12:12 pm
منصفانہ حل

منصفانہ حل

12:12 pm

مسائل کی نشاندہی محض تشخیص ہوتی ہے اور کسی بھی تحریر کو بامقصد صرف اسی صورت میں بنایا جاسکتا ہے جب اس کا عملی حل بھی تجویز کیا جائے۔
راقم اپنے قانونی اور عدالتی تجربہ کی بنیاد پر پورے یقین اور ایمان کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ قانون اور انصاف کے ساتھ جڑے تمام مسائل جن کا سامنا آج ہماری ریاست اور اس کے عوام کو درپیش ہے ان کا حل قابل عمل اور عین ممکن ہے۔ راقم  نے جب بھی اس موضوع پر بات کی تو یہ  تاثر دیکھنے کو ملا کہ شائد اب یہ نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اس میں اصلاح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ قارئین کرام ایسا بالکل نہیں ہے! شرط صرف یہ ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے اور ان کے سربراہان ، ارباب اقتدار اس بات کاعزم کرلیں کہ ان کی اولین ترجیح عام شہری  تک انصاف کی رسائی اور قانون کی عمل داری ہے۔
اس گھڑی آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں، انصاف اور قانون کے حوالے سے ریاستی سطح پر ہم ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہیں ۔ ایسے میں حالات ہم سے ہنگامی حل کا فوری تقاضا کرتے  ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
راقم کی رائے میں نچلی سطح پر ہمارے جوڈیشل افسران جن میں سول حج اور ڈسٹرکٹ جج صاحبان شامل ہیں کوزیادہ پراعتماد بنایا جائے۔ ان جج صاحبان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مقدمات کے فیصلے کرنے کےلئے لمبے چوڑے فیصلے لکھنےپڑتےہیں،ان میں نہ صرف وقت ضائع ہوتاہے بلکہ لکھنے والےجج صاحب پریہ خوف بھی طاری رہتاہے کہ چونکہ یہ فیصلے اعلیٰ عدالتوں کی نظر سے گزریں گے تو کہیں ان میں کوئی ایسی غلطی نہ ہو تو Displeasure یا ناخوشی کا باعث بنے… حل یہ ہے کہ نچلی عدالتوں کو یہ احکامات جاری کر دیئے جائیں کہ فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ میں محض اس مرکزی نقطہ کو مختصراً زیربحث لایا جائے جو تنازعہ سے Relvent یا متعلقہ ہے… قانونی موشگافیوں کو نہ تو مدنظر رکھا جائے اور نہ ان کو اپنے فیصلے کاموضوع بنایا جائے … ہاں تنازعہ سے متعلق براہ راست قانونی پہلو کو اجاگر محض اس لئے  کیا جائے کیونکہ وہ فیصلہ کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ غیرضروری یاقانون کی علمی بحث سے مکمل گریز کیاجائے … ایک جوڈیشل آفیسر یا سول جج، سیشن جج کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ فریقین کے مقدمے کے واقعات اورحقائق کو سمجھیں،اس کی واقعاتی تہہ تک پہنچنے کے بعد اپنے عدالتی یعنیJudicial Concious کے مطابقSubstantial Justiceکے اصول پر فوری فیصلہ کر دیں۔
قارئین کرام ، را قم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مذکورہ تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے لئے سب سے زیادہ ضروری عنصر بے خوفی ہے۔ ہماری اعلیٰ عدالتوں اور خاص طور پر صوبائی سطح پر ہائی کورٹس کے انتظامی سربراہان اور ملکی سطح پر عدالت عظمیٰ کو ماتحت عدالت کے جج صاحبان کو ایک اعتماد دینا ہوگا۔ کسی بھی ڈر اور خوف سے پاک اور مبرا اعتماد… اور اگر ایسا ہو جائے تو  پھر ہماری نچلی عدالتوں کو فوری اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی اور پھر یہ عمل ہمارے عام شہری پرعدلیہ کااعتماد بحال کردے گا۔ ریاست کا ایک اہم ستون فعال ہونے سے ہمارے ملک کی نظریاتی اساس کی آبیاری بھی ہوگی۔
سچ پوچھیے تو میں ذاتی طور پر حکومتوں کو غیر ضروری طور پر بے مقصد اور انتقامی تنقید کا نشانہ بنانے کے حق میں نہیں ہوں مگر جب ریاستی سطح پرکسی کوتاہی اورغفلت کو شدت سے محسوس کرتاہوں تو پھر میری قلم کی روانی میرے مزاج کا ساتھ چھوڑجاتی ہے … میرا سوال ہے عوام کے ان منتخب نمائندوں سے اور مسند اقتدار پر بیٹھے ارباب اختیار سے کہ بہت سے ایسے Areas میں جہاں آپ کابس نہیں چلتا ’’لاٹھی کی طاقت‘‘ آپ پر حاوی آجائے گی مگر جن کے ووٹ لے کر آپ ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں وہ آپ سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عدل و انصاف ، پولیس کے نظام، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں قانونی اور انتظامی اصلاحات کرنے اور بہتری لانے میں وہ کون سی ’طاقت‘ اور ’مجبوری‘ یا ’رکاوٹ‘ حائل ہے جس نے آج تک ہمارے موجودہ حکمرانوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں؟
راقم کی نظر میں اس کی وجہ ہے Lack Of  Will یا ارادے کا فقدان … اب بھی وقت ہے … انتقامی مزاج کی آگ سے نکل کر ایک متحمل، بردبار اور ٹھنڈے دل اور دماغ کے ساتھ اصل مسائل کوAdressکیا جائے … یہی بہترین انتقام ہے۔ آپ اپنے سیاسی مخالفین کی بداعمالیوں کو اپنے اچھے اعمال کے ساتھ ہی اجاگر کرکے اخلاقی اور عملی شکست سے دوچار کرسکتے ہیں… ملک کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کو ذاتی اور اداراتی انا کی تسکین کی نذر کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟

تازہ ترین خبریں

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد لوگ نظرانداز کرنے لگے:گولڈن مین کا شکوہ

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

گاڑی مالکان کے لیے خوشخبری، ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

اہم شخصیت کا استعفیٰ منظور، بڑی خبر آگئی

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ۔ صارفین پریشان

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

وفاقی وزیر خورشید شاہ عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ،حالت کیسی ہے ،تفصیلات جانیں اس خبرمیں

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،کتنے افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے ،پنجاب کے بڑے شہر سے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

اسرائیل نے دنیابھرکے امن پسند ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ،خوفناک ہتھیار تیار

عمران خان نفرت کا سوداگر، اداروں کو مخالفین کیخلاف استعمال کیا، خواجہ آصف

عمران خان نفرت کا سوداگر، اداروں کو مخالفین کیخلاف استعمال کیا، خواجہ آصف

پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں

پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں

جے یو آئی (ف) کا ’زرداری بھگاؤ سندھ بچاؤ‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان

جے یو آئی (ف) کا ’زرداری بھگاؤ سندھ بچاؤ‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کا ایسااقدام جس سے حکومت کےلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

پاکستان تحریک انصاف کا ایسااقدام جس سے حکومت کےلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

ایازصادق نے دھمکی دی، کیا وہ باپ کے گھر سے فنڈز لاتے ہیں،جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی وفاقی وزیرپربرس پڑے

ایازصادق نے دھمکی دی، کیا وہ باپ کے گھر سے فنڈز لاتے ہیں،جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی وفاقی وزیرپربرس پڑے

اسحاق ڈار کی وطن واپسی ، وزیر خزانہ بنائے جانے کا امکان، نجی ٹی وی کا دعویٰ

اسحاق ڈار کی وطن واپسی ، وزیر خزانہ بنائے جانے کا امکان، نجی ٹی وی کا دعویٰ

بیوی سے پوچھے بغیردوسری شادی کرنے والے شوہر کو ایک اور مصیبت نے گھیر لیا

بیوی سے پوچھے بغیردوسری شادی کرنے والے شوہر کو ایک اور مصیبت نے گھیر لیا