04:28 pm
جنوبی ایشیا کا ایک ادھورا خواب

جنوبی ایشیا کا ایک ادھورا خواب

04:28 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
تیسری راہداری چین سے سیون سسٹرز (جو کہ 2002 ء میں سکم کے اضافے کے بعد اب آٹھ ہیں) سے گزرتے ہوئے بنگلا دیش میں چٹاگانگ اور مٹرباری کی مشرقی بندرگاہوں تک جائے گی۔ یہاں دو بڑی رکاوٹیں ہوں گی: ایک، چین اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی اور چین مخالف اتحاد کواڈ میں ہندوستان کی رکنیت۔ اور دوسری، بھارت کا شمال مشرق کئی دہائیوں سے ہنگامہ آرائی میں ہے۔ حتیٰ کہ جب حال ہی میں علیحدگی پسند تحریکوں نے کچھ توانائی کھو دی ہے، زیادہ تر باغی گروہ بنیادی طور پر بھتہ خوری، اغوا، مقامی لوگوں سے ٹیکس وصولی، ترقیاتی منصوبوں سے ٹول مانگنے اور کمیونیکیشن لنکس اور انرجی انفرا اسٹرکچر پر حملوں کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے موجود ہیں۔ مزید برآں، شمال مشرقی بھارت میانمار، تھائی لینڈ اور لاؤس کے پڑوسی ''سنہری مثلث'' کے ذریعے یورپ جانے والی ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ راستہ بھی ہے، اس بڑھتی ہوئی تجارت میں مقامی باغی گروہ ملوث ہیں۔ اس طرح، ایک اقتصادی راہداری کی تعمیر اس خطے میں کم از کم مستقبل قریب میں خطرناک ہوگی۔
چین کی جانب سے ایک چوتھا پروجیکٹ پہلے ہی جزوی طور پر زیر تعمیر ہے: بنگلہ دیش،چین، بھارت، میانمار اقتصادی راہداری (BCIM-EC)۔  بنگلہ دیش، چین، بھارت، میانمار (بی سی آئی ایم) فورم برائے علاقائی تعاون، جسے پہلے ''کنمنگ انیشیئٹو'' کہا جاتا تھا، چین کے بی آر آئی پروگرام کا حصہ ہے۔ بی سی آئی ایم-ای سی کو تین راستوں پر توسیع دینے کا منصوبہ ہے: ایک، جسے کے 2 کے کہا جاتا ہے، کنمنگ سے کولکتہ تک میانمار، شمال مشرقی بھارت اور بنگلہ دیش کے راستے چلے گا۔ دیگر دو میں سے ایک راستہ میانمار کے منڈالے سے بنگلہ دیش کے چٹاگانگ کی سمت جائے گا، اور دوسرا میانمار کی ریاست راکھین کے سیتوے بندرگاہ کی سمت جائے گا۔
بھارت میں بنگال، بنگلہ دیش، برما،میانمار اور چین کے یننان کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے بڑے سرحدی علاقے کی تشکیل عالمی سلطنتوں کے دباؤ کے تحت متعدد ممالک کے ذریعے ہوئی ہے۔ جدید ایشیاء  کی صورت گری کے دوران اس خطے کے اندر رشتوں کے پیچیدہ اور باہم منسلک جال کی نوعیت کیا رہی، یہ ہم اس منصوبے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو متعلقہ پہلوؤں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے: تاریخی عمل کے دوران یہ قدرتی حالات کا کردار اور انسانی نقل و حرکت کا اثر ہے جو انسانی فطرت اور انسانی تعلقات کی صورت گری کرتے ہیں۔ شمال مشرقی بھارت اور میانمار میں نسلی شورش ابھی موجود ہے اور ساتھ ہی بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان روہنگیا کا مسئلہ بھی ہے، جو راہداری کی تعمیر کے لیے مستقل سیکورٹی خطرات کا باعث ہے۔ یہاں تک کہ جب کوریڈور مکمل ہو جاتا ہے، عملے اور سامان کی نقل و حمل کو تب بھی مقامی شورش سے مسلسل سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میانمار میں روہنگیا شورش کا بھی یہی حال ہے۔
اس کے علاوہ، بھارت نے کبھی بھی بی سی آئی ایم، ای سی مذاکرات میں پورے دل سے حصہ نہیں لیا۔  دی کھٹمنڈو  پوسٹ نے اپنے 2020 ء کے ایک آرٹیکل میں اسے ’’کیموفلاج شرکت‘‘ کہا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) نے ہندوستان کے بالادست توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور خطے کی دیگر چھوٹی اقوام کو اس علاقے میں غالب اثر و رسوخ کے خلاف اٹھنے کا موقع دیا ہے۔ چین اپنے مغربی علاقے کو مزید محفوظ بنانے کے بڑے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میں علاقائی سفارت کاری میں نفوذ کرتا رہا ہے۔ خطے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے لیے بی آر آئی کو کہیں زیادہ غیر جانب دار سمجھا جاتا ہے، لیکن بھارت کے لیے اگر یہ موافق قوت نہیں بھی ہے تو اس نے بھارت کو تبدیلیوں پر زیادہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ لیکن بھوٹان جیسا چھوٹا ملک جو نسلی اور ثقافتی طور پر تبت،چین کے بہت قریب ہے، اپنے بڑے پڑوسی سے مغلوب ہونے کا بجا طور پر خوف رکھتا ہے، حالانکہ ہندوستانی متبادل بھی خطرہ ہے۔
نئی دہلی ہمالیہ کے راستے روڈ کنکشن کو محفوظ کرنے کی تمام چینی کوششوں اور بحر ہند کے ساتھ سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی جگہوں پر بندرگاہ تک رسائی کے معاہدوں سے بے چینی محسوس کرتی ہے، اور نئی دہلی شاید میانمار کو بھی قریب سے دیکھ رہی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ بھارت بحر ہند میں اپنی غالب پوزیشن سے دست بردار ہونا نہیں چاہتا لیکن اسے ایسا کرنے میں وقت لگے گا۔
چین اگر چہ جارحانہ انداز میں اپنی سرحدوں کو جوڑنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن بھارت نے اپنی سرحدوں کو نظر انداز کیا، اس نے اپنی سرحدوں اور بندرگاہوں سے مستفید ہونے والے علاقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر روابط منقطع کیے، بالخصوص ہمالیائی محاذ پر۔ سڑکوں اور بندرگاہوں کے ذریعے رسائی کے متعدد مراکز بنا کر چین جنوبی ایشیائی اقوام کو ایک متبادل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور جنوبی ایشیائی طاقت کے طور پر بھارت کے کردار کو چیلنج کرنے کے ذرائع پیدا کر سکتا ہے۔(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور کراچی کونسل فار فارن ریلیشنز (KCFR) کے چیئرمین ہیں۔)


تازہ ترین خبریں

عدالت نےشیخ رشید کادوروزہ جسمانی ریمانڈدے دیا

عدالت نےشیخ رشید کادوروزہ جسمانی ریمانڈدے دیا

ایک دن میں سونا 2200 رروپے فی تولہ مہنگا،قیمت 2 لاکھ 7 ہزار 200 روپے ہوگئی

ایک دن میں سونا 2200 رروپے فی تولہ مہنگا،قیمت 2 لاکھ 7 ہزار 200 روپے ہوگئی

نیہا دھوپیا پہلی بار خاوند کے ساتھ فلم اسکرین پر نظر آئیں گی

نیہا دھوپیا پہلی بار خاوند کے ساتھ فلم اسکرین پر نظر آئیں گی

سعودی وزیر خارجہ سیکیورٹی معاملات پر گفتگو کیلئے بغداد پہنچ گئے

سعودی وزیر خارجہ سیکیورٹی معاملات پر گفتگو کیلئے بغداد پہنچ گئے

کراچی ،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے بعد خاتون نے ڈی ایس پی کو تھپڑ جڑ دیا

کراچی ،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے بعد خاتون نے ڈی ایس پی کو تھپڑ جڑ دیا

اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف جامع آپریشن

اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف جامع آپریشن

پنجاب بھر کے سکولوں میں لارج سکیل اسیسمنٹ ٹیسٹ کا شیڈول جاری

پنجاب بھر کے سکولوں میں لارج سکیل اسیسمنٹ ٹیسٹ کا شیڈول جاری

عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا مقصد خوف پھیلانا ہے، حماد اظہر

عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا مقصد خوف پھیلانا ہے، حماد اظہر

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں فواد حسن فواد بری

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں فواد حسن فواد بری

شیخ رشید گرفتاری،صرف قانون پر عمل ہوا ہے پسلیاں تونہیں تڑوائیں, وفاقی وزیر داخلہ

شیخ رشید گرفتاری،صرف قانون پر عمل ہوا ہے پسلیاں تونہیں تڑوائیں, وفاقی وزیر داخلہ

پنجاب میں آٹے کا بحران، چکی آٹے کی قیمت میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

پنجاب میں آٹے کا بحران، چکی آٹے کی قیمت میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

چین کےجنگی خطرات سے نمٹنے کیلئے ایشیائی ملک امریکہ کو اڈے دینے کیلئے تیار

چین کےجنگی خطرات سے نمٹنے کیلئے ایشیائی ملک امریکہ کو اڈے دینے کیلئے تیار

تمام سرکاری افسران کے اثاثے ، جائیدادیں ضبط، آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا

تمام سرکاری افسران کے اثاثے ، جائیدادیں ضبط، آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا

مسلم لیگ ق کے لیگل ایڈوائزر پرویز الٰہی سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے اغوا

مسلم لیگ ق کے لیگل ایڈوائزر پرویز الٰہی سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے اغوا