12:54 pm
شمال جنوبی یوریشیائی کوریڈور

شمال جنوبی یوریشیائی کوریڈور

12:54 pm

دنیا بدل رہی ہے اور جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ رہیں گی، ختم نہیں ہوں گی۔ اپنے روزمرہ معاملات میں الجھ کر ہم دور تک دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، لیکن ہمارے اردگرد کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس پر اور کچھ اس دنیا کی تاریخ پر نگاہ رکھنا چیزوں کا صحیح تناظر جاننے اور اسی طرح درست فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے۔
حالیہ طور پر افغانستان، پاکستان اور حتیٰ کہ بھارت سے مغربی طاقتوں کے انخلا نے ان کے پیش کردہ ’’افق کے پار سے‘‘ فضائی حملوں کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، اور یہ بات اور بھی حتمی طور پر واضح ہو گئی جب ماسکو نے حال ہی میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ وسطی ایشیائی خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔ امریکہ نے 90 کی دہائی میں افغانستان سے منہ موڑ لیا تھا، اب یہاں امریکی مصروفیات کافی حد تک کم ہو سکتی ہیں تاہم اگر اسے خطے میں قابل اعتبار رہنا ہے تو اسے اس ملک کو یکسر ترک نہیں کرنا چاہیے۔ افغانستان کی صورت حال کا حل اب علاقائی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جس کی قیادت چین، روس اور پاکستان کر رہے ہیں۔ یہ علاقائی اقدام خطے میں افغانستان کے مدغم ہونے کو آسان بنا دے گا، اور عام افغانوں کو کام اور آمدنی تلاش کرنے میں مدد ملے گی اور بیس سالہ جنگ نے جو مسائل پیدا کیے ہیں ان کو حل کیا جا سکے گا۔ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اور نارتھ ساؤتھ کوریڈور تیار کرنے کا منصوبہ ہے، جس کا آغاز کرنے والوں کے مطابق، قازقستان، ازبکستان اور افغانستان کے راستے روس اور پاکستان کو ملانا ہے۔ اس طرح کے روٹ سے خطے کے لیے اور بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے لیے کافی امکانات ہوں گے۔ مزید یہ کہ پاکستان کے لیے یہ پاک چین اقتصادی راہداری  سی پیک  کی تکمیل کرے گا اور زیر تعمیر نیٹ ورک میں ایک اور پہلو کا اضافہ کرے گا۔
 
گلوبلائزیشن کا مطلب ہے پوری دنیا کو آپس میں جوڑنا۔ شمال جنوب کنیکٹویٹی ترقی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد سابقہ پسماندہ علاقوں پر تجارت اور صنعتی پیداوار کے لیے قدرتی وسائل کے راستے کھولنا ہے۔ یوریشیا، بطور براعظمی زمینی ٹکڑا، جو راہداریوں کے ذریعے آپس میں جڑا ہوا ہے،’’دوسری‘‘ اور’’تیسری‘‘ دنیا کے پرانے تصورات کو ختم کر دے گا جس نے قوموں کو اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی طور پر کمتر بنایا، اور یہ اس پرانے نظام کی جگہ پر ایک کثیر قطبی سسٹم کے اندر مساوی ارکان کی حقیقت کو تشکیل دے گا۔ یہ کنیکشن یوریشین صدی کی بنیاد ہے۔ اور افریقہ شمال-جنوب رابطوں کو آگے بڑھانے میں اگلا مربوط براعظم ہوگا۔ افریقا کو منسلک کرکے ہی ہم ان قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ رسائی حاصل کر سکیں گے جو یہ دونوں براعظم فراہم کر سکتے ہیں،  غربت کے ساتھ کامیابی کی امید کے ساتھ لڑنے کا یہ واحد راستہ ہے۔ ان تنظیموں کے ذریعے اب تک اربوں خرچ کیے جا چکے ہیں جو غربت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ بھی بغیر کسی خاص کامیابی کے۔ افریقا اور دیگر دور دراز خطوں کو تجارتی راستوں میں اپنے ساتھ منسلک کرنا، اور انہیں اپنے محل وقوع کے فوائد سے مستفید ہونے کے قابل بنانا، اور یوں عالمی پیداواری دائرے میں انھیں شامل کر لینا ہی غربت کے خاتمے کا ایک پائیدار طریقہ ہوگا۔ ریل اور روڈ کے یہ نارتھ ساؤتھ کوریڈورز جو افریقہ سے جڑتے ہیں، مستقبل میں ایک نیا اور ریجنل افریقی حب بنائیں گے، جو یوریشیا اور امریکہ جیسے دوسرے حب سے جڑے گا۔
موجودہ عالمی ترقی میں دو اہم رجحانات پائے جاتے ہیں: ایک یکسانیت کا رجحان (عالمگیریت اور انضمام)، دوسرا لامرکزیت اور علاقائیت کا رجحان۔ ہم نے عالمگیریت اور علاقائیت دونوں دائروں میں تیزی سے ترقی ہوتے دیکھی ہے۔ دونوں نے بین الاقوامی طاقتوں کے تعلقات اور اکیسویں صدی کے عالمی جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ان دو بظاہر منفی رجحانات کا ایک دل چسپ پہلو ایک طرف سڑک، ریل اور پائپ لائنز کے ذریعے قومی سرحدوں کو آہستہ آہستہ مٹانا ہے اور دوسری طرف ''قومی'' علاقوں پر مضبوط گرفت حاصل کرنا ہے، جو علاقائی تنازعات کے خدشے کی صورت میں نتائج دے سکتی ہے، جیسا کہ چین اور بھارت، پاکستان اور بھارت، روس اور جاپان، روس اور یوکرین، آذربائیجان اور آرمینیا وغیرہ کے درمیان ہیں۔ علاقائیت میں قومی ریاست کی طاقت کو ایک علاقائی تنظیم کی صورت میں ازسرنو بانٹنے کا عمل شامل ہے، اور ان ذمہ داریوں کو سبھالنے کے لیے تیار نئی علاقائی تنظیموں کا ظہور بھی۔(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

عمران خان نفرت کا سوداگر، اداروں کو مخالفین کیخلاف استعمال کیا، خواجہ آصف

عمران خان نفرت کا سوداگر، اداروں کو مخالفین کیخلاف استعمال کیا، خواجہ آصف

پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں

پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں

جے یو آئی (ف) کا ’زرداری بھگاؤ سندھ بچاؤ‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان

جے یو آئی (ف) کا ’زرداری بھگاؤ سندھ بچاؤ‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان