12:35 pm
نصاب تعلیم کا ایک جائزہ

نصاب تعلیم کا ایک جائزہ

12:35 pm

نصاب تعلیم کے حوالے سے جن امور کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ان کے مختلف دائرے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی
نصاب تعلیم کے حوالے سے جن امور کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ان کے مختلف دائرے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے، اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
اس کے بعد دوسری سطح یہ ہے کہ متعدد حوالوں سے تعلیمی نصاب و نظام کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے جو شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں اور اس وقت بھی قومی اخبارات میں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں، ان کی اصل صورت حال کیا ہے اور ان کے بارے میں اعتدال و توازن کی راہ کیا ہے؟
قومی نصاب تعلیم کے بارے میں اس وقت دو قسم کی کشمکش چل رہی ہے، ایک کشمکش تو مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔ دونوں حلقے اس سلسلہ میں اپنی قوت اور اثر و رسوخ کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور اب بھی یہ کشمکش عروج پر ہے۔ دوسری کشمکش وفاق اور صوبوں کے درمیان ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد نصابِ تعلیم کا معاملہ صوبوں کے سپرد ہوا ہے جو پہلے وفاق کی ذمہ داری اور اختیار کا حصہ تھا۔ صوبوں کو منتقل ہو جانے کے بعد بھی وفاق ان معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے مگر صوبوں کا کہنا ہے کہ جب تعلیمی نظام کے معاملات دستور کے مطابق صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں تو انہیں پوری آزادی کے ساتھ اس بارے میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کشمکش کچھ عرصہ تو چلتی رہے گی مگر بالآخر یہ معاملات صوبوں کے دائرہ اختیار میں آجائیں گے۔ ہمیں تعلیمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
بسا اوقات تبدیلی اور ترمیم کرنے والوں کے ذہنوں میں وہ بات نہیں ہوتی جو اس پر اعتراض کرنے والوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ مثلاً خیبر پختون خواہ کی سابقہ حکومت کے دور میں نویں دسویں کے نصاب سے سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کو نکالنے والوں کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے ان سورتوں کو نصاب سے خارج کرنے کی بات نہیں کی بلکہ ترتیب بدلنے کی بات کی ہے کہ اس سطح پر سورۃ الحجرات کی تعلیم زیادہ مناسب ہے اور اس کے اوپر کے درجات میں یعنی انٹرمیڈیٹ کی سطح پر سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر فی الواقع ایسی بات ہے تو اس پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کی افادیت اور موزونیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ہمارے نصاب تعلیم کے بارے میں بین الاقوامی ایجنڈا اور اس کے لیے مسلسل دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ باخبر حضرات کے مطابق عالمی اداروں کی طرف سے تعلیمی شعبہ میں جو امداد دی جاتی ہے اس کے ساتھ متعین شرائط ہوتی ہیں کہ یہ امداد تعلیمی نصاب و نظام میں حسب شرائط تبدیلیوں کی صورت میں ہی ملے گی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے بھی اربابِ حل و عقد کو بعض تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں، ایسی شرائط کا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان میں سے کونسی شرائط اور تبدیلیاں ہمارے دینی اور قومی تقاضوں سے متصادم ہیں۔ ان کی نشان دہی اور ان کی روک تھام کے لیے قوم کی راہ نمائی اور مناسب تدابیر بھی ضروری ہیں۔
دینی مدارس کے نصاب و نظام کے حوالہ سے عصری و قومی تعلیمی ادارے مسلسل اپنی رائے دیتے رہتے ہیں اور دینی مدارس کے وفاقوں کو اپنے تعلیمی نظام و نصاب کے بارے میں قومی تعلیمی اداروں کو اعتماد میں لینا پڑتا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ اسی طرح قومی تعلیمی نظام و نصاب تشکیل دینے والوں کے لیے بھی یہ ضروری قرار دیا جائے کہ وہ تعلیمی نصاب کے دینی پہلوؤں کے حوالہ سے دینی مدارس کے وفاقوں کو اعتماد میں لیں اور ان کی مشاورت کے ساتھ یہ معاملات طے کریں تاکہ باہمی اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ متعلقہ معاملات بھی صحیح رخ اختیار کر سکیں۔
جب سے پرائیویٹ پبلشرز کی شائع کردہ کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ بننے لگی ہیں، اس خلفشار میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے پبلشرز نے اپنے اپنے تعلیمی بورڈ بنا رکھے ہیں جو کتابیں مرتب کرتے ہیں اور جس کی کتاب سکولوں میں چل جاتی ہے، وہ اس دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں۔ اس سے تعلیمی نصاب میں ہم آہنگی مفقود ہوجاتی ہے، کیونکہ ہر پبلشنگ ادارے کے تعلیمی بورڈ کی اپنی پالیسی اور ذوق ہوتا ہے۔ اس صورت حال کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہر سطح پر مشترکہ تعلیمی کمیٹیوں کا قیام مناسب بات ہوگی۔
اندرونی حلقوں کے مطابق بسا اوقات ملازمین کے بعض ذاتی معاملات کی وجہ سے اس قسم کی شکایات سامنے آتی ہیں اور انہیں اجاگر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی شکایات کا داخلی پس منظر کیا ہے اور حقیقی صورت حال کیا ہے۔
نصابِ تعلیم کے اسلامی مضامین اور دینی مواد کے ساتھ ساتھ دوسرے مضامین کے مواد کے بارے میں بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً کائنات کی تخلیق اور ارتقاء اور مغربی فلسفہ کے دوسرے بہت سے پہلوؤں کا ہمارے اعتقاد و ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور بعض مضامین ایسے پڑھائے جا رہے ہیں جو مسلّمہ اسلامی اعتقادات سے ٹکراتے ہیں جس سے مسلم طلبہ کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جائزہ میں قومی نصاب تعلیم کے تمام شعبوں کو شامل کرنا چاہیے اور ایسے امور کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

 

تازہ ترین خبریں

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان