12:34 pm
عالمی سود خور آئی ایم ایف کا چنگل

عالمی سود خور آئی ایم ایف کا چنگل

12:34 pm

پاکستان نے عالمی سود خور اور امریکی طفیلی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کی بحالی کے لئے بالآخر امریکا سے مدد طلب کرلی ہے کیونکہ حکومت
پاکستان نے عالمی سود خور اور امریکی طفیلی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف قرضہ پروگرام کی بحالی کے لئے بالآخر امریکا سے مدد طلب کرلی ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے اب تک کیے گئے بہت سخت اقدامات کے باوجود عالمی مالیاتی ادارہ ابھی تک اسٹاف لیول معاہدے پر راضی نہیں ہورہا جبکہ عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کے موقع پر جو امریکی سفارت کاروں سے پاکستان کے بعض سیاسیدانوں کی اوپن ڈور اور بیک ڈور ملاقاتیں ہوئی تھیں ان میں عمران خان کوہٹانے اور اتحادیوں کی حکومت کے لائے جانے کے بعد مالی مسائل کے حل کیلئے بھر پور مالی مدد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ بات کرکے قرضے کے پروگرام کو جاری و ساری رکھے گا کیونکہ آئی ایم ایف میں امریکہ کے سترہ فیصدمالیاتی شیئرز ہیں اور یہ ادارے امریکہ کی ایماپر ہی چلتا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے عوام پر تین بار پٹرول بم گرانے کے بعد بھی آئی ایم ایف راضی نہیں ہورہا اور اب اس نے آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں۔ ان حالات میں عمران خان کے بقول ایک سازش کے تحت امریکہ کی لائی ہوئی امپورٹڈ حکومت کو امریکی سفیر کے سامنے دوزانو ہونا پڑا ہے اور امریکہ سے یہ درخواست کرناپڑی ہے جکہ وہ آئی ایم ایف سے کہے کہ وہ پاکستان پر نظر کرم اور خصوصی مہربانی فرمائے اور پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید قرضہ دے تاکہ مالی مشکلات سے ملکی معیشت کو نکالا جاسکے ورنہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا ۔
 اس تناظر میں حکومت کی اقتصادی ٹیم نے پاکستان میں امریکی سفیرڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی اور اس ضمن میں ان سے مدد کی درخواست کی۔ملاقات میں ہونے والی گفتگوسے واقف اصحاب نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی سفیرکو آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور معاشی استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا ہے البتہ وزارت خزانہ نے سرکاری طور پر ابھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔امریکی سفیر سے ملنے والی پاکستانی ٹیم میں وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا شامل تھیں۔ امریکا آئی ایم ایف میں سب سے بڑا شراکت دارملک ہے اور وہ ماضی میں بھی پاکستان کو جاری ہونے والے فنڈزپروگراموں میں اس کی مدد کرتا رہا ہے۔اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے امریکی سفیر کو بتایا کہ حکومت نے ان مشکل حالات میں بھی مالیاتی استحکام کی خاطر اپنی جی ڈی پی کے دو اعشاریہ دو فیصد کے برابر اقدامات کیے ہیں۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرضہ پروگرام کی بحالی کیلئے اب تک تین دور ہوچکے ہیں،ان میں دو ادوار موجودہ حکومت کے ساتھ ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کئی آن لائن رابطے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے میں نہ نہ مانوں کی روش اپنا رکھی ہے ۔
 پاکستان کے ساتھ اپنی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے میمورنڈم  ڈرافٹ تک شیئر نہیں کیا تھاجو اسٹاف سطح کے مذاکرات کی بنیاد ہوتا ہے،اس کے بغیرآئی ایم ایف کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا پروگرام مارچ سے ر کا ہوا ہے کیونکہ گزشتہ حکومت نے عالمی ادارے کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا تھا اس لئے جو رہی سہی امید تھی وہ بھی ختم ہورہی ہے ۔پٹرول کیا مہنگا ہوا ہر شہ متمول طبقے کی پہنچ سے بھی باہر جاتی نظر آرہی ہے متوسط اور غریب طبقہ تو اب رہا ہی نہیں ہے کب کا زندہ درگور ہوچکا ہے ۔ آئی ایم ایف تو انرجی سیکٹر کی بحالی کیلئے حکومت کی ان کثیرجہتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کے سٹیک ہولڈر حکومت ،پاور پروڈیوسر اوربجلی صارفین سب ہیں۔حکومت پاکستان کو اس بات کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ اس کے پاس اپنے ذمہ واجب الاد رقوم کی ادائیگی کیلئے مالی وسائل بہت محدود ہیں۔اس وقت چینی پاور کمپنیوں کے تین سو ارب روپے پاکستان کے ذمہ واجب الادا ہیں۔آئی ایم ایف ان ادائیگیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اس وقت پاکستان میں گیارہ چینی پاور کمپنیاں ہیں جنھوں نے یہاں دس اعشاریہ دو ارب ڈالر کی سرمایہ کار کر رکھی ہے۔اگرچہ ان پاور کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت پانچ ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے لیکن ان میں دو ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹ اس وقت در آمدی کوئلہ نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔
حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے اورہرممکن کوشش کررہی ہے اور اس نے سارے عوام دشمن فیصلے بھی کرلئے ہیں لیکن عالمی ادارے کی توقعات ابھی تک پوری نہیں ہو پارہیں اور ان کا پتھر دل موم نہیں ہوسکا ہے کس قدر ظالم ہیں بھاری شرح سے سود بھی لیتے ہیں اور اور رونے بھی نہیں دیتے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے صاحبان اقتدار چار حرف بھیجتے اپنی دولے کو ہوا لگواتے اور ملک کو بحران سے نکال لیتے باہر پڑی دولت کی اس قوم اور ملک کو اشد ضرورت ہے سارے کھرب پتی خاندان مل بیٹھ کر عوام پر رحم کھاسکتے ہں ان کا پیسہ ملک میں آئے گا تو ملک چلے گا ۔حکومت کاخیال تھاکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے کیلئے اقدامات کے بعد آئی ایم ایف اسٹاف لیول مذاکرات پر تیار ہوجائے گا لیکن ِاے آرزو کہ خاک بسا شد ایسا ہونا تھا نہ ہوسکا۔آئی ایم ایف اب نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں دی جانے والی مراعات واپس لینے پر اصرار کررہا ہے بلکہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے سے ایک سو پچیس ارب اضافی محصولات وصول کیے جائیں۔اس ذیل میں ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے مزید ہتھیار دالتے اور اس سود خور ادارے کی نئی شرط کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت پاکستان اب نئی تجویز پر کام کررہی ہے جس کے تحت تنخواہ دار طبقے کو دیا جانے والا سینتالیس ارب روپے کا ریلیف واپس لینے کے ساتھ ساتھ اس سے اٹھاہ ارب روپے اضافی ریونیووصول کیا جائے گا۔ اسی حوالے سے مسلم لیگ (ن)  کے سینیٹر پروفیسرعرفان صدیقی نے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے ملازمین اور اعلیٰ افسروں کی تنخواہوں میں ایک ہی شرح سے اضافہ ناانصافی ہے، اس سے چھوٹے ملازمین کی تنخواہیں برائے نام بڑھتی ہیں جبکہ پہلے سے بھاری تنخواہیں لینے والے ملازمین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ انتہائی مشکل حالات میں یہ متوازن بجٹ ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ بہت اچھا اقدام ہے لیکن میری رائے میں ایک سے بائیس گریڈ کے تمام ملازمین کے لئے ایک ہی شرح یعنی پندرہ فیصد کا اضافہ غیرمنصفانہ ہے۔ اس طرح تیس ہزار بنیادی تنخواہ لینے والے چھوٹے ملازم کو تو صرف ساڑھے چار ہزار روپے اضافہ ملے گا جبکہ ایک لاکھ بنیادی تنخواہ والے افسر کا اضافہ پندرہ ہزار روپے ہوگا، گویا غریب اور امیر کے درمیان پایا جانے والا فرق اور بڑھ جائے گا۔میں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی یہ تجویز دی ہے، وزیرمملکت برائے امور خزانہ عائشہ غوث پاشا سے بھی بات کی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تحریری طور پر اپنی تجویز بھیجوں گا۔ تنخواہوں میں اضافے کے لئے مختص رقم بے شک وہی رہنے دی جائے لیکن ایک سے دس گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہیں پچاس فیصد، گیارہ سے پندرہ گریڈ کی بیس فیصد، سولہ سے اٹھارہ تک دس فیصد اور اس سے اوپر صرف پانچ فیصد بڑھنی چاہئیں، ماہرین معاشیات کو اس تدریجی اصول کے مطابق بجٹ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ دیکھتے ہیں کہ ان کی اس نقار خانے میں سنی بھی جاتی ہے کہ نہیں کیونکہ مافیاز بہت طاقتور ہیں وہ کبھی  نہیں چاہیں گے کہ ان کی تنخواہوں اور مراعات  پر  کوئی قدغن لگے۔

 

تازہ ترین خبریں

وہ نوجوان لڑکی جس نے وراثت میں ملنے والی 7ہزار کروڑ مالیت کی فرم چلانے سے ہی انکار کردیا

وہ نوجوان لڑکی جس نے وراثت میں ملنے والی 7ہزار کروڑ مالیت کی فرم چلانے سے ہی انکار کردیا

پڑوسی ملک میں انتہائی حیران کن چوری کی واردات، چور سرنگ کھود کر ٹرین کا انجن ہی چرا لے گئے

پڑوسی ملک میں انتہائی حیران کن چوری کی واردات، چور سرنگ کھود کر ٹرین کا انجن ہی چرا لے گئے

دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا

دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا

بورہونے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے ملازم کو نکال دیا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کیا فیصلہ ہوا؟ جانیں

بورہونے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے ملازم کو نکال دیا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کیا فیصلہ ہوا؟ جانیں

مدینہ سے آئے تو قرآن پاک کا ترجمہ کر لیا ۔۔ کوریا کے اس لیکچرار کے ساتھ کیا ہوا جو یہ دین اسلام کی ہی خدمت میں مصررف ہو گئے

مدینہ سے آئے تو قرآن پاک کا ترجمہ کر لیا ۔۔ کوریا کے اس لیکچرار کے ساتھ کیا ہوا جو یہ دین اسلام کی ہی خدمت میں مصررف ہو گئے

خاتون جج کو آن لائن میٹنگ کے دوران سگریٹ نوشی مہنگی پڑگئی، بڑی سزا مل گئی

خاتون جج کو آن لائن میٹنگ کے دوران سگریٹ نوشی مہنگی پڑگئی، بڑی سزا مل گئی

اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ ، پی ٹی آئی کے اہم رہنما کا پارٹی چھوڑنے کا عندیہ

اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ ، پی ٹی آئی کے اہم رہنما کا پارٹی چھوڑنے کا عندیہ

بینکوں میں رقوم رکھوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

بینکوں میں رقوم رکھوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

یکم سے چاردسمبرتک چھٹیاں۔۔سرکاری ملازمین کی توموجیں لگ گئیں

یکم سے چاردسمبرتک چھٹیاں۔۔سرکاری ملازمین کی توموجیں لگ گئیں

حکمراں اتحاد کےلیے بری خبر۔۔پی ٹی آئی نے پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق کردی

حکمراں اتحاد کےلیے بری خبر۔۔پی ٹی آئی نے پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق کردی

کریتی سینن بالی وڈ کے کس معروف اداکار کو ڈیٹ کر رہی ہیں؟ ورون دھون نے بتا دیا

کریتی سینن بالی وڈ کے کس معروف اداکار کو ڈیٹ کر رہی ہیں؟ ورون دھون نے بتا دیا

’تحریک عدم اعتماد کا جسے شوق وہ لے آئے‘

’تحریک عدم اعتماد کا جسے شوق وہ لے آئے‘

ہم آخری حد تک جائیں گے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کپتان کے اعلان کے بعد ن لیگ بھی میدان میں آگئی

ہم آخری حد تک جائیں گے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کپتان کے اعلان کے بعد ن لیگ بھی میدان میں آگئی

سیلاب متاثرین سے متعلق بین اسٹوکس کے اعلان پر وزیراعظم شہباز شریف بھی بول پڑے،کیاکہا،جانیں

سیلاب متاثرین سے متعلق بین اسٹوکس کے اعلان پر وزیراعظم شہباز شریف بھی بول پڑے،کیاکہا،جانیں