01:03 pm
 بہت ہی کٹھن ڈگرپنگھٹ کی

بہت ہی کٹھن ڈگرپنگھٹ کی

01:03 pm

ہلاکوخان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پراس کی نظرپڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟جواب آیا:ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ اس نے عالم کواپنے سامنے پیش ہونے کاحکم دیا۔عالم کوتاتاری شہزادی کے سامنے حاضرکیاگیا۔شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پرایمان نہیں رکھتے؟عالم نے جواب میں کہاکہ یقیناہم ایمان رکھتے ہیں۔شہزادی نے کہاکہ کیاتمہاراایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتاہے؟عالم نے کہاکہ یقیناہمارااس پرایمان ہے۔جواب میں شہزادی نے عالم سے پوچھاتوکیااللہ نے آج ہمیں تم لوگوں پرغالب نہیں کردیاہے،توکیایہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ ہمیں تم سے زیادہ
چاہتا ہے؟ عالم نے نفی میں سرہلاکرشہزادی کومخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’تم نے کبھی چرواہے کودیکھاہے؟اس نے ریوڑکے پیچھے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟اگرکچھ بھیڑیں چرواہے کوچھوڑکوکسی دوسری طرف نکل کھڑی ہوں اورچرواہے کی سن کر واپس آنے کوتیارہی نہ ہوں،تو چرواہا ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتاہے تاکہ وہ ان کوواپس اس کی کمان میں لے آئیں؟ وہ کتے تب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جب تک وہ چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں اللہ کے چھوڑے ہوئے کتے ہوجب تک ہم اللہ کے در سے بھاگے رہیں گے اوراس کی اطاعت اوراس کے منہج پرنہیں آجائیں گے،تب تک اللہ تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اورہماری گردنوں پرمسلط رکھے گاجب ہم اللہ کے درپرواپس آ جائیں گے اس دن تمہاراکام ختم ہوجائے گا۔سوچئے،آج پھروہی حال ہے،آج کتے ہم پرمسلط ہیں۔یہودیوں عیسائیوں اورلبرل کی صورت میں،جوہمیں دن رات کاٹ رہے ہیں ۔
اس وقت دنیابھرمیں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلاامت مسلمہ ہے جس پرچاروں طرف سے ابتلا کی بارش کردی گئی ہے لیکن ہمارے تمام دشمن نہ صرف اکٹھے مل کرمسلمانوں کو نیست ونابودکرنے کی عملی سازشوں میں شریک ہیں بلکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کادشمن بنانے میں انہوں نے کوئی کسرنہیں چھوڑی اورہم ایک دوسرے کاگلہ کاٹنے میں مصروف ہیں ۔ یوں تو اس وقت امت مسلمہ کئی مسائل سے دوچارہے لیکن کشمیراور فلسطین دوایسی بڑی مقتل گاہیں بن چکی ہیں جہاں پچھلی سات دہائیوں سے انسانیت مسلسل چیخ وپکارکررہی ہے لیکن خودکومہذب کہلانے والی قومیں نہ صرف بہرے اورگونگے شیطان کاکردارادا کررہی ہیں بلکہ اس ظلم وستم میں برابرکے شریک ہیں۔امریکہ توافغانستان میں ہزیمت کے بعد پھن پھلائے پاکستان کوڈسنے کی تمام تدابیرپر عملدرآمدکے لئے  ننگی دھمکیوں پراترآیاہے۔   
کشمیریوں اورفلسطینیوں پر قیامت ابھی تھمی نہیں لیکن صدافسوس کہ یہاں ہماری  مسلم حکومتوں کی محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ دنیامیں سب سے بڑے ثقافتی میلے میں ناچ گانے پر تفاخر محسوس کررہے ہیں۔یہ ہمیں کیاہوگیا ہے ؟ بستی میں ایسی بے حسی توکبھی نہ تھی۔درست کہ ہم آج کمزورہیں اوران کی عملی مددسے قاصرہیں لیکن ہم اتناتوکرہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح  سنبھال کررکھیں اورنسلوں کووراثت میں دے جائیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔وقت کاموسم بدل بھی توسکتا ہے۔ ہم اتناتوکرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کوتازہ رکھیں۔ان سے رستے لہوکو جمنے نہ دیں۔ بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسندمسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ہمارا ادیب دائیں اوربائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہوکریہ امانت نسلوں تک پہنچارہا تھا۔ اقبال، قدرت اللہ شہاب،فیض،شورش کاشمیری، انتظار حسین، حبیب جالب،احمدندیم قاسمی،ابن انشا، احمد فراز، رئیس امروہوی،ن م راشد، مستنصرحسین تارڑ ،قر اۃ العین حیدر، مظہر الاسلام، ادا جعفری، یوسف ظفر، منظورعارف، ضمیر جعفری،  خاطر غزنوی، محمودشام، نذیرقیصر، شورش ملک، سلطان رشک، طاہرحنفی،بلقیس محمود۔، میرے ملک کے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اورنظموں میں اس دکھ کوآئندہ نسلوں کے لئے  امانت کے طورپر محفوظ کردیا۔ یہ مگرگزرے دنوں کی بات ہے،دکھ تویہ ہے کہ ہم نے توآج ان ناموں کوہی فراموش کردیااورہمارے قلمکاریاتوحکومت کے گن گانے میں مصروف ہیں یاان تک رسائی کے بہانے ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔
فلسطین سے دھواں اٹھاتومستنصرحسین تارڑکا قلم نوحے لکھنے بیٹھ گیامگرآج باقی ادیب کیاہوئے؟ قلم ٹوٹ گئے،سیاہی خشک ہوگئی یااحساس نے دم توڑدیا؟برسوں پہلے انتظارحسین کے افسانہ شرم الحرم کے کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازوہیں۔ ’’بیت المقدس میں کون ہے؟ بیت المقدس میں تو میں ہوں،سب ہیں،کوئی نہیں ہے۔بچے کمہارکے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے،کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانندلرزتی ہیں۔ان کی پوشاکیں لیرلیر ہیں۔بال کھلے ہیں۔انہیں توآفتاب نے بھی کھلے سرنہیں دیکھاتھا۔عرب کے بہادربیٹے بلندو بالا کھجوروں کی مانندمیدانوں میں پڑے ہیں۔ صحرا کی  ہواؤں نے ان پر بین کیے‘‘۔
انتظار حسین ہی کے افسانے ’’کانے دجال‘‘ کومیں نے کتنی ہی بارپڑھا۔یہ پیراگراف ہردفعہ خون رلاتاہے۔’’پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔انہوں نے سروتا تھالی میں رکھااورآنچل سے آنسوپونچھنے لگیں۔اباجان کی آوازبھرآئی تھی مگرضبط کرگئے۔اپنے پروقار لہجے میں شروع ہو گئے: آنحضورﷺ دریاؤں، پہاڑوں،صحراؤںسے گزرتے چلے گئے۔مسجد اقصیٰ  میں جاکرقیام کیا۔حضرت جبریل ؑ نے عرض کیا: حضورﷺ تشریف لے چلئے، آپﷺ نے پوچھا کہاں؟ بولے کہ حضورﷺزمین کا سفرتمام ہوا۔یہ منزل آخر تھی۔ اب عالم بالاکاسفردرپیش ہے۔ تب حضورﷺ بلندہوئے اوربلند ہوتے چلے گئے.. ورفعنا لک ذِکرک۔۔۔ اباجان کاسرجھک گیا۔ پھر انہوں نے ٹھنڈاسانس بھرا۔ بولے جہاں ہمارے حضورﷺ  بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔


چلئے ایک اورکہانی سن لیں،جس کاعنوان ہے’’آب حیات‘‘شائداس میں ہمیں مطلوبہ جواب مل جائے:مریدنے مرشدکواچھے موڈمیں دیکھاتوباادب ہوکرگویاہوا میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق توکچھ بتائیے،کیااسی کوآبِ حیات کہتے ہیں؟اور اس پانی کاچشمہ پھوٹتاکہاں سے ہے؟ مرشدنے گہری نظرسے مریدکی طرف دیکھااورسوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزرگئی تومریدکویوں لگاجیسے اس نے اپنے مرشد کوناراض کردیا ہے۔وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا: حضرت جی اگرمیرے سوال سے آپ کوکوفت ہوئی ہے تو میں معافی کاطلبگارہوں۔
ایک لمبی ہوکے بعدمرشدنرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تونہیں ہوا مگر فکرمند ضرور ہوں۔ میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا توہمارے درمیان12سال کی طویل جدائی پڑ گئی، میں سوچ یہ رہاتھاکہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کرسکوں گابھی یانہیں،اس دوران اگرمیری اجل آگئی توکہیں تمہاری محنت ضائع نہ ہوجائے بیٹا،یہ عرقِ حیات یاآبِ حیات یہ الفاط میں نہیں سمجھایاجاسکتا!اس لئے میرا مرشد توآب حیات کے چشمے کے کنارے کھڑاکرکے اس میں انگلی ڈبوکردکھایاکرتاتھاکہ یہ ہے عرقِ حیات۔میں نے یہ سوال اپنے مرشدسے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا۔ تم نے بہت دیرکردی ہے خیراللہ بہترکرے گا۔ (جاری ہے)

چلئے ایک اورکہانی سن لیں،جس کاعنوان ہے’’آب حیات‘‘شائداس میں ہمیں مطلوبہ جواب مل جائے:مریدنے مرشدکواچھے موڈمیں دیکھاتوباادب ہوکرگویاہوا میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق توکچھ بتائیے،کیااسی کوآبِ حیات کہتے ہیں؟اور اس پانی کاچشمہ پھوٹتاکہاں سے ہے؟ مرشدنے گہری نظرسے مریدکی طرف دیکھااورسوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزرگئی تومریدکویوں لگاجیسے اس نے اپنے مرشد کوناراض کردیا ہے۔وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا: حضرت جی اگرمیرے سوال سے آپ کوکوفت ہوئی ہے تو میں معافی کاطلبگارہوں۔
ایک لمبی ہوکے بعدمرشدنرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تونہیں ہوا مگر فکرمند ضرور ہوں۔ میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا توہمارے درمیان12سال کی طویل جدائی پڑ گئی، میں سوچ یہ رہاتھاکہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کرسکوں گابھی یانہیں،اس دوران اگرمیری اجل آگئی توکہیں تمہاری محنت ضائع نہ ہوجائے بیٹا،یہ عرقِ حیات یاآبِ حیات یہ الفاط میں نہیں سمجھایاجاسکتا!اس لئے میرا مرشد توآب حیات کے چشمے کے کنارے کھڑاکرکے اس میں انگلی ڈبوکردکھایاکرتاتھاکہ یہ ہے عرقِ حیات۔میں نے یہ سوال اپنے مرشدسے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا۔ تم نے بہت دیرکردی ہے خیراللہ بہترکرے گا۔ 
میں تمہیں ایک پودادکھاتاہوں،اس پودے کے پھول کاعرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرناہے اور جب یہ شیشی بھرجائے تب میرے پاس واپس آنا،یہ عرق ہی ہماری آنکھوں میں عرقِ حیات کودیکھنے کی صلاحیت پیداکرے گا، یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ہے اوراگرشیشی فوراً بندنہ کروتوفوراً اڑبھی جاتا ہے   اور یہ پوداجنگل میں کہیں کہیں ملتا ہے۔ اس کے بعدمرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مریدکو پکڑائی اوراسے ڈھیرساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا!
مریدبہت پرجوش تھا،آبِ حیات کامعمہ بس حل ہونے کوتھااوراسے آبِ حیات کودیکھنے اورچھونے کاموقع ملے گا۔مگرایک تواس پودے کو ڈھونڈناایک جوکھم تھا،ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اورایک پھول میں ایک قطرہ،الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں،جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئی زندگی کی نویدتھا،ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رہا تھا تو دوسری طرف اسے بار باریہ خیال ستا رہا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کوپیارے ہوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات کاچشمہ توصرف مرشدکوہی پتہ تھا!وہ خیالات   میں غلطاں وپیچاں کبھی چلتاتوکبھی دوڑتااپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا۔مرشدکے ڈیرے  پہ نظرپڑتے ہی بیتابی میں دورسے چلایا: مرشد، میرے مرشد،دیکھ میں اپنی تپسیامیں کامیاب رہا،میں بوتل بھرلایاہوں۔اس کی آواز پر مرشد  اپنے کٹیاسے باہرنکلا،بارہ سالوں نے اس کی کمردھری کردی تھی مگروہ بھی مرید کی کامیابی پرخوش نظرآرہاتھا ۔
اپنے مرشدپرنظرپڑناتھی کہ مریدبے اختیار دوڑ پڑااور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پرقدم کاسٹکناتھا کہ مریدلڑکھڑایا اور عرق  سے بھری شیشی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھرپرلگی اور چورا چورا ہوگئی،عرق کے کچھ چھینٹے مرشدکے پاں پر پڑے باقی کوجھٹ زمین نگل گئی۔بے اختیار مریدکی چیخ نکل گئی ’’میرے مرشدمیں لٹ گیا، میں برباد ہوگیا، میری محنت ضائع ہوگئی، میری بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئی،میرے مرشد میں تباہ    ہوگیا‘‘۔ مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا، ایک اور  چھوٹی سی شیشی لایاجس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسوبھرناشروع کردیئے اور وہ شیشی بھر لی!
اب مریدرورہاتھاتومرشدہنس رہاتھا میرے  مرشدمیری زندگی بربادہوگئی اورآپ مسکرا رہے ہیں؟مریدنے تعجب سے پوچھا، مرشد اسے  اندرلے گیا اوربکری کے دودھ کاپیالہ پینے کو دیا۔ پھراس نے اس چھوٹی شیشی کوکھولاجس میں مریدکے آنسوبھرے ہوئے تھے اوراپنی انگلی کو ان سے گیلاکر کے کہاکہ’’یہ ہے عرقِ حیات یاآبِ حیات،یا مقصدِحیات ‘‘ اور پھرآنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کوچھوکرکہایہ ہیں آبِ حیات کے چشمے!یادرکھو !اللہ نے انسان کوان آنسوؤں کیلئے پیداکیاہے،ان میں ہی زندگی چھپی ہوئی ہے،کچھ اس کی محبت میں زاروقطارروتے ہیں  جیسے انبیا،اورکچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذراسی غلطی سے گرتے اورٹوٹتے اوراپنی محنتیں  ضائع ہوتے دیکھتے ہیں توتیری طرح بلبلاتے ہیں۔جس طرح پانی نکلنے اورنکالنے کے مختلف طریقے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کاسامان کیا گیا ہے۔ یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ہیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی،آسمان والوں کے مٹکے ہر دم  بھرے رہتے ہیں،وہاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں  رکھے گئے،ان کے رونے میں تسبیح ہے،پچھتاوہ نہیں ہے۔  
(جاری ہے)
ہمیں اسی مقصد سے بنایاگیاہے،پھراس دنیاکے ٹیڑھے میڑھے رستوں پرہاتھ میں تقوے کی بوتل دے کردوڑایاجاتاہے،اورجب ذراسی بے احتیاطی سے تقوے کی وہ سالوں کی محنت کسی گناہ میں ڈوب جاتی ہے اورہم پچھتاتے ہیں اور زارو قطار روتے ہیں تواللہ فرشتوں کواسی طرح ہمارے آنسو سمیٹنے پرلگادیتاہے جس طرح آج میں نے تیرے آنسو شیشی میں جمع کئے ہیں۔یہ وہ پانی ہے جس سے جہنم کی آگ بھی ڈرتی ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے حشرکانقشہ کھینچاہے کہ جہنم کی آگ فرشتوں کے قابومیں نہیں آرہی ہوگی اور میدانِ حشرمیں باغیوں کی طرف پھنکاریں مارتی ہوئی لپکے گی،فرشتے اپنی بے بسی کااظہارکریں گے تو اللہ جبرئیل سے فرمائیں گے کہ وہ پانی لا،اور پھرجبرئیل اس پانی کے چھنٹے مارتے جائیں گے اور آگ پیچھے سمٹتی جائے گی یہاں تک کہ اپنی حدمیں چلی جائے گی،صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ وہ کو ن ساپانی ہوگا؟آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے شوق میں اللہ کے خوف سے رونے والوں کے آنسوہوں گے جواللہ نے آگ پرحرام کررکھے ہیں،یہی وہ روناہے جو امیر خسرو روتے ہیں کہ:
بہت ہی کٹھن ڈگرپنگھٹ کی
کیسے بھر لاؤں میں جھٹ پٹ مٹکی؟
یہی وہ آبِ حیات ہے جس کی بشارت انسان کودی گئی ہے کہ اس کے چشمے اس کی اپنی ذات کے اندر ہیں۔ 
اے تن تیرارب سچے داحجرہ،پااندرول جھاتی ہو
نہ کرمنت خواج خضردی،تیرے اندرآب حیاتی ہو
اسی کی طرف میاں محمد بخش صاحب اشارہ کرتے ہیں:
سب سیاں رل پانی چلیاں تے کوئی کوئی مڑسی بھرکے
جنہاں بھریا،بھرسرتے دھریا،قدم رکھن جرجرکے
یعنی تمام روحیں اصل میں ان سہیلیوں کی طرح ہیں جوکنوئیں سے آبِ حیات بھرنے جاتی ہیں مگران میں سے کوئی کوئی بھرکرواپس آئے گی  بہت ساریوں کے گھڑے رستے میں ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جوبھرکرسرپررکھ لیتی ہیں ان کے قدم رکھنے کااندازبتاتاہے کہ ان کا گھڑا بھرا ہوا ہے! وہ  بہت ٹھہرٹھہرکر قدم رکھتی ہیں۔
یہ مضمون اللہ نے سورہ الفرقان میں اپنے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے: رحمان کے بعض بندے زمین پربہت تھم تھم کر قدم   رکھتے ہیں یعنی پروقارچال چلتے ہیں ان کی چال بتاتی ہے کہ گھڑابھراہواہے!میاں صاحب دوسری   جگہ فرماتے ہیں!
لوئے لوئے بھرلے کڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا
شام پئی بِن شام محمد گھرجاندی نے ڈرنا
یہ بھرے گھڑے تڑوانے والوں کاذکراللہ پاک نے قرآن حکیم سورہ التغابن میں بھی باربارکہاہے:اے ایمان والوتمہاری کچھ بیبیاں اوربچے تمہارے دشمن ہیں توان سے احتیاط رکھو اوراگر معاف کرواوردرگزرکرواوربخش دوتوبیشک اللہ بخشنے والامہربان ہے۔ 
اکھیوں اناتے تِلکن رستہ کیوں کررہے سنبھالا؟
دھکے دیون والے بہتے توہتھ پکڑن والا 
اے اللہ آنکھوں سے بھی میں اندھا ہوں،ان مادی آنکھوں سے تونظرنہیں آتا، اور رستہ بھی پھسلن والاہے،دوسری جانب ہربندہ اس پھسلن رستے پر سہارادینے کی بجائے دھکے دینے والاہے،جبکہ صرف تیری ذات ہاتھ پکڑنے والی ہے۔ 
کچھ لوگ ان بہتی آنکھوں کوولیوں کاٹھکانہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اگرکبھی موقع ملے یاپھرایسے موقع کی تلاش میں رہیں،جہاں ان کی زیارت ہوجائے تو فوری اس آب حیات سے وضوکر لیں۔قرآن کے توہرورق سے آبِ حیات کے چشمے پھوٹتے ہیں اورہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے ان چشموں کو بھاری اورریشمی غلافوں میں چھپاکرگھرکے ایسے اونچے کونوں میں سجا رکھاہے جہاں آتے جاتے نظرتوپڑتی ہے لیکن اس قرآن کی فریاد ہمارے بہرے کانوں کوسنائی نہیں دیتی جس کی بناپرہم آج رسوا  وذلیل ہورہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان