01:54 pm
پرائس کنٹرول حکمت عملی کی ضرورت جمع ڈینگی کی وباء

پرائس کنٹرول حکمت عملی کی ضرورت جمع ڈینگی کی وباء

01:54 pm

ملک میں روز افزوں مہنگائی کے باوجود حکومت منافع خوری کے خاتمے اور ذخیرہ اندوزی برداشت نہ کرنے کے بیانیے پر قائم ہے۔ قیمتوں پر کنٹرول سے متعلق ایک اجلاس میں وزیراعظم نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی برداشت نہیں کرے گی۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ حکومت کا پرانا بیانیہ ہے مگر اس کے اثرات دیکھنے میں نہیں آرہے اور اشیائے خور و نوش کا بحران اور مہنگائی کا تسلسل برقرار اور قیمتوں میں من مانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ چینی کے نرخ حالیہ ہفتے، عشرے میں 160 سے 170روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ یہ قیمتوں کا ایک نیا ریکارڈ ہے مگر چینی کا یہ بحران نیا نہیں ہے۔ ہر بار جب اس بحران میں شدت آتی ہے تو حکومت کچھ دن پکڑ دھکڑ اور اس قسم کے ہنگامی اقدامات سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ حکومت کو اس وسیع تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بحران سے نمٹنے کے لیے اس کے محرکات کا پتا چلانا ضروری ہے اور چینی کے معاملے میں اس کا جائزہ لینے کے لیے پیداوار، کھپت، ڈسٹری بیوشن کے نظام اور بازار کی حرکیات کو سمجھنا ضروری ہے، مگر ہمارے ہاں پہلے تو کسی بحران کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا جاتا ہے اور جب حالات تشویشناک صورت اختیار کرلیتے ہیں تو جلد بازی میں ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن کی دھمک تو بہت سنائی دیتی ہے مگر حقیقی اثرات کچھ بھی نہیں ہوتے۔ صرف چینی کے بحران سے نمٹنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کی حکومتی کوششوں سے ساری حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ خوراک کے اس ضمنی جز کی طلب بھی پوری نہیں ہو پارہی اور نہ ہی بحران ختم ہونے کا نام لیتا ہے؟ ملک میں چینی کی طلب اور کھپت کے بنیادی اعداد و شمار اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں تقریباً ساڑھے سات کروڑ ٹن گنا پیدا ہوا۔ گنے کی یہ مقدار  2016-17ء  کے برابر تھی مگر    2016-17ء  کے مقابلے میں  2020-21 ء  کے دوران چینی کی پیداوار تقریباً 20 لاکھ ٹن کم رہی۔ یہ اعداد و شمار شوگرملز ایسوسی ایشن کی گزشتہ برس کی سالانہ رپورٹ میں موجود ہیں۔ چینی کی پیداوار میں اتنی بھاری مقدار میں کمی کے اسباب کیا تھے، حکومت کو اس کا پتا چلانا چاہیے تھا۔ کیا ملوں کی اجارہ داری کی وجہ سے ایسا ہوا یا اس کے کوئی دیگر اسباب تھے؟ جو بھی تھا اس کا پتا لگانا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ملک میں چینی کے ممکنہ بحران کو یہیں سے پرکھ لیا جاتا، اگر اس پر بروقت توجہ دی جاتی مگر ساری توجہ ڈسٹری بیوشن اور بازار کی حرکات پر مرکوز کردی گئی۔ سٹہ بازوں اور ذخیرہ اندوز مافیا سے بھی ضرور نمٹنا چاہیے مگر پانی اوپر سے نیچے آتا ہے، اسی طرح بحران بھی۔ ملوں نے چینی کم پیدا کی تو اس کے اثرات لازمی طور پر نیچے محسوس ہوتے اور ڈیمانڈ ، سپلائی کے مسائل پیدا ہوتے،حکومت بروقت درآمدات سے اس صورت حال پر قابو پاسکتی تھی، مگر یہاں بھی تاخیر کی گئی۔ رواں سال کے دوران ملک میں 68 لاکھ ٹن گنے کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ مگر چینی کی کھپت کا اندازہ تقریباً ساٹھ لاکھ ٹن لگایا گیا ہے۔ کیا ملکی شوگر انڈسٹری کی پیداوار اس طلب کو پورا کرسکے گی؟ آنے والے برس سے متعلق اس بنیادی سوال پر ابھی سے توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر ان حالات میں حکومت مستقل منصوبہ بندی کی بجائے چینی کے درپیش بحران میں الجھی ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے ’کسی بحران کو ضائع مت جانے دیں‘ تو اگر اس تجربے سے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کی حکمت اخذ کی جاسکی تو تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ درآمدی اجناس کے بجائے ملکی پیداوار ہی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور اس کے لیے لازم ہے کہ حکومت اور صنعتی شعبے میں ایک ہم آہنگی موجود ہو اور جو کچھ ممکن ہے، صنعتی سرگرمیوں میں حکومت مدد اور تعاون کرے۔
اب اگر اوپر تحر یر کیے گئے کا لم کے عنو ان کی با ت کی جا ئے تو صا ف نظر آ رہا ہے کہ ڈینگی بخار کا واضح طور پر بڑھتا ہوا خطرہ حکومتی سطح پر فی الفور اور سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کا متقاضی ہے۔ اب تک ملک میں ڈینگی متاثرین کی مجموعی تعداد اٹھارہ ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ یومیہ نئے مریضوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرچکی ہے اور صرف پنجاب میں اب تک اس موذی مرض سے 70 کے قریب اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ صحت عامہ کے لیے اس تشویشناک صورت حال میں عوامی آگاہی، مچھروں کی تلفی اور ڈینگی سے متاثرہ افراد کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈینگی مچھر کی افزائش روکنے کے لیے عوامی آگاہی بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے۔ ماضی کے برسوں میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جب لوگوں کو اس خطرے سے بچائو کے لیے آگاہی فراہم کی گئی تو ڈینگی کا پھیلائو بہت کم ہوا۔ گھروں اور کاروباری مقامات کے باقاعدہ معائنے بھی ضروری ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران معائنے کا کام بڑی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے، مگر امسال اس جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کے اثرات بڑھتے ہوئے ڈینگی کے کیسزکی صورت میں سامنے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یومیہ پانچ سو کی بلند شرح سے اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومتی سطح پر فی الفور اقدامات کی ضرورت ہے قبل اس کے کہ ڈینگی کا پھیلائو 2010ء کی طرح خطرناک صورت اختیار کرلے۔

تازہ ترین خبریں

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

"  وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

" وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟ 

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟ 

محکمہ موسمیات نے 2سے 5جولائی موسلا دھار بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

محکمہ موسمیات نے 2سے 5جولائی موسلا دھار بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب میں جیت کس کی ہو گی؟بڑا دعویٰ کر دیا گیا

وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب میں جیت کس کی ہو گی؟بڑا دعویٰ کر دیا گیا

اپنے ارکان کو ہوٹل میں ٹھہرایا جائے ، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مسلم لیگ (ن) نے حکمت عملی طے کرلی

اپنے ارکان کو ہوٹل میں ٹھہرایا جائے ، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مسلم لیگ (ن) نے حکمت عملی طے کرلی

’روسی صدر خاتون ہوتے تو جنگ نہ کرتے‘: برطانوی وزیراعظم کے بیان پر پیوٹن کا جواب آگیا

’روسی صدر خاتون ہوتے تو جنگ نہ کرتے‘: برطانوی وزیراعظم کے بیان پر پیوٹن کا جواب آگیا

' خلیل الرحمان قمر نے دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے دانیہ کو کھری کھری سنا دیں 

' خلیل الرحمان قمر نے دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے دانیہ کو کھری کھری سنا دیں 

’خان صاحب ہم ٹینکوں کے آگے بھی لیٹ جائیں گے، آپ حکم کریں‘  عمران خان کو کارکن نے یہ بات کہی تو انہوں نے کیا جواب دیا؟ دلچسپ خبر

’خان صاحب ہم ٹینکوں کے آگے بھی لیٹ جائیں گے، آپ حکم کریں‘ عمران خان کو کارکن نے یہ بات کہی تو انہوں نے کیا جواب دیا؟ دلچسپ خبر