے مطابق سامنے آیا ہے، اور -3 سول سوسائٹی یعنی ملک کی رائے عامہ اور قوم کے تمام طبقات مثلا مکاتب فکر کے علماء کرام، وکلاء ، تاجر برادری، اساتذہ و طلبہ اور دیگر طبقے ہمیشہ سے اس مسئلہ پر یک آواز چلے آ رہے ہیں۔ مگر بیرونی مداخلت بالخصوص یورپی یونین کے ذریعے ان قوانین کو ختم کرنے یا بے اثر بنانے کی مہم جاری ہے۔
 ہم نے ہر موقع پر ملک کے اصحاب فکر و دانش کو توجہ دلائی ہے کہ ملکی رائے عامہ اور دستوری تقاضوں سے علی الرغم اس قسم کی بیرونی مداخلت کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بین الاقوامی معاہدہ موجود ہوتا ہے جس پر ہمارے حکمرانوں کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔ ان معاہدات میں ملک کی نمائندگی کرنے والوں کا شروع سے یہ وطیرہ چلا آ رہا ہے کہ معاہدوں پر دستخط کرنے سے قبل نہ ملک کے دستور کے تقاضے دیکھتے ہیں، نہ رائے عامہ کے عمومی رجحان کا لحاظ کرتے ہیں، اور نہ قوم اور اس کے متعلقہ طبقات کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ وقتی دبا اور محدود مفاد کو سامنے رکھ کر خاموشی سے دستخط کر کے چلے آتے ہیں جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسے معاہدوں اور ان پر دستخط کرنے والوں کو قوم کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے جو ہمارے بیشتر قومی مسائل اور مشکلات کی اصل جڑ ہیں۔
 اسی طرح قومی سطح پر ایک اعلیٰ کمیشن کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کے ایسے بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لے جو ملک کے دستور، وطن کی نظریاتی شناخت اور عوام کی اکثریتی رائے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی اور سفارت کاری کی منظم مہم کے ذریعے متعلقہ اقوام و ممالک اور اداروں سے باضابطہ گفت و شنید کا اہتمام کیا جائے، اس کے بغیر ہم اس دلدل سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔
 ان تمام مسائل کے لیے عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ قومی وحدت کا ماحول قائم رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے اور ایسے تمام اندرونی و بیرونی عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو زبان، نسل، قومیت، علاقائیت یا مسلک کی بنیاد پر تفریق کو ہوا دے کر بیرونی مداخلت اور عالمی استعماری ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔
 سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ دستورِ پاکستان کی عملداری کی طرف توجہ دی جائے جو اس وقت طاقتور طبقوں اور اداروں کے رحم و کرم پر دکھائی دے رہا ہے۔ دستور ہی ہماری وہ اساس ہے جس پر ہم اپنی قومی زندگی کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔


 

تازہ ترین خبریں

نئے مون سون سسٹم کی پاکستان میں دھماکے دار انٹری۔۔ کراچی سے خیبر تک بارشیں ہی بارشیں ؟محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا 

نئے مون سون سسٹم کی پاکستان میں دھماکے دار انٹری۔۔ کراچی سے خیبر تک بارشیں ہی بارشیں ؟محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا 

بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ۔۔پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹی نے جعلی ڈگریاں جاری کردیں، گندے دھندے میں کون کون ملوث ہے؟والدین اور طلبا یہ ضرور

بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ۔۔پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹی نے جعلی ڈگریاں جاری کردیں، گندے دھندے میں کون کون ملوث ہے؟والدین اور طلبا یہ ضرور

ہمیں دور دراز علاقوں میں پٹرول پمپ کی فراہمی  کو یقینی بنانا چاہیے۔عارف علوی

ہمیں دور دراز علاقوں میں پٹرول پمپ کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔عارف علوی

 ماسک صحیح طریقے سے نہ پہننے کامعاملہ ۔۔۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو امریکی ائیرلائن  اتاردیاگیا 

 ماسک صحیح طریقے سے نہ پہننے کامعاملہ ۔۔۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو امریکی ائیرلائن  اتاردیاگیا 

ویلکم ۔۔خوش آمدید۔۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کب پاکستان آ رہے ہیں۔۔؟ دشمنوں کی نیندیں حرام کردینےوالی خبر

ویلکم ۔۔خوش آمدید۔۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کب پاکستان آ رہے ہیں۔۔؟ دشمنوں کی نیندیں حرام کردینےوالی خبر

ظلم کی انتہائی ، بااثرملزمان نے لڑکی کا نازک اعضا کات دیا، افسوسناک واقعہ پاکستان کے کون سے شہر میں پیش آیا؟جانیے

ظلم کی انتہائی ، بااثرملزمان نے لڑکی کا نازک اعضا کات دیا، افسوسناک واقعہ پاکستان کے کون سے شہر میں پیش آیا؟جانیے

شہباز شریف اور بلاول بھٹو ٹھپہ مافیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، فرخ حبیب

شہباز شریف اور بلاول بھٹو ٹھپہ مافیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، فرخ حبیب

 سندھ میں کورونا ویکسینیشن نہ کروانے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

سندھ میں کورونا ویکسینیشن نہ کروانے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

 لاہور  ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے جہاز پر نا معلوم شخص کی جانب سے  لیزر لائٹ  مارنے کا واقعہ،  مقدمہ درج

لاہور ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے جہاز پر نا معلوم شخص کی جانب سے لیزر لائٹ مارنے کا واقعہ، مقدمہ درج

صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف،یونیورسٹی کے چار اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق

صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف،یونیورسٹی کے چار اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق

خیبر پختونخوامیں کل شام سے بارشوں اور تیز ہواؤں کا نیاسلسلہ شروع ہونے کاامکان

خیبر پختونخوامیں کل شام سے بارشوں اور تیز ہواؤں کا نیاسلسلہ شروع ہونے کاامکان

تحریک انصاف سے لوٹے اور آزاد امیدوار نکا ل دیں توباقی کون بچتاہے؟عظمیٰ بخاری نے ایسی بات کہہ دی جس سے کھلاڑی غصے سے آگ بگولہ ہوگئے

تحریک انصاف سے لوٹے اور آزاد امیدوار نکا ل دیں توباقی کون بچتاہے؟عظمیٰ بخاری نے ایسی بات کہہ دی جس سے کھلاڑی غصے سے آگ بگولہ ہوگئے

 مسلم لیگ (ن) نے  الیکشن کمیشن سے وفاقی وزراء کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن سے وفاقی وزراء کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

 انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال ناگزیر ہے کوئی ‏بھی الیکشن ہوں دھاندلی کےالزامات لگائےجاتےہیں۔سینیٹر فیصل جاوید 

 انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال ناگزیر ہے کوئی ‏بھی الیکشن ہوں دھاندلی کےالزامات لگائےجاتےہیں۔سینیٹر فیصل جاوید