01:29 pm
گھی، بجلی، چینی، دالیں، خودکش مہنگائی!!

گھی، بجلی، چینی، دالیں، خودکش مہنگائی!!

01:29 pm

٭ساری خبریں بعد میں پہلے حکومت کی خودکش مہنگائی، گھی 370 روپے بازار میں 400 روپے کلو، چینی 112 روپے، مرغی 306 (سرکاری ریٹ)! کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات، پیپلزپارٹی 113 میں سے 17 نشستیں، بلوچستان، پنجاب سے غائب، جے یو آئی ملک بھر میں کوئی نشست نہیں، مجموعی نتائج تحریک انصاف 63، ن لیگ 59، آزاد 52 کامیابO پاکستان، اسلام آباد میں افغانستان کے ہم سایہ آٹھ ممالک کی انٹیلی جنس کا اجلاس، بھارت کی تلملاہٹO مقبوضہ کشمیر، بھارت کے ہولناک انسانیت سوز مظالم کی تفصیل، پہلی قسط جاریO افغانستان حلف برداری ختم، خواتین پر پابندیاں، طالبان کو صحیح حالت میں 100 روسی ہیلی کاپٹر مل گئےO ووٹنگ مشین70 سے 75 ارب کے اخراجات کا تخمینہO سعودی عرب،3 سال میں 44 سینما گھر!
٭وزیراعظم عمران خاں سے براہ راست مخاطب ہوں! محترم خاں صاحب! آپ اٹھتے بیٹھتے غریب عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ کسی نے کبھی آپ کو بتایا کہ آپ کی حکومت کے ہاتھوں ناقابل برداشت شدید ظالمانہ مہنگائی سے غریب عوام کا کیا حشر ہو رہا ہے؟ آپ تو کسی چوتھے پانچویں آسمان پر بیٹھے ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ کا ورد کرتے رہتے ہیں، آپ کے اردگرد مختلف پارٹیوں کے سیاسی بھگوڑوں کے غول بیانی (گمراہ کرنے والے جِن) نے آپ کو بتایا کہ حکومت صرف دس بارہ دنوںمیں گھی کی قیمت میں تقریباً 100 گنا اضافہ کر چکی ہے۔ بارہ دن پہلے تقریباً 200 روپے کلو والا گھی اب یوٹیلٹی سٹوروں پر 370 روپے اور بازار میں 400 روپے کلو مل رہا ہے۔ آٹے کا ریٹ بھی 200 روپے تک بڑھ چکا ہے، مرغی کا گوشت 260 سے 305 روپے کلو (سرکاری ریٹ) تک پہنچ گیا ہے۔ غریب آدمی چند بوٹیوں کا شوربا بھی نہیں بنا سکتے۔ بجلی کے نرخوں میں پہلے ماہوار پھر15 روز اور اب ہفتہ وار مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ظلم یہ کہ محکمہ بجلی 30 دنوں کی بجائے 37  دنوں، ایک ہفتہ اضافی کے بل بھیج رہا ہے۔ سراسر حرام کی کمائی! ماضی کی طرح اب بلوں کی قِسطیں بھی نہیں کی جاتیں۔
٭میں بہت تلخ ہو رہا ہوں، وزیراعظم صاحب! آپ مجھ سے بہت چھوٹے ہیں، تجربوں کے دعوے بہت کرتے ہیں مگر سوچ بچار کی عادت نہیں۔ میں اپنے 56 سال کی صحافت کے تجربوں کی بنیاد پر خبردار کر رہا ہوں کہ آپ کے اردگرد ارسطو، افلاطون، سقراط، بقراط کے بہروپ میں جمع بزر جمہر آپ کی حکومت پر کیسے کیسے خودکش دھماکوں کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ خاں صاحب! میری باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں! ایوب خاں کے دور میں تو صرف چینی کی قلت اسے لے بیٹھی تھی، برطانیہ کی وزیراعظم تھیچر کو دودھ کی مہنگائی نے تخت سے اتار دیا تھا، آپ کے خلاف خود کش منصوبوں کی تعداد تو کہیں زیادہ ہے۔ بیٹھے بٹھائے میڈیا اتھارٹی کا شوشا، ووٹنگ مشین کا شوشا، گھی، آٹے، بجلی، چینی، دالوں کی ناقابل برداشت مہنگائی! کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابی نتائج دیکھ رہے ہیں آپ؟ تحریک انصاف متعدد مقامات سے بالکل غائب!! مجھے پرانا داستانی فقیر یاد آ رہا ہے جو ایک شہر میں اتفاقیہ بادشاہ بن گیا۔ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے حلوہ کھاتا تھا۔ چوتھے روز دشمن نے شہر پر حملہ کر دیا تو اپنی لاٹھی اٹھا کر چل دیا کہ تم جانوں، تمہارا کام جانے، ہم تو حلوہ کھانے آئے تھے!!
٭کنٹونمنٹ بورڈوں کے نتائج کی تفصیل لمبی چوڑی ہے، صرف ایک دو اہم باتیں کہ ان انتخابات میں جے یو آئی سمیت پی ڈی ایم کی دوسری تمام چھوٹی پارٹیاں بالکل غائب ہو گئیں، پیپلزپارٹی کی حالت زار یہ کہ لاہور، بلکہ پورے پنجاب اور بلوچستان میں نام و نشان تک نہیں، پختونخوا میں صرف تین اور سندھ میں تحریک انصاف کے برابر 14,14 نشستیں! (بلاول کہاں گئے تمہارے جلسے اور وزیراعظم بننے کے خواب؟) چندموٹے موٹے اعداد! تحریک انصاف 63، ن لیگ 59، آزاد 52 (بیشتر تحریک انصاف میں جا سکتے ہیں) ایک بار پھر تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان کے ڈیرہ اسماعیل کے دونوں حلقوں کا صفایا کر دیا۔ ن لیگ اور تحریک انصاف بلوچستان سے بالکل غائب، ایم کیو ایم صرف 10 نشستیں! تفصیل اخبارات میں۔
قارئین محترم، میں ایک جنجال میں پھنس گیا ہوں، اس میں آپ کو بھی پھنسا رہا ہوں۔ میں کچھ نہیں کر سکا، آپ بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ جو کہنے والا ہوں وہ ضرور سنئے! میں چکرا رہا ہوں آپ بھی چکرایئے، مجبوری ہے۔ قصہ یہ ہے کہ دس سال پہلے 2011 میںڈیجیٹل مشین بنانے والے ایک ماہر انجینئر عاطف مجید نے ووٹ ڈالنے کی ایک مشین بنائی۔ کسی نے توجہ نہ دی۔ انتخابی دھاندلیوں اور اصلاحات کا شور زیادہ ہو گیا تو عاطف مجید نے اپنی تیار کردہ مشین کو جھاڑ پونچھ کر انتخابی شفافیت کے سلسلے میں ایک ادارہ ’پِلڈاٹ‘ کے مذاکرے میں پیش کر دیا۔ اور سوالات کے جواب میں کچھ اہم اور دلچسپ تفصیل بھی بتائی۔ اس کے اعداد و شمار اور حقائق کو بہت لمبے چوڑے ہیں۔ میں آسان اُردو میں الگ الگ چند ایک بتا دیتا ہوں۔
2018-1 میں انتخابات پر21 ارب روپے خرچ ہوئے، مشین کے ذریعے 75 ارب تک بات پہنچ سکتی ہے، 55 ارب مشینوں پر 20 ارب عام انتظامات، ملازمین ٹرانسپورٹ وغیرہ۔
-2 ایک مشین چھ (6) اجزا پر مشتمل ہو گی: ووٹر کی شناخت کی مشین، کنٹرول یونٹ، ووٹ درج کرنے کی مشین، ووٹ پرنٹ کرنے کی مشین، ووٹ ڈالنے کا بکس۔ کل 10 لاکھ مشینیں!!
-3انتخابات میں 85 ہزار پولنگ سٹیشن، دو لاکھ 40 ہزار پولنگ بوتھ، 95 ہزار شناختی کارڈ سنٹر ہوں گے۔
-4 مشینوں کے تقریباً دس لاکھ یونٹ تیار کرنا ہوں گے، اب کام شروع کیا جائے تو 2023ء کے انتخابات تک روزانہ دن رات تین ہزار مشینیں تیارکرنا ہوں گی!
-5 دس لاکھ مشینوں کو رکھنے کے لئے بارہ بہت بڑے بڑے گودام بنانا ہوں گے۔
-6 ہرمشین پر ایک سیل لگانا ہو گی جو ووٹ ڈالے جانے سے پہلے سب کے سامنے کھولی جائے گی۔ اور اگلے انتخابات کے لئے پھر لگانی پڑے گی (10 لاکھ سیلیں (مُہریں)!
2023 -7ء کے بعدکے انتخابات تک پانچ سال خاموش پڑی رہنے والی لاکھوں بیٹریاں ختم ہو جائیں گی، نئی بیٹریاں خریدنا ہوں گی! مشینوں کو زنگ بھی لگ سکتا ہے۔
-8 پولنگ سٹیشن پر لانے سے پہلے دس لاکھ مشینوں اور اجزاء کو مکمل چیک کرنا ہو گا۔
-9 انتخابات کے دوران مشین کی خرابی دور کرنے کے لئے تقریباً 1300 ماہر تربیت یافتہ کاریگروں اور 1300 گاڑیوں کی ضرورت ہو گی۔
-10 گوداموں میں 5 سال تک پڑی رہنے والی کی بارش، سیلاب وغیرہ سے تحفظ کے لئے تقریباً 50 کروڑ روپے درکار ہوں گے (بے شمار ملازمین!)
-11 اہم بات: مشینوں کے استعمال کے لئے تین سے پانچ لاکھ افراد کی تربیت! (فواد چودھری اکیلا ان سب کی تربیت کر سکے گا؟)
٭قارئین کرام!! میراشکریہ! کہ 75 ارب روپے کے اخراجات کی تفصیل درج نہیں کی۔ ورنہ آپ بھی چکرا جاتے! اب معاملہ یہ ہے کہ ارسطوئے زماں وزیراطلاعات کا فخریہ دعویٰ ہے کہ یہ مشینی اختراع محض اس کے دماغ کی پیداوار ہے۔ ایک بہت سادہ سی بات ہے کہ پونے دو سال میں 10 لاکھ مشینیں کیسے تیار ہوں گی؟ کہاں رکھیں گے؟ ملک بھر میں کیسے تقسیم ہونگی؟ واپس کیسے لائی جائیں گی؟ وغیرہ وغیرہ! بہت سے محاورے، استعارے یاد آ رہے ہیں، پھر فانی بدایونی یاد آ گیا۔ کہتا ہے…’’اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا! زندگی کا ہے کو ہے، خواب ہے دیوانے کا!‘‘ اسی غزل کا آخری شعر کہ ’’ہرنَفَس عمر گزشتہ کی ہے میّت فانی! زندگی نام ہے مَر مَر کے جِئے جانے کا!!‘‘
٭کالم کے جاتے جاتے نہائت افسوسناک خبر! معروف مورخ، محقق، کالم نگار، سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر صفدر محمود انتقال کر گئے۔  اِنّا لِلّہ و اِنّا الیہ راجعون! 
 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔