12:27 pm
پھر شٹ اپ کال

پھر شٹ اپ کال

12:27 pm

 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پاک فوج کو ملکی سیاسی مباحث میں ملوث کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ سیاست دانوں، چند صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے عوامی فورمز اور متعدد مواصلات کے ذرائع جن میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، براہِ راست، بالواسطہ اور اشاروں کنایوں میں مسلح افواج اور اس کی سینئر لیڈرشپ کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ غیر مصدقہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیز اور بیانات کی روش انتہائی نقصان دہ ہے۔ افواج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں شامل کرنے کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ سب قانون کی پاسداری کریں گے اور افواج پاکستان کو ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔
بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے والی تحریک انصاف مبینہ طور پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد  شاید عسکری قیادت کی ملی بھگت سے کامیاب کروائی گئی تھی۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹ کو عزت دو والے بیانیہ کے برعکس تحریک انصاف کا مقدمہ سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مو قف ہے کہ اس وقت ملک میں جو بحران موجود ہے، ا س میں جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا اس ریاستی ادارے نے شاید ادا نہیں کیا مکمل غیر جانبداری بھی نہیں دکھائی اور جانبداری بھی ظاہر نہیں کی ۔آپشنز محدود تھے جب عدم اعتماد ہوگیا تو اس کے بعد کے اقدامات درست نہ تھے ۔عمران خان اب اپنے جلسوں اور پیغامات میں یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ نہ تو حکومت کے خلاف ہیں، نہ ہی فوج کے اور نہ ہی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ امریکی سازش اور خود مختاری پر بیرونی حملہ کے خلاف قوم کو تیار کررہے ہیں۔ ان کے بقول ان کی لڑائی سیاسی اقتدار کی جنگ نہیں ہے بلکہ وہ قومی آزادی و خود مختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسی لئے انہیں نہ تو کسی کا خوف ہے اور نہ ہی وہ کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں۔
 اگر واقعی کوئی شخص یا کچھ عناصر پاک فوج کو بدنام کرنے اور ملک میں بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس کی نشاندہی کرنے یا قانونی طریقے سے باقاعدہ اس کی شکایت کرنے کا اہتمام کیوں نہیں کیا۔ فوج کے پاس اس حوالے سے متعدد آپشن ہیں۔ فورسز کے ایسے ارکان جن پر غیرمصدقہ الزامات عائد کئے گئے ہیں براہ راست ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔مریم نواز نے گزشتہ روز پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر نکتہ چینی کی اور انہیں عمران خان کی حمایت میں سیاسی اپوزیشن کا گلا دبوچنے کا قصور وار قرار دیا۔پاک فوج کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ وہ وزارت دفاع کو ایسے منفی بیانات یاتبصروں کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے درخواست کرے کہ فوج کی شہرت اور کارکردگی کے نقطہ نظر سے ضروری قانونی کارروائی کی جائے۔ حکومت کے پاس ایسے عناصر کی بیخ کنی کرنے کے متعدد راستے موجود ہیں لیکن پاک فوج کے ترجمان ادارے نے ابھی یہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ ایک پریس ریلیز میں ناراضی کا اظہار کرنا کافی سمجھا ہے۔
 یہ کہنا کہ صرف ایک پریس ریلیز کا فی ہے شایددرست  نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی بعض سیاسی عناصر کو حد سے گزرنے پر شٹ اپ  کال دی گی تھی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا ، سیاست دان براہ راست یا اشاروں میں فوج کی طرف انگلی اٹھانا بند کردیں گے اور اسی طرح صحافی و تجزیہ نگار اور اینکر و اینکرنیاں  بھی قبلہ درست کرلیں تو کیا ہی بہتر ہو آخر حامد میر بھی تو سدھر گئے ہیں نا ضروری ہے کہ ترجمان کے بقول چندعناصر ایسا کررہے ہیں ۔ تجویز ہماری تو یہی ہے کہ ان عناصر کو چائے پر بلایا جائے ان کی تحریریں ،بیانات اور ویڈیوز سامنے رکھی جائیں اور ان سے کہا جائے کہ وہ اس پر کھل کر اظہار کریں کہ وہ ان باتوں کا کس طرح دفاع کرتے ہیں اگر وہ اپنا موقف سچ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو دوسری صورت میں ان کیخلاف ممکنہ کارروائی کیلئے حکومت کو درخواست کی جائے جس میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، پاک فوج کا اپنا کڑے احتساب و تعزیر کا نظام ہے قوانین موجود ہیں ، سول افراد کو بھی ایک ضابطے کے تحت بلاکر پوچھا جاسکتا ہے اور سنگینی کے پیش نظر تادیبی کارروائی کا بھی ایک نظام موجود ہے ۔ گڑ بڑ کرنے والے ان مٹھی بھر عناصر کی آگے بڑھ کر اس کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ہوگی ۔ چائے کا ایک کپ تو بحر حال ضائع نہیں جائے گا ۔
 ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مریم نواز نے جنرل فیض حمید کا نام لے کر عمران خان کو خوب رگیدا ہے ،اس سے قبل موصوفہ نے کہا تھا کہ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ، نوازشریف نے موجودہ آرمی چیف کا نام لے کر کہا کہ یہ سارا گند تم نے پھیلایا ہے ،آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جس جنرل کی نوکری تین سال کی ہو اس کی کیا مجال کہ وہ مجھے بتائے کہ، میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا اس کے بعد موصوف بیرون ملک رفوچکر ہوگئے تھے ، خواجہ آصف نے کہا کہ اس فوج نے تمام جنگیں ہاریں آپ نے پوچھا ؟ اسی پر بس نہیں بلکہ ن لیگی پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان کو یہ خراب کریں اورٹھیک نوازشریف کرے جبکہ سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جب موصوف آئے تو ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھی اسی طرح معروف اینکر حامد میر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ د وہاتھ آگے جاکر کہا کہ ہم آپ کے گھر میں تو نہیں گھس سکتے کیونکہ آپ کے پا س ٹینک اور بندوقیں ہیں لیکن ہم آپ کے گھر کی باتیں بتائیں گے اور آپ کو ننگا کریں گے۔
 ماضی گواہ ہے کہ یہ عناصر آج بھی اس حکومت کا حصہ ہیں دوسری طرف پاک فوج کیخلاف ماضی میں بھارت سے مدد مانگنے والی خاتوں نسرین جلیل کو اب گورنر سندھ بنایا جارہا ہے یہی اس ملک پر ظلم ہے کہ جو ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف ہذیان بکتے ہیں ،بھارت سے مدد مانگتے ہیں انہی کو بار بار اقتدار دے دیا جاتاہے کبھی کس نام سے اور کبھی کسی طریقے سے ، اس سلسلے کو بند ہونا چاہئے اب عمران خان بھی میر جعفر اور میر صادق کے لیبل چسپاں کررہے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور قانون سب کیلئے برابر کو سوفیصد یقینی بنایا جائے اس ملک میں سوشل میڈیا اور پرنٹ والیکٹرونک میڈیا پر لائے گئے اور چھائے ہوئے مٹھی بھر عناصر کو بائیس تئیس کروڑ عوام ،اور اداروں کو یر غمال بنانے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے ۔ فوج ،عدلیہ ،اداروں کو نشانہ بناے والے قوم سے ہر گز مخلص نہیں ہوسکتے ۔سب ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے ہوئے اصحاب کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا ۔وزیر اعظم میاں شہباز کی طرف سے ایک بیان جاری کردینا کافی نہیں ہے نہ ہی اس سے ایسے عناصر کے حوصلے پست ہوں گے ۔
 
 

تازہ ترین خبریں

شاہ محمود قریشی نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ طے پانے کی خبروں کی تردید کردی

شاہ محمود قریشی نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ طے پانے کی خبروں کی تردید کردی

عمران خان کو کسی بھی صورت اسلام آباد نہیں آنے دیں گے، رانا ثناءاللہ نے اپنے عزائم بتادیئے، کیا کرنےوالے ہیں؟بڑی خبر

عمران خان کو کسی بھی صورت اسلام آباد نہیں آنے دیں گے، رانا ثناءاللہ نے اپنے عزائم بتادیئے، کیا کرنےوالے ہیں؟بڑی خبر

تحریک انصاف کا آزادی مارچ، کنٹرول رینجرز کو دیدیا گیا، بڑی خبر

تحریک انصاف کا آزادی مارچ، کنٹرول رینجرز کو دیدیا گیا، بڑی خبر

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی