12:59 pm
جنوبی ایشیا میں مذاہب

جنوبی ایشیا میں مذاہب

12:59 pm

عالمگیریت، جس میں مختلف نسلوں، ثقافتوں، مذہبی پس منظروں، اقدار اور عالمی نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا باہمی تعامل، ہم آہنگی
عالمگیریت، جس میں مختلف نسلوں، ثقافتوں، مذہبی پس منظروں، اقدار اور عالمی نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا باہمی تعامل، ہم آہنگی اور اختلاط شامل ہے، نے قومی ریاستوں پر مشتمل دنیا کو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ پڑوس میں 'دوسرے' کی بڑھتی ہوئی موجودگیوں سے تناؤ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، شناخت کے حوالے سے بے اطمینانی پھیل جاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں سماج، ثقافتی رسوم اور مذہبی دنیا کے تناظرات میں اپنی وراثتی پوزیشنز برقرار رکھنے کے لیے ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری اس توقع کے باوجود کہ اکیسویں صدی بیسویں صدی کی خوفناک جنگوں پر قابو پا لے گی، اور یہ امن کی صدی ہوگی، لیکن آج ہم جو دنیا اور جنوبی ایشیا میں دیکھ رہے ہیں، وہ امن سے بہت دور ہے۔ اس کی متعدد وجوہ میں مختلف مذاہب کی موجودگی شامل ہے، اور وہ متعلقہ عالمی تناظرات، اور اقدار جن کو یہ مذاہب فروغ دیتے ہیں۔ دراصل میرے مذہب کے مقابلے میں دوسرے مذاہب کا یہ بظاہر ''دوسرا پن'' ہی بہت سی غلط فہمیوں، ردّوں اور تعصبات کی جڑ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب سمیت پوری دنیا کے تعلیمی نظام نے اب تک نوجوان نسل کو مختلف مذاہب کے نظریات و اقدار، ثقافت اور تاریخ سے آگاہ کرنے سے گریز کیا ہے، آج کل جن کا ہم کسی نہ کسی حد تک سامنا کرتے ہیں۔ دوسرے کو نہ جاننا ہماری سمجھ کو کافی حد تک روک دیتا ہے۔
اگر قبول نہ بھی کرنا ہو تو ''دوسرے'' مذہب کو سمجھنا بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے، جب ہمیں کم از کم یہ بنیادی فہم حاصل ہو کہ یہ سارا معاملہ کس چیز سے متعلق ہے۔ مزید یہ کہ ہماری جدید دنیا کی طاقت (یعنی اپنی تمام شکلوں کے ساتھ میڈیا) اکثر قابل اعتماد معلومات کو فروغ دینے کی بجائے کنفیوژن پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر برصغیر کے حالات کے لیے درست ہے۔ جنوبی ایشیا نہ صرف مختلف مذاہب اور فرقوں کی حیرت انگیز اقسام کا گھر ہے، بلکہ یہ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت جیسے مذاہب کی جائے پیدائش بھی ہے۔ باہر سے آنے والے مذاہب اسلام، زرتشت اور عیسائیت نے یہاں کے مقامی نظامِ عقیدہ میں ایک آزاد جنوبی ایشیائی نوع کا اضافہ کیا ہے۔
مختلف مذاہب صدیوں سے کم و بیش پرامن طور پر ایک ساتھ رہ رہے تھے، لیکن پھر نوآبادیاتی دور میں، خاص طور پر انیسویں صدی میں، مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان بہت سے تحفظات پیدا کیے گئے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ چیزوں کو دوئی کے طرز نگاہ سے دیکھنے کا برطانوی اور/یا یورپی طریقہ تھا،برطانوی ہندوستان میں مردم شماری کی شروعات ایک نکتہ آغاز ثابت ہوا۔ سوال نامے میں جن سوالات کا جواب دینا تھا ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ تجویز کنندہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ گجرات کی 1911 کی مردم شماری میں دو لاکھ لوگوں نے خود کو ’محمڈن ہندو‘ بتایا، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ یا تو انھوں نے پہلے کبھی اس سوال کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا یا وہ اس فرق کو نہیں سمجھتے تھے۔ 
لیکن یہ امتیازات جلد ہی اہمیت اختیار کر گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب انگریزوں نے سیاسی زندگی میں اقلیت اور اکثریت کا تصور متعارف کرایا۔ اگرچہ ہچکچاتے ہوئے لیکن 1857 کی بغاوت کے بعد انگریزوں نے برٹش انڈیا کی حکمرانی میں نمائندگی اور بعد ازاں انتخابات کو متعارف کرایا۔ بلاشبہ یہ جمہوریت نہیں تھی، جس میں تمام آبادی شامل ہوتی ہے۔ ووٹ ڈالنے کے حقوق مخصوص اہلیت کے معیارات تک محدود تھے، جیسا کہ جائیداد کی ملکیت، زمین کی ملکیت، انکم اور میونسپل ٹیکس کی ادائیگی۔ پورے ہندوستان کے امیر طبقے کو شامل کرتے ہوئے، اس نے شہری غریبوں اور زیادہ تر دیہی آبادی کو پکے طریقے سے باہر رکھا۔ پڑھے لکھے ہندوستانیوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ایک سیٹ جیتنے کے لیے آپ کو اپنے حلقے میں اکثریت کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ ہندوستان کی آبادی کا صرف 20 سے 25 فی صد حصہ ہوتے ہوئے ایک مسلمان کے پاس صرف ایک نشست جیتنے کا ایک معمولی سا موقع تھا، کیوں کہ وہ دوسری برادریوں سے ووٹوں کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔ سر سید احمد خان نے 1887 میں لکھنؤ میں اپنی تقریر میں اس کا اظہار اس طرح کیا: ''اور آئیں سب سے پہلے فرض کریں کہ ہمارے پاس آفاقی حق رائے دہی ہے، جیسا کہ امریکہ  میں، اور یہ کہ ہر ایک یعنی چمار اور سب کے پاس ووٹ ہیں۔ اور پہلے یہ فرض کریں کہ تمام محمدی الیکٹرز ایک محمدی ممبر کو ووٹ دیتے ہیں، اور تمام ہندو ووٹر ایک ہندو ممبر کو۔ اور اب شمار کریں کہ محمڈن کے کتنے ووٹ ہیں اور کتنے ہندو کے۔ یہ یقینی ہے کہ ہندو ارکان کی تعداد چار گنا زیادہ ہوگی، کیوں کہ ان کی آبادی چار گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ ہم ریاضی سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہر ایک محمدی ووٹ کے مقابلے میں ہندو کے لیے چار ووٹ ہوں گے۔ تو ایسے میں ایک محمڈن اپنے مفادات کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے؟ یہ پھانسے کے کھیل کی طرح ہو گا جس میں ایک آدمی کے پاس چار پانسے ہوتے ہیں اور دوسرے کے پاس صرف ایک''۔ حتیٰ کہ اگر یہ گنتی درست نہ ہوتی، پھر بھی یہ حقیقت سے بالکل میل کھاتی ہے۔ سرسید جیسے مسلم خاندان جو اپنی ریاستوں کے سابق حکمران تھے، جدید ہندوستان کی سیاسی اشرافیہ کا حصہ نہ بننا قبول نہیں کر سکتے تھے۔ یوں، مختلف برادریوں کے درمیان دشمنی، خاص طور پر مذہبی، بنیادی طور پر سیاسی تھی، جسے اکثریتی نظام نے پیدا کیا تھا۔
آج اُس دور سے شروع ہونے والے مذہبی تعصبات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جب عقیدہ اور،یا رسومات میں اختلافات پرتشدد شکل اختیار کر لیتے ہیں، اور ریاست کو (غیر جانبداری سے دور) حالات سے نمٹنے کے لیے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ برداشت کا نظریہ پرے دھکیل دیا گیا ہے اور ''میرا راستہ یا شاہراہ'' والا رویہ جنوبی ایشیا میں راج کر رہا ہے۔ اس صورت حال سے ہمارے ذہن میں جنوبی ایشیا کے مذاہب کا الگ الگ اور قریب سے جائزہ لینے کا خیال آیا۔ اس طرح مضامین کی اس نئی سیریز جنوبی ایشیا میں ہندومت، بدھ مت، جین مت، اسلام، زرتشت، سکھ مت اور عیسائیت کے بارے میں بات کی جائے گی۔ اس سیریز میں برصغیر میں ان مذاہب کے ظہور کی ترتیب کی پیروی کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کی  1.9  ارب آبادی میں دنیا کی سب سے بڑی ہندو آبادی ( 1.0  ارب) تھی، جین ( 4.25  ملین) اور 21 ملین سکھ تھے، تقریباً 600 ملین مسلمان، نیز 25 ملین سے زیادہ بدھ مت اور 35 ملین عیسائی تھے۔ ہندوستانی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 68 فی صد تھا، اور مسلمان 31 فی صد تھے، جب کہ باقی میں بدھ، جین، عیسائی اور سکھ شامل تھے۔ تاہم ہندوستان کی ہندو آبادی میں 200 ملین دلت (اچھوت) اور تقریباً 100 ملین پہاڑی قبائل شامل تھے۔ دنیا کے تقریباً ایک تہائی مسلمانوں کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔ حتیٰ کہ ان مذاہب کی وسیع جمعیتوں کے اندر بھی سینکڑوں فرقے، مسلک یا تحریکیں موجود ہیں، جن میں سے آج کل کچھ کا سیاسی اطلاق بھی کیا جا رہا ہے۔ امید کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک مذہب کی تفصیلات کا بغور جائزہ لینے سے، ہم نہ صرف اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ سیکھ سکتے ہیں، بلکہ وسیع قسم کے خیالات میں کچھ مشترکہ خیالات کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟  حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط  کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا