01:00 pm
بدکرداری ،بے حیائی اور ڈھٹائی

بدکرداری ،بے حیائی اور ڈھٹائی

01:00 pm

 اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لئے قائم گیا تھا کہ یہاں مسلمان دین اسلام کے آفاقی قوانین کے عین مطابق اپنی زندگیاں بسر کرسکیں۔ انصاف کا بول بالا ہوگا ۔ چوروں، لوٹ مار کرنے والوں اور قاتلوں کو سزا مل سکے گی ،مظلوم کی دادرسی ہوگی۔ مجرموں کو سزا مل جانے کے بعد معاشرے میں امن وسکون ہوگا۔لیکن قیام پاکستان کے بعد انگریز کے نمک خواروں اور بے ایمان لوگوں نے جعلی کلیموں ،کے ذریعے اس ریاست کو لوٹنے کا آغاز کردیا ۔ بعد میں اقربا پروری کا دور شروع ہوا۔ پاکستان کے انتخابات میں ذات پات ،برادری ازم، علاقائی تعصب کو فروغ ملا ،جس پر اس وقت کے مشہور صحافی زید اے سلہری نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا ، ’’  اس ملک میں ایک قوم کی تکمیل کی بجائے تعصب کو فروغ دیا گیا اور میرے پنجابیو، میرے سندھیو، بلوچیو، اور پٹھانو کے نعرے لگائے گئے۔ انتخابات کے دوران ذات برادری اور قبیلے کے ووٹ کے نام پر تفریق کا زہریلا بیج بویا گیا ۔جو آج ایک ناسور بن چکا ہے ۔ 
سیاستدانوں کے بوئے ہوئے اسی تفریق اورنفرت کے بیج نے مشرقی پاکستان کو ہم سے علیحدہ کیا ۔انہیں کم تر سمجھا گیا ، ضلع چٹاگانگ سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر اسمبلی اجلاس کے دوران اٹھتے اور ایک سوال کرتے فلاںمنسٹری میں کتنے بنگالی ہیں ؟ جو اب ملتا اتنے( یعنی آبادی کے تناسب سے نہ ہونے کے برابر یا بالکل نہیں) وہ بغیر کوئی بحث کئے خاموشی سے بیٹھ جاتے ۔ لیکن اس وقت کے اخبارات خاص طور پر مشرقی پاکستان کے بنگالی اور بھارتی زیر اثر اخبارات اس پر طویل بحث کرتے ،حقیقت یہ ہے ایک مخصوص سیاسی  طبقے نے جو انگریز کے زیر اثر تھا ، یااس کا ٹوڈی سمجھا جاتا تھا ،نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے بنگالی بھائیوں کو ہمیشہ حکومت اور اداروں میں ان کے حصے سے محروم رکھا ۔
مغربی پاکستان کے سیاستدانوں نے 1970ء کے انتخابات میں بدترین شکست کے باوجود جبکہ شیخ مجیب الرحمان بھاری اکثریت سے جیت چکا تھا ، اسے اقتدار دینے کی بجائے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا۔  جس کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان نے اُٹھایا،اور علیحدگی پسندوں کی مدد کرکے بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں داخل کردیں ،انجام دنیا نے دیکھ لیا ۔یہ سب اقتدار کی خاطر ہوا ،اس وقت کی سب سے بڑی غلطی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا ،  اگر تلہ سازش کے کرداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے ،تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود معاف کردینا ہے ۔یہ یقین کیاجاتا ہے کہ اگر اس وقت سیاسی مصلحتوں کی خاطر مجرموں کو نہ چھوڑا جاتا اور انجام تک پہنچایا جاتا، تو نتائج بالکل مختلف ہوتے ۔ مصلحتوں نے پاکستان کو ناقابل یقین نقصان پہنچایا ہے ،اور پہنچارہی ہیں ۔یہاں ڈان لیکس کے کرداروں کو یہ کہہ کر معاف کردیا گیا کہ ، بیٹی ہے چھوڑیں ، آج اس کا کردار پوری قوم دیکھ رہی ہے ۔
یہاں جسٹس منیر ،جسٹس مولوی مشتاق، افتخار ، ناصر اور قیوم اور ان کے جانشینوں کا کردار پوری پاکستانی قوم کے سامنے ہے لیکن وہ ڈھٹائی سے دندناتے پھر رہے ہیں انہیں قانون سے بالاتر قراردیا جاچکا ہے وہ کسی بھی ادارے کو جواب دہ نہیں برادرز نے معاف کردیا لیکن رب العزت کے سامنے بھی پیش ہونا ہے ۔ یہاں انتخابات میں  ایک ثابت شدہ مجرم نے حکم امتناع کی آڑ میںپانچ سال تک حکومت کی اور اب انتہائی ڈھٹائی سے خود کو عالمی صادق اور امین گردان رہا ہے ۔ 
یہاں ایک سزایافتہ مجرم کے ڈرامے پراس کی تین دن کی زندگی کی ضمانت مانگی گئی ،پراسیکیوٹر نے مقدمے کے مطابق سات ارب روپے کی ضمانت مانگی، تو عدلیہ نے اس کی درخواست رد کرتے ہوئے پچاس روپے کے اشٹام پر اسے بیرون ملک جانے دیا  اور وہ جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہی تندرست  ہوگیااور جس بھائی نے ضمانت دی وہ بھی اپنی ضمانت کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے  اور ڈھٹائی سے علاج کا بہانا بنا رہا ہے ۔
  پاکستان کے سیاستدانوں نے اپنی انا کی خاطر ریاست پاکستان کی عزت کو دائوپر لگارکھا ہے ۔ یہاں جس سے بھی آمدن کے ذرائع پوچھے جاتے ہیں وہ خواہ کسی بھی عہدے پر ہے اپنی بددیانتی ،کرپشن اورلوٹ مار بچانے کے لئے کروڑوں کے وکیل کرکے تاخیری حربے اختیار کرتے ہوئے اپنے سہولت کاروں کے ذریعے باعزت بری ہوجاتا ہے جس طر ح مشرف دور میں سزایافتہ نواز شریف کو عدالت نے تمام تر قانونی رکاوٹوں اور پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کمال شفقت سے سہولت دے کر بری کردیا ۔اب بھی ان کے سہولت کار موجود ہیں جن کے نام لے کر سیاسی جلسوں میں ان کی حمائت کی جاتی ہے  انہیں کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ 
پاکستان کا میڈیا جعلی اور جھوٹی خبروں پر سزا کے خلاف بننے والے قانون کو اظہار رائے پر پابندی اور سیٹھوں کے مفادات کے خلاف قرار دے کر زبردست مہم چلارہا ہے یہ کالا قانون ہے وغیرہ وغیرہ ، لیکن اپنے مفادات کی خاطر ایسے بدکردار لوگوں کو تجزیہ کار کے روپ میں بھرپور کوریج دے رہا ہے جن میں کوئی رات کو تین بجے فیصل آباد میں ممبر اسمبلی خاتون کے بھائیوں سے پٹائی کے بعد زخمی ہوکر مفرور ہوجاتا ہے ۔لیکن بعد میں میڈیا اس کی بدکرداری کو کمال شفقت سے نظر انداز کرکے عزت افزائی کرتے ہوئے پوری قوم کی اخلاقیات کے منہ پر تھپر مارتے ہوئے اس کے نظریات قوم کو سنارہا ہوتا ہے۔
 ایک ایسا شخص جس کی بدکرداری کی وڈیو پورے پاکستان کے علاوہ بھارتی اور عالمی سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس کے حمائتی اور میرا جسم میری مرضی کے حمایتی انتہائی بے ضمیری سے کہتے ہیں کہ  ’’ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے زنا کرے تو اسے کوئی بھی نہیں پوچھ سکتا نہ اس کی کوئی سزا ہے ‘‘ اور پھر پاکستانی میڈیا کا خاص چینل جو ایک سیاسی جماعت کا ذاتی غلام سمجھا جاتا ہے وہ اسے تجزیہ کار اور ترجمان کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرکے اس کے خیالات سے مستفید کرتا ہے ۔ وہ میڈیا ہائوس عملی طور پر یہ اعلان کررہا ہے کہ کون سی اخلاقیات،کون سا قانون ،کون ساکردار ،یہ سب دقیانوسی باتیںہیں ۔ہم تو ایسے ہی لوگوں کو عزت دیتے ہیں جو عزت کے قابل نہ ہوں ۔لیکن ہمارے مفادات کے لئے فائد ہ  مند ہے   اور یہ لوگ اپنی بدکرداری کے باوجود انتہائی ڈھٹائی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون ،عوام اور ذمہ داران کو عملی طور پر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ، ہم نے ملک دوٹکڑے کردیا ، ہم نے ڈان لیکس کردیا،ہم نے اس ریاست کے اربوں ڈالر لوٹے اور انہی لوٹے ہوئے پیسوں کے گھر وں میںپوری دنیا کے سامنے عیاشی کررہے ہیں ۔ ہمارا کردار،  ہماری بیہودگی اور بدکرداری کی وڈیو قوم نے دیکھی لیکن ہم وہ ہیں جنہیں نہ قانون نہ کوئی ادارہ اپنی گرفت میں لے سکتا ہے کیونکہ ہم خریدار ہیں ،ہم تمام قوانین اور اداروں سے بالاتر ہیں ،یہ چیزیںتو پاکستان کے عوام کے لئے ہیں جو محض 100روپے کی چوری پر گرفت میں آجاتے ہیں ، یہ ہم ہیں جنہیں کوئی پوچھ نہیںسکتا ،ہمارا نعرہ ہے ،روک سکوتو روک لو...!؟اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اپنے دین اسلام کے نام پر بننے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین 

تازہ ترین خبریں

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون  وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ  کا  واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کا واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں