02:18 pm
محسن پاکستان اور ہم

محسن پاکستان اور ہم

02:18 pm

  ایسے حالات میں جب پاکستان کا وجود شدید خطرات میں گرا ہواتھا ۔ پاکستان کے غداروںمفاد پرستوں اور اقتدار کے بھوکوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی شکل اختیار کرچکا تھا ۔ جنرل نیازی نے آخری آدمی آخری سانس تک لڑنے کی بجائے شکست قبول کرکے پاکستان کی افواج کی تاریخ کو داغدار کیا، اور ہتھیار ڈال دئیے ، پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے مشرقی پاکستان بنانے کے بعد اس کی وزیراعظم اندراگاندھی نے ہندوتوا کے اصل عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اس موقع پر کہا  ’’ آج ہم نے ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا اور نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں غرق کردیا ‘‘
 پاکستانی قوم مایوسی اور پریشانی کا شکارتھی ۔ پاکستانی فورسز کے اور سویلین ملا کر تقریبا ً 90 ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری تھا ، اسی دوران بھارت نے اپنا خفیہ ایٹمی پروگرام USSRاور مغربی طاقتوں کے تعاون سے جاری رکھا۔ یہاںتک کہ1974ء میں اس نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں ، بھارتی حکومت اور وزارت خارجہ کا پاکستان سے بات کرنے کا لہجہ ایک کمتر ریاست سے بات کرنے کاتھا ۔ 
اسی اثناء  میں پاکستان کے درد رکھنے والے پاکستانیوں نے جو بیرون ملک خدمات انجام دے رہے تھے پاکستان کی بقاء کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں ، ان میں ایک نام ڈاکٹر عبدالقدیر ؒکا بھی تھا ، جو ہالینڈ میں یورپی یونین کے ایک ادارے میں نیوکلیر ٹیکنالوجی کی تحقیق پر کام کررہا تھا ۔ وہاں پر یورینیم افزودہ کرنے پر بھی کام کیا جارہا تھا ڈاکٹر صاحب بنیادی طورپر میٹلرجی انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرچکے تھے  اور مجموعی طورپر دھاتوں کی کشیدگی کا ہنر جان چکے تھے ۔ جس کا مطلب اسے ہتھیار میں تبدیل کرنا بھی تھا ۔ آپ نے حکومت پاکستان کو خط لکھے لیکن پاکستان کی بیوروکریسی نے انہیں کسی نوجوان کا خط جانتے ہوئے  نظر انداز کردیا لیکن ایک خط آپ نے ہالینڈ کی سفارتی ڈاک کے ذریعے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کر بھیجا، جو انہوں نے پڑھا اور ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کرنے کا کہا ، اسی دوران ڈاکٹر صاحب اپنے خطوط کی وجہ سے یورپی سکیورٹی اداروںکی نظر میں بھی آچکے تھے لیکن انہوں نے بھی اس پر اتنی توجہ نہ دی  اور معمول کی نگرانی کرتے رہے ۔ 
یہاں پہلے سے موجود سائنسدانوں کے گروپ میں ڈاکٹر صاحب کی طرح کے ایک شخص ڈاکٹر بشیر نے ان میں خصوصی دلچسپی لی جو پہلے پلوٹونیم کی بجائے جس پر کا م کا عمل سست ہوتا ہے ،یورینیم کو افزودہ کرنے کی بات کررہے تھے ۔  بھٹو صاحب سے ملاقات کے بعد آپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری میں اپنا کام شروع کیا ،یہاں بھی انہیں پہلے سے موجود ڈاکٹر منیر گروپ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس پر حکومت نے دونوں کو اپنا اپنا کام جاری رکھنے کے لئے علیحدہ علیحدہ کام کرنے کا انتظام کردیا  جس پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی ٹیم بنا کر نہایت تیزی سے کام کرنا شروع کردیا اپنے یورپی رفقائے کا ر سے رابطہ کیا جو چیزجہاں سے  بھی ملی حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ بھٹو صاحب کو امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کے مطابق ، عبرت کا نشان بنا کر پھانسی دے دی گئی ۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں میں فرق نہ آیا۔صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر صاحب کو وہ تمام سہولتیں مہیا کیںجو وہ کرسکتے تھے ،امریکیوں کو سن گن مل چکی تھی برطانیہ ،اسرائیل اور امریکہ کے ایجنٹ کہوٹہ کے تحقیقی ادارہ کی جاسوسی کے لئے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے تھے ۔اسی دوران بی بی سی کانمائندہ بھی پاکستانی فورسز کے ہاتھ چڑھ گیا ۔ 
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ جن لوگوں نے ازحد تعاون کیا ان میں ایک غلام اسحاق خان بھی ہیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اگرسائنسدانوں کے بعد کسی کا کردار ہے تو وہ اسحاق خان ہیں امریکی پابندیوں کے بعد جب صدر ضیاء الحق نے آپ سے پوچھا کہ اس پروجیکٹ کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ تو  اسحاق خان نے تاریخی جواب دیا ،  "I will borow I will get I will buy.for it.'
  1976ء میں ایک وقت ایسا آیا جب ڈاکٹرعبدالقدیر منیر گروپ کی روایتی چالوں سے بددل ہوکر واپس ہالینڈ جانے لگے انہوں نے بھٹو صاحب سے ذکر کیاتو انہوں نے تین دن مانگے اور تیسرے دن وزارت خارجہ میں ان کی ملاقات وزیر خارجہ آغا شاہی ، وزیر خزانہ غلام اسحاق خان، بھٹو صاحب کے نمائندہ جنرل سعید ،  اے جی این قاضی اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق سے ہوئی ۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

’ہیروں‘ کی تلاش میں شہری نے شیر کے انکلوژر میں چھلانگ لگادی،پھر جو ہوا ۔۔ اللہ معاف کرے ،دیکھیں

’ہیروں‘ کی تلاش میں شہری نے شیر کے انکلوژر میں چھلانگ لگادی،پھر جو ہوا ۔۔ اللہ معاف کرے ،دیکھیں

یا اللہ رحم فرما، جمعہ کے دن 6.1شدت کا خوفناک زلزلہ ،ہر طرف چیخ و پکار

یا اللہ رحم فرما، جمعہ کے دن 6.1شدت کا خوفناک زلزلہ ،ہر طرف چیخ و پکار

سابق وزیراعظم اور مریم نواز سُر خرو!  ن لیگ کیلئے عدالت سے بڑی خوشخبری آگئی

سابق وزیراعظم اور مریم نواز سُر خرو! ن لیگ کیلئے عدالت سے بڑی خوشخبری آگئی

180نہ ہی 190ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے،تاریخ کی بلند ترین سطح پر ،قیمت کہاں تک جا پہنچی ؟جانیے

180نہ ہی 190ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے،تاریخ کی بلند ترین سطح پر ،قیمت کہاں تک جا پہنچی ؟جانیے

سفری پابندیاںبرقرار۔۔ پاکستانیوں کو بڑا دھچکا لگ گیا

سفری پابندیاںبرقرار۔۔ پاکستانیوں کو بڑا دھچکا لگ گیا

قسمت ہی بدل گی۔۔۔ سبز آنکھوں والی افغان خاتون شربت گلا کوکون سا ملک لے گیا۔۔ ؟ جانیے تفصیل

قسمت ہی بدل گی۔۔۔ سبز آنکھوں والی افغان خاتون شربت گلا کوکون سا ملک لے گیا۔۔ ؟ جانیے تفصیل

جمعہ سے قبل مدینہ منورہ میں افسوسناک حادہ،شہادتیں ۔۔ متعدد زخمی، کتنے افراد متاثر ہوئے۔امت مسلمہ کیلئے افسوسناک خبر

جمعہ سے قبل مدینہ منورہ میں افسوسناک حادہ،شہادتیں ۔۔ متعدد زخمی، کتنے افراد متاثر ہوئے۔امت مسلمہ کیلئے افسوسناک خبر

انصاف دینےوالا درندہ بن گیا،سینئر جج کی طالبہ سے زیادتی۔۔۔فوری گرفتارکرلیاگیا،پاکستانیوں کیلئے افسوسناک خبر

انصاف دینےوالا درندہ بن گیا،سینئر جج کی طالبہ سے زیادتی۔۔۔فوری گرفتارکرلیاگیا،پاکستانیوں کیلئے افسوسناک خبر

ایک ، 2 یا 3لاکھ روپے ۔۔کترینہ کیف کتنے لاکھ روپے کی مہندی لگائیں گی۔۔؟ جانیے

ایک ، 2 یا 3لاکھ روپے ۔۔کترینہ کیف کتنے لاکھ روپے کی مہندی لگائیں گی۔۔؟ جانیے

پی ٹی کو زبردست جھٹکا ، کپتان کے سب سے اہم ترین کھلاڑی اور وزیر نے استعفیٰ دیدیا ، وجہ بھی بتا دی

پی ٹی کو زبردست جھٹکا ، کپتان کے سب سے اہم ترین کھلاڑی اور وزیر نے استعفیٰ دیدیا ، وجہ بھی بتا دی

شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

شہریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

مالکان نے ملازمہ کے جسم کا کونسا حصہ لینے کیلئے شادی کا ڈرامہ رچایا؟

مالکان نے ملازمہ کے جسم کا کونسا حصہ لینے کیلئے شادی کا ڈرامہ رچایا؟

افواہیں دم تو ڑ گئیں، پیٹرول پر سارے ٹیکسز ختم ۔۔۔۔آخرکار خوشخبری آگئی

افواہیں دم تو ڑ گئیں، پیٹرول پر سارے ٹیکسز ختم ۔۔۔۔آخرکار خوشخبری آگئی

امریکی ڈالر نے روپے کو پچھاڑ ڈالا، کاروبار شروع ہوتے ہی امریکی کرنسی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکی ڈالر نے روپے کو پچھاڑ ڈالا، کاروبار شروع ہوتے ہی امریکی کرنسی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی