12:55 pm
 جنگ کی قیمت

 جنگ کی قیمت

12:55 pm

 امریکہ نے افغانستان میں 7 ہزار 300 دنوں پر مشتمل 20 سالہ جنگ میں 14کھرب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی پھر بھی یہ اخراجات امریکہ کو رسوا کن فرارسے نہ بچا سکے۔ اس رقم میں سے 7کھرب ڈالرز امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان ٹھیکیدار ہضم کر گئے۔برائون یونیورسٹی میں عالمی امور پر تحقیق کرنے والے واٹسن انسٹی چیوٹ کی تازہ ریسرچ کے مطابق امریکہ نے افغانستان میںیومیہ 29 کروڑ ڈالرز خرچ کئے پھر بھی امریکہ اور اس کے اتحادی یہاں سے دم دبا کر بھاگ گئے۔ نائن الیون کے بعد مسلط کردہ امریکی جنگوں میں 9لاکھ 29ہزار لوگ مارے گئے۔ ان جنگوں میں3لاکھ87ہزار شہری لقمہ اجل بنے۔ 3کروڑ80لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔ امریکہ اس وقت دنیا کے85ممالک میںانسداد دہشت گردی کی آڑ میں لشکر کشی کر رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے کئی بڑے اداروں نے برائون یونیورسٹی کی رپورٹ کو نمایاں جگہ دی ہے جس میں کہا گیا کہ اس رقم سے مختصر تعداد پر مشتمل نوجوان، انتہائی امیر افغانی بن گئے، ان میں سے بیشتر نے امریکی فوج کے مترجم کی حیثیت سے کام شروع کیا اور اور کروڑ پتی بن گئے۔
 سی این بی سی نے یونیورسٹی کے نتائج پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ کنٹریکٹرز کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی جس نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بالآخر اس کی نازک جمہوریت کو تباہ کر دیا۔ امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے کام کیا، پھر بھی طالبان کو ہر صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے، فوج کو تحلیل کرنے اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے میں صرف 9 دن لگے۔معروف صحافی انور اقبال کا کہنا ہے کہ پینٹاگون واچ ڈاگ سیگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں افغانستان میں دو مرتبہ امریکی سفیر ریان کروکر نے نائن الیون کے بعد کی کرپشن کو امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایاہے۔ امریکی کوششوں کی ناکامی کا واضح پہلو شورش نہیں بلکہ مقامی بدعنوانی کا وزن تھا۔کئی کروڑ پتی افغان باشندوں میں سے بیشتر نے امریکی فوج کے مترجم کے طور پر کام شروع کیا اور اپنی وفاداری کی وجہ سے وہ دفاعی معاہدوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے کمپنیاں قائم کیںجو امریکی اور نیٹو فوجی اڈوں کو سامان اور ایندھن فراہم کرتی تھیں۔بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی۔امریکی فوج اور دفاعی اہلکاروں نے خوب مال کمایا۔ کرپشن ہی سب سے بڑا مسئلہ تھی،اس بدعنوانی نے نہ صرف کاروبار پر منفی اثرات مرتب کئے بلکہ اس کا براہ راست تعلق عدم تحفظ سے بھی ہے۔2009 ء میں ایک افغان کمپنی نے امریکی محکمہ دفاع کو 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا بل دیا۔ 2007ء  اور 2012 ء کے درمیان ایک ٹرکنگ کمپنی نے امریکی حکومت کے معاہدوں سے 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر وصول کئے۔ امریکی محکمہ انصاف نے بھی تسلیم کیا کہ ا فغان کنٹریکٹرز امریکی فوجیوں اور افغان حکومت کے عہدیداروں کو معاہدوں کے عوض رشوت ادا کرتے رہے ہیں۔وہ پینٹاگون سے اپنے کام کی مد میں غیرمعمولی زائد وصولیاںکرتے رہے۔2014 ء میں نیدرلینڈز میں قائم سپریم گروپ نے دھوکا دہی کے الزامات کا اعتراف کیا اور 38 کروڑ 90 لاکھ ڈالر جرمانے اور ہرجانے کی ادائیگی پر رضامند ہو گیا جو کہ اس وقت دفاعی ٹھیکیدار پر عائد سب سے بڑی سزا میں سے ایک تھی۔شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا کہ افغانستان میں ٹھیکے تفویض کرنے کے عمل میں ہونے والی کرپشن اور دھوکا دہی کے بارے میں کچھ رپورٹ نہیں ہوتا۔
امریکی یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق اکتوبر2001ء سے اگست2021ء تک افغانستان میںایک لاکھ76ہزار، پاکستان میں67ہزار، عراق میںتین لاکھ چھ ہزار، شام میںدو لاکھ 66ہزار، یمن میںایک لاکھ12ہزار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امریکہ کی جنگیں امریکیوں کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوئیں۔ امریکی کمانڈوز، امریکی کنٹریکٹرز سمیت دیگر لوگوں نے ان کی بھاری قیمت چکائی۔ لاکھوں امریکی عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔ افغان جنگ میں امریکہ اپنے صرف 2ہزار324کمانڈوز اورایک ہزار ایک سوچوالیس نیٹو کمانڈوز کی ہلاکت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 
امریکی حکمرانوں نے اپنی انا اور دنیا پر بالادستی کی جنگ میں اپنے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور عوامی ٹیکس کے کھربوں ڈالر ضائع کر دیئے مگر انہیں رسوائی اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ امریکہ نے انڈیا اور اسرائیل کو بھی جنگی امداد کی ہے تا کہ وہ معصوم کشمیری اور فلسطینی عوام کا قتل کریں۔ امریکہ کی طرح انڈیا کو بھی جنگی حکمت عملی اور اسلحہ کی نوک پر عوام کو غلام بنانے کی پالیسی سے سوائے رسوائی اور تباہی کے کچھ حاسل نہ گا۔ انڈیا اور اسرائیل بھی ناجائز قبضے برقرار نہ رکھ سکیں گے اور ایک دن دم دبا کر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھیں گے۔ کشمیری اور فلسطینی عوام کی ثابت قدمی اور اتحاد انہیں ایسا کرنا پر مجبور کر دے گا۔ انڈیا اور اسرائیل بھی امریکہ کی طرح جنگی جنون کی بھاری قیمت چکائیں گے۔


 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔