12:56 pm
افغانستان اقتصادی بحران اور ٹرائیکا پلس کے مطالبات

افغانستان اقتصادی بحران اور ٹرائیکا پلس کے مطالبات

12:56 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
طالبان کے اقتدار سے پہلے امریکہ اور اس کے اتحادی اربوں ڈالر افغانستان میں خرچ کرتے تھے اور پیسہ کسی نہ کسی شکل میں افغان مارکیٹ میں گشت کرتا رہتا تھا۔امریکی انخلا ء کی وجہ سے سرمایہ مارکیٹ میں آنا بند ہو گیا اور مزید زیادتی یہ ہوئی اشرف غنی اور کرزئی دور سے فائدہ اٹھانے والے امیر لوگ بیرون ملک سرمایہ لے کر فرار ہو گئے۔ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد نرم پالیسی کو اختیار کیا لیکن سابق طالبان دور سے خوف زدہ   ذہانت  اور فن کے حامل  پروفیشنل لوگ ملک سے فرار ہو گئے۔ ابتداء  میں طالبان کو بنکوں کی بندش بھی کرنا پڑی تھی جس کی وجہ سے معیشت اور کاروباری کا پہیہ جام ہو گیا تھا۔افغانستان حکومت کے ملازمین کی تنخواہیں بھی امریکی حکومت ادا کرتی تھی لیکن طالبان کی آمد کے ساتھ ہی امریکہ نے تنخواہیں فراہم کرنے کا سلسلہ بند کر دیا تھا،امریکہ نے دوسرا بڑا تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جانے والا  یہ ظم کیا کہ افغانستان  کے اثاثے بلا وجہ منجمند کر دیئے،طالبان سے  دنیا کے ساتھ تجارت کرنے کی بھی سہولت چھین لی گئی. ان تمام عوامل کی بنا پر افغانستان میںبحران اور انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔
عملی طور پر افغانستان سے بشمول امریکہ، جین،روس رابطے میں ہیں لیکن با قاعدہ طور پر کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ امریکہ قیادت میں دنیا کے ممالک کا طالبان سے مطالبہ ہے کہ سب دھڑوں پر مشتمل حکومت قائم کی جائے اور خواتین کے حقوق کو یقینی بنائیں لیکن حالات کا سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ طالبان  کا اصرار ہے کہ وہ تمام تقاضے بخیر و خوبی پورے کر چکے ہیں،افغانستان کے وزیر خارجہ  امیر خان متقی نے ببانگ دہل اسلام آباد میں اعلان کیا کہ ہم عالمی برادری کے تمام تقاضے پورے کر چکے ہیں۔مغربی دنیا مفروضوں کی بناء  پر ان کی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی ہے انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی پیمانہ نہیں ہے جس کو معیار بنا کر تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے انہوں نے کہا دنیا میں شخصی حکومتیں بھی ہیں اور خاندانی آمریتوں بھی ہیں فوجی ڈکٹیٹر شپ بھی ہے کیمونسٹ نظام کے حامل ممالک  بھی ہیں اور شرعی قوانین پر نظام رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں ان سب کو دنیا نے تسلیم کیا  ہے اور سب اقوام متحدہ کے ممبران  ہیں۔ کسی ملک کی حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھایا جاتا،کل تک  جو لوگ افغانستان میں ہمیں قتل کر رہے تھے ہم نے ان سب کو معاف کردیا ہے بلکہ ہمارے لوگ ان کے گھروں پر پہرہ دے رہے ہیں۔ متقی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب ہوتے  کہاکہ دنیا میں کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جس میں سیاسی مخالفین کو شامل کیا گیا ہو،کیا  جیو بائیڈن  نے ڈرونل  ٹرمپ کو اپنی حکومت میں شامل کیا ہے یا اور کسی ملک میں سیاسی مخالفین کو حکومت میں شامل کرنے کی مثال ہے لیکن ہم سے مطالبہ کیا  جا رہا ہے کہ اپنے مخالفین کو حکومت میں شامل کر لیں وہ نہ صرف ہمارے سیاسی مخالفین ہیں بلکہ بمباریوں اور ٹینکوں سے ہمیں مارتے رہے ہیں۔ ہمارے حکومت میں زبان کے لحاظ سے ازبک،تاجک اورپختون بھی شامل ہیں۔علاقائی نمائندگی بھی موجود ہے قندھار،بدخشاں،مزار شریف،پنجشیر کے لوگ شامل ہیں پھر کیوں نہیں ہماری حکومت کو جامع اور انکلویس مانا  جا رہا ہے۔ہمارے ساتھ مسئلہ  پیسے کا ہے جوں جوں وسائل آ رہے ہیں اسی حساب سے اگے بڑھ رہے ہیں۔  اشرف غنی حکومت نے کئی ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی تھیں جو اب ہم ادا کر رہے ہیں۔ایران، ازبکستان، ترکمانستان کے بجلی کے سابق بل بھی ہم ادا کر رہے ہیں۔یہ متقی صاحب اور افغان حکومت کا موقف ہے۔ عالمی قوانین اور اصولوں کے مطابق حکومت اور عوام کو الگ الگ رکھا جاتا ہے لیکن طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد جو امداد انسانی بنیادوں پر افغانستان کو مل رہے تھی اسے بھی معطل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے لگتا یہ ہے کہ امریکی جو کام طاقت اور اسلحہ کے زور پر سرانجام نہیں دے  سکا ہے  اب وہ کام افغانستان کو اقتصادی تباہی اور انارکی سے دوچار کرکے حاصل کرے گا۔افغانستان کے اس  المیہ کا حل پڑوسی ممالک کے پاس ہے یا چین و روس اور پاکستان کو ہمت کرکے افغانستان کو اس المیے سے نکالنا ہو گا طالبان کے لئے ان حالات میں بے حد ضروری ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کے خدشات کو دور کریں اور پڑوسیوں کے مطالبات اور خواہشوں کو پورا کریں۔

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیا ت نے پانچ دن مسلسل بارشوں کی پیشنگوئی کر دی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیا ت نے پانچ دن مسلسل بارشوں کی پیشنگوئی کر دی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

کاروبار شروع ہوتے ہی ڈالر منہ کے بل نیچے آگرا، قدر میں کتنے روپے کی واضح کمی ہوگئی؟ انٹربینک مارکیٹ سے بڑی خبر

کاروبار شروع ہوتے ہی ڈالر منہ کے بل نیچے آگرا، قدر میں کتنے روپے کی واضح کمی ہوگئی؟ انٹربینک مارکیٹ سے بڑی خبر

یکم جولائی سے پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوجائیگا؟دعوے نے پاکستانیوں کے ہوش اڑ ادیئے

یکم جولائی سے پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوجائیگا؟دعوے نے پاکستانیوں کے ہوش اڑ ادیئے

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار