01:16 pm
امریکی فکر و فلسفہ اور نظام کی بنیاد

امریکی فکر و فلسفہ اور نظام کی بنیاد

01:16 pm

دو عشرے قبل مقامی  ماہنامہ میں شائع ہونے والی یہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جو آج بھی ہم سب کی سنجیدہ توجہ کی طالب ہے: ایک مقامی اخبار میں ۲۶ فروری ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں سینٹ کے ریاستی ارکان نے ایک یادگاری سکہ پر ’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں امریکہ کے قدیم باشندوں ’’ریڈ انڈینز‘‘ کے اعزاز اور توقیر کے لیے ایک سلور ڈالر جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر جنگلی بھینس کی تصویر کے ساتھ In God We Trust کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ چاندی کا یہ یادگاری سکہ سکولوں میں بھی آویزاں کرنے کی تجویز ہے مگر ریاستی سینٹ کے ارکان نے سرکاری سکولوں میں یہ ماٹو آویزاں کرنے کے مسودہ قانون کو رد کر دیا ہے۔ خبرنگار کے تبصرہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح امریکہ میں ریاست اور کلیسا کی علیحدگی کے آئینی تصور نے خدا کی ذات کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔
امریکہ کے آئین میں خدا، بائبل، کلیسا اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دے کر ریاستی معاملات میں ان کے کسی قسم کے تعلق یا مداخلت کی نفی کی گئی ہے اور اسی بنیاد پر کسی بھی ریاستی، قانونی یا اجتماعی معاملہ کے حوالے سے مذاہب کے ذکر کو وہاں پسند نہیں کیا جاتا بلکہ قانونی طور پر اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی معاملات میں خدا، بائبل، کلیسا اور مذہب کی دخل اندازی سے شہریوں کی آزادی رائے، خود مختاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کا حق مجروح ہوتا ہے اس لیے مذہب اور اس کے متعلقات کو فرد کے ذاتی معاملات تک محدود رکھا جائے، ریاستی اور اجتماعی امور کے تعین پر صرف اور صرف سوسائٹی کا اختیار باقی رہنے دیا جائے اور سوسائٹی کی اکثریت کسی بھی معاملہ میں جو فیصلہ کر دے، اسے حرف آخر تصور کیا جائے۔ اسی فلسفہ اور تصور کا نام سیکولر ازم ہے اور یہ فلسفہ نہ صرف دنیا کی اکثر حکومتوں کے دساتیر کی بنیاد ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط اور فیصلوں کی پشت پر بھی اسی فلسفہ اور تصور کی کارفرمائی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ’’سیکولر ازم‘‘ کو ’’غیر فرقہ وارانہ حکومت‘‘ کے معنی میں پیش کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سیکولر ازم کی بنیاد مذہب کی نفی پر نہیں بلکہ اس سے مراد کسی ایک فرقہ پر دوسرے فرقہ کی بالادستی کو روکنا ہے اس لیے اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن یہ محض ایک فریب کاری ہے اور اس کا اصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے کہ جس فلسفہ اور نظام میں خدا کے نام اور اس پر بھروسہ کے الفاظ کو محض علامتی طور پر کسی ماٹو میں بھی قبول کرنے کی گنجائش نہ ہو ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مذہب یا اس کی کسی بنیاد کی نفی نہیں کرتا، بلکہ صرف رواداری کی تلقین کرتا ہے، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس مسئلہ کو ایک اور زاویہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ، سیکولر ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے اجتماعی نظام اور دستور و قانون کے حوالے سے مسلم ممالک سے جو تقاضے کیے جا رہے ہیں اور ان کے سامنے جو ایجنڈا اب تک پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف فرقہ وارانہ رواداری کے معاملات شامل نہیں ہیں بلکہ ریاستی نظام کو مذہب اور مذہبی اقدار سے کلیتا لا تعلق کر دینے کے مطالبات بھی اس ایجنڈے کا حصہ ہیں اور پارلیمنٹ کے غیر مشروط اختیارات اور قانون سازی میں عوامی نمائندوں کو فائنل اتھارٹی قرار دینے کا تصور ریاستی نظم سے مذہب کو بے دخل کر دینے ہی کا دوسرا رخ ہے۔ مذکورہ خبر میں ریڈ انڈینز کا بھی تذکرہ ہے جن کی توقیر اور اعزاز کے لیے یہ یادگاری سکہ جاری کیا جا رہا ہے۔ ریڈ انڈینز امریکہ کے اصل اور قدیمی باشندے ہیں۔ جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو امریکہ بالکل غیر آباد براعظم نہیں تھا بلکہ وہاں پہلے سے انسان آباد تھے حتٰی کہ اب یہ بات تحقیقی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ عرب اور مسلمان کولمبس سے بہت پہلے امریکہ پہنچ چکے تھے لیکن اسی دور میں اندلس کی اسلامی ریاست کے خاتمہ اور صلیبی قوتوں کے تسلط کے باعث امریکہ میں بھی مسلمانوں کے بجائے عیسائی یورپیوں نے قبضہ جما لیا اور پھر امریکہ یورپی آباد کاروں ہی کا ملک بن کر رہ گیا حتی کہ امریکہ کی اصل آبادی کو بھی ان یورپیوں نے ریڈ انڈینز کا نام دے کر اچھوت بنا دیا اور رفتہ رفتہ پورے نظام سے بے دخل کر دیا۔ ریڈ انڈینز آج بھی امریکہ میں موجود ہیں لیکن امریکی نظام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں اور انہیں ان کے جائز حقوق دینے کے بجائے ان کے اعزاز و توقیر کے لیے ’’یادگاری سکے‘‘ جاری کر کے انہیں بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہرحال یہ امریکہ کے ’’خدا بیزار سسٹم‘‘ کی ایک جھلک ہے جسے بین الاقوامی فلسفہ اور ورلڈ سسٹم کے نام پر پوری دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن قرآن و سنت کی ابدی اور آفاقی تعلیمات پر یقین رکھنے والے مسلمانوں اور اہل دین کے ہوتے ہوئے یہ خواب کبھی تعبیر کی منزل حاصل نہیں کر سکے گا۔


تازہ ترین خبریں

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ