01:43 pm
ذرانہیں مکمل سوچئے!

ذرانہیں مکمل سوچئے!

01:43 pm

آپ نے اکثردیکھاہوگاکہ جتنی بڑی گاڑی ہے اسی قدراس کی نگہداشت کاساماں موجود! کسی شیڈکے نیچے یاچھائوں میں ایک طرف یاکسی پورچ میں۔ ڈرائیوروقفے وقفے سے اسے دیکھتا بھالتا اورکبھی کبھی تھوڑی سی بھی غیر ضروری  گرد کو صاف کرتا رہتاہے۔اتنے میں بڑا دروازہ کھلتا ہے، ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے۔ چپڑاسی بریف کیس اور صبح کی اخباروں کا بنڈل ہاتھ میں لئے باہرآتاہے اور اگرکوئی ضروری فائل ہوتووہ بھی سا تھ ہوتی ہے۔ ڈرائیورکے پیچھے والی سیٹ کادروازہ کھول کر وہاں یہ سامان انتہا ئی سلیقے کے سا تھ رکھ دیاجاتا ہے۔ پھرڈرائیور کے سا تھ والی سیٹ کو زور لگا کر ممکن حدتک آگے کردیاجاتاہے تاکہ پچھلی سیٹ کے سامنے کافی جگہ آرام سے ٹانگیں پھیلانے کے لئے  میسر آجائے۔گرمی کاموسم ہوتو صاحب کے آنے سے پہلے ہی گاڑی کا ائرکنڈیشنزچلادیا جاتاہے تاکہ دفتراورگاڑی کے درمیان کاچندگزکے فاصلے کی حدت فوری طورپرکا فورہوجائے حالانکہ گاڑی چوکس حالت میں ممکن حد تک دروازے کے قریب لاکرکھڑی کردی جاتی ہے۔
صاحب بہادرایک شان بے نیازی سے برآمد ہوتے ہیں۔ارد گردموجودلوگ ایک دم ساکت  وجامدہوجاتے ہیں۔گفتگوکرنے والا گفتگو  بھول جاتاہے،بے ترتیب یونیفارم والاٹوپی سیدھی کرلیتا ہے اورسگریٹ پیتاہواشخص سگریٹ پھینک دیتا ہے  یاپھرکہیں چھپادیتا ہے۔پچھلا دروازہ جو ڈرائیور سے دوسری سمت والاہے اسے کھول کرکوئی شخص کھڑا ہوتاہے۔ صاحب بہادرتشریف رکھتے ہیں۔ تمام لوگوں کے ہا تھ فوری طورپرسلام کرنے کے لئے  ماتھے کی طرف بڑے ادب کے ساتھ  اٹھتے ہیں ۔ اشاروں کامنتظرگاڑی کو خراماں نکالتاہوامنظر سے جب تک غائب نہیں ہوجاتایہ تمام خادمین وہاں سے ہلنے کی جرات نہیں کرتے۔پوراراستہ صاحب  بہادر یاتواخباروں کی ورق گردانی کرتے ہیں، موبائل فون پرکسی کواحکام صادرکررہے ہوتے ہیں یا پھر بیگم کی فرمائش کوپوراکرنے کاوعدہ وعید ہورہا ہوتا ہے۔اگروقت بچ جائے توکسی فائل کی روگردانی شروع کردی جاتی ہے۔اس پورے سفر میں ڈرائیور کی حیثیت ایک پرزے سے زیادہ نہیں ہوتی۔یوں لگتاہے کہ کمپنی نے سٹیرنگ، گیئر یاسیٹ کی طرح اسے بھی وہاں فکس کردیاہے جسے صرف احکامات سننے اوراس پرعمل کرناہے۔ وہاں روک  دو،ادھرلے چلو،میرا انتظارکرو،میں واپس آرہا ہوں۔مجھے دوتین گھنٹے لگیں گے اوروہ ڈرائیور اپنی سیٹ سے فوری چھلانگ لگاکرباہرنکل کر دروازہ کھولتاہے اورروبوٹ کی طرح سرہلا کر یا پھر منہ سے سعادت مندی کے الفاظ نکالتا رہتا ہے۔
یہ منظرآپ کوہراس دفتریاادارے کے باہر ملے گاجہاں کوئی ایک صاحب اختیارتشریف رکھتا ہے۔کسی سرکاری یاغیرسرکاری کا کوئی امتیاز نہیں۔ وزیرکادفتریاسیکرٹری کا،جرنیل کا ہیڈ کوارٹر یاعدلیہ کی عمارت،کسی پرائیویٹ کمپنی کے دفاتر ہوںیا بینک کی شاندارعمارت،سب جگہ صاحبان  طاقت اوروالیان حیثیت کے لئے  ایک ہی سیٹ مخصوص ہے۔ان کی گا ڑی کہیں پہنچے لوگ وہی دروازہ کھولنے کے لئے  لپکتے ہیں۔
میں یہ سب منظردیکھتاہوں تواکثریہ سوال   میرے ذہن میں اٹھتاہے کہ یہ سب لوگ ڈرائیور کی سا تھ والی سیٹ پرکیوں نہیں بیٹھتے؟ کیا وہ  آرام دہ نہیں؟کیاوہاں ائرکنڈیشنڈکی ہوا صحیح نہیں پہنچتی؟ کیاوہاں سے راستہ،اردگردکی عمارتیں یا لوگ ٹھیک سے نظرنہیں آتے؟لیکن ان سب سوالوں کاجواب تونفی میں ملتاہے۔یہ سامنے والی سیٹ  زیادہ آرام دہ اور زیادہ ٹھنڈی بھی ہے۔باہرکا منظربھی صحیح نظر آتاہے۔توپھریہ سیٹ خالی کیوں رہتی  ہے یاپھراس پرسٹاف آفیسریاپی اے کوکیوں بٹھایاجاتاہے؟
یہاں کہانی اس نفرت کی ہے۔یہ داستان اس تکبرکی ہے جس میں ڈرائیورکی حیثیت ایک انسان سے کم ہوکربادشاہوں کے رتھ اور مہاراجوں کی بڑی بڑی سواریاں چلانے والوں کی ہواکرتی تھی۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک اعلیٰ مرتبہ اور مقام رکھنے والی شخص ڈرائیورکے برابرمیں آکربیٹھ جائے اور دیکھنے والے ان دونوں کے درمیان تمیزتک نہ کر سکیں کہ کون افسر ہے اور کون معمولی حیثیت کا ڈرائیور۔ایک زمانہ ان متکبر افسران اوروزرا،جرنیل اوراعلی عہدیداروں پر ایسا آیاکہ ان کوچھوٹی سی سوزوکی پر سفر کرنا پڑا۔ جس کی پچھلی سیٹ انتہائی بے آرام اورکم جگہ والی تھی لیکن تکبراپناراستہ خودبناتاہے اوراس طریقہ کو  رائج کرنے والوں کوبے شمارصلواتیں سنانے کے بعدآقااورمالک کی تمیزکوبرقراررکھنے کے نئے نئے طریقے دریافت کئے گئے۔اگلی سیٹوں کومکمل طورپرفولڈکیاجانے لگا۔
یہ روّیہ ان ساری قوموں پرگزراہے جنہوں نے انسانوں کوغلام اورمحکوم بنانے کے ڈھنگ ایجادکئے تھے۔امریکہ میں’’جم کرو‘‘کے قوانین کے تحت بسوں تک میں کالوں کی سیٹیں گوروں کی سیٹوں سے نہ صرف الگ ساخت کی ہوتی تھیں بلکہ آگے ہوتیں اوراگرکوئی کالااگلی سیٹ پربیٹھ جاتا تواسے گولی سے اڑا دیا جاتا اور اگرکوئی گورا پچھلی سیٹ پربیٹھ جاتا تو اسے طعنے مار مار کر  اس سے ناتا توڑلیاجاتا۔لندن کے بازاروں میں آج بھی کالے رنگ کی ٹیکسیوں کارواج ہے جس میں ڈرائیورکی سیٹ اورسواریوں کے درمیان ایک شیشے کی دیوار کھڑی کردی جاتی ہے جس کی کھڑکی صرف سواری کھول سکتی ہے تاکہ ڈرائیور کی حیثیت ،مرتبہ اور اس سے بات کرنے کا تعین بھی  وہی کرے جو پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے۔ صدیوں تک فرعونوں ، شہنشاہوں،آمروں، ڈکٹیٹروں اور ان کے چھوٹے چھوٹے کارپردازوں کی سواریاں بھی ایسی تھیں کہ ان کاعام لوگوں سے کوئی تعلق نہ رہے۔دھول اڑاتی یہ سواریاں جہاں عوام الناس کامذاق اڑاتی تھیں وہاں ان سواریوں پرسفرکرنے والے بھی انسانوں کے درمیان تمیز،فرق اور آقاوغلام کے قانون میں بٹے ہوئے تھے۔
تکبر،غروراورکراہت دوری کے اس ماحول میں پتہ نہیں کیوں مجھے اپنا ماضی اوراسلاف کا وہ معیارآنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ روم  کے بادشاہوں کی طر ح رہن سہن اورلباس پہننے والوں عیسائیوں کے بیت المقدس  حوالے کرنے کے موقع پرپھٹے پرانے کپڑے پہننے والے خلیفہ وقت عمرابن الخطاب کاانتظارتھا۔ایک گھوڑا جس کے سم گھس کر بیکار ہوچکے تھے۔رک رک کر قدم رکھتا تھا۔طے پایاکہ آدھاراستہ غلام سواری کرے گااور آدھاراستہ خلیفہ وقت۔بیت المقدس قریب آیاتوباری غلام کی آگئی اور پھر تاریخ نے انسانی احترام کاایک عجیب وغریب منظر دیکھا۔غلام گھوڑے پراورخلیفہ وقت باگ تھامے بیت المقدس میں داخل ہوئے۔شاہی کروفر اور لباس  پہنے رومی عیسائی بے ساختہ صرف ایک فقرہ بول سکے کہ ایساہی شخص عزت کامستحق ہے اور ایسے ہی شخص کوفتح نصیب ہواکرتی ہے۔اس تاریخی فقرے کے بعدبھی اگرکوئی مجھ سے سوال کرتا ہے کہ ہم دنیامیں ذلیل اوررسوا کیوں ہیں، بے آسراکیوں ہیں تومجھے کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

پاکستانی لٹے گئے۔۔ ایک ہی دن میں عوام کے 3کھرب روپے سے زائد ڈوب گئے، بڑے بڑےبزنس مین کنگال ،

پاکستانی لٹے گئے۔۔ ایک ہی دن میں عوام کے 3کھرب روپے سے زائد ڈوب گئے، بڑے بڑےبزنس مین کنگال ،

دسمبر میں کب کہاں اور کتنی بارش متوقع ہے؟موسمیاتی ادارے نے پیشنگوئی کر دی

دسمبر میں کب کہاں اور کتنی بارش متوقع ہے؟موسمیاتی ادارے نے پیشنگوئی کر دی

اعتزاز احسن شریف خاندان پر پھٹ پڑے،نواز شریف کو ریلیف ملنے کا بھانڈا پھوڑ دیا

اعتزاز احسن شریف خاندان پر پھٹ پڑے،نواز شریف کو ریلیف ملنے کا بھانڈا پھوڑ دیا

خراب معاشی صورتحال پر وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹادیاگیا، نیا وزیر ِ خزانہ تعینات

خراب معاشی صورتحال پر وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹادیاگیا، نیا وزیر ِ خزانہ تعینات

چھٹیاں ہی چھٹیاں ۔۔ حکومت نے ایک بار پھر تعلیمی ادارےبند کرنے کا اعلان کردیا،والدین اور بچوں کے لیے بڑی خبر

چھٹیاں ہی چھٹیاں ۔۔ حکومت نے ایک بار پھر تعلیمی ادارےبند کرنے کا اعلان کردیا،والدین اور بچوں کے لیے بڑی خبر

لوگوں کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے اس لیے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کیلئے شاندار اعلان کردیا،عوام خوش ،اپوزیشن کی صفوں میں افسردگی

لوگوں کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے اس لیے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کیلئے شاندار اعلان کردیا،عوام خوش ،اپوزیشن کی صفوں میں افسردگی

چیتا کلاس روم میں گھس گیا۔۔ حملے میں طالب علم زخمی۔۔ افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ،دیکھیں ویڈیو

چیتا کلاس روم میں گھس گیا۔۔ حملے میں طالب علم زخمی۔۔ افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ،دیکھیں ویڈیو

خطرناک ترین وائرس یہاں بھی پہنچ گیا۔۔اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ،ہر طرف خوف کے سائے

خطرناک ترین وائرس یہاں بھی پہنچ گیا۔۔اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ،ہر طرف خوف کے سائے

این اے 133 میں ن لیگ کو بڑا جھٹکا لگ گیا، متعدد رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

این اے 133 میں ن لیگ کو بڑا جھٹکا لگ گیا، متعدد رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

چینی کی قیمت میں 70 روپے فی کلو تک کی کمی۔۔انتہائی سستی ہو گئی

چینی کی قیمت میں 70 روپے فی کلو تک کی کمی۔۔انتہائی سستی ہو گئی

تبدیلی کا ایک اور شاخسانہ،ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند۔۔عوام سے سستے راشن کی سہولت بھی چھین لی گئی

تبدیلی کا ایک اور شاخسانہ،ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند۔۔عوام سے سستے راشن کی سہولت بھی چھین لی گئی

نوازشریف پاکستان واپس آئیں گے اور ملک کے چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، لائیو پروگرام میں بڑا دعویٰ کر دیا گیا

نوازشریف پاکستان واپس آئیں گے اور ملک کے چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، لائیو پروگرام میں بڑا دعویٰ کر دیا گیا

خطرناک ترین دفان نے سر اٹھا لیا ۔۔ بارشیں اور برفباری تو کچھ نہیں،آئندہ کچھ دنوں میں کیا  تباہ پھرنےوالی ہے؟محکمہ موسمیات نے خطرناک الرٹ جا

خطرناک ترین دفان نے سر اٹھا لیا ۔۔ بارشیں اور برفباری تو کچھ نہیں،آئندہ کچھ دنوں میں کیا تباہ پھرنےوالی ہے؟محکمہ موسمیات نے خطرناک الرٹ جا

نئی آفت نے پاکستان کو گھیر لیا۔۔ خبر دار گھروں سے باہر نہ نکلیں ،پاکستانیوں کیلئے الرٹ جاری کردیاگیا

نئی آفت نے پاکستان کو گھیر لیا۔۔ خبر دار گھروں سے باہر نہ نکلیں ،پاکستانیوں کیلئے الرٹ جاری کردیاگیا