12:02 pm
اپوزیشن… سینٹ میں بھی شکست!!

اپوزیشن… سینٹ میں بھی شکست!!

12:02 pm

٭سینٹ میں بھی اپوزیشن کو شکست، اپوزیشن کے 28 کے مقابلہ میں حکومتی 34 ووٹ! اپوزیشن کا شدید ہنگامہO بھارت، کسانوں کے بارے میں تمام متنازع قوانین منسوخ، کسانوں کا جشن، بی جے پی مخالف سیاسی حلقوں کی وزیراعظم پر شدید تنقید!O اسلامی نظریاتی کونسل کی مخالفت پر مجرم کو نامرد کرنے کا قانون ختمO ملک بھر میں ٹک ٹاک پر پابندی ختم! Oسٹیٹ بینک: شرح سود میں پونے دو فیصد اضافہ چھ فیصد سے پونے آٹھ فیصد، صنعت کاروں کا سخت احتجاجO ڈالر:177 روپےO آصف زرداری لاہور میں سیاسی سرگرمیاں۔
٭مرے کو مارے شاہ مدار!! اپوزیشن کو ایک اور جھٹکا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد سینٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود شکست!! یہ شکست حکومت کی کارکردگی پر نہیں، خود اپنی نااہلی پر ہوئی۔ اس کے 51 ارکان میں سے بہت سے (23)غیر حاضر تھے۔ حکومت نے فائدہ اٹھایا اور اپنے 35 ارکان کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر حکومت کے پیش کردہ تین ہنگامی بل منظور کرا لئے۔ اپوزیشن کے حاضر ارکان شور مچاتے رہ گئے۔ سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کی موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی سے سخت جھڑپ بھی ہوئی مگر مشترکہ اجلاس کی طرح سینٹ کے اجلاس میں بھی شور شرابے میں حکومتی بل منظور کر لئے گئے۔ پے درپَے ان شکستوں کی ذمہ داری خود اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے۔ اس میں شامل پارٹیاں آپس میں ہی دست و گریبان ہیں۔ ایک دوسرے کو گالیاں بے شرمی کے طعنے دے رہی ہیں۔ سینٹ میں اپوزیشن کی 51، تحریک انصاف اور اتحادیوں کی 42 نشستیں ہیں۔ چھ آزاد ارکان  دلاور گروپ پہلے اپوزیشن کے ساتھ تھا، اس سے کوئی ’فائدہ‘ نہیں ہو رہا تھا، اب وہ بھی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ اس سے پہلے سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب پر اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے سے لڑنے کی بنا پر شکستیں کھاتی چلی آ رہی ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں واضح شکست سے ان پارٹیوں کی کارکردگی مزید حوصلہ شکن ثابت ہو رہی ہے۔ یہ شکستیں حکومتی کارکردگی کی بنا پر نہیں، اپوزیشن کی اپنی نااہلی اور اشتہار کی بنا پر ہو رہی ہیں۔ اس پر خود پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما  چودھری اعتزاز احسن کا تبصرہ درست ہے کہ اپوزیشن کی نااہلی سے نااہل حکومت مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور وہ پانچ سال آسانی سے پورے کر لے گی۔ عام سی بات ہے کہ سینٹ میں 9 ووٹوں کی معقول اکثریت والی اپوزیشن کے سینٹ کے اجلاس میں اکٹھے23 ارکان کیوں غیر حاضر تھے!! شطرنج کے حکومتی کھلاڑیوں نے اس کمی کا بروقت فائدہ اٹھایا۔ سینٹ میں تو ایک ہی بل پیش ہونا تھا، اپوزیشن کے ارکان کی کم تعداد دیکھ کر ایسے مزید سات  بل پیش کر دیئے جنہیں اپوزیشن کی دستاویزی اکثریت کے باعث پیش نہیں کیا جا رہا تھا۔ ان سات میں سے چار بل منظور ہو گئے اور چار بل قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے گئے۔ اپوزیشن کی اس بدحالی پر مرحوم اعزاز احمد آـر کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ تیز بارش کے دنوں میں کچے مکانوں کی لپائی کی تھی تو اس کا نتیجہ بھی دیکھ لو!!
٭قارئین کرام! ادھر پاکستان کی اپوزیشن پے درپے شکستوں سے دوچار ہے تو دوسری طرف نریندر مودی کی حکومت کو بھی ایک عبرت ناک شکست اور پسپائی پیش آ گئی ہے۔ ایک سال قبل مودی حکومت نے کسانوں کے بارے میں تین ایسے قوانین منظور کئے جن سے کسانوں کو بڑی بڑی زرعی کمپنیوں کا محتاج بنا دیا گیا۔ کسانوں کی ایک سال سے زیادہ کی ہڑتالوں، دھرنوں، دہلی پر بار بار چڑھائی اور ملک بھر کی ٹرینیں اور سڑکیں بند کئے جانے سے عاجز اور مجبور ہو کر نریندر مودی نے اچانک ان تینوں قوانین کو منسوخ کر دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پر خود مودی کی پارٹی بی جے پی اور اس کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں سخت مشکل کی زد میں آگئی ہیں۔ نریندر مودی نے جمعہ کے روز اچانک ٹیلی ویژنوں پراعلان کیا کہ میں نے کسانوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے پورے خلوص کے ساتھ جو تین قوانین نافذ کئے تھے انہیں ملک کی بہتری اور بھلائی کے جذبہ سے واپس لے رہا ہوں۔ بھارت کے مبصرین اور تجزیہ کار مودی کے اس اقدام کو اس کی پارٹی اور حکومت کی تاریخی اور شرم ناک ذلت آمیز پسپائی قرار دے رہے ہیں۔ ان مبصرین کے مطابق نریندر مودی حکومت کی کسانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں سے 700 مظاہرین ہلاک، بے شمار زخمی اور گرفتار ہو گئے۔ ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اب اسے ان 700 ہلاک شدگان کے لواحقین کو اربوں کا معاوضہ بھی دینا ہو گا۔ جب کہ کرونا کے باعث چار لاکھ 65 ہزار افراد کی ہلاکت، اب ڈینگی کے تباہ کن پھیلائو سے خالصتان کی تحریک، چین کے ساتھ جنگی جھڑپوں، روس اور امریکہ سے کھربوں کے ہتھیاروں کی خریداری اور ملک بھر میں بار بار شدید طوفانی بارشوں اور سیلابوں کے ساتھ حال ہی میں لکھیم پور میں حکومتی وزیر کی گاڑیوں سے چار مظاہرین کو گاڑیوں سے کچل کر ہلاک کرنے کے واقعہ کے علاوہ تری پور میں مائو بغاوت نے بی جے پی کی حکومت کو بدحواس اوار کھوکھلا کردیا ہے۔
٭قارئین کی اطلاع کے لئے اگلے برس یو پی اور بھارتی پنجاب میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آرہے ہیں۔ یو پی میں اس وقت بی جے پی اور پنجاب میں اس کی مخالف کانگریس کی حکومت ہے۔ اس صوبہ میں پہلے ہی بی جے پی نہائت کمزور ہے۔ اوپر سے خالصتان کی تحریک زور پکڑ گئی ہے! مزید یہ کہ کسانوں کے مظاہروں میں پنجاب کے سکھوں نے اکثریتی کردار ادا کیا۔ اب خالصتان کی تحریک کے ساتھ سکھوں کے کرتار پور گوردوارے کو بھی کھولے جانے کا مطالبہ منظور کرنا پڑا، پاکستان میں واقع اس گوردوارے کی راہداری کو مودی حکومت نے مختلف بہانوں سے ڈیڑھ سال سے بند کر رکھا تھا، سکھوں کا رویہ سخت ہو جانے پر مودی حکومت کو یہ اس راہداری کو افراتفری میںکھولنا پڑا ہے۔ صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گوردوارہ کی راہداری کھلتے ہی اس میں ہزاروں سکھوں کے ساتھ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ، ڈپٹی وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے آٹھ ارکان گوردوارے میں پہنچ گئے جہاں پاکستان پنجاب کے وزرا اور دوسرے اہم حضرات نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ یہ باتیں مودی حکومت کو کیسے برداشت ہو سکتی ہیں؟ آج بیشتر کالم دو باتوں کی نذر ہو گیا مگر یہ دونوں باتیں دونوں طرف آئندہ بننے والے نقشہ کی اہم نشاندہی کرتی ہیں۔
٭چودھری شجاعت حسین کی شدید علالت کو کئی دن گزر گئے، کراچی سے آ کر آصف زرداری اور بلاول زرداری، وزیراعظم، وزرا اور بیشتر اہم شخصیات نے لاہور میں زیر علاج چودھری صاحب کی عیادت کر لی تو کسی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھی بتا دیا کہ ان کے دفتر سے صرف نصف کلومیٹر کے فاصلے پر حکومت کے اتحادی بزرگ رہنما چودھری شجاعت سخت بیمار ہیں اور آکسیجن لگی ہوئی ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ چودھری صاحب کو ملنے کے لئے ان کی مخالف پارٹیوں کے رہنما بھی جا چکے ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ نے بھی ہسپتال جا کر چودھری صاحب کی عیادت کر لی۔ اس پر کیا لکھا جائے؟
 

تازہ ترین خبریں

حلقہ این اے 118 میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج

حلقہ این اے 118 میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج

کپتان نے شہباز گل کے حوالے سے کیاکہاتھااورکس اہم ترین وزیرنےا ن کی بات کی تردیدکردی

کپتان نے شہباز گل کے حوالے سے کیاکہاتھااورکس اہم ترین وزیرنےا ن کی بات کی تردیدکردی

جشن آزادی کی تقریب  میں ایسی بے حیائی ہوئی کہ میں نے ٹوپی اتار کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لی

جشن آزادی کی تقریب میں ایسی بے حیائی ہوئی کہ میں نے ٹوپی اتار کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لی

عمران  کے کراچی آنے سےپیپلز پارٹی کی کا نپیں ٹانگناشروع ہوگئیں ،زرداری صاحب اب آپ نے گھبرانانہیں ،فواد چوہدری

عمران کے کراچی آنے سےپیپلز پارٹی کی کا نپیں ٹانگناشروع ہوگئیں ،زرداری صاحب اب آپ نے گھبرانانہیں ،فواد چوہدری

 کینسر سے انتقال کرنے والے ہاشم رضا نے موت سے چند دن پہلے معافی مانگتے ہوئے کیا خواہش کی تھی؟

کینسر سے انتقال کرنے والے ہاشم رضا نے موت سے چند دن پہلے معافی مانگتے ہوئے کیا خواہش کی تھی؟

اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تومیں اس فیصلے میں شامل نہیں ،نواز شریف کی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی سخت مخالفت

اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تومیں اس فیصلے میں شامل نہیں ،نواز شریف کی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی سخت مخالفت

۔۔ یہ کس مشہور شخصیت کی تصویر ہے جسے ان کے قریبی لوگ بھی نہیں پہچان پاتے؟

۔۔ یہ کس مشہور شخصیت کی تصویر ہے جسے ان کے قریبی لوگ بھی نہیں پہچان پاتے؟

۔ شادی کے 2 سال بعد بیوی کو نظر آنا بند ہوا تو شوہر نے شریک حیات ساتھ کیا سلوک کیا؟

۔ شادی کے 2 سال بعد بیوی کو نظر آنا بند ہوا تو شوہر نے شریک حیات ساتھ کیا سلوک کیا؟

پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل منظور

پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل منظور

سوناایک مرتبہ پھرمہنگا،فی تولہ قیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،شادی کاارادہ کرنے والے افرادکے لیے بری خبرآگئی

سوناایک مرتبہ پھرمہنگا،فی تولہ قیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،شادی کاارادہ کرنے والے افرادکے لیے بری خبرآگئی

افسران کی موجیں ختم۔۔۔پنجاب حکومت نے بڑافیصلہ کرلیا

افسران کی موجیں ختم۔۔۔پنجاب حکومت نے بڑافیصلہ کرلیا

’’شہبازگل کو ننگا کرکے مارا گیا‘‘ عمران خان اور پرویز الٰہی آمنے سامنے

’’شہبازگل کو ننگا کرکے مارا گیا‘‘ عمران خان اور پرویز الٰہی آمنے سامنے

روہڑی بائی پاس پر کوچ اُلٹ گئی، خواتین و بچوں سمیت کتنے مسافر جاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

روہڑی بائی پاس پر کوچ اُلٹ گئی، خواتین و بچوں سمیت کتنے مسافر جاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ستمبر یا اکتوبر میں وطن واپسی،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف لاہورکے بجائے کس شہرکواپنامسکن بنائیں گے

ستمبر یا اکتوبر میں وطن واپسی،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف لاہورکے بجائے کس شہرکواپنامسکن بنائیں گے