12:14 pm
اصلی ہیرا

اصلی ہیرا

12:14 pm

ہردن دنیاکی بے ثباتی،مہنگائی کارونا،اپنے اورغیروں کی زیادتیوں پرکڑھنے اوردیگرمصائب سے بھرپورزندگی  کے آلام اورپھرسیاستدانوں کے  شعلہ بھرے بیانات اورجواب میں حکومتی دھمکیوں اورتذلیل بھرے الزامات اوراس پرمستزاددنیامیں  سپرپاور اور دیگرممالک کی غریب ملکوں سے زیادتی کارونالکھتے لکھتے ہاتھ شل ہوتے جارہے ہیں۔اس لئے آج یہ ضروری سمجھاکہ ان موضوعات کوایک طرف رکھتے ہوئے اپنی  انفرادی زندگی کے ہوشربا مسائل سے  آنکھیں چرا کر اپنی اصلاح کی بات ایک چھوٹی سی کہانی سے شروع کروں ، ممکن ہے دل پرپڑے بوجھ میں کمی آجائے۔ 
با دشاہ نے کانچ کے ہیرے اور اصلی ہیرے ایک تھیلی میں ڈال کر اعلان کیا ہے کوئی جوہری جو کانچ اور اصلی ہیرے الگ کر سکے شرط یہ تھی کہ کامیاب جوہری کو منہ مانگا انعام اور ناکام کا سر قلم کردیا جائے گا ۔ درجن بھر جوہری سر قلم کروابیٹھے ۔ کیونکہ کانچ کے نقلی ہیروں کو اس مہارت سے تراشا گیا تھا کہ اصلی کا گمان ہوتا تھا ۔ ڈھنڈہورا سن کر ایک اندھا شاہی محل میں حاضر ہوا فرشی سلام کے بعد بولا کہ وہ ہیرے اور کانچ الگ الگ کر سکتا ہے ۔ بادشاہ نے تمسخر اڑایا اور ناکامی کی صورت میں سر قلم کرنے کی شرط بتائی ۔ اندھا ہر شرط ماننے کوتیار ہوا ۔ ہیروں کی تھیلی اٹھائی اور محل سے نکل گیا ۔ ایک گھنٹے بعد حاضر ہوا اس کے ایک ہاتھ میں اصلی اور دوسرے ہاتھ میں کانچ کے نقلی ہیرے تھے ۔ شاہی جوہریوں نے تصدیق کی  اور اندھا جیت گیا  ۔ 
بادشاہ بہت حیران ہوا اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جو کام آنکھوں والے نہ کر سکے وہ کام ایک نابینا کیسے کر گیا ؟ بادشاہ نے اندھے سے دریافت کیا کہ اس نے اصلی اور نقلی کی پہچان کیسے کی؟ اندھا بولا یہ تو بہت آسان ہے’’میں نے ہیروں کی تھیلی کڑی دھوپ میں رکھ دی پھر جو تپش سے گرم ہوگئے  وہ نقلی تھے اور جو گرمی برداشت کر گئے اور ٹھنڈے رہے وہ اصلی تھے‘‘۔ بادشاہ نے اندھے کے علم کی تعریف کی اور انعام اکرام سے نواز کر رخصت کیا ۔اندھے شخص کی داناوبینانصیحت کایہ واقعہ پڑھ کرمیرا غصہ میری انا میرے دماغ کی گرمی بھی رخصت ہوگئی ۔ مجھے سمجھ آگئی کہ برداشت نرم مزاجی حلیمی متانت محبت ہی انسایت کی معراج ہے ۔ جو گرمی حالات کو سہہ گیا وہ ہیرا جو نہ سہہ سکا وہ کانچ ۔ میں جان گیا تھا کہ اصلی اور نقلی میں صرف برداشت اور سہہ جانے کا فرق ہے ۔ 
لیکن ہمارے ہاں حالات کے مارے ہوئے لوگ تنگ آکرمایوسی کی حالت میں پوچھتے ہیں کہ ’’انسان آخر کب تک برداشت کرے؟کب تک لوگوں کے طعنے سہے؟کب تک اپنے غصے کو پئے؟آخر برداشت کی کوئی حد ہوتی ہے؟‘‘تواس کاسادہ جواب یہ ہے کہ اس وقت سہناہے جب تک ہیرانہ بن جائیں۔ پھر اس کے بعدہیرابننے کے بعدکوئی دباؤ  کوئی آگ کوئی تپش اثرنہیں کرتی۔ جس طرح چکنے گھڑے پر پانی نہیں ٹکتا اسی طرح ’’اصلی‘‘پر کوئی تیر کوئی نشتر کام نہیں کرتا ۔ بندہ جب بندے کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے تو وہ دنیا کے لئے اور دنیا اس کے لئے بے ضرر ہوجاتی ہے ۔اس کے بعدذہن میں یہ سوال انگڑائیاں لینے لگتاہے کہ انسان کوانسان کے ساتھ کیاسلوک کرناچاہئے؟
اس کابہترین جواب درخت سے سیکھناچاہئے کہ جوپھل بھی دیتاہے اور سایہ  بھی، لوگ آتے ہیں اس کے سائے میں سستاتے ہیں پھل کھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ درخت اسی جگہ کھڑا اگلے مسافر کا انتظار کرتا ہے اور ہر آنے والے کی آ ؤ بھگت کرتا ہے ۔ خاموش رہتا ہے کبھی شور نہیں کرتا اپنی عنایات کا اعلان نہیں کرتا ،جتاتا نہیں ۔ اسی طرح بندے کو ہونا چاہئے ۔ کسی آم کے درخت نے  آج تک کبھی اپنا آم چوس کر نہیں دیکھاجس کودنیاپھلوں کابادشاہ گردانتی ہے۔سیب کے درخت نے کبھی اپناپھل نہیں کھایاجس کواس نے یخ کردینے والی سردی اورموسم کی شدت سے بچاتے ہوئے اپنے اوپرسہہ کراسے جوان کیااورآج اپنے حسن،تقویت اوردلکش رنگوں سے پھلوں میں اپنی زینت کاسبب بناہواہے۔ درخت نے دان کرنے کی یہ ادا ماں سے سیکھی ہے جو بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد چار گھنٹے لگا کر گوشت سبزی پیاز پودینے سے ہانڈی پکاتی ہے اور بچوں کے آتے ہی چار گھنٹے کی محنت ان کے سامنے رکھ کر خاموشی سے بچوں کو کھاتا دیکھ کر من ہی من میں خوش ہوتی ہے ۔ ماتھے کا پسینہ دوپٹے کے پلو سے صاف کرکے سلامت رہو تاقیامت کی دعا دیتی ہے ۔ ہم درخت اور ماں کو استاد مان کر سب کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ 
لیکن ہم کیاکرتے ہیں؟میں جس درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا وہ امرود کا درخت تھا میں نے پہلے ایک امرود توڑا وہ کچا تھا پھینک کر دوسرا توڑا وہ کھایا درخت نے مجھے کچھ نہیں کہا پھر میں نے درخت کا کندھا تھپتھپایا وہ خاموش رہا اس کے بعد میں نے درخت کو ٹھوکر ماری چوں تک کی آواز نہ آئی ۔ میں نے درخت کی کئی شاخیں توڑ ڈالیں مجال ہے جو کسکا ہو ۔ اس کے پتے نوچ ڈالے کوئی شکوہ شکایت نہ کی اس نے ۔ میں  نے رخصت ہوتے وقت سلام بھی کیا جواب نہ آیا ۔ میں نے درخت سے اپنے کئے کی معافی بھی مانگی درخت نے مجھے ’’جاوؤمعاف کیا ‘‘کہہ کر شرمندہ تک نہ کیا ۔کمال توتب ہوگااگرہم بھی درخت اورماں کی طرح گونگے ہوجائیں اورصرف پہلے چنددن کی بات ہے،پھراس عمل کی لذت سے آپ بخوبی واقف ہوجائیں گے اوراپنے گردوپیش میں مسکراہٹوں کاایک خوبصورت منظر منتظر پائیں گے۔کریں گے ناں یہ کام !
رہے نام میرے رب کاجس نے آسانیاں تقسیم کرنے والوں سے اپنی محبت کااظہارفرمایا! 

تازہ ترین خبریں

حکومت نےتاجر برادری کو بڑی خوشخبری سنا دی

حکومت نےتاجر برادری کو بڑی خوشخبری سنا دی

سبق یاد نہ کرنے پراستاد نے طالبعلم کے ہاتھ پر ڈرل مشین چلادی

سبق یاد نہ کرنے پراستاد نے طالبعلم کے ہاتھ پر ڈرل مشین چلادی

آذربائیجان نےپاکستان کو خوشخبری سنا دی

آذربائیجان نےپاکستان کو خوشخبری سنا دی

فیفاورلڈ کپ ،سعودی ٹیم کے مداحوں کےلیے بری خبرآگئی،اہم ترین کھلاڑی ٹورنامنٹ سےباہر

فیفاورلڈ کپ ،سعودی ٹیم کے مداحوں کےلیے بری خبرآگئی،اہم ترین کھلاڑی ٹورنامنٹ سےباہر

ارشد شریف کالیپ ٹاپ پاس ہے یانہیں ؟مراد سعید نے بتادیا

ارشد شریف کالیپ ٹاپ پاس ہے یانہیں ؟مراد سعید نے بتادیا

پاکستانی نوجوان بھارتی کھلاڑی کو شکست دے کر ایشین اسکریبل چیمپئن بن گئے

پاکستانی نوجوان بھارتی کھلاڑی کو شکست دے کر ایشین اسکریبل چیمپئن بن گئے

رمیز راجہ کے ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کے بیان پر بھارتی وزیر کھیل کا ردعمل سامنے آ گیا

رمیز راجہ کے ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کے بیان پر بھارتی وزیر کھیل کا ردعمل سامنے آ گیا

خضدار اور چاغی میں ٹریفک حادثات،قبائلی رہنماء سمیت کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

خضدار اور چاغی میں ٹریفک حادثات،قبائلی رہنماء سمیت کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ،کتنے افراد ہلاک ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ،کتنے افراد ہلاک ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

جیپ گہری کھائی میں جا گری،ایک ہی خاندان کی کتنی خواتین جاں بحق ہوگئیں ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

جیپ گہری کھائی میں جا گری،ایک ہی خاندان کی کتنی خواتین جاں بحق ہوگئیں ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستانی عوام کو اچھی خبر سنادی 

پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستانی عوام کو اچھی خبر سنادی 

امریکانے پاکستان کا خزانہ، پاکستان کو واپس کر دیا

امریکانے پاکستان کا خزانہ، پاکستان کو واپس کر دیا

تمام ارکان اسمبلی چھوڑنے کے لیے تیار ۔۔۔پنجاب کے بعد ایک اورصوبے کی اسمبلی سے بڑی خبرآگئی

تمام ارکان اسمبلی چھوڑنے کے لیے تیار ۔۔۔پنجاب کے بعد ایک اورصوبے کی اسمبلی سے بڑی خبرآگئی

حجاب پہنے پر گھر والے ڈر جاتے ہیں ۔۔ 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی، جس کے والدین غیر مسلم ہیں

حجاب پہنے پر گھر والے ڈر جاتے ہیں ۔۔ 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی، جس کے والدین غیر مسلم ہیں