12:54 pm
طالبان کیا امریکی آلہ کار ہیں؟

طالبان کیا امریکی آلہ کار ہیں؟

12:54 pm

طالبان کا موجودہ  عہد اصلاح پسندی، فکری و سیاسی ارتقاء کا بہترین نمونہ ہے۔ وہ فقر، درویشی، قلندری جو امام خمینی اور ان کے ایرانی رفقاء کی شان پہچان تھی۔ وہی فقر ، درویشی، قلندری، شلوار قمیص، داڑھی، پگڑی کے ساتھ موجودہ طالبان میں بھی وافر مقدار میںموجود ہے۔ طالبان ماضی کے ہوں یا موجودہ ، وہ طے شدہ طور پر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے دینی و اسلامی فکر کا افغانی پیکر میں اظہار اور اعلان ہے۔
طالبان کا فکری وجود اسامہ بن لادن، القاعدہ سے کبھی تھا ،نہ ہوگا۔ ہاں اسامہ کی اپنی دولت کے ذریعے افغان جہادی جدوجہد کے سبب وہ ملا عمر کے ہاں پسندیدہ ہوا۔ ورنہ فکری، ذہنی طور پر تو ملا عمر یا ان کے رفقاء اسامہ کے تلمیذ نہ تھے بلکہ وہ دیوبند مدرسہ جو اصلاً سیاسی فکر کا نام تھا اور دینی تعلیم اور روحانی تربیت کا بھی سیاسی امتزاج تھا ، ’’یہ‘‘ والے طالبان یا ’’وہ‘‘ والے طالبان اسی شجر طیبہ کا ثمر ہیں یعنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔ جہاں تک طالبان کی فقہی فکر میں شدت پسندی کی بات ہے تو اس سے ماضی میں بھی ہم نے شدید اختلاف لکھا تھا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آئندہ بھی پوری ایمانداری، اخلاص، حسن نیت کے ساتھ طالبان سے مذہبی فکر میں شدت پسندی سے اختلاف لکھا جائے گا اور لکھنے کا مقصد انہیں دو ٹوک غلط ثابت کرکے شرمندہ کرنا نہیں بلکہ ان کی مذہبی فقہی فکر میں ارتقاء، تبدیلی، اصلاح کی منزل طے کرانا ہوگا انشاء اللہ۔
طالبان آج امن کا استعارہ ہیں۔ وہ عفو و درگزر معافی کانام بن گئے ہیں۔ انہوں نے انتقام کا راستہ چھوڑ کر نئی سیاسی فکر دی ہے۔ د نیا کو اس طالبانی نئے سیاسی رویئے اور نئے سیاسی فکر کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کے نقائص، ان کی نااہلی، ان کی مالی پسماندگی کی باتیں کرنا جہالت ہے اور جہالت آج کی دنیا میں عہد قدیم سے کہیں زیادہ موجود ہے۔ اگر طالبان تعمیر افغانستان میں امریکی کردار کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں تو یہ ان کی اپنے عوام کی فلاح و بہبود، تعمیر و ترقی میں سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ وہ امریکی آلہ کار ہیں۔ اس بات کو؟
مجھ تک یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ موجودہ طالبان کا فتح کے نام پر ’’طلوع‘‘ امریکی سازش ہے۔ امریکی ہی خود  موجودہ طالبان کو قطر آفس کے ذریعے حکمرانی کے لئے افغانستان میں لے کر آئے ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے کہ قطر میں موجود طالبان کے سیاسی دفتر نے امریکہ اور دنیا سے مذاکرات کئے۔ وہ طالبان جن کا اقتدار دنیا میں خدا بنے امریکہ نے ختم کیا تھا، انہیں دہشت گرد قرار دیا تھا، انہی طالبان کے ساتھ قطر میں زلمے خلیل زاد امریکی نمائندے کے طور پر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہی کے ساتھ امارات اسلامی افغانستان کے ساتھ معاہدہ بھی لکھا اور  اس معاہدے پر امریکہ کے ساتھ انہی طالبان نے دستخط کئے۔ طالبان نے معاہدے میں لکھی ہوئی ہر بات کا لحاظ کیا اور پاس رکھا اور وعدہ و وفا کیا ہے اگرچہ یہ بات بوجھل لگتی ہے کہ موجودہ طالبان کی آمد، ان کا اقتدار امریکی منصوبہ بندی ہے، امریکی سازش ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو بھی طالبان نے ہی اپنا وجود تسلیم کروایا ہے۔ پہلے بندوق کے ذریعے وہ اپنا موقف، کردار تسلیم کروا رہے تھے اب کی بار انہوں نے مذاکرات کے ذریعے، سیاسی طور طریقوں کے ذریعے اپنا موقف، کردار تسلیم و تبدیل کروالیا ہے۔ یہ سازش سے زیادہ ذہانت، فطانت کی فتح اور شاطرانہ فتح  ہے۔ جنگ کو جناب رسول اکرم ﷺ نے ’’خدیۃ‘‘ (دھوکا) بتایا  ہے اور جنگ میں شاطرانہ چالیں چلنا جنگی حکمت عملی ہوتی ہے۔
یہ جو طالبان پر کچھ اہل فکر یہ بات وابستہ کررہے ہیں کہ وہ امریکی سازش میں ’’آلہ کار‘‘  بنالیے گئے ہیں۔ لہٰذا  ان کا اقتدار ’’خیر ‘‘ نہیں بلکہ امریکی پیدا کردہ مذہبی سیاست کی ’’شر‘‘ ہوگا۔ میں ادب سے کہتا ہوں یہی الزام تو شاہ عبد العزیز آل سعود پر بھی تھے کہ وہ فتح ریاض سے بہت پہلے (1916)  میں انگریوں سے رابطے میں تھے۔ وہ انگریزوں کو اپنے وجود، موقف، کردار سے متاثر اور آگاہ کررہے تھے۔ اگر شاہ عبد العزیز آل سعود کا ایسا کرنا درست اور درست حکمت عملی تھی تو طالبان کا مذاکرات کے ذریعے، معاہدے کے ذریعے، نیا ظہور بھی تو حکمت عملی ہی کہلاتا ہے۔ مذاکرات ہر جنگ کا آخری منظر ہوتا ہے۔ ہر جنگ فتح و شکست کی صورت میں مذاکرات کے ذریعے ہی ثمرات فتح و شکست کو ظاہر کیا کرتی ہے۔
جہاں تک طالبان کی موجودہ حکومت کا سوال ہے وہ شائد دنیا کی ناتما م توقعات اور کچھ ممالک کے مطالبوں کو تسلیم نہ کیے جانے کا نام ہے۔ مثلاً روس اور ایران تھوڑا سا اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ شائد ان کے مطالبے تشکیل حکومت میں نظر انداز کیے گئے ہیں لیکن طالبان نے تاجک، ازبک کو اقتدار میں جگہ دی ہے مگر یہ تاجک اور ازبک وہ ہیں جو خودماضی سے طالبان کا حصہ ہیں۔ بھلا طالبان ایسے افراد کو کیسے اقتدار میں جگہ دے دیں جو ماضی میں ان پر نازل ہونے والے ہر عذاب کا راستہ اور کردار تھے۔ طالبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالموں، غداروں ، ایجنٹوں کو یاد رکھیں اور ان کو اقتدار سے دور رکھیں۔
جہاں تک نجوم، روحانیات میزان کی بات ہے تو یہ نئی حکومت کافی کمزور ہے۔ مدوجزر سے گزرنا شائد ابھی اس کا مقدر اور نصیب ہے۔ پہلے وہ امریکہ اور نیٹو سے لڑتے ہوئے عہد ابتلاء اور عہد امتحان میںتھے اور اب وہ حکومت ملنے کے بعد کے عہد ابتلاء اور عہد امتحان میں ہیں۔ ریاست کوسنبھالنے، حکومت کرنے، عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دنیاوی اسباب، مال و دولت درکار ہے۔ یقینا طالبان کی موجودہ حکومت کو کافی زیادہ مشکلات درپیش رہیں گی مگر سوال ہے کہ کیا یہی مشکلات پاکستان کو درپیش نہیں؟ عمران خان کی حکومت آنے سے کیا نئے مسائل اور نئی مشکلات پیدا نہیں ہوئیں؟ چین کا سی پیک جس تیزی اور سرعت سے نواز شریف حکومت میں احسن اقبال بنوا رہے تھے وہ رفتار اور سپیڈ تو معدوم اور مفقود ہے اور جنرل عاصم باجوہ اپنی تمام تر پاکیزگیوں کے ساتھ رخصت ہوچکے ہیں۔ کیا پاکستان کی معیشت نواز شریف کے زمانے سے زیادہ بہتر حالت میں ہے؟ حکومتی طرز عمل اور طرز فکر یہ ہے کہ حکومتی وزراء الیکشن کمیشن کے ساتھ جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔




 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔