01:04 pm
جنوبی ایشیا کا ایک ادھور خوا ب 

جنوبی ایشیا کا ایک ادھور خوا ب 

01:04 pm

خلیجِ بنگال کے گرد جہاز رانی اور بحری سفر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1498میں  پرتگالیوں نے برصغیر کے مغربی کنارے کو فتح کرلیا تھا۔ اس کے بعد 1511 میں میلاکا پر تسلط جمانے کے بعد انہوں نے کیپ آف کومرن میں سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ بنگال میں پرتگیزیوں کی نجی تجارتی کا آغاز کئی اسباب سے تھا۔ اس میں جرائم کی صورت میں قانونی کارروائی سے استثنی، اپنے ممالک میں سخت گیر مذہبی عدالتوں سے فرار، دولت سمیٹنے اور ریاست کی جانب سے ملنے والی تنخواہ کی غیر یقینی صورتِ حال اس کے اسباب میں شامل تھے۔  لیکن سب سے اہم وجہ یہی تھی کہ وہ ایشیا کے اندر ہی بڑھتی ہوئی تجارت کی اہمیت کے باعث اس خطے کو کاروباری طور پر فعال کرنا چاہتے تھے۔
پرتگیزیوں اس خطے میں ہوگلی (موجودہ کلکتہ بندرگاہ) اور چٹا گانگ تر نہیں رکے بلکہ انہیں نے بکلا، سریپور، لوریکل، دیانگا اور سندوئیپ جیسے چھوٹی بندرگاہوں کو بھی استعمال کیا۔ یہ پورا علاقہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔  پرتگیزی 16ویں صدی کے آغاز میں بنگال کی سب سے اہم بندرگاہ چٹاگانگ  تک پہنچ چکے تھے۔ 1535تک انہوں نے چٹاگانگ پر کسٹم ہاؤس بنانے کا اختیار بھی حاصل کرلیا تھا۔ 
سترھویں صدی تک پرتگیزی جنوب مشرقی ڈیلٹا میں دو طرح کا بندوبست کر چکے تھے۔ چٹاگانگ ایک بڑی بندرگاہ تھا اور وہاں پرتگیزی مضبوطی سے پاؤں جما چکے تھے۔ دیانگا، چندیکن، سرپور، سندوئپ اور سریام بھی اسی زمرے میں آتی تھیں۔ جب کہ موسمی نوعیت کے استعمال کے لیے چارگن اور انگا جیسی بندرگاہیں تھیں۔ 1632 میں ہوگلی پر پرتگیزیوں کا تسلط ختم ہوا اور اس کا انتظام شاہ جہاں کی فوجوں نے حاصل کرلیا۔ اس کے بعد اٹھارہویں صدی میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے اس خطے میں رسوخ بڑھانے کی کوششیں شروع کردیں۔ 
پرتگیزیوں (اور ان کے  علاوہ ولندیزیوں اور انگریزوں) کا دوسرا ’پیشہ‘ قزاقی تھا۔ جدید بنگال کے ابتدائی دور میں اس کی جنوب مشرقی ڈیلٹا میں پرتگیزیوں کے سوداگروں، مہم جو افراد اور سرکش افراد پرتگالی ریاست کی دست رس سے دور رہنے کے لیے  بڑی تعداد میں جمع ہوچکے تھے۔ یہ نجی گروہ بنگال کے ساحلوں پر کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا رکھتے تھے لیکن خطے کی سیاسی اور معاشی تشکیل میں ان کا کردار اہم تھا۔ مختصر مدت ہی کے لیے سہی لیکن پرتگیزی اس علاقے میں طاقتور رہے۔ یہ علاقہ قزاقوں کے لیے بہت موزوں تھا۔ یہ ایک مصروف اور منافع بخش تجارتی بندرگاہ تھی لیکن اس کے تحفظ کے لیے مضبوط ریاست اور بحریہ نہیں تھی۔ اس کے لیے چھوٹے چھوٹے جزیرے ، کھاڑیوں، تنگ آبی گزرگاہوں اور مینگروز کی کثرت سے یہ جرائم پیشہ افراد کے لیے یہ علاقہ محفوظ پناہ تھا۔ 1750سے 1860کے دوران یہاں قزاقوں کی چاندی رہی۔ 
غلاموں کی تجارت کرنے والے یا بردہ فروشوں کی بنگال پر تواتر سے چھاپہ مار کارروائیوں کے کئی اسباب تھے۔ ہوسِ زر میں مبتلا یہ سوداگر اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اپنے ملکوں میں لوگوں کو غلام بنانے سے زیادہ منافع غیر ملکی غلاموں کی تجارت میں ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں میں ہنرمند اور نیم ہنرمند افراد کی ضرورت تھی۔ ولندیزی سلطنت کو مسالوں کی کاشت اور کان کنی کے لیے بے شمار غلام درکار تھے۔ سماٹرا کی آچے سلطنت کو بھی کاشت کاری اور ٹن کی کانوں پر کام کرننے کے لیے غلام چاہیے تھے۔ بنگال میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی افرادی قوت موجود تھی۔ ہندوستانی غلام مختلف فنون اور دست کاری وغیرہ میں مہارت کی وجہ سے زیادہ قیمت میں فروخت ہورہے تھے اور انہیں افریقا کی نئی نوآبادیات میں بھی پہنچایا جارہا تھا۔ 
چٹاگانگ کی بندرگاہ اور شہر پرتگیزیوں کی سرگرمیوں کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ خطہ جنوب مشرقی ایشیا میں ان کی نئی نوآبادیات کو مدد فراہم کرنے کے لیے بھی اہم تھا۔ شاہ جہاں نے جب سے پرتگیزیوں کو ہوگلی سے پسپا کیا تھا تو ان کے لیے اس علاقے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ لیکن ایک صدی کے دوران ولندیزیوں نے خطے میں پرتگال کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پرتگیزی ماضی کے تنازعات کے باجود راکھائن سلطنت جہاں آج میانمار قائم ہے کو مدد فراہم کرتے تھے۔ مغل اور برما کی سلطنت کے بیچ میں ماگھ جارحیت ہی کو بہترین دفاع سمجھتے تھے۔ اس کے لیے پرتگیزی بحریہ انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی تھی۔اس کے علاوہ غلاموں کی تجارت اور چھاپہ مار کارروائیاں منافع بخش کام تھے۔  1610کی دہائی میں کئی چھاپہ مار کارروائیاں ہوئیں۔ بنگال میں پرتگیزی اور ماگھ غارت گروں نے بڑی تباہی مچائی۔ ماگھ سمندر میں تیزی سے نقل و حرکت کرنا جانتے تھے اور انہیں جیلیاس کہلانے والی تیز رفتار کشتیاں چلانے کی مہارت حاصل تھی جن میں بہ آسانی ڈیلٹا تک سفر کیا جاسکتا تھا۔ کئی شہر اور دیہات ان کے خوف نے ویران کردیے تھے۔ ابتدا میں مغل ان پر قابو نہیں پاسکے کیوں کہ ان کی بحریہ کمزور تھی اور راکھائن سلطنت کے دشوار گزار علاقے گھات لگا کر چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے موزوں تھے۔ 
1663میں بنگال صوبہ شدید مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔مغل سلطنت میں اسے شامل کرنے کے لیے ہونے والی جنگیں بے نتیجہ رہی تھیں اور ان چھاپہ مار کارروائیوں نے بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ سابق گورنر جملہ خان  اہوموؤں کے ساتھ تباہ کُن جنگ میں مارا گیا تھا۔ اہومو موجودہ  بھارت کی ریاست آسام اور اروناچل پردیش کے علاقے میں بسنے والا نسلی گروہ تھا۔ نیا گورنر شائستہ خان شہنشاہ اورنگزیب کا چچا تھا۔ محاذِ جنگ میں اس کا ماضی تابناک رہا تھا لیکن شوا جی کے ہاتھوں شکست کی وجہ سے شہنشاہ اس سے خفا تھا۔ اسی لیے شہنشاہ نے شائستہ خان  کو بنگال بھیج دیا تھا۔  
شائستہ خان نے تیزی سے سلطنت کا ڈھانچا کھڑا کیا، قلعے تیار کروائے، سڑکیں اور پل تعمیر کرائے۔ اس کے علاوہ زمینی اور بحری فوج کے بڑے دستے تیار کیے۔ اس کے لیے شائستہ خان نے ولندیزیوں سے بھی مدد لی۔ 1665میں مغلوں نے راکھائن سلطنت کے لیے تزویراتی اہمیت رکھنے والا سندویپ چھین لیا۔ چٹاگانگ پر قبضہ کرنا اہم ہدف تھا۔ اس کے لیے شائستہ خان نے پرتگیزیوں اور راکھائنیوں کے تنازعات کو استعمال کیا۔ شائستہ خان نے پرتگیزیوں کو اپنے آقاؤں سے غداری پر آمادہ کیا۔ انہیں یہ سمجھایا کہ تجارت دوست مغلوں سے ان کا اتحاد زیادہ منفعت بخش ہوگا۔ ظاہر ہے کہ انہیں اپنا حامی بنانے کے لیے بھاری رشوت بھی دینا پڑی۔ پرتگیزیوں نے راکھائن سے غداری کی اور ڈھاکا تک پہنچ گئے۔ راکھائن فوج تیزی سے چٹاگانگ میں جمع ہوگئی لیکن شائستہ خانہ نے زمین پر ایک فوج بھیجی اور متوازی طور پر مغلوں اور پرتگیزیوں کی بحریہ کو بھی چٹاگانگ روانہ کردیا۔ اس دوطرفہ حملے نے راکھائن فوج کو تباہ کردیا۔ 
چٹاگانگ کا ہاتھ سے نکلنا ور پرتگیزیوں کی حمایت کا خاتمہ بڑا دھچکا تھا۔ ماگھ بڑے جنگی بیڑے بنانا نہیں جانتے تھے اور انہیں جنگ میں بڑا نقصان ہوچکا تھا۔ دوسری جانب شائستہ خان نے ایک باصلاحیت بحری فوج تیار کی تھی۔ راکھائن پہلے کی طرح سمندر اور بحری راستوں پر کارروائیاں کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ داخلی انتشار اور کرائے کے فوجیوں پر انحصار کی وجہ سے یہ سلطنت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی اور 1784میں اس پر برما نے قبضہ کرلیا۔ البتہ بنگال ایک طویل عرصے تک شائستہ خان جیسے زیرک حکمران کے زیر نگین آگیا۔ 
اٹھارہویں صدی کے بعد پرتگیزیوں اور ان کی اولاد بنگال کی پھیلتی ہوئی سلطنت کا حصہ بنتے چلے گئے۔ مغربی بنگال اور بنگلا دیش کے کلچر میں اس ورثے کا رنگ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون  وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ  کا  واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کا واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی