12:33 pm
بلوچستان خوفناک زلزلہ، سینکڑوں جاں بحق و زخمی

بلوچستان خوفناک زلزلہ، سینکڑوں جاں بحق و زخمی

12:33 pm

٭بلوچستان میں زلزلہ، سینکڑوں مکانات گر گئے، جانی و مالی نقصان شدید زخمی ہسپتالوں میں، امدادی سرگرمیاں شروعO نیب اصلاحات، آرڈی ننس جاری، چیئرمین کا تقرر! مزید پیچیدگیاں، موجودہ چیئرمین کی توسیعO مرغی کا گوشت، لاہور 360، کوئٹہ 370، کراچی 440 روپے کلو تک!! پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن کی تیسری بار چھٹیO امریکی نائب وزیرخارجہ کی آمد، کوئی ٹیسٹ، چیکنگ، قرنطینہ نہیں!!O آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نئے ڈائریکٹر جنرل، بھارتی میڈیا کے جنرل ندیم کے خلاف تبصرے!!O لاہور۔ وکیل کی ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ، گرفتار، لائسنس معطلO سکھر! انکشاف، ہسپتالوں میں خاکروب پوسٹ مارٹم کرتے ہیں!O لاہور، میچوں کے دوران سڑکیں بند، پورے شہر میں ٹریفک جام، ہائی کورٹ کا سخت نوٹس!

٭1935ء کے بعد ایک بار پھر بلوچستان میں ہرنائی کے مقام پر خوفناک زلزلہ آیا، درجنوں مکانات گر گئے، سڑکیں ٹوٹ گئیں، پہاڑی تودے گرنے سے بہت سی سڑکیں بند ہو گئیں 5.9 شدت کے زلزلہ سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، ابتدائی طور پر 24 اموات اور 300 زخمیوں کی نشاندہی کی گئی مگر اصل نقصان زیادہ ہے۔ بہت سے علاقے دور دراز خشک پہاڑوں پر ہیں۔ جہاں فوری امداد پہنچائی جا رہی تھی۔ کالم کی اشاعت تک جانی و مالی نقصانات کی تفصیل آ چکی ہو گی۔ زلزلہ کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ سے ڈاکٹروں اور اسلام آباد سے فوجی میڈیکل دستے متاثرہ مقامات پر پہنچ گئے۔ فوج نے گری ہوئی عمارتوں سے زخمیوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا۔ کالم کی تحریر تک 24 افراد جاں بحق 300 سے زیادہ زخمی نکالے جا چکے تھے ان میں سے 9 شدید زخمیوں کو فوری طور پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کوئٹہ کے ہسپتال میں پہنچا دیا گیا جہاں بدقسمتی سے ڈاکٹر چار روز سے ہڑتال کئے ہوئے تھے۔ زلزلہ کا مرکز صرف 15 کلو میٹر نیچے تھا۔ اس مرکز کے ارد گرد 25 کلو میٹر تک وسیع علاقہ میں تباہی پھیلی ہے۔ ضلع ہرنائی کا یہ بہت پسماندہ علاقہ ہے، بیشتر مکانات کچے ہیں جو زلزلہ کی پہلی جُنبش سے گر گئے، سینکڑوں مکانات کی حالت خراب ہو گئی ہے، ان کے مکینوں کو خیموں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پورے علاقے میں تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں۔
٭بلوچستان میں 31 مئی 1935ء کو شدید زلزلہ میں کوئٹہ کا پورا شہر ملبہ کا ڈھیر بن گیا تھا۔ ان دنوں ٹرینوں اور بسوں وغیرہ کی اتنی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ اس زلزلہ سے تقریباً 50 ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ 1937ء میں ایک قانون کے ذریعے قرار دیا گیا کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں30 فٹ سے زیادہ بلند عمارت تعمیر نہیں ہو سکے گی۔ ہرعمارت میں لکڑی اور ٹین کی چھتیں لگیں گی۔ اس حکم پر کچھ عرصہ عمل ہوا مگر پھر بلند عمارتیں بننے لگیں۔ دو سال قبل بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک شہری نے عدالت کی توجہ ان عمارتوں کی طرف دلائی۔ عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ کوئٹہ شہر میں تقریباً 300 خلاف قانون بلند عمارتیں بن چکی ہیں مگر ان کی روک تھام کے لئے کوئی اتھارٹی موجود نہیں۔ ہائی کورٹ کے حکم پر کوئٹہ کارپوریشن نے 250 عمارتوں کے مالکان کو نوٹس بھیجے، ان کا کوئی اثر نہ ہوا۔ متعدد عمارتیں پتھریلی اور صوبے کے قبائلی سرداروں اور وڈیروں کی ہیں، ان کے سامنے میونسپل کارپوریشن بے بس ہو گئی۔ کوئٹہ کے میئر ڈاکٹر کلیم اللہ اور ڈپٹی میئر یونس بلوچ کے مطابق کارپوریشن اس معاملہ میں کچھ نہیں کر سکتی! انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خدانخواستہ کوئی نیا زلزلہ آیا تو کوئٹہ شہر کو ماضی کے مقابلہ میںکہیں زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
٭ستم اورظلم کی حالت کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں کے ڈاکٹر پانچ روز سے ہڑتال پر تھے۔ دوسری طرف ان ہسپتالوں میں مسلسل بجلی بند تھی اور فوج کے ڈاکٹر اندھیرے میں زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بے تحاشا مراعات اور سہولتوں کے باوجود نوجوان ڈاکٹروں نے ہرایک دو ماہ کے بعد ہڑتالوں کا مشغلہ اختیارکر رکھا ہے۔ ملک کے اہم ترین شعبوں میں مسلح افواج کے بعد ڈاکٹروں کا نام آتا ہے۔ فوجی ہسپتالوں میں ڈاکٹر کبھی ہڑتال نہیں کرتے وہاں بہت سخت ضابطے ہیں۔
٭بالآخر نیب میں اصلاحات کا آرڈی ننس آ گیا۔ کچھ تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ اب وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر براہ راست نیب کے چیئرمین کی تقرری کا مسئلہ حل نہیں کریں گے، بلکہ صدر مملکت ان دونوں میں مشاورت کرائیں گے۔ صدارتی آرڈی ننس کی 13 دفعات ہیں ان کی مزید تقریباً 70 سے زیادہ ذیلی شقیں ہیں۔ ان میں نئی احتساب عدالتوں وغیرہ کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم دفعہ پانچ کی سات شقیں ہیں۔ان میں بڑی ہوشیاری سے نئے چیئرمین کے تقرر کی بجائے موجودہ چیئرمین کو غیر معینہ عرصے تک برقرار رکھنے کا طریقہ وضع کر دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے الفاظ پڑھئے پھر اس کی تشریح:۔
آرڈی ننس دفعہ 5 (ب)1999ء کے آرڈی ننس کی دفعہ کے سیکشن 6 میں اس طرح تبدیلی کی جائے گی کہ (1) بیورو کا ایک چیئرمین ہو گا جسے صدر قومی اسمبلی میں ایوان کے قائد اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے مقرر کریں گے، (2) چیئرمین کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے تجویز کردہ نام بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ ایک شق کہ نئے چیئرمین کے تقرر تک موجودہ چیئرمین کام کرتا رہے گا۔
٭یہاں چالاکی دیکھئے: 1999ء کے آرڈی ننس میں درج تھا کہ چیئرمین کی چار سال کی مدت میں توسیع نہیں ہو گی۔ موجودہ آرڈی ننس میں توسیع دے دی گئی ہے مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ توسیع کتنی مدت تک محدود ہو گی۔ فرض کریں وزیراعظم موجودہ اپوزیشن لیڈر کو اپنی طرف سے کوئی نام ہی نہیں بھیجتا یا وہ اور اپوزیشن لیڈر ایک دوسرے کے نام مسترد کرتے چلے جاتے ہیں تو یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ فرض کریں کہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کے جواب پرمزید کوئی کارروائی نہیں کرتا اور خاموش رہ کر یہ کہتے ہوئے طویل وقت گزار دیتا ہے کہ اس معاملہ پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ غور چار سال تک بھی مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں ہی طویل وقت گزار دیا جائے تو پھرکیا بنے گا؟ آرڈی ننس میں کسی ایسی مدت اور پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ وزیراطلاعات فواد چودھری کا پھر بیان آیا ہے کہ عمران خان موجودہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بات نہیں کرنا چاہتے! گویا یہ یقین کر لیا گیا ہے کہ شہباز شریف کو کسی ’’خاص‘‘ طریقے سے اپوزیشن لیڈر کے منصب سے فارغ کئے جانے کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ یہ ’خاص‘ طریقہ کیا ہو سکتا ہے، قارئین خود سمجھ دار ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف ابھی تک کسی قسم کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ ان کی موجودہ حیثیت محض ایک ملزم کی ہے جس طرح غیر ملکی فنڈز کیس اور شہباز شریف کے ہتک عزت کیس میں خود عمران خان کوملزم کہا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں شہباز شریف سے مذاکرات سے انکار نہیں ہو سکتا مگر فواد چودھری کے مسلسل بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حکومت کو شہباز شریف کو سزا وغیرہ کے ذریعے ہٹائے جانے کا کوئی ’خفیہ‘ یقین ہو گیا ہے!!۔ اس تجزیہ کا منطقی نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ نیب کے موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی رسمی توسیع کے بغیر مزید چار سال بھی کام  کر سکتے ہیں بلکہ کرتے رہیں گے!! عمران خان کوئی سخت فیصلہ کر لیں تو صدر مملکت کیا کر لیں گے؟ اس ملک میں صرف دو واقعات ملتے ہیں جن میں کسی وزیراعظم نے اپنے کسی رکن کو صدر مقرر کیا ہے اور اس نے صدر بن کر اپنے ہی باس وزیراعظم کو برطرف کر دیا ہو۔ ایک واقعہ ابتدائی دور کا کہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے وزیرخزانہ غلام محمد کو صدر بنایا اس نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا۔ دوسرا واقعہ 1990ء کے عشرہ میں! بے نظیر بھٹو نے اپنے ’’چہیتے خادم اوّل‘‘ سردار فاروق لغاری کو صدر بنایا اس نے بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم کے عہدہ سے فارغ کر دیا!! یہ باتیں اب محض تاریخ کے اوراق میں ملتی ہیں۔ 

تازہ ترین خبریں

 فروری 2024قومی بچت بینک نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کے لیے منافع کی شرح کا اعلان کردیا گیا

 فروری 2024قومی بچت بینک نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کے لیے منافع کی شرح کا اعلان کردیا گیا

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون  وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ  کا  واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کا واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد