02:04 pm
عالمی مالیاتی ادارے اورپنجہ یہود

عالمی مالیاتی ادارے اورپنجہ یہود

02:04 pm

یوکرین میں جنگ اس وقت اقتصادی اورفوجی محاذوں پربھڑک رہی ہے،یوکرین کوفوجی امدادبھیجنے کے علاوہ،امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے اپنے مالیاتی نظام کوروسی معیشت کے شعبوں کے خلاف ہتھیار بنادیاہے۔پابندیوں نے اب تک روسی معیشت کی ایک وسیع رینج کونشانہ بنایاہے، سوئفٹ سسٹم سے بڑے روسی بینکوں کی علیحدگی اورروس کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو منجمد کرنا،بشمول630ارب ڈالرکے زرمبادلہ کے ذخائر، روس کے خلاف کئے گئے اب تک کے اہم ترین فیصلوں میں شامل ہیں۔ پابندیوں نے روسی معیشت کوسخت نقصان پہنچایا،خاص طورپرشروع میں اورعالمی مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں منفی اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔ مثال کے طورپر روس کے وفاقی شماریاتی دفترنے گزشتہ ماہ اعلان کیاکہ روس میں افراط زر17.3فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو20سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
مغربی پابندیوں کی وجہ سے بھی ابتدائی دنوں میں ڈالرکے مقابلے میں روبل کی قدرگرگئی تھی۔ 4مارچ کوروسی کرنسی 0.0037 ڈالرفی یونٹ کی شرح کوچھورہی تھی لیکن روسی حکومت کی بعض پالیسیوں کے بعدآج7497-57 کاہوگیاہے۔اس طرح روبل کی قدرجنگ سے پہلے کے زمانے میں واپس آگئی ہے حالانکہ بعض ماہرین اقتصادیات نے خبردارکیاہے کہ یہ حالت مصنوعی ہے اور کسی بھی وقت صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے لیکن روس کے ساتھ معاشی تصادم،دنیا کی 11ویں بڑی معیشت کے طورپر،میانمار جیسے چھوٹے ممالک کے خلاف پابندیوں سے مختلف ہے اورپابندیاں لگانے والوں کے لئے اس کے اپنے نتائج ہوں گے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،کیمیائی کھادوں کے لئے فاسفیٹ کی قلت اورالیکٹرک کاربیٹریوں کے لئے نکل کی ضرورت روس کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ کے قلیل مدتی نتائج میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ،روس اوریوکرین دنیاکی گندم کی برآمدات کاتقریباً30 فیصدفراہم کرتے ہیں،خاص طورپرافریقی ممالک میں غذائی تحفظ کاایک اہم عنصریہی گندم کی برآمدات ہیں ۔ ان اشیاء کی قلت یورپ اورممکنہ طورپرامریکہ میں مزید مہنگائی اورکساد بازاری کاباعث بن رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی کی اپنی توقعات کوکم کردیا ہے اورجوبائیڈن اپنی انتظامیہ کے گرین پلانزکوترک کرنے کاحکم جاری کرچکے ہیں اورامریکہ اب دنیابھر میں تیل اورگیس کی پیداوار بڑھانے کوترجیح دے رہا ہے۔ امریکہ کواحساس ہوگیاہے کہ روسی گیس کی یورپ کوسپلائی ہی دراصل ان کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن ان قلیل مدتی اثرات سے ہٹ کر،یوکرین میں بہت زیادہ تزویراتی سطح پرہونے والی پیش رفت بین الاقوامی تعلقات کے لئے بہت زیادہ طویل مدتی نتائج کی حامل ہے اورموجودہ عالمی نظام کے خاتمے اورایک نئے باب کے آغازکی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔ عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں،امریکہ کے مرکزی مالیاتی نظام کوگراسکتی ہیں اورپابندیوں کا ہتھیارہمیشہ کے لئے ان کے ہاتھوں سے چھین سکتا ہے۔دو سائنسدانوں، ہنری فارل اورابراہام نیومین نے سوویت یونین کے بعدکے عالمی مالیاتی نظام کا موازنہ ایک’’قطب اور سیٹلائٹ‘‘کے نظام سے کیاہے جس کے مغرب میں اس کے اہم قطب ہیں۔بڑے عالمی بینک، امریکی ڈالر اورعالمی مالیاتی ڈھانچہ زیادہ ترشمالی امریکہ اورمغربی یورپ کی حکومتوں کے زیرکنٹرول ہیں۔ایسے نظام کے سب سے اہم ’’ڈنڈے‘‘میں سے ایک ڈالرہے۔ڈالر اس وقت عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،زیادہ تربین الاقوامی تجارت کے لئے بنیادی کرنسی کے ساتھ ساتھ مالیاتی اکاؤنٹنگ اورریزرو یونٹ کی عالمی اکائی ہے لیکن امریکہ نے حالیہ برسوں میں عالمی معیشت کے ساتھ اس غیرمتناسب تعلقات کوغلط استعمال کرتے ہوئے امریکی مالیاتی نظام کوامریکی خارجہ اورسلامتی کی پالیسی کے مخالف ممالک کے خلاف ہتھیار بنایا ہے۔ دوسرے لفظوں میں،امریکہ اورمغربی ممالک اپنے آپ کواس بین الاقوامی اقتصادی نظام کاجائز سرپرست اورمالک تصور کرتے ہیں اوربین الاقوامی مالیاتی نظام تک دوسرے ممالک کی رسائی کومغرب کی عمومی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنےکیلئے مشروط کر رکھاہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے غیرسیاسی منافع کمانے والے اداروں کے طورپرکام کرنے کی بجائے عملی طورپرمغرب اوربالخصوص امریکہ کے اہم ہتھیاربن کرسامنے آئے ہیں۔مالیاتی نظام کوہتھیاربنانے کی صلاحیت کامرکزی اصول یہ ہے کہ عالمگیرمعیشت نے دنیا بھرمیں قدرکے نیٹ ورکس بنائے ہیں جن کے لئے پیداواری عمل کے ہرمرحلے پربیرون ملک مالی لین دین اورقرض لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 21ویں صدی میں،مغربی ممالک نے پابندیوں کااستعمال کیاہے اورایک ملک کی پوری معیشت اورآبادی کونشانہ بنانے کارجحان رکھا ہے۔ تاہم،اس عمل نے طویل عرصے سے مغربی مرکزی مالیاتی نظام کوکمزورکردیاتھا۔امریکی تسلط کے خلاف کمزورہونے کا یہ عمل اب تیزہوتادکھائی دے رہاہے۔امریکہ کی جانب سے مختلف بہانوں سے پابندیاں لگانے کے بعدمغربی ماہرین کے حلقوں میں بتدریج یہ بحث زورپکڑنے لگی ہے کہ پابندیوں کابے تحاشہ استعمال دنیاکی موجودہ مالیاتی نظام کونقصان پہنچاسکتاہے اورخاص طورپرڈالر کی بالا دستی کوشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ان ماہرین کاکہناہے کہ دنیا کے مالیاتی ادارے اپنی خاص حیثیت کسی خاص مغربی کردارکے مرہون منت نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع عالمی نیٹ ورک میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے یہ مقام حاصل کیاہے۔ ایشیائی ممالک میں اپنے کاروباردراصل مغربی مالیاتی نظام کے تحت چلارہے ہیں،اس لیے نہیں کہ وہ مغربی ہیں،بلکہ اس لیے کہ وہ آسان اورزیادہ مئوثرہیں۔ لیکن21ویں صدی میں امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے بارباراستعمال نے پہلی باراس طرح کے نیٹ ورک پراعتمادکومجروح کیا ہے۔ان پابندیوں کے بعد،یہ واضح ہوگیاکہ امریکہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے حکومتوں،مرکزی بینکوں،مالیاتی اداروں اورافراد کے لئے ڈالرکے تبادلے کوآسانی سے محدودکر سکتا ہے اورمالیاتی نظام تک رسائی بھی منقطع کرسکتا ہے۔اسی بنیاد پرچین، روس اورچند دیگرممالک نے متبادل مالیاتی نظام کے بارے میں سوچنا شروع کردیاہے۔حالیہ برسوں میں چین اور روس کی جانب سے قومی نوعیت کے سوئفٹ سسٹم کے اجرانے اس مقصد کو پوراکیاہے۔ چین نے اوورسیز پیمنٹ سسٹم کے نام سے ایک نظام شروع کیااوراس میں توسیع کی ہے۔روس نے2014ء سے2015ء میں سوئفٹ کی جگہ فنانشل میسجنگ سسٹم میں تبدیل کردیاہے اوراس روسی نظام میں اب تک400مالیاتی ادارے شامل ہوچکے ہیں۔ امریکااوریورپی اتحادیوں کے لئے یقینایہ ایک بری خبرہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ یورپ اب امریکہ کویوکرین کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پرزوردے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت عالمی مالیاتی ادارے پنجہ یہودمیں ہیں اوریہودیوں کی جان اپنے مال کے اندرپھنسی ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کوایک اوربڑاجھٹکالگ گیا

اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کوایک اوربڑاجھٹکالگ گیا

پنجاب میں 6 نئے اضلاع بنانے کی تجاویز ۔۔کون کون سی تحصیلوں کوضلع کادرجہ دیاجائے گا،بڑی خبرآگئی

پنجاب میں 6 نئے اضلاع بنانے کی تجاویز ۔۔کون کون سی تحصیلوں کوضلع کادرجہ دیاجائے گا،بڑی خبرآگئی

کسے پتہ تھا کہ بڑی بڑی آنکھوں والا یہ معصوم سا بچہ بڑا ہو کر پاکستان کی مشہور شخصیت بنے گا،یہ بچہ کون ہے،

کسے پتہ تھا کہ بڑی بڑی آنکھوں والا یہ معصوم سا بچہ بڑا ہو کر پاکستان کی مشہور شخصیت بنے گا،یہ بچہ کون ہے،

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ،چین نے بھی اپنا موقف دیدیا

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ،چین نے بھی اپنا موقف دیدیا

کتنے فیصد پاکستانی جلد انتخابات چاہتے ہیں؟ سروے رپورٹ میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

کتنے فیصد پاکستانی جلد انتخابات چاہتے ہیں؟ سروے رپورٹ میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

کرپٹوکمپنی کوبڑاجھٹکا۔۔کتنے کروڑ ڈالرکی ڈیجیٹل چوری ہوگئی ،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

کرپٹوکمپنی کوبڑاجھٹکا۔۔کتنے کروڑ ڈالرکی ڈیجیٹل چوری ہوگئی ،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاءکی خریداری ،عوام کی بڑی مشکل حل کردی گئی

یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاءکی خریداری ،عوام کی بڑی مشکل حل کردی گئی

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوگئے ،بڑ ی خبرآگئی

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوگئے ،بڑ ی خبرآگئی

صبرکرومجھے گجرات آنے دوپھر۔۔۔۔چوہدری شجاعت نے اپنے بھائی وجاہت حسین کی تقریر کو بیہودہ قرار دے دیا

صبرکرومجھے گجرات آنے دوپھر۔۔۔۔چوہدری شجاعت نے اپنے بھائی وجاہت حسین کی تقریر کو بیہودہ قرار دے دیا

ملک کے معاشی حالات میں بہتری کب آنا شروع ہوگی؟وفاقی وزیر خرم دستگیرنے بڑادعویٰ کردیا

ملک کے معاشی حالات میں بہتری کب آنا شروع ہوگی؟وفاقی وزیر خرم دستگیرنے بڑادعویٰ کردیا

پاکستانی طلبہ کیلئے خوشخبری، برطانیہ نے بڑا اعلان کردیا

پاکستانی طلبہ کیلئے خوشخبری، برطانیہ نے بڑا اعلان کردیا

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے نے زرداری سے کتنے ڈالر مانگے چوہدری وجاہت حسین کا انکشاف،ہرکوئی ہکا بکا رہ گیا

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے نے زرداری سے کتنے ڈالر مانگے چوہدری وجاہت حسین کا انکشاف،ہرکوئی ہکا بکا رہ گیا

چوہدری خاندان میں اختلافات ختم کرانے کی کوششیں،چودھری خاندان میں 5 ملاقاتوں کا انکشاف

چوہدری خاندان میں اختلافات ختم کرانے کی کوششیں،چودھری خاندان میں 5 ملاقاتوں کا انکشاف

حکومتی اور اتحادی جماعتوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے وزیر اعظم شہبازشریف سر پکڑ کر بیٹھ گئے

حکومتی اور اتحادی جماعتوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے وزیر اعظم شہبازشریف سر پکڑ کر بیٹھ گئے