11:58 am
اک با ر پھر دہشت گردی 

اک با ر پھر دہشت گردی 

11:58 am

یوں تو وطنِ عز یز میں دہشت گردی کے تانے 1951ء میں اس وقت کے وزیراعظم لیا قت علی خان کے قتل سے جا ملتے ہیں۔ لیکن قابل ذ کر دہشت گردی کا آغا ز 1980ء کی دہا ئی میں ہو تا دکھا ئی دیتا ہے۔ صدرِ پاکستان جنرل ضیاالحق کے طیارے کا حا دثہ دہشت گردی ہی کی ایک شکل تھا۔ انہی دنو ں میں پا کستان کا عروس البلا د  کہلا نے والا شہر دہشت گر دی کی سولی پہ یوں چڑھا کہ اب تک اترنے کا نا م نہیں لیتا ۔ میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہو یا پھر بے نظیر بھٹو کا بہیما نہ قتل ہو ، یہ سب دہشت گردی ہی کے زمرے میں آ تاہے۔ تاہم خو دکش حملوں اور بم بلا سٹ کے ذریعے جس بے دردی سے انسا نی جانوں کا زیا ں ہو تا ہے، اس کا سلسلہ تین روز پہلے کراچی یو نیو رسٹی میں چینی تد ریسی عملے کی گا ڑی پر خود کش حملے سے آ ن ملتا ہے۔ یہ دہشت گردانہ حملہ نہایت دل خراش اور قابلِ مذمت ہے۔ ایسے واقعات پاک چین برادرانہ تعلقات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے خلاف سازش ہیں اور ان میں زیادہ تر وہی عناصر ملوث پائے جاتے ہیں جو پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور چینی تعاون سے جاری منصوبوں کے دشمن ہیں۔ ایسی دشمنی کے پیچھے خارجہ عوامل کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اس افسوسناک وقوعہ کی ذمہ داری بھی ایک علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم نے قبول کی۔ سیکورٹی حکام تصدیق کرچکے ہیں اور سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ مذکورہ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے خودکش حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے جہاں اس تنظیم کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور طریقہ واردات کا پتا چلتا ہے وہیں اس کے ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط کا شبہ بھی تقویت پکڑتا ہے۔ سیکورٹی امور کے ماہرین بہت عرصے سے ان خدشات کی نشان دہی کررہے تھے۔ 
 کسی یونیورسٹی کیمپس کے اندر خودکش بمبار کا داخل ہوجانا ہی ناقص سیکورٹی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ حکومت کے جانب سے اس المناک وقوعے پر جذباتی بیانات دیئے گئے ہیں۔ پاک سرزمین پر چینی باشندوں کے خلاف دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں داسو ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس کو دہشت گردی کے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ 29 جون 2020ء کو کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا، اگرچہ براہِ راست یہ حملہ چینی باشندوں پر نہیں تھا مگر اس کا تعلق چینی مفادات کے ساتھ ضرور بنتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی ہمیں وہی دہشت گرد علیحدہ پسند گروہ ملوث دکھائی دیتا ہے جو پاکستان میں چینی مفادات اور چینی باشندوں پر عمومی طور پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ اس سے قبل 23 نومبر 2018ء کو کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ پاکستان میں کسی سفارتی مشن پر سیدھے حملے کا بدترین واقعہ تھا۔ اس قسم کے واقعات کی شدت کا تعین جانی نقصان سے نہیں بلکہ ہدف کی حساسیت سے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ برس کوئٹہ کے ایک ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کو اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ اسی ہوٹل میں چین کے سفیر بھی ٹھہرے ہوئے تھے؛ اگرچہ دھماکے کے وقت وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔ ان بڑے واقعات کے درمیان ایسے کئی اِکا دُکا واقعات بھی ملتے ہیں جہاں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا یا ان پر جان لیوا حملوں کی کوشش کی گئی۔ یہ صورتحال اس کے باوجود ہے کہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی جانب سے چینی شہریوں کے تحفظ کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ روز دہشت گردی کا نشانہ بننے والی چینی فیکلٹی کی گاڑی کی حفاظت پر بھی رینجرز تعینات تھے اور خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں میں کم از کم ایک رینجرز اہلکار بھی شامل ہے۔
 سیکورٹی اداروں کی ان کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان حفاظتی اقدامات کے باوجود دہشت گرد عناصر نقصان پہنچانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ تخریب کاری کے ان واقعات کا پہلا اور واضح مقصد تو یہ ہے کہ ایسا خوفناک ماحول بنایا جائے جو چین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور افرادی قوت بھیجنے سے روک دے۔ دہشت گرد عناصر کی یہ کوشش کامیاب نظر نہیں آتی۔ دہشت گردی کا کوئی حملہ بھی چین کو پاکستان میں ترقیاتی پروگرام سے پیچھے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ داسو حملے کے بعد اُس منصوبے پر کچھ دیر کام رکا، مگر اس سال جنوری میں اس منصوبے پر بھی کام پھر شروع ہوگیا۔ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ بھی، امید کی جاسکتی ہے کہ اپنا کام جلد شروع کرے گا۔ چین تخریب کاری کی اس بزدلانہ حرکت سے بھی بددل نہیں ہوگا، مگر چین کا جرأت مندانہ رسپانس ہمیں ہماری کوتاہیوں سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ اسے چین کی مہربانی سمجھنا چاہیے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر اپنے باشندوں کے خلاف حملوں کے لیے پاکستان سے بازپُرس کرنے کے بجائے ہمارے حالات کو سمجھتے ہوئے بردباری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مگر ہماری حکومت اور اداروں کوذمہ داری کا وزن محسوس کرنا چاہیے اور یقینی بنانا چاہیے کہ دہشت گرد عناصر جہاں بھی چھپے ہوں، ان کی بیخ کنی کی جائے۔ چینی سفارتی عملے نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ سندھ کی وضاحتوں اور یقین دہانیوں کا ضرور اعتبار کرلیا ہوگا کیونکہ ایک دوست اور دیرینہ شراکت دار ہونے کے ناتے چین اور پاکستان کا باہمی تعلق کسی شک و شبہے کو جگہ نہیں دیتا۔ مگر ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیے کہ داسو حملے، چینی قونصلیٹ کراچی پر حملے، کوئٹہ اور کراچی میں چینی شہریوں پر جان لیوا حملوں اور چینی ترقیاتی ورکرز کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے والوں کو کس قدر عبرت کا نشان بنایا جاسکا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دہشت گردی کی اس نئی لہر کے تناظر میں اپنے سیکورٹی معاملات کا ایک بار پھر جائزہ لیں اور اس نئی لہر کے خاتمے کے لیے نئی منصوبہ بندی کریں، خصوصی طور پر ہمیں چینی باشندوں کی حفاظت کا فول پروف انتظام کرنا ہوگا جو ہمارے وطن میں ہماری بہتری اور ترقی کی خاطر مصروفِ عمل ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں

فن لینڈ کی کم عمر وزیراعظم سنا مارین کی پارٹی کرتے ہوئے ویڈیو لیک ہوگئی، ویڈیو لنک میں ، عوام شدید غصے میں 

فن لینڈ کی کم عمر وزیراعظم سنا مارین کی پارٹی کرتے ہوئے ویڈیو لیک ہوگئی، ویڈیو لنک میں ، عوام شدید غصے میں 

عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کو موصول ہوگیا، نااہلی پکی ، کپتان نے فائنل اننگز کھیلنےکیلئے کمر کس لی

عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کو موصول ہوگیا، نااہلی پکی ، کپتان نے فائنل اننگز کھیلنےکیلئے کمر کس لی

’’استاد پھر استاد ہوتا ہے ‘‘

’’استاد پھر استاد ہوتا ہے ‘‘

اصل خبرتو اب سامنے آئی ، نواز شریف پاکستان واپس کیوں آرہے ہیں ؟ جاوید لطیف نے بتا دیا

اصل خبرتو اب سامنے آئی ، نواز شریف پاکستان واپس کیوں آرہے ہیں ؟ جاوید لطیف نے بتا دیا

 آنکھیں بے انتہا طاقتور! نبی کریم ﷺ نے پاکستان میں ملنے انتہائی سستی مگر بے حد فائدہ مند سبزی حضرت علی ؓ کو کھانے کا حکم دیا

آنکھیں بے انتہا طاقتور! نبی کریم ﷺ نے پاکستان میں ملنے انتہائی سستی مگر بے حد فائدہ مند سبزی حضرت علی ؓ کو کھانے کا حکم دیا

’’یہ تو میری منہ بولی بہن ہے ‘‘

’’یہ تو میری منہ بولی بہن ہے ‘‘

اسلام آباد کا گھیراؤ۔۔۔ تحریک انصاف کی شہر اقتدار کو چاروں طرف سے بند کرنے کی دھمکی

اسلام آباد کا گھیراؤ۔۔۔ تحریک انصاف کی شہر اقتدار کو چاروں طرف سے بند کرنے کی دھمکی

پٹرول مہنگا گاڑیاں سستی ۔۔ قیمتوں میں بڑی کمی۔ ۔۔ خریداروں کاشورومز پررش۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری

پٹرول مہنگا گاڑیاں سستی ۔۔ قیمتوں میں بڑی کمی۔ ۔۔ خریداروں کاشورومز پررش۔۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری

بڑی خبر۔۔۔وزیر اعظم شہباز شریف نےملک میں ہنگامی بنیادوں پر بڑافیصلہ کر لیا

بڑی خبر۔۔۔وزیر اعظم شہباز شریف نےملک میں ہنگامی بنیادوں پر بڑافیصلہ کر لیا

ڈالر کی قیمت کی گیئر لگ گئے

ڈالر کی قیمت کی گیئر لگ گئے

شام کی بڑی خبر ، ہر پندرہ دن بعد پٹرول کی قیمت بڑھانے والے مفتاح اسماعیل نے عوام کو ایسی خوشخبری سنا دی کہ پاکستانی جھوم اٹھے

شام کی بڑی خبر ، ہر پندرہ دن بعد پٹرول کی قیمت بڑھانے والے مفتاح اسماعیل نے عوام کو ایسی خوشخبری سنا دی کہ پاکستانی جھوم اٹھے

پٹرول کی قیمت بڑھانےپر مریم نواز اور نواز شریف کے بعد عظمیٰ بخاری کے بھی مفتاح اسماعیل پر طنزیہ وار

پٹرول کی قیمت بڑھانےپر مریم نواز اور نواز شریف کے بعد عظمیٰ بخاری کے بھی مفتاح اسماعیل پر طنزیہ وار

آئی ایم ایف کی شرط پربہت بڑی پابندی ختم ہو گئی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری

آئی ایم ایف کی شرط پربہت بڑی پابندی ختم ہو گئی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری

کپتان کا دورہ کراچی بھی ملتوی اور کل ہونے والا جلسہ بھی منسوخ ہو گیا ۔۔۔ وجہ کیا رہی۔۔۔۔

کپتان کا دورہ کراچی بھی ملتوی اور کل ہونے والا جلسہ بھی منسوخ ہو گیا ۔۔۔ وجہ کیا رہی۔۔۔۔