01:22 pm
ہمارا دور اور آج کا دور

ہمارا دور اور آج کا دور

01:22 pm

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ملک میں غربت کا بہت شورہے مگریہ خودساختہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو میری عمر کے یعنی پچاس سال یا پچاس سے  زائد عمر کے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچپن لڑکپن میں جو حالات دیکھے اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ مثلاً ان کا خیال ہے کہ پہلے لوگ لسی، پیاز وغیرہ سے روٹی کھا کر گزارہ کرلیتے تھے اگر گھر میں کچھ بھی نہ ہوتا مگر گندم یعنی آٹا، گڑ، پیاز، لسی وغیرہ یہ اشیاء تو بہرحال ہر گھر میں ہوتی ہیں۔ سالن کے بغیر ان اشیاء سے بھی گزارہ ہو جاتا تھا۔ بچے فضول خرچ نہیں تھے۔ والدین سے پانچ دس پیسے روزانہ کی جیب خرچی ملتی۔ دکان سے جا کر ٹافیاں خرید لیتے۔ سکول جانے کے لئے بیگ وغیرہ کی فرمائش نہیں ہوتی تھیں۔ ایک چھوٹا سا کپڑا لیا اس میں کتابیں باندھ کر سکول چلے جاتے۔ کاپیوں کے جھنجھٹ سے بھی  آزاد تھے۔ ایک تختی، گاچی اور لکھنے کے لئے قلم دوات یا سکہ، ٹیوشن کا رواج نہیں تھا۔ والدین کے تعلیم پر اخراجات نہ ہونے کے برابر تھے۔ موبائل فون سے آزاد ماحول تھا۔ لینڈ لائن ٹیلی فون تھے مگر کال اتنی مہنگی کہ فون کرنے سے پہلے سو بار سوچتے۔ خط و کتابت پر اکتفا کرلیتے۔ مگر آج کا غریب تبدیل ہوچکا ہے۔ موبائل فون کے بغیر گزارہ ناممکن  غریب سے غریب خاندان بھی لسی یا گڑ کے ساتھ کھانا کھانا معیوب سمجھتا ہے۔ غریب خاندان کے بچے بھی سلانٹی، کرکرے یا لیز وغیرہ کی فرمائشیں کرتے ہیں۔ (کیا غریب بچوں کو خواہشات کا غلبہ نہیں ہوسکتا) شور زیادہ کرتے ہیں صبروشکر نہیں کرتے۔
خود ساختہ غربت کے حق میں دلائل دینے والے بھی حق بجانب ہیں۔ ہم  بھی اس دور سے گزر چکے ہیں۔ اگرچہ میرے والد محترم سکول ٹیچر تھے۔ گھر کا گزر بسر ایک حد تک بہتر تھا مگر ہم نے اسی ماحول میں پرورش پائی۔ ہمارے اڑوس پڑوس بہت سے ایسے گھرانے تھے جن کے پاس روزانہ سالن پکانے کی صلاحیت نہیں تھی۔ محلے کے چند گھر ایسے تھے جہاں لسی بنائی جاتی تھی مجھے بھی یاد ہے۔ والدہ سے برتن لیتا اور ان میں سے ایک گھر سے لسی لایا کرتا۔ ہمارا گھرانہ چونکہ استاد گھرانہ ہونے کے ناطے محترم تھا اس لئے احترام کا تقاضا تھا کہ وہ لسی میں مکھن بھی ڈال دیا کرتے تھے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ایک بات واضح ہے کہ وہ دور آج کے دور سے قطعاً مختلف تھا۔ اکثریتی آبادی دیہاتوں، قصبوں میں رہتی تھی۔ جہاں کا رہن سہن سادہ تھا۔ لوگ نسل در نسل ایک ہی علاقے میں رہتے تھے۔ آپس میں پیار و محبت کا رشتہ تھا۔ دکھلاوا، منافقت، دھوکہ دہی، دغا بازی یا ان جیسی دیگر برائیاں نہیں تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو اسے خود تک محدود نہ رکھتے۔ ہمسایوں کو بھی بھیجتے۔ بلاجھجھک ایک دوسرے سے کھانے پینے کی چیزیں مانگ لیتے یا تبادلہ کرتے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب رشتہ داروں یا ہمسایوں کا کوئی بچہ خالی کٹوری لے کر  والدہ کے پاس آتا اور کہتا اماں کہہ رہی ہے تھوڑا سا سالن تو دے دیں۔ اتنا انس، محبت اور اپنائیت تھی کہ ایسا کرتے ہوئے شرم بھی محسوس نہ ہوتی۔ ہمیں جب کبھی گھر میں پکا ہوا سالن پسند نہ ہوتا تو اپنے حصے کا سالن ہمسایہ یا رشتہ دار سے تبدیل کرالیا کرتے۔ وہ اتنا سادہ  دور تھا کہ گھر میں سالن پکنے کے باوجود کبھی لسی کبھی چٹنی اور کبھی دودھ سے روٹی کھا لیا کرتے تھے۔ مگر آج کا تصور بھی عبث  ہے۔
آج کے دور میں ہر ایک   پر مادہ پرستی غالب ہے، اگر غریب گر جائے تو اسے اٹھانے کی بجائے اس پر پائوں رکھ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ بنائوٹ، ریاکاری، منافقت، دھوکہ دہی ہر ایک کی طبیعت کا حصہ بن چکے ہیں۔ شہروں کی طرح دیہاتوں میں بھی یہی صورتحال ہے، کوئی کسی کا خیال نہیں رکھتا۔ غریب اگر بھوکا  مرتا ہے تو مرنے دو کسی کا کوئی  غرض نہیں۔ دوسروں کے لئے احساس، درد ہمدردی، پیار و محبت، خلوص جیسے رشتے دم توڑ چکے ہیں۔ ایک ہی ماں باپ کی اولاد ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتی، چند ٹکوں کی خاطر جان لے لی جاتی ہے۔ مادہ پرستی کے اس دور میں ہر ایک شے کی قیمت ہے۔ خلوص بکتا ہے، پیار کی بھی قیمت ہے۔ خلوص صرف اسی کے لئے جو دولت مند ہے۔ پیار اور محبت اسی کو دیں گے جس سے مفاد وابستہ ہوگا۔ مادہ پرستوں کے اس ماحول میں غریب سے کیا شکوہ کریں کہ وہ صبر اور شکر نہیں کرتا۔

تازہ ترین خبریں

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

"  وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

" وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟ 

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟