12:16 pm
امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟

امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟

12:16 pm

مذہبی آزادیوں کے حوالہ سے امریکہ کی تازہ رپورٹ قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیربحث ہے۔ چین نے حسب معمول اسے مسترد کر دیا ہے اور پاکستان کے سرکاری حلقے ’’گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل‘‘ کی کیفیت میں ہیں۔ جبکہ یہ کوئی نئی رپورٹ نہیں ہے، امریکہ ہر سال اسی نوعیت کی رپورٹ جاری کرتا ہے اور یہ اس کا ’’روٹین ورک‘‘ ہے۔ البتہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ آخر ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں مذہبی آزادی کے عنوان سے مذہب کے ریاستی اور معاشرتی کردار کے خاتمہ کے لیے مسلسل کوشاں ہیں جسے ’’مذہبی آزادی‘‘ کی بجائے ’’مذہب سے آزادی‘‘ کا ایجنڈا کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اس سلسلہ میں ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے وزیراعظم بلخ شیر مزاری کے نام ایک کھلے خط کی صورت میں ہم نے اس امریکی ایجنڈے کے بارے میں کچھ معروضات پیش کی تھیں جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے مئی ۱۹۹۳ء کے شمارے میں شائع ہوئیں، قارئین کی خدمت میں ایک بار پھر پیش کی جا رہی ہیں۔
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بگرامی خدمت جناب بلخ شیر مزاری ، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ _ مزاج گرامی؟
گزارش ہے کہ روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ اپریل ۱۹۹۳ء میں شائع شدہ آنجناب کے ایک بیان کے حوالہ سے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا اپنی دینی و قومی ذمہ داری سمجھتا ہوں، امید ہے کہ آنجناب ان پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور فرمائیں گے۔ آپ نے اس بیان میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی امریکی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’ہماری حکومت کوشش کر رہی ہے کہ امریکہ کے اس تاثر کا ازالہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ دیکھ رہے ہیں کہ پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو نکالا جا رہا ہے۔‘‘
اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ پشاور میں سالہا سال سے مقیم عرب مجاہدوں کی اچانک گرفتاریاں، حوالات میں ان پر مبینہ تشدد اور انہیں جبرا پاکستان سے نکالنے کی حالیہ کاروائی کا اصل مقصد امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اور اس سے قبل روزنامہ پاکستان لاہور کی ۲۹ اپریل ۱۹۹۳ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ پشاور میں مقیم عرب مجاہدین کے خلاف کاروائی کے لیے ان کی فہرستیں حکومت پاکستان کو امریکی سفارت خانہ کی طرف سے فراہم کی گئی ہے۔
پشاور میں مقیم ان عرب مجاہدین کے بارے میں، جنہیں آپ نے ’’غیر قانونی طور پر مقیم‘‘ کا خطاب دیا ہے، آپ کی خدمت میں متعلقہ اداروں کی طرف سے یقیناً کچھ فائلیں پیش کی گئی ہوں گی جو بیوروکریسی کی روایات کے مطابق یکطرفہ اور مخصوص تاثرات پر مبنی ہوں گی، اس لیے یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو تصویر کے دوسرے رخ سے بھی آگاہ کیا جائے تاکہ اس معاملہ میں آنجناب کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
جناب وزیر اعظم! یہ عرب باشندے دو چار ہفتوں یا چند مہینوں سے پشاور میں قیام پذیر نہیں ہیں بلکہ دس بارہ سال سے اس علاقہ میں رہ رہے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف افغان عوام کے جہاد حریت میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص عرب ملکوں سے آئے ہیں اور جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ جہاد افغانستان میں عملاً شریک رہے ہیں۔ یہ عرب نوجوان افغانستان یا حکومت پاکستان پر بوجھ نہیں بنے بلکہ انہوں نے اپنے ممالک سے جہاد افغانستان کے لیے بے پناہ مالی امداد فراہم کی ہے، ان میں سینکڑوں نوجوان مختلف محاذوں پر جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ہزاروں معذور ہوگئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد آج بھی تمام خطرات سے بے نیاز ہو کر افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں کے درمیان اختلافات کو دور کرانے اور افغانستان کی تعمیر نو میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے شب و روز مساعی میں مصروف ہیں۔
عرب مجاہدین کے ان گروپوں کا پاکستان کو، عرب حکومتوں کو، اور امریکی حکومت کو شروع سے علم ہے لیکن فرق صرف یہ پڑا ہے کہ جب تک ان مجاہدین کی جدوجہد کے کچھ سیاسی مفادات امریکہ کو بھی حاصل ہو رہے تھے، ان کا وجود گوارا تھا، انہیں عرب مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اور ان کی امداد بھی کی جاتی تھی۔ لیکن اب جبکہ ان مجاہدین کے وجود کو امریکہ عالم اسلام میں اپنے عزائم کے حوالہ سے نقصان دہ تصور کرتا ہے، اچانک وہ ’’دہشت گرد‘‘ قرار پا گئے ہیں اور انہیں کچلنے کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ عرب حکومتیں اور حکومت پاکستان بھی سرگرم عمل ہو گئی ہے۔
جناب وزیر اعظم! جہاد افغانستان کے بارے میں بجا طور پر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ افغانستان کی آزادی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت کے تحفظ کی جنگ بھی ہے۔ اس لیے کہ آنجہانی سوویت یونین کا اصل ہدف بلوچستان کے ساحل تک پہنچ کر گرم پانی کے سمندر اور تیل کے چشموں تک رسائی حاصل کرنا تھا، اور بلاشبہ افغان مجاہدین نے اس روسی یلغار کے سامنے لاشوں کی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کر کے پاکستان کی شمال مغربی سرحد کو ہمیشہ کے لیے اس قسم کے خطرات سے محفوظ کر دیا ہے۔ پاکستان کی سالمیت کی اس جنگ میں ان عرب نوجوانوں کا خون بھی شامل ہے اور اس لحاظ سے ان کا شمار ہمارے قومی محسنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کسی لالچ اور مفاد کے بغیر جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ ہماری ملی سالمیت کی اس جنگ میں اپنے مقدس خون کا نذرانہ پیش کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں جہاد کی نئی روح پھونکنے والے اور ازسرنو مسلح جہاد فلسطین کا آغاز کرنے والے عرب نوجوان بھی اسی جہاد افغانستان کے فیض یافتہ ہیں، اور بوسنیا کے مظلوم اور بے بس مسلمانوں کو، جو گاجر مولی کی طرح سرب دہشت گردوں کے ہاتھوں کٹ رہے ہیں، اگر کسی نے عملی مدد فراہم کی ہے اور وہاں پہنچ کر کسی حد تک ان کے دفاع کا بندوبست کیا ہے تو وہ یہی عرب نوجوان ہیں جو ایک عرصہ تک پشاور میں ’’غیر قانونی طور پر مقیم‘‘ رہے ہیں، اور مختلف حیلوں سے بوسنیا پہنچ کر اپنے مظلوم اور لاچار مسلمان بھائیوں کی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔
جناب وزیر اعظم! چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت پاکستان ان عرب مجاہدین کو اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازتی اور ان کی خدمات کو قومی سطح پر خراج تحسین پیش کیا جاتا۔ لیکن ہم احسان فراموشی اور ناقدری کا کس قدر اذیتناک منظر دیکھ رہے ہیں کہ ’’امریکہ کے تاثر کا ازالہ کرنے کے لیے‘‘ ان عرب مجاہدین کے سینوں پر ’’دہشت گرد‘‘ کا میڈل آویزاں کر دیا گیا ہے، انہیں جبرًا پاکستان سے نکال کر ان کے سیاسی مخالفین کی حکومتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، جہاں جیل، تشدد اور اذیت رسانی کا ایک نیا سلسلہ ان مجاہدین کے لیے اپنے خوفناک جبڑے کھولے ہوئے ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

کیا آپ جانتے ہیں مائیکر اوون میں یہ نمبر والے بٹن کیوں ہوتے ہیں؟ جانیں اس میں چھپے ایسے راز جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں مائیکر اوون میں یہ نمبر والے بٹن کیوں ہوتے ہیں؟ جانیں اس میں چھپے ایسے راز جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

کومے میں بیٹی کو جنم دینے والی ماں ۔۔ ماں کی ممتا نے کیسے اپنی ننھی پری کو موت کے منہ سے بچایا؟

کومے میں بیٹی کو جنم دینے والی ماں ۔۔ ماں کی ممتا نے کیسے اپنی ننھی پری کو موت کے منہ سے بچایا؟

عمرہ کرنے کے لئے جا رہا تھا، ڈکیتوں نے گولی مار دی ۔۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتیں ایک اور نوجوان کی زندگی لے گئی

عمرہ کرنے کے لئے جا رہا تھا، ڈکیتوں نے گولی مار دی ۔۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتیں ایک اور نوجوان کی زندگی لے گئی

مفتاح اسماعیل نے نواز شریف کو استعفیٰ پیش کردیا: اسحاق ڈار نئے وزیر خزانہ نامزد

مفتاح اسماعیل نے نواز شریف کو استعفیٰ پیش کردیا: اسحاق ڈار نئے وزیر خزانہ نامزد

یا اللہ! میری ماں کو مسلمان بنا دے ۔۔ خانہ کعبہ میں امی کے لیے دعا کرنے والے نوجوان کی والدہ نے اسلام کیسے قبول کیا؟ ویڈیو وائرل

یا اللہ! میری ماں کو مسلمان بنا دے ۔۔ خانہ کعبہ میں امی کے لیے دعا کرنے والے نوجوان کی والدہ نے اسلام کیسے قبول کیا؟ ویڈیو وائرل

افریقی ملک میں فوجی اڈے پر خود کش دھماکہ،جانی نقصان کی اطلاعات

افریقی ملک میں فوجی اڈے پر خود کش دھماکہ،جانی نقصان کی اطلاعات

مریم نواز کے داماد کے پاور پلانٹ کا معاملہ، اس حوالے سے ماضی میں کیا کچھ ہوا ؟ جانیں

مریم نواز کے داماد کے پاور پلانٹ کا معاملہ، اس حوالے سے ماضی میں کیا کچھ ہوا ؟ جانیں

مفتاح اسماعیل وزیرخزانہ رہیں گے یانہیں ؟نواز شہباز ملاقات میںبڑافیصلہ ہوگیا

مفتاح اسماعیل وزیرخزانہ رہیں گے یانہیں ؟نواز شہباز ملاقات میںبڑافیصلہ ہوگیا

گانے کاستیاناس کردیا۔۔۔ گرباکوئین معروف گلوکار ہ نیہاککڑ سے ناخوش

گانے کاستیاناس کردیا۔۔۔ گرباکوئین معروف گلوکار ہ نیہاککڑ سے ناخوش

نواز شریف کے سکیورٹی گارڈ کا صحافیوں کو دیکھ کر نازیبا اشارہ،عوام میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی

نواز شریف کے سکیورٹی گارڈ کا صحافیوں کو دیکھ کر نازیبا اشارہ،عوام میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی

دریامیں کشتی الٹنے سے کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

دریامیں کشتی الٹنے سے کتنے افرادجاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

زرداری اور شہباز شریف کے علاوہ ایک تیسری وکٹ بھی ہے، اسی وکٹ کو گرانا ہدف ہے: عمران خان

زرداری اور شہباز شریف کے علاوہ ایک تیسری وکٹ بھی ہے، اسی وکٹ کو گرانا ہدف ہے: عمران خان

مقامی کرکٹر کا انتقال: عثمان شنواری کو ٹوئٹ کرکے خیریت سے آگاہ کرنا پڑا

مقامی کرکٹر کا انتقال: عثمان شنواری کو ٹوئٹ کرکے خیریت سے آگاہ کرنا پڑا

عمران خان نے حامد خان کو تحریک انصاف میں اہم عہدہ دیدیا

عمران خان نے حامد خان کو تحریک انصاف میں اہم عہدہ دیدیا