02:22 pm
ڈاکٹر قدیر، سردار سکندر، فاروق فیروز! سب چلے گئے

ڈاکٹر قدیر، سردار سکندر، فاروق فیروز! سب چلے گئے

02:22 pm

ڈاکٹر عبدالقدیر خان چلے گئے، سردار  سکندر حیات خان، ائیر چیف مارشل (ر) فاروق فیروز خان بھی رخصت ہوئے، پاکستان آزادکشمیر میں سوگ، قومی اعزاز کے ساتھ تدفین، پرچم سرنگوں، تمام سیاسی و قومی رہنمائوں کی دکھ بھری تعزیت! مولانا فضل الرحمان، پھر لانگ کا اعلان٭ پیپلزپارٹی کے سوا ساری اپوزیشن منافق ہے بک گئی ہے، بلاول بھٹو٭ بھارت لکھیم پور8افراد کی ہلاکت، بحران مزید سنگین ہوگیا٭ چین نے لاٹھیوں سے 20بھارتی فوجی ہلاک کرنے کی تصویریں شائع کردیں٭ مقبوضہ کشمیر 570کشمیری نوجوان جیلوں میں بند٭ مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں شہباز شریف کا 13ڈشوں تین حلووں کا ظہرانہ، پہاڑوں پر پہلی برف باری، سڑکیں بند۔
زندگی میں عبدالستار ایدھی کے بعد کسی عام آدمی کا جنازہ دیکھا جسے قومی اعزاز کے ساتھ تینوں افواج سلامی دے رہی ہوں، پوری قوم کا ہر فرد، ہر سیاسی و سماجی رہنما نم آلود آنکھوں سے ملک و قوم کے عظیم محسن ڈاکٹر عبدالقدیر کے رخصت ہونے پر دل گرفتہ ، ایسا شخص جو تنہا آیا اور ملک و قوم کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرکے چلا گیا۔ میڈیا میں بہت کچھ چھپ رہا ہے، چھپتا رہے  گا، بہت سے واقعات ہیں، ایک واقعہ وہ بھی ہے جب 30جنوری 1987ء کو بھارت کی فوجیں راجستھان کی سرحد پر حملہ کرنے کے لئے بالکل تیار تھیں، کسی بھی لمحے کارروائی شروع کر سکتی تھیں، ایسے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا بیان آگیا کہ پاکستانی کسی بھی لمحے ایٹم بم بنانے کے قابل ہوچکا ہے اور بھارت کو سبق سکھانے کے لئے صرف دو تین بم کافی ہوں گے۔ اس پر اسی رات بھارت کی فوجیں سرحد سے واپس بھاگ گئی تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بہت سی دوسری باتیں بھی ہیں۔ ایک بات یہ کہ دبئی میں مفرور بدبخت جنرل (ر) پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ بلکہ دستاویزی معاہدہ بھی تیار کرلیا تھا مگر اس وقت کے وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی (اب مرحوم) نے اس  پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ پرویز مشرف کے مشتعل ہونے پر ظفر اللہ خان جمالی نے استعفیٰ دے دیا اور یہ سیاہ دور پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے محسن کو گھر میں پانچ سال قید کئے رکھا۔
میں اس کہانی کو ذرا تفصیل سے بیان کرونگا، مگر مجھے آزادکشمیر کے دوبار وزیراعظم اور ایک بار (دوبار) صدر سردار سکندر حیات اور پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اور جائنٹ چیفس آف سٹاف کے سابق چیئرمین فاروق فیروز خان کی بھی، اسی 10اکتوبر کو تدفین کا بھی ذکر کرنا ہے۔ سردار سکندر حیات کے جنازے میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے رہنما شریک  ہوئے۔ ہر رہنما نے سردار صاحب کی کشمیری عوام کی خدمت اور دیانتدارانہ پرخلوص سیاست کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ میری مظفرآباد اور لاہور میں سردار صاحب سے چند ملاقاتیں رہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا سچا حقیقی علم بردار رہنما کاان کی وفات پر آزادکشمیر کا پرچم سرنگوں رہا اور تین دن کا سوگ منایا جارہا ہے۔ خدا تعالیٰ مغفرت کرے اور اپنی  رحمت کی بارش برسائے، سردار صاحب کی عمر 86برس تھی۔
پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر چیف مارشل (ر) فاروق فیروز خان کی بھی اسی طرح تدفین ہوئی، وہ 17اگست 1938ء کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔1956ء میں پاک فضائیہ میں شامل ہوئے اور 41برس کی اعلیٰ شاندار قومی خدمات کے بعد 1997ء میں ریٹائر ہوگئے۔ ان کی عمر 82برس سے زیادہ تھی۔ خدا تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے  اور درجات بلند کرے۔
اب پھر کچھ باتیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی، بھارت کا ایک مشہور کالم نگار صحافی کلدیب  نیئر اکثر پاکستان آتا تھا۔ اس کی کالم نگاری کا عالم یہ تھا کہ ہر کالم بھارت، امریکہ، برطانیہ کی 14 زبانوں میں بیک وقت چھپتا تھا۔ کلدیپ نیئر کے پاکستان کے بڑے بڑے اخباری مالکان اور صحافیوں سے ذاتی تعلقات تھے۔ میرے ساتھ بھی ملاقاتیں رہیں۔ وہ دونوں ملکوں میں صلح کن فضا کا حامی تھا۔ جنوری کے وسط میں بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے حکم پر اچانک پاکستان کی سرحدوں، خاص طور پر راجستھان کی وسیع ملکی سرحد پر فوج جمع کر دی گئی۔ اندیشہ تھا کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان کی سرحد پر حملہ کر دیں گی۔ ادھر  پاکستان کی فوج بھی پوری طرح تیار تھی۔ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ایسے میں کلدیپ نیئر29جنوری  کو لاہور اور 30جنوری کو اسلام آباد آیا۔ وہ اس روز اپنے کالم میں پاک بھارت کشیدگی اور خطرے کا واضع اظہار کر چکا تھا۔ 30جنوری  (1987ء ) کو ان کی اسلام آباد میں اہم ایک انگریزی اخبار کے مدیر سید مشاہد حسین سے ملاقات ہوئی (وہ وزیر اطلاعات بھی رہے) ڈاکٹر عبدالقدیر خان  اسلام آباد میں راول ڈیم کے پاس اپنے گھر میں سخت سیکورٹی کے حصار میں بند تھے۔ کوئی شخص ان کے گھر کے پاس بھی نہیں  جاسکتا تھا۔ ایسے میں سید مشاہد حسین اور کلدیپ نیئر کو ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی خصوصی اجازت دی گئی۔ اس ملاقات میں کلدیپ نیئر نے خاص طور پر پوچھا کہ پاکستان کی ایٹمی تیاریوں کا کیا حال ہے؟ ڈاکٹر صاحب پہلے سے  انٹرویو اور جواب کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے سیدھا جواب دیا کہ تیاریاں بالکل مکمل ہیں، ہم حکم ملنے پر دس دنوں میں ایٹم بنا دیں گے، کسی بھی صحافی کے لئے یہ بہت بڑی خبر تھی۔ دنیا بھر میں بھارت اور مغربی ممالک میں پاکستان کی ایٹمی تیاریوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں فرانس کا سفیر کہوٹہ جانے کی کوشش میں گرفتار بھی ہوچکا تھا۔ کلدیپ نیئر فوراً واپس بھارت گیا اور دنیا  بھر کے میڈیا سے ایک ’’بمبار‘‘ قسم کی خبر دینے کا سودا کیا۔ لندن کے روزنامہ آبزرور نے 20ہزار پونڈ کی پیشکش کر دی اور آبزرور کی شہ سرخیوں نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا کہ پاکستان نے ایٹم بم تیار کرلیا ہے اور کسی بھی وقت دھماکہ کر سکتا ہے (دھماکہ 11سال بعد 1998ء) میں ہوا) اسی دوران صدر جنرل ضیاء الحق نے اچانک راجستھان کے شہر جے پور میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے کا اعلان کر دیا اور دہلی پہنچ گئے۔ دہلی کے ہوائی اڈے پر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے رسمی طور پر خیرمقدمی ملاقات کی۔ اس میں جنرل ضیاء الحق نے راجیو سے دو ٹوک کہا کہ بھارتی فوج  پاکستان سے فوری طور پر واپس نہ گئیں تو وہ پاکستان کی افواج کو جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دے دے گا! اس پر بھارتی حکومت گھبرا گئی اور سرحد سے ساری فوج فوری طور پر واپس بلالی۔ کلدیپ نیئر نے گفتگو میں ڈاکٹر صاحب کو کہا تھا کہ بموں کی دوڑ بہت خطرناک ہوگئی، پاکستان نے 10بم بنائے تو بھارت 100بنائے گا اس پر ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا کہ اتنے بموں کی کیا ضرورت ہے، بھارت کے لئے دو چار ہی کافی ہوں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان  اس انٹرویو کے بعد بھی وقفہ وقفہ سے اظہار کرتے رہے کہ بھارت  پاکستان سے جنگ لڑنے میں مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ بعض حلقے اس بات کو نمایاں بیان کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو نظربند کیوں رکھا گیا؟ یہ بات درست نہیں۔ امریکہ، ہالینڈ، بیلجئم ڈاکٹر صاحب کے دشمن بن چکے تھے کہ انہوں نے ہالینڈ اور بلجئم سے ایٹمی تیاریوں کے بہت سے آلات خفیہ طور پر پاکستان منتقل کر لئے تھے۔ یہ ممالک ہر وقت ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے انہوں نے عالمی عدالت میں ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا جو بعد میں ختم ہوگیا۔
یہ ممالک ڈاکٹر صاحب کو اغواء کرنے کی سازشیں اور کارروائیاں کر چکے تھے۔ اس بناء پر ان کے تحفظ کے لئے سخت سیکورٹی ضروری ہوگئی تھی۔ ویسے ڈاکٹر صاحب کئی بار لاہور اور کراچی بھی جاچکے تھے۔ قوم کے اس محسن کا تحفظ بہت ضروری ہوگیا تھا۔ اس عظیم شخصیت کے تحفظ کو قید کا نام دینا افسوس ناک بات ہے جسے قوم کی خدمات پر 13بڑے بڑے گولڈ میڈل اور بے شمار دوسرے میڈل مل چکے ہیں۔
کچھ دوسر ی باتیں، ایک عرصے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں (ن) لیگ کے صدر  شہباز شریف سے ان کی ماڈل ٹائون میں  رہائش گاہ پر ملاقات کی اور شہباز شریف سے شکوہ کیا کہ پچھلی ملاقات میں فیصلہ ہوا تھا کہ حکومت سے کوئی بات نہیں کی جائے گی مگر وہ  پہلے سے زیادہ حکومت سے تعاون کر رہے ہیں۔ بعض خبروں کے مطابق شہباز شریف نے دلائل سے مولانا کو متفق کرلیا کہ اس حکومت کا صرف ڈیرھ سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اسے چلنے دیں، البتہ فوری طر پر نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے پھر اعلان کر دیا ہے کہ حکومت کو ہٹانے اور نئے انتخابات کے لئے لانگ مارچ ضروری ہے۔  دوسری طرف الیکشن کمیشن کا اعلان آگیا ہے کہ فوری انتخابات نہیں ہوسکتے، پہلے نئی مردم شماری ضروری ہے۔اب تک لاکھوں نوجوان ووٹ دینے کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نئی رائے شماری کئی ماہ میں مکمل ہوگی۔ اس کے لئے بھاری فنڈز بھی چاہئیں۔
 
 

تازہ ترین خبریں

 فروری 2024قومی بچت بینک نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کے لیے منافع کی شرح کا اعلان کردیا گیا

 فروری 2024قومی بچت بینک نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کے لیے منافع کی شرح کا اعلان کردیا گیا

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

صدر مملکت  کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد ،دیکھیں 

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

پنجاب کی نئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں وہ سب تمام معلومات جو آپ نہیں جانتے ،دیکھیں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

ن لیگ نے ایم کیو ایم کے مطالبوں سے اصولی اتفاق کر لیا ، دیکھیں تفصیل خبر میں

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

پاکستان کی آئی ایم ایف سے بنگلہ دیش طرز کے معاہدے کی کوشش، دیکھیں تفصیل 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

 2 فرشتوں کے بغیربانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، شیر افضل مروت کا بیان سامنے آ گیا 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری 

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون  وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب،دیکھیں خبر

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

سنی اتحاد کونسل ارکان کابائیکاٹ، مریم نواز بھی بول اٹھیں

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس، سنی اتحاد کونسل اراکین احتجاجا واک آؤٹ کر گئے  

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ  کا  واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

تمام  مستند معلومات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کا واٹس ایپ چینل شروع، دیکھیں

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

اہم خبر ،اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں بری ہو گئے 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کا انتخاب آج،دیکھیں تفصیل 

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد