12:57 pm
ملالہ کی شادی اور دانشوری کا معیار

ملالہ کی شادی اور دانشوری کا معیار

12:57 pm

ملالہ یوسف زئی نے نکاح ’’فرما‘‘ کر ’’میرا جسم، میری  مرضی،، اینڈ کمپنی کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا ہے کہ جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا، لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسند اب نجانے کیا سوچ رہیں ہوں گے؟ یہ وہی ’’ملالہ‘‘ ہے کہ رواں سال جون کے مہینے میں جس نے اپنے ایک آرٹیکل میں شادی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شادی کے بغیر صرف پارٹنر بن کر بھی رہا جاسکتا ہے، تب لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسندوں کے گروہ نے بڑی بغلیں بجائی تھیں۔ مگر عصر ملک سے شادی کے بعد ملالہ نے لکھا کہ ’’شادی نہ کرنے کی بات کم شعوری (ناسمجھی) میں کی تھی، سوات کی رہائشی، لندن میں مقیم ملالہ یوسف زئی نے اچھا کیا کہ جو اپنے شادی اور نکاح کے حوالے سے متنازعہ بیان سے رجوع کرلیا۔
مجھے یقین ہے کہ ’’ملالہ‘‘ کی طرح وہ دانش فروش بھی کسی دن اپنی اس متنازعہ بات سے رجوع کرلے گا کہ جو اس نے اپنے ٹویٹ میں کہی تھی، دانش فروش کی ٹویٹ جو مجھ تک پہنچی، کے مطابق ’’ہماری کرکٹ ٹیم،  ایک مدرسہ بن کر رہ گئی ہے جو کھلاڑی جاتا ہے وہ لیجنڈ بن کر آئے نہ آئے مولوی بن کر ضرور نکلتا ہے، سعید انور، ثقلین مشتاق، مصباح، آفریدی، یوسف، انضمام سمیت ڈھیر لگی ہے مولویوں کی، پی سی بی کو دیکھنا چاہیے کہ ایسا کیا ہے ٹیم میں مذہب کا رحجان بڑھتا جارہا ہے‘‘ قائداعظمؒ کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کیسے کیسے ’’نابغوں‘‘ اور ’’ارسطوئوں‘‘ کا سامنا ہے۔ اس کا اندازہ اس ٹویٹ کو پڑھ کر لگایا جاسکتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا دین اسلام سے لگائو، نمازوں کی پابندی کرنا، قرآن پاک کی تلاوت کرنا، یہ سب ان کا آئینی، انسانی اور مذہبی حق ہے، کوئی بھٹی، وٹی کون ہوتا ہے کہ جو ان کے آئینی اور مذہبی حق  پر اعتراض اٹھائے، طنز کرے یا ان کا مذاق اڑائے؟ میرے نزدیک قابل رحم ہیں وہ دانش فروش کہ جو اسلامی ملک میں رہنے کے باوجود اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں شرمندگی سی محسوس کرتے ہیں، اپنے ’’مسلمان‘‘ ہونے پر شرمندہ  سے رہتے ہیں، وہ مسلمان صرف اس لئے ہیں کیونکہ وہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے، اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ مسلمان گھرانوں کی بجائے انگریز گھرانوں میں پیدا ہونے کو ترجیح دیتے، یہ ’’نابغے‘‘ اور ’’ارسطو‘‘ اس قدر ’’عقل مند‘‘ ہیں کہ نمازوں کی پابندی کرنے والے مسلمانوں کو بھی ’’مولوی‘‘ قرار دے دیتے ہیں دعوت و تبلیغ کے رحجان کو مدرسے سے تشبیہ دیتے ہیں، حالانکہ نمازیں ہوں، روزے ہوں، زکوٰۃ ہو یا دین کے دوسرے کام یہ صرف مولویوں پر ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہیں، اس میں ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان بے چاروں کو فرنگی سامراج کی طرح، مدرسہ اور مولوی سے چڑ ہے، فرنگی تہذیب کی محبت میں گرفتار ان بے چاروں کا حال اس شعر کے مطابق ہے کہ
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
ملالہ یوسف زئی کے نکاح پر، ناپاک ملعونہ تسلیمہ نسرین نے ’’مدرسہ‘‘ اور ’’مولوی‘‘ کا طنز تو نہیں کیا، البتہ یہ ٹویٹ ضرور کیا کہ ’’میں حیران ہوگئی، جب مجھے پتہ چلا کہ ملالہ نے پاکستانی بندے کے ساتھ شادی کرلی، وہ فقط 24سال کی ہے، میرا خیال تھا کہ وہ آکسفورڈ میں پڑھنے گئی وہ کسی ترقی پسند ہینڈ سم کی محبت میں گرفتار ہوگی، شادی کے بارے میں 30سال تک نہیں سوچے گی۔‘‘ ملعونہ تسلیمہ نسرین کم از کم 3دن تک ملالہ کی شادی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی رہی، ٹویٹ پر ٹویٹ کرتی رہی،  جس سے اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے، کہ تمام تر کوششوں اور سرمایہ کاری کے باوجود ’’ملالہ‘‘ کی سوچ میں پائی جانے والی ’’مشرقیت‘‘ نے صرف گستاخوں کو ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی بری طرح پریشان کر ڈالا ہے۔
بے شک ہدایت میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی کسی کو زبردستی نہ گمراہ کر سکتا ہے اور نہ ہی ہدایت پہ لاسکتا ہے، مادی ترقی سے متاثر ہو کر صراط مستقیم سے بھٹک جانے والے نہ اللہ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، نہ دین اسلام اور نہ ہی مسلمانوں کا، وہ جو بھی بگاڑیں گے اپنا ہی بگاڑیں گے اپنا اور اپنے گھر والوں کا ہی نقصان کریں گے، کوئی شک نہیں کہ نشہ  ایک بدترین لعنت ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص نشہ کرکے یہ سمجھنا شروع کر دے کہ اسے نشے میں سکون ملتا ہے، اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس سے بڑا بیوقوف اور کون ہوسکتا ہے؟ نہ نشہ آور اشیاء میں سکون ملتا ہے اور نہ ہی گمراہی سے ’’دانش‘‘ کی کرنیں پھوٹ سکتی ہیں، اسلام کے احکامات کا مذاق اڑانا، نظریہ پاکستان کو تختہ مشق بنانا، مدرسہ، مساجد اور اسلامی شعائیر کا مذاق بنانا، یہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں امریکہ سے درآمدشدہ ’’حیاء باختہ روشن خیالی‘‘ کی دی گئی سوغات ہے، ہم سب گنہگار انسان ہیں، پاک پوتر اور دودھ سے دھلا ہوا کوئی بھی نہیں ہے۔لیکن گناہوں پر ندامت کی بجائے جری ہو جانا اور مختلف جدید فتنوں کا شکار ہو کر الٰہی تعلیمات سے بھی اپنی عقل کو بالا و برتر سمجھ لینا، یہ بہرحال افسوسناک ہے اور اندوہناک بھی۔
مجھے ایسے افراد سے ہمدردی ہے کہ جو ’’تحقیق‘‘ کے چکر میں جدیدیت کی طرف مائل ہوئے اور وہ نہ صرف اسلاف کے تابندہ نفوش بلکہ اسلام کے سنہری اصول بھی بھلا بیٹھے، اور ان کی حالت اس کوے والی ہوگی جو چلا تھا ہنس کی چال، مگر اپنی بھی بھول بیٹھا، فتنے قیامت تک جنم لیتے رہیں گے ممکن ہے کہ ہر آنے والا فتنہ ماضی کے فتنوں سے بھی بڑھ کر ہو، لیکن مسلمان جب تک اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اپنے دامن علماء حق کے دامنوں سے وابستہ  رکھیں گے، تو ان شاء اللہ ’’فتنے‘‘ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، میں تو کسی دوسرے کی حب الوطنی پر بھی شک کرنا گناہ سمجھتا ہوں چہ جائکہ کہ کسی  مسلمان کے اسلام کو چیلنج کیسے کر سکتا ہوں، ہر مسلمان کو اپنے  آپ سے اچھا اور اعلیٰ سمجھتا ہوں، مگر وہ کہ جن کی ٹوئیٹس اور ٹاک شوز میں بیان کردہ نظریات کھل کر ان کی سوچ کی عکاسی نہ کر دیں، یاد رکھیے کہ علم و دانش کے سب سے بڑے اور اصل ماخذ قرآن و حدیث ہیں، قرآن مقدس میں جابجا علم و حکمت کے موتی بکھرے پڑے ہیں۔ مسلمانوں کے ملک میں مسلمانوں کے درمیان اپنے خیالات و افکار کو پھیلانے والے دانشوروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خیالات و نظریات کو قرآن وسنت کے تابع رکھیں، جس شخص کے خیالات و نظریات قرآن و سنت سے متصادم ہوں اور وہ اس کے باوجود ان گمراہ خیالات و نظریات کو مسلمانوں پر تھونپے کی کوشش کرے تو قانون کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ ایسے شخص کو گرفتار کرکے حوالہ زنداں کرے۔
سن لیجئے! دین اسلام نہ لاوارث مذہب ہے اور نہ ہی اتنا بانجھ کہ ہر ایرا غیرا، نتھو، خیرا ’’دانشوری‘‘ کا چوغہ پہنے، مسلمانوں کو گمراہ کرتا پھرتے، اگر امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کا قرآن وسنت سے متصادم قول دیوار پر مارنا عین ایمان ہے تو پھر ایسے ’’دانشوروں،،  اینکرنیوں، اینکرز اور تجزیہ نگاروں کی کیا حیثیت ہے کہ جو دانشوری کے نا م پر فتنہ گری کو پروان چڑھاتے ہیں، اپنی رائے اور خیالات کی پراگندگی کو دینی احکامات سے ’’بالا‘‘ سمجھتے ہیں؟ اللہ ہم سب کو ہدایت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیا ت نے پانچ دن مسلسل بارشوں کی پیشنگوئی کر دی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیا ت نے پانچ دن مسلسل بارشوں کی پیشنگوئی کر دی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

کاروبار شروع ہوتے ہی ڈالر منہ کے بل نیچے آگرا، قدر میں کتنے روپے کی واضح کمی ہوگئی؟ انٹربینک مارکیٹ سے بڑی خبر

کاروبار شروع ہوتے ہی ڈالر منہ کے بل نیچے آگرا، قدر میں کتنے روپے کی واضح کمی ہوگئی؟ انٹربینک مارکیٹ سے بڑی خبر

یکم جولائی سے پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوجائیگا؟دعوے نے پاکستانیوں کے ہوش اڑ ادیئے

یکم جولائی سے پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوجائیگا؟دعوے نے پاکستانیوں کے ہوش اڑ ادیئے

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

خیبرپختونخوا کی اہم ترین خاتون شخصیت سیلفی لیتے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب گئیں، ہر آنکھ اشکبار

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ ووٹنگ، لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

چئیرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے دو ناموں کی تجویز آگئی

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

 نمبر گیم تبدیل ہوگئی، حمزہ شہباز کی حکومت برقرار نہیں رہ پائے گی، ماہر قانون کا دعویٰ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار