12:12 pm
 صاحب فیض لوگوں کی دنیا کے رنگ

 صاحب فیض لوگوں کی دنیا کے رنگ

12:12 pm

 انسان صدیوں سے اشرف المخلوق  ہونے کے ناطے اپنے آپ کو باقی تمام مخلوقات پرغالب و متصرف سمجھتا چلا آرہا ہے. انسان  کے اس وصف کی دو بنیادی سچائیاں ہیں نمبر 1 انسانوں نے باہمی تامل سے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، نمبر2  اپنے تجربات اور مشاہدات کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کیلئے  ایک طریقہ کار وضع کرلیا ہے جو آجکل اپنی ارتقائی حالت میں کتب , لیبارٹریوں اور لائبریریوں کی صورت میں موجود ہے. وقت اور حالات جس طرح انسانی ضروریات میں  اضافہ اور کمی کرتے رہتے ہیں اسی طرح قاری کا ذہن بھی اپنی ضرورت اور خواہش کی تبدیلی کے مطابق اپنے پسندیدہ لکھاریوں کی فہرست کو تبدیل کرتا رہتا ہے.
 مطالعہ کے حوالے سے انسانی ذہن میں دھیرے دھیرے ایک جوہری تبدیلی واقع ہو جاتی ہے.  میں اپنی  ابتدائی تعلیم کے دورانیہ میں غلام احمد پرویز کے رسالے طلوع اسلام سے آشنا ہو گیا تھا ان کی قائد اعظم اور علامہ اقبال سے وابستگی  نے مجھے بڑی حد تک متاثر کر دیا  تھا ایک اور قابل تحسین خوبی جو ان کی کتابوں سے متشرح  ہوتی ہے وہ اسلام کی غیر فرقہ ورانہ تشریح و تعبیر ہے. میں برسوں تک ان کے علم کا قائل اور اسلوب بیان کا قتیل و  مفتوح  رہا ہوں ان کے ہاں اگر چہ اسالیب کا تنوع ہے لیکن بطور نثر نگار ان کی شہرت ایسے نثر نگار  کی ہے جو مسجع  و مقفی  زبان لکھنے پر قادر ہے. اس باب میں ان کی تحریر کردہ کتابیں بطورشہادت کے موجود ہیں. آب میں محسوس کرتا ہوں کہ بلا ضرورت جملوں کی تراش خراش  کی گئی ہے بعض جملے ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں. اس طرح محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے محض عبارت کو خوبصورت بنانے کیلئے لفظوں کا بلا ضرورت اصراف کیا ہے. وسعت مطالعہ کے نتیجے میں مطالعہ کے ذوق سے  نئی جہتیں اور اسلوب سطح ذہن پر نمودار ہوتے ہیں.  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی پسندیدہ کتابوں اور لکھاریوں کی فہرست تبدیل ہوتی رہتی ہے. مولانا ابوالکلام آزاد وسعت مطالعہ اور اسلوب نگارش کے اعتبار سے بر صغیر پاک و ہند میں ایک منفرد شخصیت کے مالک ہیں  ایام اسیری کے زمانے میں بھی اپنے حافظے کے بل بوتے پر دقیق کتابیں تحریر کرنا انہی کو زیبا دیتا ہے.  مولانا آزاد کی کتاب اصحاب کہف اور یاجوج ماجوج  ان کے وسعت مطالعہ اور سادہ اسلوب کی نمائندہ کتاب ہے جس میں اصحاب کہف اور یاجوج  ماجوج کے واقعات اور حالات سادہ اور عام زبان میں بیان کئے گئے ہیں. مولانا آزاد کی ایک قابل تعریف کتاب ام الکتاب ہے جس میں انہوں نے سورت فاتحہ کی تشریح کی ہے کتاب اپنےحسن  بیان اور قوموں کے عروج زوال کی داستان ہے اور اس میں کائنات کے اسرار و رموزبیان کئے گئے ہیں.مولانا آزاد کی کتاب غبار خاطر جو ان کی  زیادہ شہرت کا سبب بنی تھی  ایام اسیری سے حظ اور لطف و سرور حاصل کرنے کی  داستان ہے.  کتاب  میں فارسی شعراء کے کلام کی بہتات ہے اور زبان و بیان ادق  اور مشکل ترین تراکیب  استعمال کی گئی ہیں. غبار خاطر کتاب کا مطالعہ کرنا اور سمجھنا بہت مشکل ہے. مولانا ابو الکلام کے سیاسی نقطہ نظر سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کی علمی وجاہت  سے انکار کرنا اپنی لا علمی اور کوتاہ نظری کا اظہار کرنا ہے. دور جدید کے مذہبی لکھاریوں میں سے زود نویس لکھاری علامہ طاہرالقادری ہیں جو ایک مخصوص مکتب فکر کی مبالغہ آرائی  کی حدتک نمائندگی کرتے  ہیں. بے شمار کتابیں تحریر کر چکے ہیں جو واقی اعلیٰ علمی معیار پر پورا اترتی ہیں.  طاہرالقادری  کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے پہلے آپ کو تین باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہو گا ایک جب وہ اپنے خواب بیان کرتے ہیں وہ انکے ذاتی تجربات ہوتے ہیں ان پر یقین کرنا قاری کیلئےضروری نہیں ہے اور دوسرے وہ جب حالت منام میں امام ابوحنیفہ سے برسوں تعلیم حاصل کرتے ہیں تیسرے  وہ جوش  خطابت میں غالباً جب وہ مولانا روم اور جنید بغدادی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب مولانا ابھی کم سن تھےبچوں میں بلند چھلانگیں لگانے کا مقابلہ درپیش ا گیا جب مولانا نے جست بھر کر چھلانگ لگائی تو وہ پہلے آسمان سے بھی بلند ہو گئے تھے. اگر علاوہ طاہر القادری کی ان باتوں کو  مجذوب  کی بات سمجھ لیا جائے تو قاری دورحاضر میں ایک نئے اسلوب اور طرزخطابت کے بانی سے آشنا ہو سکتا ہے۔جدید دور  میں اپنی بات پہچانے یعنی ابلاغ کی اہمیت میں صد چند اضافہ ہوا ہے۔ وہ تحریر قابل تعریف گردانی جاتی ہے جس کو سمجھنے  میں آسانی ہوتی ہے اگر لکھاری کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ وہ لغتوں کے بے دریغ استعمال کا فاتح ہے تو قاری اکتا کر واپس پلٹ جاتا ہے . کامیاب تحریر و تقریر وہ ہے جس کی سمجھ سامع اور قاری کو آسانی سے آ جائے دور حاضر کا قاری آسانی پسند ہو گیا ہے وہ آسان زبان کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسے سادہ زبان ہی سمجھ آتی ہے.  اردو ادب میں سادہ  اسلوب نیا نہیں ہے اس کا آغاز غالب کے خطوط سے ہوتا ہے اور اوج ثریا کی منزل سرسید تک حاصل کر لیتا ہے.  دبستان شبلی نے انشاءپردازی کی  جوت  جگائی جس سے اس اسلوب کی رعنائی میں مزید اضافہ ہو گیا. سرسید کی تحریروں  کا مقصد اپنے خیالات کو عوام تک پہچانا تھا خود اپنی ستائش کا مقصد نہیں تھا . مقصدیت اور سادہ زبان کے استعمال کی وجہ سے سرسید  ایک طرز تحریر کے بانی  قرار دیئے جا سکتے ہیں. اقبال کے پیش نظر بھی اپنی بات کا درست ابلاغ تھا وہ شاعری کو بس ذریعہ اظہار  سمجھتے تھے ان کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ ان کو بطور شاعر کیا مقام دیتے ہیں لیکن قدرت کا کرشمہ ہے کہ اقبال شاعری میں خود ایک منفرد یکتا معیار کے موجد بن گئے۔جوش اور عبدالعزیزخالد نے اپنے شاعرانہ کلام میں لغت ہائے عرب و عجم کو کوزہ میں بند کردیا اور مقفل بھی کردیا ہے کچھ لوگوں کے نزدیک محض ادب تخلیق کرنا ہی مقصود حیات بن جاتا ہے عوام الناس عمومی طور پر ان کے مخاطب نہیں ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر سرسید, شبلی نعمانی, امین  احسن اصلاحی ابوالکلام,مولانا مودودی, اس طبقہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو ادبی ذوق کے رسیا تھا اور اپنی توانائیاں علم اور ابلاغ پر صرف کرتے تھے. دوسرا طبقہ جو اسلوب کو ترجیح اول قرار دیتا تھا ان میں علامہ مشرقی, سبط حسن اور دیگر مذہبی علمااور مصنفین شمار کئے جا سکتے ہیں. اردو افسانہ نگاری میں سادگی اور براہ راست گفتگو کا جن کو ملکہ حاصل ہے ان میں پریم چند, منٹو,غلام عباس,احمد ندیم قاسمی شامل ہیں. ان کو پر   لطف زبان استعمال کرنے پر قدرت حاصل تھی. آج کل جید کالم نگاروں میں دو طرح کے لوگ معروف ہیں. ایک طبقہ صحافی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ان کے پیش نظر خبر کا ابلاغ ہے یا تجزیہ ہے. کچھ کالم نگار  اپنے طرز تحریر اور صاحب الرائے ہونے کی بنا پر پڑھے جاتے ہیں.  ان طبقات کے علاوہ ایک تیسرا طبقہ بڑی کثیر تعداد میں موجود ہے جن کا مقصد وحید محض کوئی پیغام رسانی ہوتا ہے اور ادبی حوالے سے بھی بالغ النظر ہوتے ہیں ان کا مقصد رائے یا خیالات کا ابلاغ ہوتا ہے. اس طبقے کے سرخیل سر سید احمد خان ہیں.  مولانا مودودی نے سرسید سے بہترخوبصورت عبارت لکھی ہے. ان کی پوری تحریریں عبارت آرائی اور خودنمائی سے مبرا ہیں. مولانا کا شمار ان صاحب تحریر لوگوں میں ہوتا ہے جو زبان کی صحت کے اعتبار سے سند کا درجہ رکھتے ہیں. دور حاضر میں تحریر و تقریر کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار کا ذکر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی.ڈاکٹر اسرارخطابت کے جوہر آبدار تھے زبان و بیان پر انہیں مکمل کمال عبور حاصل تھا تبلیغ  اسلام میں انہوں نے اپنی تمام زندگی بذریعہ بندگی صرف کردی تھی. اسلاف کی کمال یادگار تھے تصنع و بناوٹ سے بالاتر زندگی گزارنے کے عادی تھے. خدائے بزرگ و برتر انکی کوتاہیوں سے درگزر کرے اور جنت میں اعلی مقام نصیب کرے.بندگی تابندگی کے حوالے سے اگر واصف علی وآصف کا ذکرنہ کیا جائے تو  اہل تزکیہ  اور تصوف کی نمائندگی ادھوری اور نامکمل رہ جاتی ہے اگر آپ واصف علی واصف کی تحریروں کا مطالعہ کریں تو آپ  کو روحانی وجدان کا سرور حاصل ہوتا ہے ان کا ہر لفظ اورفقرہ کسی اور جہاں کا پتہ دیتا ہے۔  بابا اشفاق نے پہلی ملاقات میں واصف علی واصف کی  تحریر پڑھنے کے بعد پوچھا تھا کہ آپ کون ہیں .بابا اشفاق خود بیان کرتے ہیں کہ میں  حیرت و استعجاب کے سمندروں میں غرق ہو گیا تھا.  صاحب فیض لوگوں کی دنیا کے رنگ بھی کہکشاں کی طرح  عجیب و غریب اور دلدار و دلفگار  ہوتے ہیں.
 

تازہ ترین خبریں

حکومت نےتاجر برادری کو بڑی خوشخبری سنا دی

حکومت نےتاجر برادری کو بڑی خوشخبری سنا دی

سبق یاد نہ کرنے پراستاد نے طالبعلم کے ہاتھ پر ڈرل مشین چلادی

سبق یاد نہ کرنے پراستاد نے طالبعلم کے ہاتھ پر ڈرل مشین چلادی

آذربائیجان نےپاکستان کو خوشخبری سنا دی

آذربائیجان نےپاکستان کو خوشخبری سنا دی

فیفاورلڈ کپ ،سعودی ٹیم کے مداحوں کےلیے بری خبرآگئی،اہم ترین کھلاڑی ٹورنامنٹ سےباہر

فیفاورلڈ کپ ،سعودی ٹیم کے مداحوں کےلیے بری خبرآگئی،اہم ترین کھلاڑی ٹورنامنٹ سےباہر

ارشد شریف کالیپ ٹاپ پاس ہے یانہیں ؟مراد سعید نے بتادیا

ارشد شریف کالیپ ٹاپ پاس ہے یانہیں ؟مراد سعید نے بتادیا

پاکستانی نوجوان بھارتی کھلاڑی کو شکست دے کر ایشین اسکریبل چیمپئن بن گئے

پاکستانی نوجوان بھارتی کھلاڑی کو شکست دے کر ایشین اسکریبل چیمپئن بن گئے

رمیز راجہ کے ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کے بیان پر بھارتی وزیر کھیل کا ردعمل سامنے آ گیا

رمیز راجہ کے ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کے بیان پر بھارتی وزیر کھیل کا ردعمل سامنے آ گیا

خضدار اور چاغی میں ٹریفک حادثات،قبائلی رہنماء سمیت کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

خضدار اور چاغی میں ٹریفک حادثات،قبائلی رہنماء سمیت کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ،کتنے افراد ہلاک ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ،کتنے افراد ہلاک ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

جیپ گہری کھائی میں جا گری،ایک ہی خاندان کی کتنی خواتین جاں بحق ہوگئیں ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

جیپ گہری کھائی میں جا گری،ایک ہی خاندان کی کتنی خواتین جاں بحق ہوگئیں ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستانی عوام کو اچھی خبر سنادی 

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستانی عوام کو اچھی خبر سنادی 

امریکانے پاکستان کا خزانہ، پاکستان کو واپس کر دیا

امریکانے پاکستان کا خزانہ، پاکستان کو واپس کر دیا

تمام ارکان اسمبلی چھوڑنے کے لیے تیار ۔۔۔پنجاب کے بعد ایک اورصوبے کی اسمبلی سے بڑی خبرآگئی

تمام ارکان اسمبلی چھوڑنے کے لیے تیار ۔۔۔پنجاب کے بعد ایک اورصوبے کی اسمبلی سے بڑی خبرآگئی

حجاب پہنے پر گھر والے ڈر جاتے ہیں ۔۔ 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی، جس کے والدین غیر مسلم ہیں

حجاب پہنے پر گھر والے ڈر جاتے ہیں ۔۔ 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی، جس کے والدین غیر مسلم ہیں