12:40 pm
ذلیل ورسواکیوں ہوگئے؟

ذلیل ورسواکیوں ہوگئے؟

12:40 pm

اکثردیکھنے میں آیاہے کہ ہربڑی گاڑی کا باوردی شوفرہروقت گاڑی کی نگہداشت میں مصروف رہتاہے،صفائی ستھرائی کرتاہوا ہروقت متحرک،مجال ہے
اکثردیکھنے میں آیاہے کہ ہربڑی گاڑی کا باوردی شوفرہروقت گاڑی کی نگہداشت میں مصروف رہتاہے،صفائی ستھرائی کرتاہوا ہروقت متحرک،مجال ہے کہ مٹی کاایک ذرہ بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوسکے!کسی شیڈکے نیچے یاچھاؤں میں ایک طرف یاکسی پورچ میں،وقفے وقفے سے اسے دیکھتابھالتااورکبھی کبھی تھوڑی سی بھی غیرضروری گردکوصاف کرتا رہتا ہے ۔ اتنے میں بڑادروازہ کھلتاہے،ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے۔ چپڑاسی بریف کیس اورصبح کی اخباروں کابنڈل ہاتھ میں لئے باہرآتاہے اور اگرکوئی ضروری فائل ہوتووہ بھی سا تھ ہوتی ہے۔ ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ کادروازہ کھول کروہاں یہ سامان انتہا ئی سلیقے کے سا تھ رکھ دیا جاتا ہے۔ پھرڈرائیورکے سا تھ والی سیٹ کوزورلگاکرممکن حدتک آگے کر دیا جاتا ہے تاکہ پچھلی سیٹ کے سامنے کافی جگہ آرام سے ٹانگیں پھیلانے کیلئے میسرآجائے۔گرمی کا موسم  ہوتوصاحب کے آنے سے پہلے ہی گاڑی کا ائر کنڈیشنزچلا دیاجاتاہے تاکہ  دفتراورگاڑی کے درمیان  کاچندگزکے فا صلے کی حدت فوری طور پر کافور ہوجائے حالانکہ گاڑی چوکس حالت میں ممکن حد تک دروازے کے قریب لاکرکھڑی کر دی  جاتی ہے۔
صاحب بہادرایک شان بے نیازی سے برآمد ہوتے ہیں۔اردگردموجودلوگ ایک دم ساکت و جامدہوجاتے ہیں۔گفتگوکرنے والا گفتگو   بھول جاتاہے،بے ترتیب یونیفارم والاٹوپی سیدھی کرلیتاہے اورسگریٹ پیتاہواشخص سگر یٹ پھینک  دیتاہے یاپھرکہیں چھپادیتاہے ۔پچھلادروازہ جو ڈرائیورسے دوسری سمت والاہے اسے کھول کر کوئی شخص کھڑاہوتاہے۔ صاحب بہادر تشریف  رکھتے ہیں۔تمام لوگوں کے ہا تھ فوری طور پر سلام کرنے کیلئے ماتھے کی طرف بڑے ادب  کے ساتھ اٹھتے ہیں۔اشاروں کامنتظرگاڑی کوخراماں نکالتاہوا منظر سے جب تک غائب نہیں ہوجاتایہ تمام خادمین وہاں سے ہلنے کی جرات نہیں کرتے۔صاحب بہادرکاپورارستہ اخباروں کی ورق گردانی،موبائل فون پرماتحتوں کواحکام صادرکرنے میں گزر جاتاہے،اچانک فون کی گھنٹی  پرچہرے پرلجاجت اور مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بیگم کی فرمائش پوراکرنے کے وعدے وعید شروع ہوجاتے ہیں۔اگرپھربھی وقت بچ جائے توفائل کی روگردانی شروع کردی جاتی ہے۔اس پورے سفرمیں ڈرائیورکی حیثیت ایک پرزے سے زیادہ نہیں ہوتی۔وہ بھی کمپنی کی طرف سے سٹیرنگ، گیئریاسیٹ بیلٹ کی طرح وہاں فکس ہوتاہے جسے صرف احکامات سننے اوراس پرعمل کرنا ہے۔وہاں روک دو، ادھرلے چلو، میرا انتظار کرو، میں واپس آرہاہوں۔مجھے دوتین گھنٹے لگیں گے اورریموٹ کنٹرول کی طرح ڈرائیوراپنی سیٹ سے فوری چھلانگ لگا کرباہرنکل کردروازہ کھولتا ہے اورروبوٹ کی طرح جھکے سرکوہلاکریاپھرمنہ سے سعادت مندی اورتابعداری کے رٹے رٹائے الفاظ نکالتارہتاہے۔
یہ مناظرآپ کوہراس دفتریاادارے کے باہرملے گاجہاں کوئی ایک صاحب اختیارتشریف رکھتاہے۔کسی سرکاری یاغیرسرکاری کا کوئی امتیاز نہیں۔وزیرکادفتریاسیکرٹری کا،جرنیل کا ہیڈ کوارٹریاعدلیہ کی عمارت،کسی پرائیویٹ کمپنی کے دفاتر ہوں یابینک کی شاندارعمارت،سب جگہ صاحبان طاقت اوروالیان حیثیت وبااختیارکیلئے ایک  ہی سیٹ مخصوص ہے۔ان کی گا ڑی کہیں پہنچے  لوگ وہی دروازہ کھولنے کیلئے لپکتے ہیں۔
سالہاسال سے نہ تبدیل ہونے والے یہ مناظرکبھی کبھارشدت سے محاسبہ کرتے ہوئے آپ سے یہ سوال ضرورپوچھتے ہیں کہ آخریہ کون سی ایسی مخلوق ہے،ان کوہم پریہ برتری کیوں اور کیسے حاصل ہوگئی ہے؟یہ تمام مناظردیکھ کر اندر کاسویاہوا ضمیر بسااوقات ایک انگڑائی لے کر بیدار ہونے کی کوشش کرتاہے اورجھٹ سے سوال داغ دیتاہے یہ سب لوگ ڈرائیورکی سا تھ والی سیٹ پرکیوں نہیں بیٹھتے؟کیاوہ آرام دہ نہیں؟ کیا وہاں ائرکنڈیشنڈکی ہواصحیح نہیں پہنچتی؟ کیا وہاں سے را ستہ،ارد گردکی عمارتیں یا لوگ ٹھیک سے نظرنہیں آتے ؟ لیکن اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ملتاہے، سامنے والی سیٹ زیادہ آرام دہ  اورزیادہ ٹھنڈی بھی ہے، باہرکا منظربھی صحیح نظر آتا ہے توپھریہ سیٹ خالی کیوں رہتی ہے یاپھراس پر سٹاف آفیسریاپی اے کوکیوں بٹھایاجاتا ہے؟
دراصل یہ کہانی اس نفرت کی ہے،یہ داستان اس تکبرکی ہے جس میں ڈرائیورکی حیثیت ایک انسان سے کم ہوکربادشاہوں کے رتھ اورمہاراجوں کی بڑی بڑی سواریاں چلانے والوں کی ہواکرتی تھی۔یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک اعلیٰ مرتبہ اورمقام رکھنے والی شخصیت ڈرائیور کے برابرمیں آکربیٹھ جائے اوردیکھنے والے ان دونوں کے درمیان تمیزتک نہ کرسکیں کہ کون افسرہے اورکون معمولی حیثیت کاڈرائیور۔ایک زمانہ ان متکبرافسران اوروزرا،جرنیل اوراعلی عہدیداروں پرایساآیاکہ ان کوچھوٹی سی سوزوکی پرسفرکرناپڑا۔جس کی پچھلی سیٹ انتہائی بے آرام اورکم جگہ والی تھی لیکن تکبراپناراستہ خودبناتاہے اور اس طریقہ کو رائج کرنے والوں کوبے شمار صلواتیں سنانے کے بعدآقااورمالک کی تمیز کو برقرار رکھنے کے نئے نئے طریقے دریافت کئے گئے۔ اگلی سیٹوں کومکمل طورپرفولڈکیاجانے لگا اور معاملہ یہی تک موقوف نہیں رہابلکہ گھرسے دفتر کا چندمیلوں کاسفرہیلی کاپٹر پرشروع کر دیا گیا اورقومی خزانے کے اربوں روپے کے مصارف اس بے جا عیاشی کی نذرہوتے رہے۔
یہ رویہ ان ساری قوموں پرگزراہے جنہوں نے انسانوں کوغلام اورمحکوم بنانے کے ڈھنگ ایجادکئے تھے۔امریکامیں’’جم کرو‘‘کے قوانین کے تحت بسوں تک میں کالوں کی سیٹیں گوروں کی سیٹوں سے نہ صرف الگ ساخت کی ہوتی تھیں بلکہ آگے ہوتیں اوراگرکوئی کالااگلی سیٹ پربیٹھ جاتاتواسے گولی سے اڑا دیا جاتا اور اگر کوئی گوراپچھلی سیٹ پربیٹھ جاتاتو اسے نیچ اور کمتر جیسی گالیاں اورطعنے مارمارکراس سے ناتا توڑ لیا جاتا۔ لندن کے بازاروں میں آج بھی کالے رنگ کی  ٹیکسیوں کارواج ہے جس میں ڈرائیورکی سیٹ اورسواریوں کے درمیان ایک شیشے کی دیوارہے جس کی کھڑکی صرف سواری کھول سکتی ہے تاکہ ڈرائیور کی حیثیت،مرتبہ اوراس سے بات کرنے کاتعین بھی وہی کرے جوپچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے ۔ صدیوں تک فراعین،شہنشاہوں،آمروں، ڈکٹیٹروں اوران کے چھوٹے چھوٹے کار پردازوں  کی سواریاں بھی ایسی تھیں کہ ان کاعام لوگوں  سے کوئی تعلق نہ رہے۔دھول اڑاتی یہ سواریاں  جہاں عوام الناس کامذاق اڑاتی تھیں وہاں ان سواریوں پرسفرکرنے والے بھی انسانوں کے درمیان تمیز،فرق اور آقاوغلام کے قا نون میں بٹے ہوئے تھے۔
تکبر،غروراورگھنٹوں ساتھ چلنے،آرام پہنچانے والے شخص سے کراہت دوری کے اس ماحول میں پتہ نہیں کیوں مجھے اپنا ماضی یاد آجاتا ہے۔ اسلاف کے وہ معیارآنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔روم کے بادشاہوں کی طر ح رہن سہن اورلباس پہننے والوں عیسائیوں کے بیت المقدس  پرجب پھٹے پرانے کپڑے پہننے والے مسلمانوں نے فتح حاصل کی توشہرحوالے کرنے کیلئے خلیفہ وقت عمرابن الخطاب کاانتظارتھا۔ایک گھوڑاجس کے سم گھس کربیکارہوچکے تھے۔رک رک کرقدم رکھتاتھا۔اس کے ساتھ خلیفہ وقت اورفا تح ایران وشام عمرابن الخطاب اورغلام موجود۔طے پایاکہ آدھاراستہ غلام سواری کرے گااورآدھاراستہ خلیفہ وقت۔بیت المقدس قریب آیا تو باری غلام کی آگئی اورپھرتاریخ نے انسانی احترام کاایک عجیب وغریب منظردیکھا۔غلام گھوڑے پراورخلیفہ وقت باگ تھامے بیت المقدس میں داخل ہوئے۔شاہی کروفراورلباس پہنے رومی عیسائی بے سا ختہ صرف ایک فقرہ بول سکے کہ ایساہی شخص عزت کامستحق ہے اورایسے ہی شخص کوفتح نصیب ہواکرتی ہے۔اس تاریخی فقرے کے بعدبھی اگرکوئی مجھ سے سوال کرتا ہے کہ ہم دنیامیں ذلیل اوررسوا کیوں ہیں، بے آسرا کیوں ہیں تومجھے کوئی حیرت نہیں ہوتی۔(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں

آڈیو لیکس معاملہ ۔۔۔پی ٹی آئی نے الزامات سے دلبرداشتہ ہو کر بہت بڑا قدم اٹھا نے کا فیصلہ کر لیا

آڈیو لیکس معاملہ ۔۔۔پی ٹی آئی نے الزامات سے دلبرداشتہ ہو کر بہت بڑا قدم اٹھا نے کا فیصلہ کر لیا

کھویا ہوا سائفر ن لیگ کو کہاں سے ملے گا ۔۔۔؟شہباز گل نے طنزیہ اندازمیںبڑاانکشاف کر دیا

کھویا ہوا سائفر ن لیگ کو کہاں سے ملے گا ۔۔۔؟شہباز گل نے طنزیہ اندازمیںبڑاانکشاف کر دیا

وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونیوالا سائفر چلتا چلتا کہاں پہنچ گیا ۔۔۔۔ بڑ ا سراغ مل گیا

وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونیوالا سائفر چلتا چلتا کہاں پہنچ گیا ۔۔۔۔ بڑ ا سراغ مل گیا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ، مریم نواز کا نیا بیان فورا ہی سامنے آ گیا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ، مریم نواز کا نیا بیان فورا ہی سامنے آ گیا

قائم مقام سیکرٹری خارجہ کس کو مقرر کیا گیا ۔۔۔؟خبرا ٓ گئی

قائم مقام سیکرٹری خارجہ کس کو مقرر کیا گیا ۔۔۔؟خبرا ٓ گئی

ہر کیس کے پیچھے بڑا فیس ۔۔۔شیخ رشید کا ایسا نیا بیان کہ جس نے ہلچل مچا دی

ہر کیس کے پیچھے بڑا فیس ۔۔۔شیخ رشید کا ایسا نیا بیان کہ جس نے ہلچل مچا دی

امریکی صدر جوبائیڈن کی بڑی دھمکی اور ساتھ ساتھ وارننگز بھی دے ڈالیں

امریکی صدر جوبائیڈن کی بڑی دھمکی اور ساتھ ساتھ وارننگز بھی دے ڈالیں

سرعام گاڑی پر فائرنگ کرنے والا جوان کس اہم اور بڑی شخصیت کا بیٹا نکلا ۔۔۔؟بڑا راز کھل گیا

سرعام گاڑی پر فائرنگ کرنے والا جوان کس اہم اور بڑی شخصیت کا بیٹا نکلا ۔۔۔؟بڑا راز کھل گیا

پاکستان نے انگلینڈ کوجیت کےلیےکتنےرنز کاہدف دیدیا ،کھیل کے میدان سے شائقین کرکٹ کےلیے بڑی خبرآگئی

پاکستان نے انگلینڈ کوجیت کےلیےکتنےرنز کاہدف دیدیا ،کھیل کے میدان سے شائقین کرکٹ کےلیے بڑی خبرآگئی

مریم نواز نے عمران خان کو ملک کا بدترین دشمن قرار دے دیا

مریم نواز نے عمران خان کو ملک کا بدترین دشمن قرار دے دیا

سعودی عرب سے درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ، ممکنہ وجہ بھی سامنے آگئی

سعودی عرب سے درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ، ممکنہ وجہ بھی سامنے آگئی

بھرتی ،ٹرانسفراورپوسٹنگ۔۔وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق نے بڑااعلان کردیا

بھرتی ،ٹرانسفراورپوسٹنگ۔۔وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق نے بڑااعلان کردیا

دالیں، پیاز، ٹماٹر، دودھ، چائے کی پتی، چاول، انڈے، ڈبل روٹی اور صابن سمیت کتنی اشیا مہنگی ہو گئیں،ہوش اڑا دینے والی خبرآگئی

دالیں، پیاز، ٹماٹر، دودھ، چائے کی پتی، چاول، انڈے، ڈبل روٹی اور صابن سمیت کتنی اشیا مہنگی ہو گئیں،ہوش اڑا دینے والی خبرآگئی

خدشہ ہے سپریم کورٹ غیر فعال نہ ہوجائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا، ججز کی تقرری کا مطالبہ

خدشہ ہے سپریم کورٹ غیر فعال نہ ہوجائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا، ججز کی تقرری کا مطالبہ